معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

پاکستان نے بہادر اور بلند آواز عاصمہ جہانگیر کو کھو دیا

  وقت اشاعت: 11 فروری 2018

سوشل میڈیا پر عاصمہ جہانگیر کی موت پر افسوس اور تعزیت کا سلسلہ جاری ہے اور دنیا بھر سے لوگ اس سلسلے میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ بالی وڈ کے مشہور ہدایت کار مہیش بھٹ نے ٹویٹ کی: 'ایک غیر معمولی خاتون جو معمولی لوگوں کے لیے لڑتی رہیں۔ عاصمہ جی میں وہ ہمت اور جرات تھی کہ وہ ایک منصفانہ زندگی کے لیے لڑتی رہیں۔ ہماری زندگیوں کو چھونے کے لیے شکریہ۔

ملالہ یوسفزئی کے والد ضیاءالدین یوسفزئی نے ٹوئٹر پر عاصمہ جہانگیر کو 'انسانی حقوق کی علامت، جمہوریت کی چیمپیئن، بےآوازوں کی سب سے بلند آواز، سب سے بہادر عاصمہ جہانگیر' کے طور پر یاد کیاہے۔ اس دوران عاصمہ جہانگیر کی آخری ٹویٹ بھی شیئر کی جا رہی ہے جس میں انہوں نے نہال ہاشمی کیس کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔  پیپلز پارٹی کی رہنما ناز بلوچ نے لکھا: ’یہ پاکستان کے لیے دکھی دن ہے کہ اس دن اس نے بہادر اور بلند آواز عاصمہ جہانگیر کو کھو دیا۔‘

اداکارہ ماہرہ خان نے عاصمہ جہانگیر اور قاضی واجد کی تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا: ’پاکستان کے لیے دکھی دن کہ آج اس نے عظیم فنکار اور ایک بےخوف کارکن کو کھو دیا۔ وہ اپنے کام میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔‘
جنوبی ایشیائی تعاون کی تنظیم سارک کے اکاؤنٹ سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا: ’آپ ہمیشہ ہمارے دل و دماغ میں رہیں گی۔ آپ جنوبی ایشیا میں انسانی حقوق کے لیے تحریک رہیں گی۔‘ ناول نگار کاملہ شمسی نے لکھا: ’ہم انہیں کھونا برداشت نہیں کر سکتے۔ ہم خوش قسمت تھے کہ وہ ہمارے درمیان موجود تھیں۔‘

صحافی اور مصنف رضا رومی نے اس موقع پر کہا: ’ہم اکثر ایک جملہ کہتے ہیں: 'طاقت کے آگے سچی بات کہنا۔' ’عاصمہ جہانگیر نے اس پر اپنی آخری سانس تک عمل کیا۔ انہوں نے ملاؤں، فوج، ججوں، سیاست دانوں، اور ہر طاقتور پر سوال اٹھایا اور پسے ہوئے طبقات کا دفاع کیا۔ انہوں نے دھمکیوں اور حملوں کا سامنا کیا اور کبھی نہیں گھبرائیں۔ وہ بڑی ہیرو تھیں۔ ہمیں اب ایک خلا کا سامنا کرنا ہوگا۔'

فیس بک پر بھی متعدد لوگ عاصمہ جہانگیر کے بارے میں خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ مصنف خضر حیات نے لکھا: ’اس میں کوئی شک نہیں کہ آج بڑے بڑے حادثوں کا دن ہے۔ پہلے قاضی واجد اور پھر عاصمہ جہانگیر۔ وقت بھی کس قدر ظالم شے کا نام ہے۔ بلا تفریق سب میں موت تقسیم کرتا جاتا ہے۔ اس کو کبھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ جن لوگوں کا جینا انسانیت کے لیے سودمند ہے، انہیں زیادہ مہلت دی جانی چاہیے اور اس کے برعکس جنہیں زندگی بوجھ لگتی ہے انہیں لائن میں آگے کھڑا کر دینا چاہیے.‘

انسانی حقوق کی کارکن ماروی سرمد نے لکھا: ’آج نہ صرف پاکستان بلکہ تمام جنوبی ایشیا عاصمہ جہانگیر کے لئے روئے گا۔ یہ صرف پاکستان کا نقصان نہیں ہے بلکہ انہوں نے تمام دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا تھا۔‘ صحافی مظہر عباس نے لکھا: ’مجھے اب بھی یاد ہے کہ عاصمہ جہانگیر نے ویج ایوارڈ کی جدوجہد کے دوران میڈیا کارکنوں کی بار بار مدد کی۔ جب چوہدری اعتزاز احسن نے مقدمہ لڑنے سے انکار کر دیا تو عاصمہ نے آگے آ کر مقدمہ لڑا اور جیت گئیں۔

(بشکریہ: بی بی سی ۔ اردو)
 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...