”ڈنمارک کی پارلیمنٹ میں کشمیر کانفرنس“

  وقت اشاعت: 19 2017

ڈنمارک: تحریک کشمیر یورپ ڈنمارک کے زیر اہتمام جمعہ کو ڈینش پارلیمنٹ میں کشمیر کانفرنس منعقد ہوگی۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان ہونگے۔

کانفرنس سے آزاد خطے میں قائم آزاد کشمیر کی تمام قومی اور دینی جماعتوں اور حریت کانفرنس کے قائدین پر مشتمل مشترکہ پلیٹ فارم آل پارٹیز کشمیر رابطہ کونسل کے کنوینر اور ممبر اسمبلی عبد االرشید ترابی ، حریت کانفرنس کے کنونیر غلام محمد صفی ، تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب، جنرل سکریٹری انصر منظور حسین، تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی، کشمیری امریکن کونسل کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر امتیاز خان، یورپ کے مختلف ممالک سے کشمیری رہنما ممبران پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے سرکردہ رہنما خطاب کر یں گے۔

کانفرنس کا موضوع مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں اور کشمیریوں کا حق خودارادیت ہے اور یورپین ممالک مسلہ کشمیر حل کرانے میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں کانفرنس کی میزبانی ڈینش ممبر آف پارلیمنٹ زین سٹیمپ کریں گی۔ کانفرنس کے تمام مہمان مختلف تقریبات اور 22 اکتوبر بروز اتوار کو عوامی جلسہ عام سے بھی خطاب کریں گے۔ مقبوضہ کشمیر کے حالات اور بھارتی مظالم اور کشمیریوں کی قربانیوں پر روشنی ڈالیں گے۔

تحریک کشمیر ڈنمارک کے قائدین نے ایک انتظامی اجلاس میں کانفرنس اور دیگر پروگراموں کے انتظامات کو حتمی شکل دی ہے جس میں تحریک کشمیر یورپ کے جنرل سکریٹری انصر منظور حسین، ڈنمارک کے سرپرست اعلیٰ، میاں منیر حسین، صدر تحریک کشمیر ڈنمارک عدیل آسی اور دیگر رہنماﺅں نے شرکت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر حالات کا تقاضہ ہے کہ دنیا کو کے سامنے مسئلہ کشمیر کی وجہ سے خطے کے حالات بھارت کے ہتھکنڈوں اور ناپاک عزائم کی جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائی جائے کہ بھارت خطے کے امن کے لیے شدید خطرہ ہے۔ کشمیری عوام کی مسلسل قربانیوں سے مسئلہ اس قدر اجاگر ہوچکا ہے کہ اس کے پر امن حل پر توجہ دی جائے مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت ستر سال سے حل نہیں کرسکے اقوام متحدہ کو مداخلت کرنی ہوگی بھارت کو مذاکرات کے میز پر لایا جائے اور مسئلہ کے اصل فریق کشمیریوں کو اعتماد میں لیا جائے۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...