انتہاپسندی پر ادبی سنگت کا پروگرام

  وقت اشاعت: 23 ستمبر 2017

رپورٹ: فیصل نواز چوہدری

ادبی سنگت ناروے نے اتوار 17 ستمبر 2017 کو لٹریچر ہاﺅس اوسلو میں ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ جس میں نارویجن رائٹر  آیوند اسٹرامن نے انتہاپسندی پر لیکچر دیا۔ تقریب کا آغاز سگرد ماریہ نے نارویجن زبان میں دو گیت گٹاو پرسنائے۔ اس کے بعد ادبی سنگت کے جنرل سیکریٹری فیصل نواز چوہدری نے  تنظیم کا تعارف کروایا۔ کہ کس طرح چند لوگوں نے 1970 میں ادبی سنگت کے پلیٹ فارم سے ادب کی محفلیں سجائیں۔

2001 میں فیصل نواز نے ادبی سنگت کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔  2009 میں ادبی سنگت نے نارویجن پروگراموں کا آغاز کیا۔ ناروے کے مشہور ادیبوں کو لٹریچر ہاﺅس میں ادبی سنگت کے تحت دعوت دی جاتی ہے۔ اب تک یوسٹئین گورڈر، جون مشلٹ، تھووے نیلسن، تھروالڈ سٹین، ارلنگ کٹلسن اور تھامس ہیلاند ایرکسن ان تقریبات میں شرکت کرچکے ہیں۔

صحافی اور ادیب آیوند اسٹرامن نے اپنے لیکچر میں پہلے انتہاپسندی کی وضاحت کی۔ دائیں بازو اور بائیں بازو کی انتہاپسندی کے علاوہ  عالمی انتہاپسندی اور مسلمان انتہاپسندی کے تناظر میں بات کی۔ انہوں نے ناروے میں انتہا پسندی کی تاریخ پر بی روشنی ڈالی۔  اس بارے میں  میڈیا کیا رول ادا کر رہا ہے۔ اور کس طرح مسلمانوں کے خلاف زہر اگل کر لوگوں میں نفرت کا بیج بوی اجارہا ہے۔ اور اس کا علاج کیا ہے۔

انہوں نے بتایا  کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں  نے کس طرح حالات کو تبدیل کیا اور عام آدمی کے روزمرہ کے پر کس طرح اثر ڈالا ہے۔ ہمیں کس طرح مستقبل میں ان طاقتوں کا مقابلہ کرنا ہے جو انتہاپسندی سے اپنے مقاصد حاصل کرتے ہیں۔

آیوند اسٹرامن کے ایک گھنٹہ کے  لیکچر  کے بعد  حاضرین نے سوالات کئے جن کا تفصیل سے جواب دیا گیا

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...