دریچہ اوسلو کا بین الاقوامی مشاعرہ

  وقت اشاعت: 22 ستمبر 2017

رپورٹ: ڈاکٹر ندیم حسین

کہا جاتا ہے کہ دُنیا کی ہر زبان اپنے وقت ، معروضی حالات اور جُغرافیئے سے متاثر ہوتی ہے۔ اور اس میں شکست وریخت کے ساتھ ساتھ نئے الفاظ ، تراکیب اور نئے معنی تشکیل پاتے رہتے ہیں۔ خود ہماری زبان اردو کا معرض وجود میں آنا اور اس کی تشکیل، ترویج اور ترقی بھی انھی عوامل کی مرہون منت ہے۔ یہ ایک الگ موضوع اور ایک الگ بحث ہے۔

انہی عوامل کے پیش نظر  دُنیا کے مختلف ممالک میں اردو کی نئی بستیاں وجود میں آ چکی ہیں ۔ جہاں محبان اردو اپنی زبان  کی ترویج و ترقی اور بقا کے لیئے دن رات تگ و دو کرتے ہیں۔ ناروے کا شہر اوسلو بھی اردو کی ایسی ہی نئی بستیوں میں سے ایک ہے۔ یہاں بھی محبان اردو کی خواہش اور کوشش ہے کہ اردو ایک بڑی زبان کے طور پر زندہ رہے۔ اس کے لئے وہ اردو ادب کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کرتے ہیں۔ مختلف تقریبات منعقد کرتے ہیں ۔ جن سے اردو زبان کی ترویج اور ترقی ہو۔

ایسی ہی ایک تقریب ادبی تنظیم دریچہ اور لاہور فیملی نیٹ ورک  کی زیر اہتمام  سولہ ستمبر کو منعقد کی گئی۔  جس میں یورپ کے مختلف ممالک سے شعراء نے شرکت کی۔  تقریب دو حصوں پہ مشتمل  تھی۔ پہلا حصہ اوسلو کی ممتاز سماجی شخصیت محترم احسان شیخ مرحوم کی یاد میں تھا۔ احسان شیخ صاحب اوسلو کی صحیح معنوں ایک ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ پروگرام کا آغاز شیخ احسان صاحب کی یاد میں شمع روشن کرنے سے ہوا۔ اوسلو کی ممتاز شاعرہ محترمہ فرح تبسم نے دریچہ کے صدر ڈاکٹر سید ندیم حسین اور لاہور فیملی نیٹ ورک کے صدر سلیم بیگ  کی معیت میں شیخ احسان صاحب کی یاد میں شمع روشن کی۔ اس کے بعد  حافظ محمد اسلم  نے شیخ صاحب مرحوم کے لیئے فاتحہ خوانی کی اور دعا کروائی۔

تقریب میں حاضرین کی ایک کثیر تعداد موجود تھی۔  شیخ صاحب کے قریبی دوستوں نے اُن کی شخصیت ، ان کی ادبی ، سماجی اور صحافی خدمات پہ روشنی ڈالی۔ مقررین  نے کہا کہ حاضرین کی اتنی کثیر تعداد میں اس تقریب میں شرکت اس محبت ، عزت و احترام کی مظہر ہے جو شیخ صاحب مرحوم نے اپنی زندگی میں کمائی۔  کسی بھی شخص کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر شخص اسے اپنا بہترین دوست سمجھتا ہو۔ شیخ صاحب اس کسوٹی پہ پورے اترتے ہیں۔ جن کا ہر ملنے والے سے تعلق یوں ہی تھا جیسے وہ ہی ان کا بہترین دوست ہو۔ وہ ہر ملنے والے کو اتنی محبت اور خلوص سے ملتے کہ وہ آپ کی شخصیت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔ اس تعزیتی تقریب سے سلیم بیگ ، ساجد ، محمد ادریس لاہوری ، ڈاکٹر سید ندیم حسین، ضمیر طالب ، مینا جی ، طلعت بٹ اور آفتاب وڑائچ نے بھی خطاب کیا۔  اور مرحوم شیخ احسان صاحب کو گُل ہائے عقیدت پش کئے۔

تقریب کا دوسرا حصہ ایک بین الاقوامی مشاعرے پہ مشتمل تھا۔ جس میں دریچہ اوسلو نے یورپیئن لٹریری سرکل کی وساطت سے یورپ کے متعدد شعراء کو مدعو کیا ہوا تھا۔  مشاعرے کی نظامت کے فرائض دریچہ اوسلو کے خوبرو اور خوش گفتار جنرل سیکرٹری محمد ادریس لاہوری نےانجام دیئے۔ ادریس صاحب خود بھی اچھے شاعر ہیں۔ مشاعرے کے آغاز سے پہلے  دریچہ اوسلو کے صدر ڈاکٹر سید ندیم حسین نے دریچہ اوسلو اور دریچہ کی ٹیم کا  تعارف کروایا۔  اور دریچہ کے اغراض و مقاصد بیان کئے۔ مشاعرے کے باقاعدہ آغاز سے قبل یورپیئن لٹریری سرکل کی صدر محترمہ صدف مرزا نے سرکل کا تعارف بھی کروایا۔  مشاعرے میں پہلے مقامی شعراء نے اپنا کلام پیش کیا۔ ان میں جمشید مسرور ، فیصل ہاشمی ، خالد تھتھال ، رابعہ سیماب روحی، آفتاب وڑائچ ، رائے بھٹی ، مینا جی ، فرح تبسم ، فوزیہ ارم ، اندر جیت سنگھ پال ، جان دتہ ، صدیق راجہ ، ڈاکٹر سید ندیم حسین ، ادریس لاہوری، نرمل برہمچاری اور ڈاکٹر سیف الرحمن شامل تھے۔

مقامی شعراء کے بعد مہمان شعراء نے بھی اپنے خوبصورت کلام سےحاضرین سے خوب داد وصول کی۔ مہمان شعراء میں  ضمیر طالب (مانچسٹر ،  صدف مرزا ( ڈنمارک )، ارشد فاروق  (فن لینڈ) ،  سائیں رحمت علی ( سویڈن ) ، شکییل خان شکو (سویڈن)،  جمیل احسن (سویڈن)   اور ظفر اقبال اعوان (ڈنمارک) شامل ہیں۔ سائیں رحمت علی  اور جان دتہ  نے اپنی مدھر آواز میں کلام سنا کر حاضرین کو مسحور کیا۔ 

پروگرام کے آخر میں تمام شعراء کو پھولوں کے گلدستے پیش کئے گئے۔ مہمان شعراء کو دریچہ کی اعزازی شیلڈ بھی دی گئی۔  پروگرام کے اختتام پہ دریچہ کے صدر ڈاکٹر سید ندیم حسین نے تمام  شعراء اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا ۔  اور دریچہ کی ٹیم کو اتنے کامیاب پروگرام کے انعقاد پہ مبارکباد پیش کی۔ پروگرام کے اختتام پہ حاضرین کی کھانے سے تواضع بھی کی گئی۔ یوں ایک یادگار تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...