ڈنمارک کی طرف سے حساس ٹیکنالوجی خلیجی ممالک کو برآمد

  وقت اشاعت: 18 جون 2017

خصوصی رپورٹ :  نصر ملک ۔ کوپن ہیگن 

ڈنمارک میں قائم ایک برطانوی کمپنی نے  سعودی عرب اور دوسری کئی خلیجی ریاستوں کو  بڑے پیمانے پر نگرانی کرنے والی ٹیکنالوجی  برآمد کی ہے ۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے یہ ممالک اپنے شہریوں کی ہر لحاظ سے نگرانی کرنے اور اُن پر کڑی نگاہ رکھ سکتے ہیں۔ برطانیہ  اور  ڈینش  اشتراک میں قائم اس فرم نے یہ  آلات ڈینش حکام کی اجازت سے برآمد کئے ہیں۔

ڈینش روزنامہ ’انفارمیشن‘ نے 15 جون کی اشاعت میں بی بی سی اور اپنے ذرائع سے یہ معلومات شائع ہیں ۔  روزنامہ ’انفارمیشن ‘ نے ان خفیہ معلومات کے بارے میں لکھا ہے کہ  پچھلے سال مئی میں ڈینش ولی عہد شہزادہ فریڈرک کی قیادت میں کئی ڈینش وزراء  نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور اس سے کچھ پہلے ڈینش بزنس اتھارٹی نے سعودی عرب کو  انتہائی جدید ٹیکنالوجی برآمد کرنے کے لیےBAE Systems Applied Intelligence A/S کو اجازت نامہ جاری کیا ۔ یہ کمپنی ڈنمارک میں نارتھ جُٹ لینڈ میں قائم ہے ۔ اور یہ برطانوی کمپنیABE System کی ایک ذیلی شاخ ہے ۔ اس اجازت نامہ کے اجراء سے کمپنی کو سعودی عرب کے لیے ستر ملین کرونا مالیت کی  جدید ٹیکنالوجی برآمد کرنے کا اختیار حاصل ہو گیا۔ اس سے حساس طریقوں سے نگرانی کی جاتی ہے۔

اخبار کے مطاؓق یہ ٹیکنالوجی اتنی متنازع ہے کہ کسی بھی ملک کو برآمد کرنے سے پہلے خصوصی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کیونکہ اسے خریدنے والا ملک ایسی ٹیکنالوجی کو قومی سلامتی کے نام پر اپنے شہریوں کی نگرانی کے لیے استعمال کر سکتی ہیں ۔ سعودی عرب اور عمان پہلے ہی سے اس طرح کی ہلکی قوت والی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے اپنے اپنے ہاں انٹرنیٹ ٹریفک اور ٹیلیفون کی سرگرمیوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔  اور اپنے شہریوں کی انسانی حقوق کے لیے حکومت مخالف تحاریک و سرگرمیوں کی نگرانی کرتے ہیں۔

سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کو اس ٹیکنالوجی کی برآمد کا تجزیہ کرتے ہوئے سُد ڈانسک یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر اور مشرق وسطیٰ کے امور کی ماہر  ہیلے لکے نیلسن نے اخبار کو بتایا کہ اس طرح کا تکنیکی سسٹم اِن ممالک کی آمرانہ حکومتیں  اپنے اُن شہریوں کی سرکوبی کے لیے استعمال کریں گی جو اِن حکومتوں پر تنقید کرتے ہیں۔ ’’ فریڈم ہاؤس ‘‘ نامی ایک غیر سرکاری و غیر جانبدار عالمی تنظیم نے اپنی تجزیاتی رپورٹ بعنوان Freedom in the World میں لکھا ہے کہ ’’ سعودی عرب دنیا کے گیارہ ملکوں میں سب سے زیادہ  جابرو آمرملک ہے‘‘۔  جو اظہار خیال کی آزادی کو دہشتگردی سے مماثل قرار دیتا ہے ۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ سعودی بادشاہت کا اعلانیہ کہنا ہے کہ اس کے دین و مسلک پر تنقید کرنے اور ملکی قوانین وضوابط کے متعلق منفی پروپیگنڈا کرنے والے کسی بھی فرد کا اُس سے کوئی تعلق نہیں اور وہ قابل گرفت و سزا ہے ۔ اسی طرح عمان میں انٹرنیٹ پر پیغام رسانی سراسر غیر قانونی اور قابل سزا ہے ۔  ان دونوں ملکوں میں انسانی حقوق کے لیے متحرک درجنوں افراد کو پہلے ہی سے پابند سلاسل کیا گیا  ہے ۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...