ریاست مدینہ اور پھیری والا

مملکت خداد ادمیں سیاستدانوں اور دانشوروں کا ایک ایسا گروہ ہمیشہ سے موجود رہا ہے جو مہنگائی ، بیرورزگاری اور غربت کوعوام کے بنیادی مسائل قرار دیتا ہے ۔ اس گروہ کی نظر میں تمام مسائل کی جڑ کرپشن ہے ۔ جس کا خاتمہ فقط ایک ایسی مسیحائی آمد سے ہی ممکن ہے جو شفاف اور بلا تفریق احتساب کو یقینی بنا دے۔
اس مسیحا کی تلاش میں محو جستجو گروہ کو کبھی ایبڈو ، این اے او اور آئین میں آرٹیکل 62,63 کی شمولیت جیسے اقدامات میں تمام ملکی مسائل کا سدباب ہوتا نظر آیا تو کبھی ‘ ون یونٹ ‘ اور’ نفاذ شریعت ‘ جیسی سیاسی اصطلاحات کے اطلاق میں وطن کا مستقبل روشن دکھائی دیا ۔ اس رجعت اور قدامت پسند گروہ کو پارلیمنٹ کی بالا دستی ، آئین کا تقدس ، آزاد خارجہ پالیسی ، میڈیا کی آزادی ، مضبوط وفاق اور اقلیتوں کا تحفظ جیسی اصطلاحات کبھی بھی نہ بھائیں۔ اگر کبھی کوئی ان سیاسی تصورات کو ملکی سیاسی ثقافت کا حصہ بنا کر ملک کی ترقی ، سا لمیت اور خوشحالی کا خواب دیکھتا بھی تو یہ گروہ ” بھلا عام آدمی کا ان باتوں سے کیا تعلق ” ” عام آدمی کو گڈ گورننس جس کے لیے کرپشن کا خاتمہ ضروری ہے ” جیسے سوالات اٹھا کر اور حل پیش کر کے اپنی نظریاتی و مفاداتی سرحدوں کا مسلسل دفاع کیے جا تا ۔
اس دور حکومت میں’ ریاست مدینہ’ کی اصطلاح ملکی سیاسی بیانیہ میں متعارف کرائی گئی تو اسے مذہبی سیاسی جماعتوں کی جانب سے کوئی خاص پذیرائی نہ ملی ۔ جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اپنے حالیہ مظفر گڑھ کے عوامی اجتماع میں ریاست مدینہ کی اصطلاح کے سیاسی استعمال کی کیا خوب درگت بنائی ۔
مولانا تحریک انصاف کی حکومت اور خصوصاََ عمران خان سے کچھ یوں مخاطب تھے ” ہم نے خود میاں نواز شریف سے ایک زمانے میں سنا تھا کہ میں پاکستان میں خلافت راشدہ لاؤں گا ، تم سے اچھے اچھے نعرے اس سے پہلے ہم سن چکے ہیں” ۔ ان کا مزید کہنا تھا ” اب نئے نعرے اور رنگ کے ساتھ تم دھوکہ دینا چاہتے ہو ، ریاست مدینہ کے نام پر ۔یہ دھوکے اب نہیں چلیں گے،قوم کو دھوکہ مت دو ”
اسی طرح جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے 21 دسمبر کو ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جہاں موجودہ حکومت کے طرز احتساب کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا وہی تحریک انصاف کی حکومت کو گلا بھی دیا کہ اس نے ابھی تک ایک قدم بھی ریاست مدینہ کی تعمیر کی طرف نہیں اٹھایا ۔
اس دفعہ مذہبی سیاسی جماعتوں کی جانب سے ریاست مدینہ کے نعرہ کو پذیرائی نہ مل سکی تو داعیِ دینِ اسلام مولانا طارق جمیل کو ذمہ داری سونپی گئی یا ہو سکتا ہے کہ انہیں خود سے خیال آیا ہو کہ عوامی سطح پر اس بات کا تاثر قائم کرنا ہے کہ عمران خان وہ شخصیت ہیں جو مملکت خداد کو ریاست مدینہ کی طرز پراستوار کر سکتے ہیں ۔ اسی لیے مولانا طارق جمیل صاحب کا فرمانا تھا کہ عمران خان

وہ پہلا وزیراعظم ہے جس نے ریاست مدینہ کی بات کی ۔
وزیر اعظم کی پہلی تقریر سے لے کر اب تک پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر استوار کرنے کی جو بحث چھڑی ہے کبھی کسی بھی ایسے منطقی نتیجہ پر نہ پہنچ سکے گی جس کی کوئی عملی سیاسی تعبیر ممکن ہو ۔ اگر ایسا ممکن نہیں تو پھر ریاست مدینہ کی اصطلاح کا سیاسی استعمال کیونکر؟
ریاست مدینہ بطور سیاسی اصطلاح اپنے اندر کئی بین السطور سیاسی عزائم لیے ہوئے ہے ۔ جب بھی کوئی سیاسی قائد ریاست کی فلاح ماضی بعید میں پڑے کسی سیاسی ڈھانچے میں تلاش کرتا ہے تو وہ موجودہ ریاستی بندوبست کے تمام ڈھانچوں سے بیزار ہوتا ہے ۔ پاکستان کا موجودہ ریاستی بندوبست آئین پاکستان کے تابع ہے ۔ جب وزیراعظم مدینہ کی طرز پر ریاست کو چلانے کی خواہش کا اظہار کریں گے تو ظاہر سی بات ہے وہ پاکستان کو آئین کی رو سے چلانے کے خواہش مند نہیں ہیں ۔
پارلیمانی جمہوریت کے ہوتے ہوئے خود وزیرا عظم کی جانب سے آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی کے اشارے بھی پارلیمانی بالا دستی کے لیے نیک شگون ہر گز نہ ہیں ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وزیر اعظم اب تک بار ہا آئین پاکستان کے تحت ملک چلانے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہوتے ۔ کیونکہ یہی ایک واحد راستہ ہے جس سے فلاحی ریاست کا قیام ممکن ہو سکتا ہے ۔
لہذا ریاستی امور ریاست مدینہ کی طرز پر چلانے یا آرڈیننس کے ذریعے ملک چلانے کی خواہش کا مقصد قوم کی مجموعی سیاسی نفسیات کو اُن خطوط پر استوار کرنا ہے کہ قوم میں پارلیمنٹ کی بالا دستی ، آئین کا تقدس اور قانون کی حکمرانی جیسے سیاسی فلسفوں پر یقینیت کا عمل زور نہ پکڑ سکے ۔ آمریتوں اور آمریت زدہ جمہوری حکومتوں کی توثیق کے لیے ایک خاص قومی سیاسی نفسیات کی ضرورت ہوتی ہے جس کی ڈویلپمنٹ میں اسٹبلشمنٹ کے پسندیدہ دانشوروں کا ایک اہم کردار رہا ہے ۔
اس قومی سیاسی نفسیات کی ایک جھلک روز مرہ کے ایک معمولی واقعہ میں سے تلاش کرتے ہیں ۔
پچھلے دنوں مجھے گھر سے باہر نکلتے ہی ایک” پھیری والا” ملتا ہے۔ یہ اکثر ایک دن چھوڑ کر ہماری چھوٹی سی بستی جو گاؤں سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے میں ” آلو چھولے ” بیچنے کی غرض سے آتا ہے ۔ اس نے اپنی موٹر سائیکل کی ٹیپ میں آلو چھولے بیچنے کے لیے جو ریکارڈنگ کروائی ہے ‘ کچھ یو ں ہے :
” بڑے ودھیا آلو چھولے ، کرارے آلو چھولے ، ٹماٹر پا کے ، سپیشل چٹنی پا کے
شاہِ مدینہ ، یثرب کے والی ، سارے نبی تیرے در دے سوالی
پیالہ دس روپے ، پندرہ روپے
بندہ تو گناہ گار ہے ، یثرب کے والی ”
پھیری والے کی طرف سے آلو چھولے بیچنے کی خاطر نعت مقبول پاک کا استعمال مجھے مجموعی قومی نفسیات کے بارے میں بہت کچھ سکھا گیا ۔ نہ جانے مجھے کیوں لگ رہا تھا کہ پھیری والے کی نفسیاتی بناوٹ میں پرو اسٹبلشمنٹ کے دانشوروں کا بھی ہاتھ ہے جو فقط کرپشن کو تمام مسائل کی جڑ قرار دیتے ہیں ۔
جس طرح پھیری والے کی جانب سے نعت کے استعمال کا مقصد فقط آلو چھولے بیچنا تھا اسی طرح ریاست مدینہ کی اصلاح کے بارہا سیاسی استعمال کا مقصد آئینی بندوبست کے تحت کاروبار حکومت چلنے پر عوامی اعتماد کو بحال نہ ہونے دینا ہے ۔
اگر عوام کا اعتماد پارلیمنٹ کی بالادستی ، آئین کے تقدس اور قانون کی حکمرانی پر پختہ ہوتا ہے تو وہ وقت کے ساتھ ساتھ مسیحاؤں کی آمد کے انتظار سے مکمل طور پر آزاد ہو جائیں گے ۔
فی الحال تو ایسی تمام آوازوں کے لیے مثبت رپورٹنگ کے احکامات جاری ہوئے ہیں جو پارلیمنٹ کی بالا دستی ، جمہوریت کے تسلسل ، آزاد خارجہ پالیسی ، صوبائی خودمختاری ، ہمسایہ ممالک سے بہترین تعلقات ، اقلیتوں کے حقوق اور بلا تفریق اور شفاف احتساب میں بہت سے عوامی مسائل کا حل ڈھونڈتی ہیں ۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words