کیرالہ کی عورتیں اور آسیہ بی بی کیس

نئے سال کا سورج طلوع ہوتے ہی بھارت کے جنوب میں واقع ریاست کیرالہ میں نئی تاریخ رقم ہوئی ہے ۔ صنفی مساوات کی خاطر ریاست کے چار اضلاع کی تقریباً 55 لاکھ خواتین اکٹھی ہوتی ہیں جو 620 کلو میٹر کی انسانی دیوار بناتی ہیں۔ اس اجتماع کا مقصد سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کیرالہ کے ’سبری مالا ‘ مندر میں تمام عورتوں کے بلا جھجک داخلہ کو یقینی بنانا ہے۔ تقریباًتین ماہ قبل ستمبر 2018 میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا جس کے مطابق مندر میں ہر عمر کی خواتین کو داخلے کی اجازت ہو گی اور وہ بھگوان ’ایپا ‘ کا ا درشن کر سکیں گی ۔
ہندو مذہبی روایات کے مطابق بھگوان ایپا مجرد یا برہمچریہ ہیں اور دس سے پچاس سال کی عورتوں کا سبری مالا مندر میں داخل ہو کر بھگوان ایپا کا درشن ممنوع ہے ۔ عقیدے کے مطابق یہ عورتیں بھگوان کو جنسی طور پر لبھا سکتیں ہیں ۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آئے تین مہینے گزر نے کے باوجود کوئی بھی عورت قدامت پسندوں کے سماجی و سیاسی دباؤ کے خوف سے مندر میں داخل نہ ہو سکی ۔ یہی اس اجتماع کا پس منظر ہے۔
اس اجتماع کے دوسرے دن ہی کیرالہ کے سبری مالا مندر کی تاریخ اور اس کی قدیم روایت تقریباً 40 سال کی عمر کی دو خواتین کے داخلے کے ساتھ ٹوٹ گئیں ۔ ان دونوں نے آدھی رات کو مندر کی طرف چڑھائی شروع کی اور علی الصبح چار بجے مندر پہنچ کر بھگوان ’ایپا‘ کے درشن کرنے کے بعد واپس لوٹ آئیں ۔ ان میں ایک کا نام بندو اور دوسری کا کن کدرگا ہے ۔ اس داخلہ کے بعد شدت پسند عناصر کی جانب سے پر تشدد احتجاج کا سلسلہ چل نکلا ہے ۔ آخری اطلاعات آنے تک ایک پچپن سالہ شخص بدھ کی رات زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں جان کی بازی ہا ر گیا ۔
کیرالہ میں مارکسی کمیونسٹ پارٹی بر سراقتدار ہے اور یہ اس وقت ہندوستان کی واحد ریاست ہے جہاں کمیونسٹ حکومت ہے ۔ حکومت سپریم کورٹ کے حکم کی مکمل تکمیل چاہتی ہے ۔ ریاستی حکومت نے جہاں عورتوں کے پر امن اجتماع کے اہتمام میں مکمل تعاون کیا وہیں برسراقتدار پارٹی نے اجتماع میں بھرپور شمولیت بھی کی ۔ اس اجتماع اور مندر میں خواتین کے داخلہ کے بعد بی جے پی کیرالہ کے سربراہ سری دھاون پپلائے کا کہنا تھا کہ ’ یہ ہندوؤں کے مندروں کو تباہ کرنے کی دہریہ حکمرانوں کی سازش ہے ‘۔ اسی طرح وزیراعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ ’یہ مذہبی عقیدے کا مسئلہ ہے نہ کہ صنفی برابری کا ‘۔ اسی ایشو پر لوک سبھا میں مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے ڈپٹی لیڈر محمد سلیم اور راجیہ سبھا میں پارٹی کے ڈپٹی لیڈر کے کے راگنیش نے کہا کہ دائیں بازو کی قدامت پرست طاقتیں ملک کو قرون وسطی کی جانب دھکیلنا چاہتی ہیں ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 55 لاکھ خواتین نے تقریباً 620کلومیٹر انسانی دیوار بنائی ۔ آج تک کہیں بھی ایسا نہیں ہوا لیکن ابھی تک مرکزی حکومت نے کوئی بھی ایسا رد عمل ظاہر نہیں کیا جس سے سبری مالا معاملے کو سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں حل کیا جا سکے ۔
سبری مالا مندر کے معاملہ میں سے جس قسم کی بھی سیاسی تصویر ابھرے مگر اس ایشو میں سے ایک حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ملک کی عدالتیں جب آئینی حدود میں رہ کر کام کرنے میں آزاد ہوں تو ان کے فیصلے نہ صرف ہر قسم کے خوف سے عاری ہوتے ہیں بلکہ بھرپور عوامی تائید حاصل کرتے ہیں۔ اگر عدالتیں آئین و قانون کو ذہن میں رکھتے ہوئے منصفانہ فیصلے نہ کر سکیں تو ریاست کبھی بھی ماں کا درجہ حاصل نہیں کر سکتی ۔ آزاد ، خود مختار اور آئین کے تابع عدالتوں کا شہریوں کے ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ہوتا ہے ۔
صنفی مساوات کی یہ تاریخی سبری مالا مندر تحریک ہمیں یہ اشارہ دیتی ہے کہ عدالتیں جب آزاد اور منصفانہ فیصلے کرتی ہیں تو انسانی حقوق کے حصول کی جد و جہد میں جہاں یقینیت کے عنصر کا نئی جہتوں کے ساتھ پیدا ہونے کا امکاں پیدا ہوتا ہے وہیں شہریوں کا ریاست پر اعتماد بحال رہتا ہے ۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ پاکستا ن کی اعلیٰ عدالتیں تاریخ میں جہاں نظریہ ضرورت جیسے آئین دشمن نظریہ کو پروان چڑھاتی رہیں وہیں عصبیت پر مبنی فیصلے بھی ان کے ماتھے کا جھومر رہے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود حالیہ تاریخ میں اعلیٰ عدلیہ نے دو انتہائی اہم فیصلے صادر کئے ہیں ۔
پہلے فیصلہ ممتاز قادری کیس میں عدالت نے واضح کیا کہ کسی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں چاہے اس شخص کے کتنے ہی جذبات مجروح کیوں نہ ہوئے ہوں ۔ دوسرے فیصلہ آسیہ بی بی کیس میں گواہان کے بیان میں عدم مطابقت اور ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر جیسی تکنیکی وجوہات کی بنا پر آسیہ بی بی کو بے گناہ قرار دے کر باعزت بری کر دیا گیا ۔
ہندوستان کی سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں لاکھوں عورتیں اجتماع کرتی ہیں ، مندر میں داخل ہونے کی طلب گار ہوتی ہیں اور اگلے ہی دن بندو اور درگا مندر میں داخل ہو کر بہت سی عورتوں کے لیے مشعل راہ بنتی ہیں ۔ یوں یہ عورتیں صدیوں پرانی مذہبی توڑنے کا منظم بندوبست کرتی دکھائی دیتی ہیں ۔
اس وقت مملکت خداد اد پاکستان میں کوئی شخص، سیاسی جماعت یا سماجی تنظیم ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی جو آسیہ بی بی کیس کے فیصلہ کی بنیاد پر کیرالہ کی عورتوں کی طرز پر کوئی سماجی تحریک چلا سکے ۔جس کے نتیجہ میں مستقبل میں کوئی آسیہ بی بی پیدا نہ ہو ۔جو تقریباً دس سال کی بامشقت مگر بے گناہ قید جھیل کر بھی آزاد نہیں ہے۔ سلمان تاثیر جیسے دھرتی کے بیٹوں کو پہلے ہی عبرت کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے تاکہ مستقبل کا سلمان تاثیر پیدا نہ ہو جو کیرالہ کی عورتوں کی طرح کسی بھی ایسی تحریک کا بندوبست کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو جو شہریوں کو آزادی اور سماجی مساوات جیسی انسانی قدروں سے ہمکنار کرانے میں اہم کردار ادا کر سکے ۔
4 جنوری کو سلمان تاثیر کی آٹھویں برسی تھی۔ وہی سلمان تاثیر جس نے آئین کے آرٹیکل 295 سی کا ازسرنو جائزہ لینے کے لیے ڈنکے کی چوٹ پر آواز بلند کی تھی ۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words