مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا بحران

بھارت بنیادی طور پرطاقت کے زور پر کشمیر کا مسئلہ حل کرنا چاہتا ہے ۔لیکن اس طاقت کی لڑائی میں جس بڑے پیمانے پر بھارت کی ریاست انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہی ہے وہ واقعی عالمی دنیا کے سامنے توجہ طلب مسئلہ ہے ۔انسانی حقوق کے خلاف بدترین خلاف ورزی کا مقدمہ محض کشمیری عوام یا پاکستان کا نہیں بلکہ انسانی حقوق سے جڑے عالمی مبصرین ، ادارے او ران کی نگرانی کا نظام تسلسل کے ساتھ وہ تمام بدترین اعدادوشمار پیش کررہے ہیں جو عالمی ضمیر کو جنجھوڑنے کے کافی ہیں ۔بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کے خلاف ہونے والی خلاف ورزیوں میں عورتوں ، معصوم بچوں بچیوں اور بزرگوں کو بھی معاف نہیں کیا جارہا ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے بھی بھارت کو خبردار کیا کہ وہ طاقت کے استعمال سے گریز کرے اور مسئلہ کا سیاسی حل تلاش کرے ۔
2018کو کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بدترین برس قرار دیا جارہا ہے بلکہ بدترین سے زیادہ خون ریزی پر مبنی برس کہا گیا ہے ۔سیاسی پنڈتوں کے بقول اگر بھارت کا جارحانہ رویہ او رانسانی حقوق کی پامالی کا موجودہ طرز عمل جاری رہا تو اس امکان کو کسی بھی صورت مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ 2019کا برس 2018سے بھی بدترین برس ہوگا ۔جموں اینڈ کشمیر کولیشن سول سوسائٹی نامی تنظیم کے بقول 2018میں کشمیری جدوجہد کرنے والے 586افراد کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ان میں 31معصوم بچے او ربچیاں بھی شامل ہیں ۔800سے زیادہ واقعات میں کشیدگی پیدا ہوئی جو تاریخ میں سب سے زیادہ واقعات سمجھے جاتے ہیں ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اب بھارت کی طرف سے کشمیری جدوجہد کرنے والے افراد پر بدترین تشدد ان کی نسل کشی پر خود بھارت میں موجود ہندو اور سکھ طبقہ کی نئی نسل میں بھی کافی غصہ پایا جاتا ہے ۔ دہلی ، ممبئی ، گجرات ، کلکتہ او رمدراس کی بہت سے بڑی درس گاہوں میں ہندو طلبہ و طالبات نے اپنی ہی بھارتی حکومت کے خلاف کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مظاہرے کیے ہیں ۔
بنیادی طور پر بے جے پی کی حکومت کے دور میں جو ہندواتہ کی بنیاد پر سیاست بھارت میں مضبوط ہوئی ہے اس کا ایک بڑا اثر ہمیں بھارت سمیت کشمیر کی سیاست میں بھی بالادست نظر آتا ہے ۔ اس برس2019میں بھارت میں عام انتخابات ہیں اور ان انتخابات سے قبل پانچ ریاستی انتخابات میں حکمران جماعت بی جے پی کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لیے ہمیں آگے کچھ عرصہ میں بھار ت کی داخلی سطح کی سیاست میں ہندواتہ پر مبنی سیاست اور مسلم دشمنی سمیت کشمیر میں اور زیادہ طاقت اور نفرت کی سیاست کو بالادستی دیکھنے کو ملے گی ۔کیونکہ بے جے پی کی کوشش ہوگی کہ وہ اپنے انتہا پسند سیاست کی مدد سے بھارت کے ووٹرز پر اثرانداز ہو کر اپنی سیاسی بالادستی کو برقرا ررکھ سکے ۔اس تناظر میں بی جے پی کو ایسے کئی انتہا پسند طبقوں ، گروہوں او رجماعتوں کی حمایت حاصل ہے جو پاکستان ، مسلم دشمنی اور کشمیر میں پاکستان کی مداخلت کو پیش کرتا ہے ۔
مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت بھارت کی حکومت ہو یا ریاستی نظام اس میں کشمیر کے مسئلہ پر سیاسی حکمت عملی کا گہرا فقدان نظر آتا ہے ۔کیونکہ کسی بھی پالیسی فورم پر یہ بحث موجود نہیں کہ ہمیں کشمیر کا مسئلہ طاقت کی بجائے سیاسی بنیادوں پر حل کرنا چاہیے ۔ جو آوازیں بھارت میں مسئلہ کشمیر کے حل میں سیاسی بنیادوں پر موجود ہے وہ اتنی طاقت ور نہیں کہ بھارت کی فیصلہ سازی میں کوئی بڑا کردار ادا کرسکے ۔ اس میں خاص طو رپر بھارت کے میڈیا کا مجموعی کردار ہے جو اس رائے کو طاقت دیتا ہے کہ کشمیر کی جدوجہد آزادی نہیں بلکہ دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے ۔اس بیانیہ کو بنیاد بنا کر بھار ت پاکستان پر بھی براہ راست الزام لگاتا ہے کہ وہ کشمیر میں دہشت گردی کی بنیاد ہے او را س کا مقصد بھارت کو غیر مستحکم کرنا ہے ۔
حالانکہ یہ تسلیم کیا جانا چاہیے کہ کشمیر میں جو آزادی کی جدوجہد ہے وہ سیاسی بھی ہے او رمقامی بھی ۔کیونکہ کوئی بھی سیاسی جنگ داخلی مضبوطی اور مقامی لوگوں کی شمولیت کے بغیر نہیں لڑی جاسکتی ۔بھارت کا جو مقدمہ انسانی حقوق کی پامالی کی صورت میں سامنے موجود ہے اس کا سخت ردعمل ہمیں کشمیر میں موجود نئی نسل میں دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ وانی کی شہادت کے بعد جس انداز میں کشمیر کی نئی نسل نے کشمیر کے مسئلہ کو عالمی سطح پر بیدار کیا ہے وہ اہمیت رکھتا ہے ۔ یہ ایک پرامن جدوجہد ہے او را س کے مقابلے میں ان کشمیریوں کا مقابلہ ایک مضبوط بھارت کی ریاست اور اس کے اسلحہ کے وسائل سمیت لاکھوں بھارتی فوجیوں کی یلغار سے ہے ۔اس کے مقابلے میں کشمیری نوجوانوں کا بڑا ہتھیار پتھر، غلیل اور ڈنڈے ہیں جو ظاہر کرتا ہے کہ اس جنگ کوپاکستان سمیت کسی بھی ریاست کی انتظامی حمایت حاصل نہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت کشمیری نوجوان نسل میں بھارتی طرز عمل او رخاص طور پر انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں پر سخت ردعمل پایا جاتا ہے ۔ نئی نسل سمجھتی ہے کہ ہماری پرانی نسل او رقیادت نے جو پرامن جدوجہد کی او رجو باربار عالمی دنیا کو جنجھوڑا اس کا کوئی بڑا نتیجہ نہیں نکل سکا ۔ ان کے بقول ہمیں مزاحمت کی تحریک کو زیادہ شدت سے لڑنا ہوگا اور جوابی وار میں طاقت کا استعمال کو بھی وہ جائز سمجھتے ہیں ۔اگرچہ اب بھی کشمیری قیادت نئی نسل کا ہاتھ روکے ہوئے ہے او ران کو پرامن جدوجہد سے ہی جوڑے ہوئے ہے ۔لیکن یہ کام کب تک چلے گا؟
حالیہ جو نئے پہلو ابھر کر سامنے آئے ہیں ان میں یہ پہلو بھی اہم ہے کہ کشمیر کی جدوجہد میں صرف نئی نسل ہی نہیں بلکہ اب بہت زیادہ پڑھے لکھے انجینر، ڈاکٹر اور دیگر پروفیشن کے لوگ اس آزادی کی جنگ میں شامل ہوگئے ہیں ۔ اس کی ایک بڑی وجہ بھارتی موجودہ پالیسیاں ہیں جس میں پر تشدد عنصر نمایاں ہے جو نوجوانوں کو خاموشی سے بیٹھنے کی بجائے جدوجہد پر مائل کرتی ہے ۔اس تحریک میں اب آپ کو نوجوان لڑکوں کے ساتھ ساتھ نوجوان پڑھی لکھی لڑکیاں بھی نظر آرہی ہیں او ریہ جدوجہد کے دائرے کار میں سب ہی شامل ہیں ۔نئی نسل کا ہیرو وانی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی تحریک میں شدت لاکر بھارت کو دفاعی حکمت عملی پر لاسکتے ہیں ۔
اب سوال یہ ہے کہ کشمیریوں کی اس جدوجہد میں پاکستان کیا کچھ کرسکتا ہے ۔ اول ہمیں ہر سطح پر کشمیر کی آزادی کی پرامن حمایت کرنی چاہیے ۔ دوئم پاکستان کو اپنی سیاسی اور سفارتی محاذ پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سمیت انسانی حقوق کی پامالی کے مقدمہ کو زیادہ شواہد او رحقایق کے ساتھ پیش کرکے عالمی دنیا کے ضمیر کو جنجھوڑنا چاہیے ۔ سوئم بھارت کو یہ باور کروانا ہوگا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کی طرف آئے او رطاقت کے استعمال کو مسترددکرکے سیاسی بلوغت کا مظاہرہ پیش کرے ۔ چہارم کشمیر کے مسئلہ پرسفارتی اور ڈپلومیسی کے محاذ پر ہمیں اپنی سفارتی کوششوں کو زیادہ موثر انداز میں کام کو آگے بڑھاکر بھارت کو دفاعی حکمت عملی پر لانا ہوگا ۔ پنجم کشمیر جدوجہد میں وہاں کی کشمیری قیادت کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھنا ہوگااو ران ہی کو فیصلہ کی اصل طاقت دینے کی سیاست کو اہمیت دینی ہوگی ۔ششم اس احساس کو کشمیر کی قیادت سمیت عوام میں نفی کرنا ہوگی کہ پاکستان کشمیر کے مسئلہ کے حل میں سنجیدہ نہیں بلکہ روائتی سیاست کررہا ہے ۔ہفتم پاکستان او ربھارت کے درمیان موثر او ربامعنی مزاکرات ہی کشمیر کی صورتحال میں بھی تبدیلی لاسکتا ہے ۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ پیش قدمی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگی ۔ پاکستان سمیت بھارت کو بھی اپنی موجودہ پالیسی میں ٹکراو اور طاقت سے گریز کرکے سیاسی حل کی طرف آنا ہوگا ۔ کیونکہ اس وقت پاکستان میں جو حکومت ہے وہ بھی اور فوجی قیادت دونوں بھارت سے بہتر تعلقات کی حامی ہیں ۔ کرتار پور راہداری کا پیغام اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان کا یہ کہنا کہ بھارت ایک قدم آگے بڑھے ہم دو قدم آگے بڑھیں گے اس کا بھارت کو بھی فائدہ اٹھانا چاہیے ۔وزیر اعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر کو خوب اجاگر کیا اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی اس مسئلہ کی شدت کو خوب اجاگر کررہے ہیں ۔ کیونکہ ایک بات طے ہے کہ اب تنازعات کو حل کرنے میں طاقت کا زمانہ بدلتا جارہا ہے اور اب پر تشدد انداز پر مبنی سیاست کی کوئی بھی حمایت نہیں کرے گا ۔بھار ت کو سمجھنا چاہیے کہ اس کی جمہوریت، انسانی حقوق، قانون کی پاسداری اور انصاف پر مبنی حکمرانی کے سائے میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی ایسا داغ ہے جسے اسے دھونا چاہیے۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words