مائی ایم ایف بھی کپتان کے سحر میں مبتلا ہو گئی

تمام پاکستانی جان گئے ہیں کہ میڈیا پر تجزیے جن خبروں پر کیے جاتے ہیں وہ پلانٹڈ ہوتی ہیں۔ کبھی باہر سے پلانٹ کی جاتی ہیں کبھِی اندر سے۔ میڈیا ہے ہی بد طینت تو کیا کریں۔ اسی وجہ سے گزشتہ برس سے خبروں کی بجائے تصاویر پر تجزیے کیے جانے لگے ہیں اور شرکا کی باڈی لینگویج دیکھ کر صاف صاف بتا دیا جاتا ہے کہ کیا بات چیت ہوئی اور کیا نتیجہ نکلا۔ تصویر سامنے موجود ہوتی ہے اس لئے پڑھنے والا دیکھ سکتا ہے کہ تجزیے میں ڈنڈی نہیں ماری گئی اور سو فیصد سچ بولا گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لیگارڈ نے ہمارے محبوب اور اولو العزم کپتان سے ملاقات کی تو ان کی تصویر ہی سارا ماجرا بیان کر گئی۔ نوٹ کریں کہ کیا وجہ ہے کہ کپتان کے بارہا کہنے کے باوجود کہ وہ آئی ایم ایف سے قرضہ نہیں لے گا، یہ مائی ایم ایف مستقل اس کا تعاقب کر رہی ہے کہ وہ قرضہ لے لے۔ کیا پہلے کبھی آپ نے دیکھا ہے کہ قرضہ لینے والا جان چھڑاتا پھر رہا ہو اور دینے والا پیچھے بھاگ رہا ہے کہ خدا کا واسطہ ہے کہ مجھ پر احسان کرو اور مجھ سے پیسے لو؟
آپ خود سوچیں کہ کیا وجہ ہے کہ اس خاتون نے دبئی کی اس ورلڈ گورنمنٹ سمٹ میں شریک دوسرے تمام سربراہان مملکت یعنی روانڈا کے صدر پال کاگمے اور ایسٹونیا کے وزیر اعظم جوری راٹاس سے ملاقات کو نظرانداز کرتے ہوئے صرف کپتان سے بات کی؟ وہاں ہیریسن فورڈ جیسا ساحرانہ کشش رکھنے والا مشہور اداکار بھی موجود تھا جو کئی مرتبہ امریکی صدر کا کردار ادا کر چکا ہے لیکن اسے بھی اس مائی نے اہمیت نہیں دی۔ اس کی نظریں تو صرف کپتان پر جمی ہوئی تھیں۔ کیوں؟
تصویر پر غور کریں اور آپ کو اس سوال کا جواب مل جائے گا۔ آپ کو اپنی جوانی اور پہلا پہلا پیار یاد ہے تو پھر مائی ایم ایف کی آنکھوں میں جھانکیں۔ کیسی مسحور ہو کر کپتان کو دیکھ رہی ہے۔ بظاہر اسے دنیا مافیہا کا کوئی ہوش نہیں۔ کچھ پتہ نہیں ہو گا کہ کیا بات ہو رہی ہے۔ وہ بس کپتان کی شخصیت کے سحر میں مبتلا ہو گئی ہے۔ کپتان کی شخصیت کا کمال دیکھیں کہ اسے متاثر کرنے کی خاطر مغربی رنگوں میں رنگی یہ فرانسیسی حسینہ بھی دوپٹہ پہنے آئی ہے۔
جس طرح کپتان شرما کر اپنے ہاتھوں پر نظریں گاڑے بیٹھے ہیں اس سے گفتگو کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ وہی منظر ہے جب نوجوانی میں پہلے محبوب سے پہلی ملاقات ہوتی ہے اور ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں، زبان کچھ کا کچھ کہنے لگتی ہے لیکن نگاہیں سب سچ بول دیتی ہیں، سارے پول کھول دیتی ہیں۔ وہ کہے دیتی ہیں کہ ”اس نے اپنے ہاتھوں کے ذریعے پوچھا، اپنی آنکھوں سے سوال کیا اور اپنے ہونٹوں پر حرف تمنا لایا۔ اور میں نے کہا ہاں ہاں، میں ہاں کہتی ہوں، ہاں کہتی ہوں، ہاں کہتی ہوں“۔
جس طرح مائی ایم ایف بے تاب ہو کر کرسی پر آگے ہو کر بیٹھی ہے اور کپتان شرمیلے انداز میں اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہا ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ خاتون اس کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہی ہے۔ اس کے آکسفورڈ کے دنوں کا ذکر کر رہی ہے۔ اس کے بال پھینکنے اور دل اڑا لے جانے کی محبوبی کا تذکرہ ہے۔ اس کے ورلڈ کپ جیتنے کا قصیدہ ہے۔ اس کے بغیر کسی پیسے کے مانگ تانگ کر ایک عظیم الشان ہسپتال بنا دینے کے معجزے پر تعریف کے بول کم پڑ رہے ہیں۔ اس کے وزیراعظم بن جانے پر حیرانی ہے۔
اب کپتان تو ظاہر ہے کہ ہر بڑے آدمی کی طرح اپنی تعریف خود کرنے سے کتراتا ہے۔ بڑے آدمیوں کے کارنامے تو دوسرے بتایا کرتے ہیں۔ ایسا شخص ہم جیسا تو ہوتا نہیں کہ کوئی دوسرا تعریف نہ کرے تو مجبور ہو کر خود ہی اپنی ذات کی تعریف کرتا پھرے اور ہر تقریر میں بس میں ہی میں کرتا پھرے۔ کپتان اپنی تعریفیں سن کر شرمائے نہ تو کیا کرے؟ مانا کہ تعریف میں غلو نہیں اور سچ ہے سچ کے سوا کچھ نہیں، مگر پھر بھی ایسی تعریفیں سن کر اپنی ذات کو قوم پر تج کر دینے والا ایک منکسر المزاج اور ڈاؤن ٹو ارتھ آدمی شرمائے نہ تو کیا کرے۔
چند ثانیوں کے بعد لی جانے والی اگلی تصویر دیکھیں۔ اب کپتان مائی ایم ایف سے مخاطب ہے۔ اس نے اپنی تیز نگاہیں اس خاتون کے چہرے پر مرکوز کر رکھی ہیں۔ اس حسینہ میں تاب نہیں کہ کپتان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے۔ اسے علم ہے کہ نگاہیں ملتے ہی وہ پگھل جائے گی۔ وہ ہوش و حواس گنوا بیٹھے گی۔ گاتی پھرے گی ”چھاپ تلک سب چھین لی رے مو سے نیناں ملائی کے“۔ وہ کہتی تو کیا کہتی؟ یہی کہتی کہ ”ہاں ہاں، میں ہاں کہتی ہوں، ہاں کہتی ہوں، ہاں کہتی ہوں“۔ اس نے یہی کہہ دیا۔
اسی لئے کپتان نے اس ملاقات کے بعد ٹویٹ کی ”آج کی ملاقات میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈ کو معاشرے کے پسماندہ ترین طبقے کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے پاکستان کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لئے جامع ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی ضرورت کے حوالے سے اپنا ہم خیال پایا۔ “
(بشکریہ: ہم سب لاہور)

Comments:- User is solely responsible for his/her words