گرفتار صحافی رضوان رضی کی ضمانت منظور ہوگئی

لاہور: دفاعی اور ریاستی اداروں کے خلاف ٹویٹس کرنے کے الزام پر ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے گزشتہ روز گرفتار کیے جانے والے صحافی رضوان رضی کی ضمانت منظور ہو گئی ہے۔
مجسٹریٹ کی عدالت نے ان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے کے مچلکے اور شخصی ضمانت پیر کی صبح ٹرائل کورٹ میں جمع کروانے کی ہدایت کی ہے۔ صحافی رضوان رضی عدالتی فیصلہ کے بعد فی الحال سائبر ونگ کی تحویل میں ہیں۔ پیر کی صبح ٹرائل کورٹ میں ان کی جانب سے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کے بعد ان کی رہائی عمل میں آئے گی۔
اتوار کے روز انہیں ڈیوٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ایف آئی اے کی جانب سے تین روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی۔
اس سے پہلے پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے معروف صحافی اور اینکر رضوان رضی کو لاہور سے حراست میں لیا تھا۔ رضوان رضی نجی ٹی وی چینل دن نیوز سے منسلک ہیں اور ٹوئٹر پر خاصے سرگرم تھے لیکن ان کی گرفتاری کے بعد سے ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل ہے۔
رضوان رضی کے صاحبزادے اسامہ رضی نے بتایا ہے کہ ہفتے کی صبح ساڑھے دس بجے لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں ان کے گھر پر بعض نامعلوم افراد آئے تھے جنہوں نے ان کے والد پر تشدد کیا اور انہیں گاڑی میں بٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے۔
اسامہ رضی نے بتایا کہ ان کی والدہ اور اہلِ محلہ نے فائر کی آواز بھی سنی۔ ان کے بقول بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ ان کے والد کو ایف آئی اے نے شادمان تھانے منتقل کیا ہے۔ اسامہ رضی نے شبہ ظاہر کیا کہ ان کے والد کی گرفتاری میں کسی ایجنسی کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔
ایف آئی اے نے رضوان رضی کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں فوج اور عدلیہ کے خلاف سوشل میڈیا پر قابلِ اعتراض مواد شائع کرنے کے الزام میں سائبر کرائم ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق رضوان رضی کو پیر کو مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
سوشل میڈیا پر رضوان رضی کی ایک تصویر بھی گردش کر رہی ہے جس میں انہیں ہتھکڑیاں لگی ہوئی ہیں۔ اس سے قبل پولیس نے لاہور کے ایف سی کالج کے ایک استاد پروفیسر عمار جان کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کرلیا تھا۔
عمار جان کے والد خالد جان نے بتایا تھا کہ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب ان کے بیٹے کی ڈیفنس میں واقع رہائش گاہ پر ایک درجن سے زائد پولیس اہل کاروں نے اس وقت دھاوا بول دیا تھا جب تمام گھر والے سو رہے تھے۔ ان کے بقول جب وہ موقع پر پہنچے اور وارنٹ طلب کیے تو پولیس والوں نے بتایا کہ ان کے پاس وارنٹ گرفتاری ہیں لیکن وہ ابھی نہیں دکھا سکتے۔
ڈاکٹر خالد جان نے بتایا کہ ان کے بیٹے کیمبرج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں اور ایف سی کالج میں پڑھاتے ہیں۔ ڈاکٹر خالد جان کے بقول عمار جان پولیس اور ریاستی اداروں کی حراست میں لوگوں کی ہلاکتوں کے خلاف تھے اور انہوں نے چند روز قبل لاہور میں پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما ارمان لونی کی ہلاکت کے خلاف احتجاج میں حصہ لیا تھا۔
ڈاکٹر خالد نے کہا کہ انہیں حکام نے بتایا ہے کہ ان کے بیٹے کو اس احتجاج میں شرکت پر گرفتار کیا گیا ہے۔ بعد ازاں لاہور کی ایک مقامی عدالت نے پروفیسر عمار جان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم جاری کردیا۔
رضوان رضی اور عمار جان کی گرفتاریوں کے خلاف حکومت اور سکیورٹی اداروں پر سوشل میڈیا میں کڑی تنقید کی جا رہی ہے اور ان گرفتاریوں کو آزادی اظہار کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔
حزبِ اختلاف کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے بھی رضوان رضی اور پروفیسر عمار کی گرفتاریوں کی مذمت کی ہے۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words