جاپان میں آٹھ دن (2)

ناصر ناکا گاوا نے ہمارے ٹوکیو پہنچنے سے پہلے ہی جاپان نیٹ کی دسویں سالگرہ کی تقریب منعقد کرنے کا اہتمام کیا ہؤا تھا۔ مجھے اس تقریب میں مہمان خصوصی بنایا گیا۔ اس موقع پر ستر کے لگ بھگ دوست مدعو تھے جو ٹوکیو اور اس کے نواح سے طویل مسافت طے کرکے اس تقریب میں شرکت کے لئے آئے تھے۔ اس تقریب کا اہتمام ٹوکیو کے نواح میں نیو ہاٹ مصالحہ ریستوران میں کیا گیا تھا۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے ترقی پسند کارکن اور ناروے کی مقبول شخصیت ارشد بٹ کے دوست اور ساتھی الطاف غفار خاص طور سے مجھے اور میری اہلیہ کو اس تقریب میں لےجانے کے لئے ہمارے ہوٹل آئے اور واپس بھی پہنچایا۔ مہمانوں کے ساتھ یہ قدر افزائی جاپان کے پاکستانیوں کا خاصہ معلوم ہوئی۔ لیکن الطاف بھائی کی پاکستان میں سیاسی جد و جہد کے تناظر میں ان کے ساتھ ملاقات بہت پر لطف رہی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بھی میرے لکھے ہوئے اداریے پڑھتے ہیں ۔ اس طرح ملاقات سے پہلے بھی ہمارا فکری رشتہ استوار ہوچکا تھا۔
جاپان نیٹ کی دسویں سالگرہ پر متعدد احباب نے اظہار خیال کیا جن میں جاپان نیٹ کی مجلس ادارت کے مشیر اعلیٰ طیب خان اور ریڈیو جاپان کی اردو نشریات سے وابستہ حامد ظہور بھی شامل تھے۔ مقررین نے جاپان میں پاکستانی کمیونٹی کے لئے ناصر ناکا گاوا اور جاپان نیٹ کی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انٹر نیٹ پر شائع ہونے والا یہ پورٹل جاپان کے پاکستانیوں کو بروقت معلومات فراہم کرنے کا فریضہ مستعدی سے سرانجام دیتا ہے۔ اسے نہایت پروفیشنل انداز میں تسلسل اور معیار کے مطابق شائع کیا جارہا ہے۔ راقم نے اس موقع پر ناصر ناکا گاوا اور جاپان نیٹ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ ناصر ناکا گاوا سے اوسلو میں ملاقات سے پہلے ہی ان سے اردو کی متعدد مقتدر شخصیتوں کے علاوہ جاپان نیٹ کے ذریعے سیر حاصل تعارف ہو چکا تھا۔ ناصر ناکا گاوا نے اس جریدہ کو نہ صرف جاپان میں پاکستانیوں کے درمیان معلومات کے تبادلہ اور رابطہ کا ذریعہ بنایا ہے بلکہ اس کے ذریعے دنیا بھر میں رہنے والے پاکستانیوں سے بھی جاپان اور وہاں مقیم پاکستانیوں کو متعارف کروایا ہے۔ ناصر ناکا گوا خود سیاحت کے شوقین ہیں ۔ وہ اس شوق کی تکمیل میں جب بھی دوسرے ملکوں کا دورہ کرتے ہیں تو وہاں پر پاکستان سے تعلق رکھنے والے لوگوں اور اردو کا کام کرنے والے ادیبوں ، صحافیوں اور دانشوروں سے بھی ضرور ملاقات کرتے ہیں ۔ اس طرح وہ اپنے سفر ناموں میں ان ملکوں میں پاکستانی آبادیوں کے علاوہ وہاں تخلیق کئے جانے والے ادب سے بھی اپنے پڑھنے والوں کو متعارف کرواتے ہیں۔ ان کے سفر ناموں کا چوتھا مجموعہ ’دیار دوستاں ‘ کے نام سے حال ہی میں منظر عام پر آیا ہے۔ جاپان نیٹ کی دسویں سالگرہ کی تقریب کا اختتام پاکستانی روایت کے مطابق ضیافت پر ہؤا۔
اس بھرپور تقریب کے باوجود ناصر ناکاگاوا کی حس مہمان نوازی کم نہیں پڑی تھی۔ انہوں نے اگلے ہی روز اپنے دولت خانہ پر چائے کے لئے مدعو کیا اور اسی شام جاپان کی ممتاز کاروباری شخصیت اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما حافظ مہر شمس نے اپنے ڈیرے پر عشائیہ اور استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا ہؤا تھا۔ ناصر ناکاگاوا کے گھر پر چائے کی ضیافت کا لطف لینے کے علاوہ ان کی اہلیہ اور نہیات خوش مزاج اور عالم فاضل خوش دامن سے ملاقات اور بات چیت کا شرف بھی حاصل ہؤا۔ یہ خواتین چونکہ جاپانی کے علاوہ کسی دوسری زبان سے آشنا نہیں تھیں اس لئے ناصر بھائی کو یہاں مترجم کے فرائض ادا کرنا پڑے جو انہوں نے اپنے عدالتی تجربہ کی وجہ سے خوش اسلوبی سے ادا کئے۔ اس طرح دو جاپانی خواتین سے جاپان کے علاوہ ناروے کی ثقافت، میل جول کے طریقوں ، رہن سہن، مصروفیات، کھیل اور خاص طور سے ناروے کی مچھلی سالمن کے بارے میں پر لطف گفتگو رہی جو ان کے بقول لذیذ تو بہت ہے لیکن جاپانی معیار سے بھی بہت مہنگی ہے۔
شام کو حافظ مہر شمس سے ملاقات اور ان کے مدعو کئے ہوئے مہمانوں کے ساتھ نشست رہی جس میں پاکستانی کمیونٹی کے معاملات اور جاپان میں غیر ملکیوں کے ساتھ برتے جانے والے برتاؤ پر تبادلہ خیال ہؤا۔ حافظ مہر شمس نے اس موقع پر پرتکلف ضیافت کا اہتمام کیا تھا۔ وہ اگرچہ مسلم لیگ (ن) جاپان کے صدر ہیں لیکن جاپان میں مقیم پاکستانیوں میں ان کی شہرت ایک کامیاب تاجر اور پاکستانیوں کی بہبود کے لئے ہر وقت سرگرم عمل رہنے والے لیڈر کی ہے۔ وہ اپنی مرنجاں مرنج شخصیت کی وجہ سے ہر قسم کے لوگوں سے رابطہ رکھتے ہیں اور سیاسی نظریات میں اختلافات کے باوجود ہر کسی کی مدد کرنے پر آمادہ رہتے ہیں۔ حافظ شمس خاص طور سے جاپان کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی بہبود کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں اور ان سے ملاقات کے علاوہ ان کی قانونی اور سماجی مدد کرنے کے لئے کام کرتے ہیں۔
ایک روز بعد ٹوکیو سے کویوٹو جانے کے لئے جاپان کی مشہور بلٹ ٹرین پر سفر کا تجربہ ہؤا۔ ساڑھے چار سوکلو میٹر کا سفر اس آرام دہ ریل گاڑی میں سوا دو گھنٹے میں طے ہوگیا۔ سفر کے دوران ہرگز یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ گاڑی اس قدر تیز رفتاری سے محو سفر ہے۔ اسٹیشن پر گاڑی کی ہر بوگی مقرر جگہ پر ٹھہرتی ہے۔ مسافر ٹکٹ پر درج بوگی نمبر کی مخصوص جگہ پر انتظار کرتے ہیں اور گاڑی رکنے پر انہیں اس بوگی میں مقررہ نشست تک پہنچتے بالکل دیر نہیں لگتی۔ یہ ممکن نہیں کہ گاڑی کی کوئی بوگی اپنی مقررہ جگہ سے آگے پیچھے ہو جائے۔ کویوٹو جاپان کا ثقافتی شہر ہے ۔ یہ ایک ہزار برس تک جاپان کے مختلف بادشاہوں کا دارالحکومت رہ چکا ہے۔ اس شہر میں دیکھنے کے متعدد مقامات ہیں ۔ سیاح جوق در جوق اس شہر کا رخ کرتے ہیں اور شہرمیں جاپانیوں سے زیادہ تعداد میں سیاح موجود ہوتے ہیں۔
جاپان کے باشندوں کے بارے میں اگر نہایت اختصار سےبتانا ہو تو کہا جاسکتا ہے کہ وہ مہذب اور بااخلاق ہیں۔ تعاون کرنے والے اور خوش مزاج ہیں۔کسی سے راستہ پوچھا جائے تو وہ خود نہ بھی جانتا ہو تو بھی کسی نہ کسی طریقہ سے راستہ ڈھونڈ کر آپ کو راستہ پر ڈالنے کی کوشش کرے گا۔ وہ نرم خو اور محنتی ہیں۔ یہ جاپانی شہریوں کی ذاتی خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے اس ملک نے ترقی کی منازل طے کی ہیں۔ جاپان میں ٹپ لینے کا رواج نہیں ہے بلکہ ایسی کوشش کو بھی معیوب خیال کیا جاتا ہے۔ لین دین میں دیانت دار اور بات کرنے میں نرم خو ہیں۔ کسی بھی جگہ پر معاملہ کرتے ہوئے کوئی جاپانی جلدی میں نہیں ہوتا، اطمینان سے بات سن کر بات سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ احترام دینے کے لئے لین دین کے وقت رقم یا رسید وغیرہ کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر تہذیب سے پیش کیا جاتا ہے۔ شکریہ ادا کرنے کے لئے گردن جھکا کر تعظیم دیتے ہیں۔ تاہم ملک میں آباد غیر ملکیوں کے بارے میں جاپانی سماج کے سلوک کے بارے میں ایسی ہی مثبت رائے دینا آسان نہیں ہوگا۔ جاپان میں اصولی طور پر تارکین وطن کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ اسّی کی دہائی میں پاکستان سے بڑی تعداد میں لوگ سیاحتی ویزا پر کام کرنے کے لئے اس ملک میں آئے تھے لیکن ضرورت ختم ہونے پر انہیں کئی برس بعد بھی بے دھڑک نکال دیا گیا۔ اس وقت یہ تعداد ڈیڑھ لاکھ سے بھی زائد بتائی جاتی ہے لیکن اس وقت جاپان میں دس سے پندرہ ہزار کے لگ بھگ پاکستانی رہتے ہیں۔
جاپان کے پاکستانی اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں اور مہمان نواز ہیں لیکن وہ مقامی معاشرہ میں انٹیگریٹ ہونے کے بارے میں زیادہ پریشان نہیں ہیں۔ نہ ہی تعصب اور مقامی معاشرہ میں پیش آنے والی مشکلات ان کی محفلوں میں زیر بحث آتی ہیں۔ زیادہ تر پاکستانی مذہبی ہیں اور اکثر اس بات کا ذکر فخر سے کیا جاتا ہے کہ قلیل تعداد میں ہونے کے باوجود پاکستانیوں نے جاپان میں ایک سو سے زیادہ مساجد تعمیر کی ہیں۔ پاکستانیوں میں وسیع ہم آہنگی بھی موجود نہیں ہے۔ عقیدہ کی بنیاد پر فرقوں میں تقسیم کے علاوہ بھی باہمی اختلافات عام ہیں۔ اس وقت جاپان میں مقیم پاکستانیوں کی اکثریت نے جاپانی خواتین سے شادی کرکے وہاں رہنے کی سہولت حاصل کی ہے۔ اور اکثر خود اپنا کاروبار کرکے روزگار حاصل کررہے ہیں۔ بڑی تعداد میں پاکستانی گاڑیوں کے کاروبار سے وابستہ ہیں ۔ اس کام میں بہت سے پاکستانیوں نے کثیر دولت بھی حاصل کی ہے لیکن حیرت انگیز طور پر جاپان میں مقیم پاکستانیوں میں مقامی شہریت حاصل کرنے والوں کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں ہے۔
اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ پاکستانی عام طور سے جاپانی بولنا تو سیکھ لیتے ہیں لیکن اسے پڑھنے اور لکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے جبکہ جاپانی شہریت کے حصول کے لئے مقامی زبان میں کسی حد تک دسترس درکار ہوتی ہے۔ جاپانی خواتین سے شادیاں کرکے جاپان میں رہنے کا فیصلہ کرنے اور ان کے ساتھ خاندان کی بنیاد رکھنے کے باوجود پاکستانی اجتماعات میں خواتین کو مدعو نہیں کیا جاتا۔ اگرچہ ناروے اور دیگر یورپی ملکوں میں بھی پاکستانی اجتماعات کے حوالے سے یہ شکایات سننے کو ملتی ہیں لیکن وہاں صورت حال اب تبدیل ہو رہی ہے۔ اور اگر کسی اجتماع میں خواتین نہ بھی آئیں تو بھی منتظمین اس پر پریشان ضرور ہوتے ہیں۔ لیکن جاپان میں پاکستانی تارکین وطن صرف مردوں کی محفلیں سجا کر پاکستان اور اسلام کی خدمت کرنا کافی سمجھتے ہیں۔ اس طرح ایک تو خاندانوں کے درمیان مراسم استوار نہیں ہو پاتے ، دوسرے انٹیگریشن کے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔
ناصر ناکا گاوا سے ان امور پر گفتگو رہی تاہم وہ اپنے طور پر تعصبات اور امتیازی سلوک کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ مہم قوت پکڑ سکتی ہے۔ جاپان کے پاکستانیوں کو بہر حال سیکھنا ہو گا کہ جس معاشرہ کو انہوں نے اپنا گھر بنایا ہے ، وہاں کے لوگوں سے ملنا اور باہم میل جول میں خواتین اور بچوں کو شامل کرنا ہی مہذب سماجی اصولوں کی بنیاد ہے۔ اس سے فاصلے کم ہوتے ہیں اور تعصبات ختم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
آٹھ دن جاپان کے بھرپور اور دلچسپ قیام کے لئے بہت کم وقت ثابت ہؤا۔ 24 نومبر کی سہ پہر ہانیڈا ائیرپورٹ سے واپسی کی پرواز لیتے ہوئے ایک نئے ملک کی خوشگوار یادیں اور نئے دوستوں کی محبتیں ہمارے ساتھ تھیں۔ واقعی سچ ہے کہ یہ زندگی تو محبت کرنے کے لئے بھی کم ہے لوگ نہ جانے نفرت کے لئے کیسے وقت نکال لیتے ہیں۔ ناصر ناکاگاوا اور ان کے ساتھی اور دوست خلوص و محبت بانٹنے میں ید طولی رکھتے ہیں۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words