غیر اِسلام یافتہ مسلمانوں کا المیہ

اِس وقت سمندر پار پاکستانیوں کی نظر ساہیوال میں ہونے والے اُس واقعے پر لگی ہے جس میں کم سن بچوں کے سامنے اُن کے والدین کو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اور انسدادِ دہشت گردی کے اداروں نے نہ جانے کن وجوہات کی بنا ہر صفحہ ء ہستی سے حرفِ غلط کی طرح مٹادیا تھا ۔ مگر اب اُس کی صفائی میں طرح طرح کے جواز گھڑے جا رہے ہیں ، کہہ مُکرنیاں ہو رہی ہیں ، یو ٹرن کے شوشے چھوڑے جا رہے ہیں جبکہ معزول اور بر خود غلط سابق حکمرانوں اور پیشہ ور سیاست دانوں کی طرف سے طرح طرح کے الزامات دستی بموں کی طرح پھینکے جا رہے ہیں ۔ قومی اور صوبائی اسمبلیاں لونڈوں لپاڈوں کی ہُلڑ بازیوں کا منظر پیش کرتی ہیں جو اسمبلیوں کے اراکین کے غیر مہذب ہونے کی گواہیاں مسلسل رقم کرتی ہیں ۔
یہ اُس پاکستان کا منظر نامہ ہے جسے پچھلے ستر برس میں مذہبی ، نظریاتی اور خُدا ترس حکمرانوں نے تعمیر کیا ہے ۔ اُن میں وہ حکمران بھی شامل ہیں جنہوں نے مشرقی پاکستانیوں کو ظُلم کی دیوار سے لگا کر اُن سے اُن کی پاکستانیت جبراً چھین لی تھی ۔ ہر چند کہ میرا یہ موقف ظالمانہ ہے مگر اس کے تناظر میں جُدائی کا وہ جذباتی کرب ہے جو ڈھاکہ ڈوبتے دیکھ کر مجھ پر طاری ہوا تھا کہ ہم مغربی پاکستانیوں نے اُن کی پاکستانیت چھین کر اُنہیں بنگلہ دیش کے گڑھے میں دھکیل دیا تھا ۔
یہ پاکستانی جمہوریت کے حُسن کی وہ لا زوال پینٹنگ ہے جو ان ستر برس کے حکمرانوں کی نا اہلی کی مونہہ بولتی تصویر ہے ۔ پاکستان کی اس صورتِ حال کے ذمہ دار حکمران اور اُن کے سہولت کار بیورو کریسی ، پولیس اور میڈیا کے ادارے اور وہ ووٹر ہیں جن کے ووٹ یا تو غنڈہ گردی کی طاقت سے چھین لیے جاتے ہیں یا قیمے کے نان اور چکن بریانی کے عوض اونے پونے خرید لیے جاتے ہیں ۔ اور پھر ظُلم کی چکّی ان ووٹروں کو پیسنے لگتی ہے اور پیستی ہی رہتی ہے ۔ چونکہ ان ان سہولت کار اداروں کے مفادات عوام کی بنیادی ضرورتوں کے خُون کے عوض ہی حاصل ہوتے ہیں ، اس لیے انتخابات کے بعد عوام ہمیشہ طاقِ نسیاں پہ پڑے پتھروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں جو روز مرہ کے استعمال میں نہیں آتے ۔ چنانچہ سہولت کار ادارے مفاد پرستی کا ناچ ناچتے رہتے ہیں ۔
پاکستان میں پولیس من حیث الادارہ ہمیشہ غیر مہذب ، تلخ کلام ، دشنام طراز اور رشوت خور رہی ہے ۔ یہ نہ صرف حکمرانوں بلکہ معاشرے کے با اثر افراد کے غیر قانونی کاموں کی تکمیل کی سب سے بڑی سہولت کار رہی ہے جس کی متعدد مثالیں دی جا سکتی ہیں ۔ ہم جو اس وقت تبدیلی کی راگنی گاتے رہتے ہیں شاید یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ انسانی معاشرے نظریات کے پرچار ، نئے مینی فیسٹو کے اجرا یا حکومتوں کی تبدیلیوں سے نہیں بدلتے بلکہ افراد کے اخلاقی معیار اور سماجی رویوں کے بدلنے سے بدلتے ہیں جن میں ہر کس و ناکس شامل ہوتا ہے ۔ چنانچہ مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ موجودہ حکومت کے زیرِ انتظام پاکستان کوئی نیا پاکستان نہیں بلکہ وہی پرانا پاکستان ہے جو مسلسل رو بہ انحطاط ہے ، جہاں عام آدمی شبانہ روز ذہنی ، نفسیاتی اور اقتصادی اذیت کی چکی میں پستا رہتا تھا ، پس رہا ہے اور نہ جانے کب تک پستا رہے گا ۔
حکومت کی تبدیلی نے حکومت کے اقتصادی اہداف تو بدلے ہیں مگر بہت سا پالتو میڈیا حسبِ سابق خراج نہ ملنے پر سیخ پا ہے ۔ معزول اور سابقہ حکومتوں کے سیاسی تاجرانِ کرام ، جن کا مواخذہ کیا جا رہا ہے آہ و بکا میں مبتلا ہیں ۔ ایک عجیب بد امنی اور ابتری کی کیفیت ہے جس کا نہ کوئی جواز ہے اور نہ ہی کوئی مصرف ۔ بس وہ ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ کہ لوگ مذہبی اور شہری قوانین کے مطابق زندگی بسر کرنے کا ہنر نہیں جانتے ۔ وہ لاقانونیت کے کینسر میں مبتلا ہیں اور اپنی حرارتِ غریزی سے مسلسل محروم ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔ میری نجی اصطلاح میں غیر اسلام یافتہ وہ افراد اور جماعتیں ہیں جو عقیدوں کی لکیر تو پیٹتے چلے جا رہے ہیں مگر عمل سے عاری ہیں ۔ یوں کہیے کہ ان کوالی فائیڈ مسلمانوں کا ایک اژدہام ہے جو نہ تو شرعی احکام کو تعمیل سے جوڑنے کی ٹیکنیک جانتے ہیں اور نہ ہی اُنہیں حقیقی معنوں میں مسلمان ہونے کی تربیت ہی دی جاتی ہے ۔ چنانچہ نیم مسلمانوں کی ایک بھیڑ ہے جس کی وجہ سے اسلام خطرے میں پڑگیا ہے اور پرانی کہاوت میں ایک ضمنی کا اضافہ ہو گیا ہے ۔ یعنی:
نیم حکیم خطرہ ء جان ، نیم ملا خطرہ ء ایمان اور نیم مسلمان خطرہ ء اسلام
ان نیم مسلمانوں کو خُدا کا راستہ ، معلوم ہی نہیں ہر چند کہ وہ عمر بھر اھد نالصراط المستقیم کی آیت کا ورد کرتے رہتے ہیں مگر بے سود کیونکہ راستہ نظر ہی نہیں آتا ۔ قسم وحدہ لا شریک کی اگر اُنہیں خدا کا راستہ معلوم ہوتا تو وہ چھوٹے بچوں اور بچیوں ریپ کرنے کے بعد قتل نہ کرتے ، خود کش دھماکے نہ کرتے ، بھتہ خوری اور رشوت خوری میں نہ پڑتے ، اشیا اور ادویات میں ملاوٹ نہ کرتے ، بیگانی زمینوں پر قبضے نہ کرتے ، ایک دوسرے کی عزتیں اسمبلیوں میں نیلام نہ کرتے مگر چونکہ وہ حقیقی مذہبی تشخص کے حامل کوالی فائیڈ مسلمان ہیں ہی نہیں ، اس لیے رحمت اللعالمینی کی مہک اس معاشرے میں نہیں اُڑتی ۔
ہر چند کہ رائے ونڈ تبلیغی جماعت کا سب سے بڑا مرکز ہے جس کے پہلو میں جاتی اُمرا کی جاگیر واقع ہے ،جو ہر وقت تبلیغ کی سرگرمیاں جاری رکھتا ہے ، مگر اسلام پھر بھی کتابوں میں میں بند ہے ۔ خطبوں میں اسیر ہے ، میلاد کی محفلوں میں نعتیں گاتا ہے اور سلام پڑھتا ہے لیکن اس سے ایک قدم آگے مسلمانوں کے طرزِ عمل ، روز مرہ رویوں اور مسلمانوں کے کردار میں پوری شدت ، طاقت اور صداقت سے نظر نہیں آتا مگر کیوں ؟ اس صورتِ حال کا ذمہ دار کون ہے ؟
جی اس کے ذمہ دار میں ، آپ اور وہ سب ہیں جو فرقہ آرائی کی دکانیں لگائے بیٹھے ہیں ۔ اس بھیانک صورتِ حال کی موجودگی کا باعث ہیں اور نہ صرف اپنے کیے کی سزا سہ رہے ہیں اور اسلام کے زوال اور انحطاط کے اس عہد میں اپنی بربادی کا نوحہ بنے ہوئے ہیں۔
بقولِ حالی :
جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے
اب اُس کی مجالس میں نہ بتی نہ دیا ہے
اے خاصہ ء خاصانِ رسل ﷺ وقتِ دعا ہے

Comments:- User is solely responsible for his/her words