داعش دنیا کے لئے بدستور بڑا خطرہ ہے

واشنگٹن: امریکہ کے قائم مقام وزیر دفاع پیٹ شناہن نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی ایس گروپ جسے داعش بھی کہا جاتا ہے، عالمی سطح پر موجودگی برقرار ہے۔ تاہم امریکہ کی حمایت یافتہ ملیشیا اور عسکریت پسند مشرقی شام میں اس گروپ کے آخری مضبوط گڑھ کے خاتمے کے لئے کام کر رہے ہیں۔
لندن میں مقیم انسداد دہشت گردی کے تجزیہ کار اور سینٹر فار اسٹریٹیجی ریسرچ کے فیلو محمد توصیف نے وائس آف امریکہ اردو سروس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی سطح پر داعش کا خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ کیونکہ داعش ہو یا القاعدہ، یہ گروپ حالات کے مطابق اپنی ساخت تبدیل کر لیتے ہیں اور ان کی حکمت عملی بدل جاتی ہے۔ یہ کبھی خود کو ایک مرکز کے اند لے آتے ہیں اور کبھی مرکزیت سے گریز کرتے ہوئے اختیارات چھوٹے گروپوں میں منتقل کر دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال دسمبر میں کہا تھا کہ شام میں داعش کو شکست دے دی گئی ہے اور اس کا خطرہ اب باقی نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب شام سے امریکی فوجوں کی واپسی کا وقت آ گیا ہے اور وہ اس ملک سے اپنی فوجیں واپس بلا لیں گے۔
شام سے امریکی فوجوں کی واپسی کے اعلان پرسخت ردعمل دیکھنے میں آیا تھا۔ امریکہ کے وزیر دفاع نے اپنا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور محکمہ دفاع کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ شام سے فوجی دستے عجلت میں نہیں نکالے جائیں گے بلکہ ان کی واپسی حکمت عملی کے ایک طریقہ کار کے تحت ہو گی۔
محمد توصیف کا کہنا تھا کہ جہاں تک داعش کا تعلق ہے، اس کی موجودہ صورت حال یہ ہے کہ اس گروپ کے پاس عراق اور شام میں اب بھی ہزاروں عسکریت پسند موجود ہیں۔ ان کی آٹھ کے لگ بھگ شاخیں کام کر رہی ہیں اور دنیا بھر میں ان کے ایک درجن سے زیادہ نیٹ ورکس موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ان سے ہمدردی رکھنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کار محمد توصیف نے کہا کہ موجودہ سال 2019 میں بھی ان گروپس کا خطرہ اس لئے ختم نہیں ہوگا کیونکہ عالمی سطح پر انسداد دہشت گردی کے خلاف کوئی مربوط حکمت عملی نہیں بن سکی ہے۔ دوسری بات یہ ہے اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی بڑی طاقتوں کی آپس میں رقابتیں چل رہی ہیں۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words