دنیا عمران خان اور ان کی حکومت پربھروسہ کرتی ہے

کسی ملک کی سالمیت اور استحکام کامعیشت کے ساتھ ساتھ اس کی خارجہ اور داخلہ حکمت عملی پر بھی انحصار ہوتا ہے۔ دور حاضر میں جہاں ایک طرف اسلحہ کی دوڑ لگی ہوئی ہے جدید اور مہلک ہتھیار بے دریغ بنائے جا رہے ہیں اور طاقتور ان ہتھیاروں کا استعمال بھی کرتا ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ بے تحاشہ انسانی جانیں انسانیت سوز سلوک کا نشانہ بن رہی ہیں لیکن کسی کو جیسے دکھائی ہی نہیں دیتا۔ سب کے سب اندھوں اور بہروں کی طرح اپنے اپنے مفادات کے حصول کیلئے تگ و دو میں ہیں۔
دوسری طرف اقوام متحدہ کسی انتہائی مظلوم کی طرح کام کر تا ہے۔ اقوام متحدہ کا بنیادی مقصد دنیا کو جنگ اور جنگ کی صورتحال سے باز رکھنا تھا لیکن اقوام متحدہ دنیا جہان کے سماجی اور فلاحی کاموں میں بہت آگے ہے ، لیکن اپنے اصل مقصد، جنگ کی صورتحال پر قابو پانے سے قاصر ہے۔ جنگ کے بعد فلاحی کاموں اور امداد کیلئے فعل دیکھائی دیتا ہے ۔ یعنی طاقت کے نشے میں دھت امریکہ دنیا پر حکومت کا خواب دیکھنے اور اسے عملی جامع پہنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرنے پر تلا ہواہے۔ اور اقوام متحدہ کو اپنا ذیلی ادارہ بنا لیا ہے ۔عراق ، افغانستان اور شام اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ افسوس اس بات کا بھی ہے کہ یہ ثبوت پیش کرنے کیلئے کوئی عدالت نہیں ہے۔
مذکورہ وجوہات کی بنا پر ساری دنیا امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش میں اندھی ہوچکی ہے ۔ امریکہ کی ہر بات ماننے کو تیار دکھائی دیتے ہیں اور یہاں تک کہ ایک دوسرے کے تعلقات بھی امریکا کی مرضی سے بنائے جاتے ہیں ۔ ایران اور شمالی کوریا کا معاملہ بظاہر سمجھ سے بالا تر ہے ان کی من مانیوں کا سلسلہ دراز ہوتا ہی چلا جا رہا ہے لیکن امریکہ ابھی تک کوئی ایسی خاطر خواہ تدبیر سامنے نہیں لاسکا جس سے ان ممالک کے بارے میں امریکہ کی پالیسی واضح ہو۔
امریکہ نے ہمیشہ ہر اس ملک کی پشت پناہی کی ہے جس نے پاکستان کی مخالفت میں ایک جملہ بھی کہا ہوہے۔ جس کا سب سے بڑا منہ بولتا ثبوت ہما را پڑوسی ملک ہے جس کے کرتوت ساری دنیا کے سامنے ہیں۔ لیکن دنیا کے چند ممالک سوائے زبانی جمع خرچ کرنے کے کبھی بھی کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔ مسلۂ کشمیر ہو یا پھر سرحدوں کی خلاف ورزی، بھارت کو ہمیشہ امریکہ کی بھرپور حمایت حاصل رہی ہے ۔
پاکستان کی موجودہ حکومت کے مزاج اور طرز حکومت کو سمجھنے میں کافی مشکلات کا سامنا کر پڑرہا ہے۔ خصوصی طور پر ان لوگوں کیلئے جو روائتی سیاسی سوچ کے حامل ہیں ۔ عرصہ دراز سے دو جماعتی حکومتی حکمت عملی چل رہی تھی جنہوں نے سوائے اپنے مفادات و اثاثہ جات کو تقویت پہنچانے کے اور کوئی قابل ذکر کارہائے نمایاں سرانجام نہیں دیا۔خوف و ہراس کی فضا میں دہشت گردی کی جنگ کا راگ الاپتے رہے اور اپنی جیبیں بھرتے رہے۔ غریب، غریب سے غریب تر ہوتا چلا گیا۔ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا چلا گیا۔ ان جماعتوں میں مختلف امور پر اختلافات بھی ہوئے اور بہت پرانے لوگوں نے اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرتے ہوئے ملک کے وسیع تر مفاد میں ان جماعتوں سے علحیدگی اختیار کر لی۔ لیکن طاقت اور اقتدار کا ایسا نشہ سر پر چڑھا ہوا تھا کہ نوشتہ دیوار پڑھنے کو تیار نہیں تھے ۔
موجودہ حکومت کی خوش قسمتی کہہ لیجئے کہ امریکہ کے داخلی حالات بھی کچھ خاص مستحکم نہیں ہیں، آئے دن کسی نا کسی اہم ذمہ دار کو اس کے عہدے سے سبکدوش کیا جا رہا ہے یا پھر کوئی خود ہی اپنی ذمہ داریوں سے مستعفی ہو رہا ہے ۔حکومت وقت نے ایسی صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور تعلقات کی بحالی یااستحکام کیلئے کوئی شور شرابا نہیں کیا بس کن انکھیوں سے دیکھتے رہے ۔ یہ عمل کارگر ثابت ہوا امریکیوں کو احساس ہوا کہ پاکستان کی حکومت ہمارے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ یہ ہم سے قرضے کی بات نہیں کررہے تو امریکی صدر نے پاکستان کے ساتھ میل ملاپ اور اچھے تعلقات کو قائم کرنے کی خواہش ظاہر کردی ۔ ایک طرف امریکہ بہادر کا یہ بیان کہ وہ پاکستان کی نو منتخب قیادت سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں اور تعلقات میں آنے والی پیچیدگیوں کو دور کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ کے اس بیان اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا دورہ ترکی اور امارات کے ولی عہد کا دورہ پاکستان میں کافی معاملات مشترک دکھائی دے رہے ہیں۔ سب سے اول جس بات کا خطرہ امریکہ کو محسوس ہو رہا ہوگا وہ یہ کہ پاکستان کا خطے میں اپنی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کرنا اور موجودہ وزیر اعظم کی قابلیت اور شہرت کا دنیا کے دیگر ممالک کا معترف ہونا۔ امریکہ کو اس بات کی سمجھ آگئی کہ پاکستان کی موجودہ حکومت پاکستان کیلئے کچھ کر گزرنے کیلئے پر عزم ہے۔ جس کی وجہ سے امریکی سوچ بچار کرنے والوں کو اپنی سوچ میں بدلاؤ لانے پر اکسایا جا رہا ہوگااور یہ اس سوچ کے بدلاؤ کا ہی نتیجہ ہے کہ امریکی صدر نے پاکستانی حکومت کےساتھ مثبت تعلقات بڑھانے کیلئے بات کی ہے ۔
اگر عمران خان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ان کا ہر ارادے کی تکمیل کیلئے کی جانے والی پیش قدمی ابتداء میں اچھی نہیں تھی لیکن ان کی نہ رکنے والی اور نہ جھکنے والی خوبی نے قدرت کو متاثر کیا اور پھر قدرت نے ان کے ہر فیصلے اور اقدام کو عملی جامہ پہنانے میں بھرپور مدد کی۔ ہم صرف کرکٹ کا ابتدائی دور اٹھالیتے ہیں اور پھر شوکت خانم جیسے دیو ہیکل منصوبہ پر نظر ڈال لیتے ہیں ۔ سیاسی بصیرت سے عاری اس شخص نے پاکستان کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں کی نیندیں حرام کر کے رکھ دیں۔ یہ تو دنیا کا پاکستانی حکومت پر بھروسہ اور اعتبار ہے جو ہم لوگ پاکستان کی سرحدوں سے باہر بھرپور طریقے سے دیکھ رہے ہیں،۔کیا یہ بات جھوٹ ہے یا پھر کچھ اور کہ عمران خان مدینے کی گلیوں میں ننگے پاؤں گھوم رہے ہیں۔ اگر یہ بھی نہیں تو پھر کیا عمران خان چور ہے۔ اور ان کے اب تک کئے جانے والے اقدامات جھوٹ اور فریب پر مبنی ہیں ۔
اپنے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر اپنے آپ سے یہ سوال کریں اگر جواب مثبت آئے تو فیصلہ کریں حق اور سچ کا ساتھ دیں گے۔
ساری دنیا ہی عمران خان کی پذیرائی کرتی دکھائی دے رہی ہے ، اگر ہمارے ملک کے سیاستدان محب وطن ہیں تو پھر دوست ممالک سے ان کا رویہ مختلف کیوں ہے ،۔ساری دنیا نے عمران خان کے اقدامات کو سراہا ہے۔ کسی اقدام پر شک و شبہ ظاہر کئے بغیر قرضہ یا امداد فراہم کی ہے لیکن وہ وجہ کون بتائے گا کہ جو اپنوں کو ہی گراں گزری ہے۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words