آئی ایم ایف سے جلد معاہدہ ہوجائے گا: اسد عمر

پشاور: وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے امید ظاہر کی ہے کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ساتھ جلد معاملات طے پا جائیں گے۔
پشاور چیمبر آف کامرس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ دبئی میں آئی ایم ایف کی سربراہ کی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی اور انشااللہ اچھا معاہدہ ہو جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے اپنی پوزیشن بدل لی ہے اور ہم ان سے معاہدے کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ اس کو آخری معاہدہ بنائیں لیکن یہ آخری معاہدہ اسی وقت بنے گا جب ہم تجارت بڑھائیں۔ آپ کا کاروبار بڑھے گا اور آپ ترقی کریں گے۔
اس موقع پر انہوں نے ملک میں سیاحت کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پہاڑوں پر انڈسٹری نہیں لگ سکتی لہٰذا یہاں کے مقامی لوگوں کو گھروں کے پاس نوکریاں اور کاروبار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم سیاحت کو فروغ دیں۔ اسد عمر نے کہا کہ ہم سب نے دنیا دیکھی ہے اور اتنے خوبصورت مقامات دنیا میں کہیں بھی نہیں ہیں، خصوصاً خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان اللہ تعالیٰ کی خصوصی نعمت ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ملائیشیا کی سیاحت سے سالانہ آمدن 22 ارب ڈالر ہے، ترکی 44 ارب ڈالر کماتا ہے۔ اسی وجہ سے وزیر اعظم سیاحت پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں جس سے ملک میں آمدنی بھی آئے گی اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
اس موقع پر انہوں نے صوبائی دارالحکومت کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پشاور، افغانستان اور وسطی ایشیا کے لیے قدرتی تجارتی راہداری ہے جس سے اس کی اہمیت دگنی ہو جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں مشرقی اور مغربی ممالک سے تعلقات بہتر کرکے تجارت بڑھانے کی ضرورت ہے۔ بھارت میں تو انتخابات تک کسی بہتری کی امید نہیں لیکن مغربی ممالک جیسے ایران اور افغانستان کے ساتھ ہمیں اپنی بھرپور قوت کے ساتھ تجارت بڑھانے کی ضرورت ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ ہم ترکی کے ساتھ مل کر ایک اسٹریٹیجک اکنامک فریم ورک بنا رہے ہیں جس کا پہلا ڈرافٹ فروری میں تیار کرکے ہم ترکی کو دے دیں گے اور اس فریم ورک کے ذریعے ہمارا مقصد ہے کہ صرف ترکی ہی سے تجارت نہ کریں بلکہ آج سے 10 سے 20سال بعد ایران بھی اس کا حصہ ہو۔
اسد عمر نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ یورپ اور وسط ایشیائی ممالک میں سرمایہ کاری کے لیے ترکی، پاکستان کے لیے ذریعہ بنے اور بھارت اور چین میں تجارت کے لیے پاکستان، ترکی کے لیے ذریعہ بنے۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words