گفتگو

  • میڈیا کا مچھلی بازار

    وہ جو کہتے ہیں کہ عمر بیتی ہے اس دشت کی سیاہی میں تو خاکسار بقلم خود یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اوسط انسانی عمر کے لگ بھگ پاکستانی اور دنیا کے میڈیا کا حصہ بننے اور مشاہدہ کرنے کا شرف حاصل کر چکا ہے۔ یہ ایک ایسا پیشہ ہے جس میں حیرتیں قطار اندر قطار انسان کا انتظار کر رہی ہوتی ہیں۔ بہت [..]مزید پڑھیں

  • خداؤں کے نگر میں

    یونان کے دارالحکومت ایتھنز پر خداؤں کی حکومت ہے۔ آپ کسی طرف ہو لیجئے، کوئی نہ کوئی خدا آپ کا راستہ کاٹنے کے لئے ایستادہ ہو گا۔ ان سب خداؤں نے اپنی خدائیاں بھی بانٹ رکھی ہیں۔ کوئی ہواؤں کا نگران ہے، کوئی پانی کا ، کوئی موسم کی خبر رکھتا ہے تو کوئی محبت اور حسن کا دیوتا ہے۔ البتہ ی [..]مزید پڑھیں

  • ہزار سال پرانا آدمی

    عالم استغراق میں وہ دنیا مافیہا سے بے خبر تھا۔ اس پر یہ کیفیت طاری ہوتی تو وقت تھم جاتا اور زمانہ چال بھول جاتا۔ لیکن یہ اس کا قیاس تھا۔ اسے آنکھیں موندے یہی لگتا کہ اگر اس نے دیکھنا بند کر دیا تو سارا جہاں بینائی سے محروم ہو چکا۔ اس نے سوچنا چھوڑ دیا تو غور و فکر کے سارے سوتے خشک [..]مزید پڑھیں

loading...
  • یہ آگ تو تمہارے سینوں میں دھری ہے!

    اللہ کے یہ سپاہی اللہ کا قانون نافذ کرنے نکلے ہیں۔ اعلان ہوتا ہے: اب ہم سپاہیوں کا اور فوج کا مقابلہ نہیں کریں گے۔ اب ہم ان ٹھکانوں پر حملہ آور نہیں ہوں گے جہاں پسپائی ہمارا مقدر ہو بلکہ اب ہم درس گاہوں ، اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو نشانہ بنائیں گے۔ یہی ادارے فوجی افسر، سیاستدان [..]مزید پڑھیں

  • فرزندان اسلام اور مغرب کی بے حیا عورتیں

    اقبال کے شاہینوں نے ستاروں پر کمند ڈالنے کا آسان اور مقبول راستہ اختیار کیا ہے۔ حال ہی میں جرمنی کے بیشتر شہروں میں اس کا مظاہرہ بھی کیا گیا مگر خاص طور سے کولون ان مجاہدین اسلام کی توجہ کا مرکز رہا۔ مفکر اسلام کے ان جیالوں نے لڑکیوں کے پستانوں کو نوچ کر اور ان کی شرم گاہوں میں ا [..]مزید پڑھیں

  • منزل ابھی دور ہے !

    ” چاچا لو تمہاری ساری پریشانیوں کا حل مل گیا ہے“ دیہاتی نوجوان ہانپتا ہؤا، بھاگتا گاﺅں کی چوپال میں تنہا بیٹھے اپنے دور کے معمر رشتہ دار کے پاس پہنچا تو گویا ہؤا۔ اس بوڑھے شخص پر چاچا کا لفظ پھبتی لگتی تھی۔ خاص طور سے جب انیس بیس سال کا نوجوان اسے اس لقب سے پکار رہا تھا۔ ا [..]مزید پڑھیں

  • یوم قائد اعظم

    ہم نے محمد علی جناح کو قائد اعظم کا رتبہ دینے کے بعد یہ تصور کرلیا کہ ہم اپنی قومی اور اخلاقی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو چکے ہیں۔ شاید اس سے بڑھ کر ہم نے یہ کارنامہ بھی سرانجام دیا ہے کہ ملک کے کرنسی نوٹوں پر قائد اعظم کی تصویر شائع کرکے اس لیڈر کو خراج مسلسل پیش کرنے کا اہتمام کیا [..]مزید پڑھیں

  • قوم کی تقدیر کا ستارہ

    سب ہی وہاں جمع تھے۔ سب ہی قوم کے درد میں مبتلا تھے۔ سب ہی اس درد کا مداوا ہونے کے دعوے دار تھے اور سب سنہرا پاکستان بنانے کے لئے پرجوش تھے۔ ان میں وہ بھی تھے جو موقع ملنے پر ایک دوسرے کا لباس نوچنے کو عین قومی فریضہ سمجھتے ہیں اور وہ بھی جو آنسو بہاتے ہوئے اصولوں کی قربانی دیتے ہی [..]مزید پڑھیں

  • درخت پر ایک ہی پھل تھا

    اس درخت پر ایک ہی پھل تھا اور وہ سارے ضرورت مند۔ سارے اس درخت کے نیچے جمع تھے اور پھل کو حاصل کرنا چاہتے تھے۔ یہ پھل اب پک کر تیار ہو چکا ہے۔ بس ٹپک پڑے تو ہماری بھوک اور ضرورت پوری ہو۔ لیکن پھل پوری طرح جوبن پر آنے کا نام نہ لیتا تھا۔ اس دوران بہت سے منچلوں نے چاہا کہ اس بے مقصد ا [..]مزید پڑھیں

  • میرا قصور کیا ہے؟

    یوں تو اس قسم کی تصویریں روز ہی اخباروں میں شائع ہوتی ہیں لیکن آج اس تصویر نے مجھے باندھ لیا ہے۔ میں اس تصویر سے فرار چاہتا ہوں لیکن یہ مجھے کچھ اور سوچنے کا موقع نہیں دیتی۔   میں جانتا ہوں کہ میں چاہے کتنی ہی دیر اس تصویر کو تاکتا رہوں۔ اس میں نظر آنے والے مظلومین کی آنکھوں می [..]مزید پڑھیں