گفتگو

  • یہ آنسو

    یہ آنسو مژرگاں پہ ٹکا ہے بہتا نہیں۔ اگر بہہ جائے تو دل ہلکا ہو۔لیکن وہ جو ذمہ داری اور وقار کا بار ان کاندھوں نے اٹھا رکھا ہے وہ بھی بکھر جائے گا۔ اس بوجھ کو اٹھانا مذاق نہیں ہے یہ چند کلو سر پر ڈھو کر ایک مقام سے دوسری جگہ لےجانے کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ بوجھ احساس کا ہے۔ یہ بوجھ اس [..]مزید پڑھیں

  • بساط

    یہ رہی میری چال اب چلو، دیکھتا ہوں تم کون سا مہرہ سامنے لاتے ہو۔ تمہارے شاہ کو تو میرا پیادہ بھی مات دے سکتا ہے۔ دور دور اس کا کوئی مدمقابل نہیں تھا۔ سب جانتے تھے کہ وہ اس کھیل کا ماہر نہیں لیکن وہ اس میدان کے نامور کھلاڑیوں کو چت کرچکا تھا۔ اس نے کھیل کے اصول بدل دیئے تھے۔ اور دو [..]مزید پڑھیں

  • گھٹن

    کرب اتنا کہ سہا نہ جائے دل پھٹا جاتا ہے اور دماغ شل ہے وہ منظر بھول نہیں پاتا وہ خون کا دریا....... تڑپتی لاشیں سہمے چہرے اور وہ سارے جو جان سے بھی زیادہ عزیز تھے   وہ میرا بھائی تھا میرا چہیتا اور پورے گھر کی آنکھ کا تارا اس نے ابھی چہکنا سیکھا تھا وہ ہر ضد پوری کرواتا تھا ا [..]مزید پڑھیں

loading...
  • بے نقاب چہرے

    وہ بولتا تو پھول جھڑتے تھے۔ وہ گویا ہوا تو موتی چننے کے لئے ہم وہاں گئے اس نے تقریر شروع کی تو تاریخ اپنے پس منظر کے ساتھ ہاتھ باندھے آکھڑی ہوئی۔ وہ واقعات، حکایات اور کہاوتیں چنتا اور بیان کرتا رہا اور تالیوں کی گونج میں لوگوں کے چہرے اور ہاتھ لال ہوتے رہے۔ اس نے کہا کہ یہ جو م [..]مزید پڑھیں

  • دوپتیاں گلاب کی

    پھولوں کے اس ڈھیر سے بچھڑی وہ گلاب کی پتی میرے منہ پر آکر چپک گئی ارے میں نے اسے پکڑا تو وہ مہک اٹھی دن بھر کی تکان اسے زندگی کے آخری لمحوں پر لے آئی تھی مگر وہ گلنار ہورہی تھی خوشی سے سرشار تھی فخر سے مسحور تھی   میں نے اسے دیکھا تو میں مسکرانے لگا کیوں ایسا کیا ہوا بی بی تم [..]مزید پڑھیں

  • بس اتنی سی کہانی ہے

     گھنگھور گھٹا، گرجتے بادل، یوں کہ جیسے قدرت غصے کا اظہار کررہی ہو۔ سر شام چھایا اندھیرا اور چمکتی بجلی۔ ماﺅں نے بچوں کو آوازیں دے دے کر گھر کے اندر بلالیا   سیانے اور بوڑھے اعوذ باللہ پڑھتے مسجد جانے کی ہمت باندھ رہے تھے۔ اس نے سوچا ایسے خوفناک موسم میں مسجد جاﺅں یا گھر [..]مزید پڑھیں

  • پکار

    یہ گلستان باغ وبہار تھا ہر طرف پھول کھلے تھے۔ کلیاں مسکارہی تھیں...... مہکتی فضا میں نقرئی قہقہے اور ان کے بیچ گلنار دمکتے چہرے یہ سارے سب کا مستقبل تھے۔ یہ یہاں جمع تھے اور زندگی مسکرا رہی تھی۔ وہ بھاگا۔ یہ گرا۔ اس نے کھینچا۔ نہ اب نہیں، رکو تو، اوہ۔ دیکھو ٹیلی فون بج رہا ہے۔ &nbs [..]مزید پڑھیں

  • ایس ایم ایس

     ایک ایس ایم ایس آیا ہے کبھی پوسٹ کارڈ آیا کرتے تھے   اور اس سے بھی پہلے محلے یا قصبے کا کوئی شخص گھر گھر جاکر بتاتا تھا۔   پھر مساجد میں لاﺅڈ اسپیکر کا زمانہ آگیا۔ بڑی بڑی کوٹھیوں اور عالیشان محلات والی آبادیاں تو ان لاﺅڈ اسپیکروں کی دسترس میں نہ آسکیں کیوں کہ ان کے بی [..]مزید پڑھیں

  • میں کہہ نہیں پاتا

    میں کہنا چاہتا ہوں پوری قوت اور طاقت سے اس آواز کو الفاظ کا جامہ پہنانا چاہتا ہوں جو میری سینے میں مچل رہی ہے۔ میرا مطلب ہے میرے اندر لاوا پک رہاہے۔ میں جذبات اور احساسات سے مغلوب ہوں۔ میرے دل میں جذبات کا ہجوم ہے اور دماغ میں خیالات کا۔ اس ہجوم میں میں خود کو بے بس محسوس کررہا [..]مزید پڑھیں

  • ”شہادت“

    تم بھوکے ہو کیوں کہ تمہارے ہمسائے کا پیٹ بھر اہوا ہے۔ اس نے تمہارے حصے کا کھانا ہضم کرلیا ہے۔   مگر یہ کیسے ممکن ہے۔ وہ اپنا کام کرتا ہے۔ محنت سے وسائل حاصل کرتا ہے۔ اس کا پیٹ بھرا ہونے سے میں کیوں کر بھوکا ہوسکتا ہوں۔ نہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔   ایسا ہے کہ اسے کوئی حق ن [..]مزید پڑھیں