جنرل راحیل شریف کی وزیر اعظم اور دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان سے اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ اور پاک فوج کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف نے ملاقات کی ہے۔ وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والی اس اہم ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں جنرل (ر) راحیل شریف نے اسلامی اتحادی فوج کے اغراض و مقاصد اور دہشت گردی کے خلاف اس کے اقدامات پر بھی بات چیت کی۔
گزشتہ روز پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے جنرل (ر) راحیل شریف نے جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں ملاقات کی تھی۔ اس حوالے سے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ دونوں شخصیات کی ملاقات کے دوران ’باہمی دلچپسی کے امور سمیت علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا‘۔
آئی اسی پی آر کے مطابق ’آرمی چیف نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے اسلامی فوجی انسداد دہشت گردی اتحاد کی کوششوں کی تعریف کی‘۔
اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے بھی ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جنرل راحیل شریف نے وزارت خارجہ میں شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی اور وزیر خارجہ کو دہشت گردی کے خلاف فوجی اتحاد کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے اسلامی فوجی اتحاد کی کوششوں کو سراہا۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے قریبی تصور کیے جانے والے جنرل (ر) راحیل شریف سعودی ولی عہد کے دورے سے قبل 2 روزہ دورے پر اتوار کو اسلام آباد پہنچے تھے۔ اسلامی فوجی اتحاد کا قیام 15 دسمبر 2015 کو عمل میں آیا تھا۔ ابتدائی طور پر اس میں 34 ممالک شریک تھے جن کی تعداد اب 41 تک پہنچ گئی ہے۔
اسلامی فوجی اتحاد کے قیام کا مقصد اسلامی ممالک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوششیں کرنا ہے جبکہ اس اتحاد کے پہلے سربراہ کے لیے پاک فوج کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کو نامزد کیا گیا تھا، جس کے بعد وہ اس کی قیادت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی 16 فروری کو اسلام آباد آمد متوقع ہے، جون 2017 میں سعودی ولی عہد بننے کے بعد یہ ان کا پہلا پاکستان کا دورہ ہوگا، اس دورے کے بعد وہ 19 فروری کو بھارت جانے سے قبل ملائیشیا بھی جائیں گے۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words