خَس کم ، جہاں پاک

قاضی القضاۃ ، عادلِ اکبر میاں ثاقب نثار بالآخر ریٹائر منٹ کی دیوی پر نثار ہو گئے اور ایک زمانے نے سُکھ کا سانس لیا ۔ بات خُدالگتی سہی مگر اس موقع پر ہر قسم کے ردِ عمل کا امکان رہتا ہے ۔ چنانچہ دوستوں کے ساتھ ساتھ کچھ اختلافی رائے رکھنے والوں نے اپنے تبّرے بھی رقم کیے ۔ ایک شخص نے لکھا : خس کم جہاں پاک ۔ لیکن ایک خس کے کم ہونے سے جہان کیسے پاک ہو سکتا ہے ؟ البتہ محاورہ فِٹ بیٹھتا ہے کیونکہ جس کا جتنا جہاں ہو اُس کی اُتنی ہی اوقات ہوتی ہے ۔اور ہاں ، کچھ لوگوں کا جہاں یقیناً خس برابر ہی ہوتا ہے ۔
یہ محاورے بڑے ظالم ہوتے ہیں جو لوگوں کے مونہہ سے گولیوں کی طرح چلتے رہتے ہیں مگر ان گولیوں سے مرتا کوئی نہیں ۔ گولی چلانے والا البتہ محاورے کی موت ضرور مر جاتا ہے لیکن محاورے زندہ رہتے ہیں ، کیونکہ ہم محاوروں کے بل پر زندہ رہنے والے لوگ ہیں : جیسے اسلام زندہ ہے ، ایمان زندہ ہے ، پاکستان زندہ ہے ، بھٹو زندہ ہے اور وہ ساس زندہ ہے جو بہو سے کہتی رہتی ہے کہ تُو آٹا گوندھتی ہوئی ہلتی کیوں ہے ، مگر اُسے یہ نہیں سکھاتی اور نہ بتاتی ہے کہ ہلے بغیر آٹا کیسے گوندھا جاتا ہے ۔
ہمارا سارا معاشرہ اُسی ساس کے دین پر ہے اور ایک دوسرے پر بلاجواز اعتڑاضات کی گولیاں داغتا رہتا ہے ۔ شاید یہ نفسیاتی الرجی کا کوئی عارضہ ہے جس میں لوگ بس یہی دیکھتے رہتے ہیں کہ کون کیا کر رہا ہے ، مگر خود کو یعنی اپنے آپ کو بالکل بھی نہیں دیکھتے کہ وہ خُود کیا کر رہے ہیں ۔ جو خُود کو نہ دیکھ سکے اور اپنی کہی ہوئی بات کو خُود نہ سُن سکے ،وہ اندھا اور بہرا ہوتا ہے اور اندھوں اور بہروں کی بستی میں ہر شخص دوسرے پر اعتراض کرتا رہتا ہے ، جو دنیا کا آساں ترین کام ہے ۔ ایسے ماحول میں خواب بھی بڑے عجیب آتے ہیں ۔
میں سویا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں کہ شہر کی بڑی مسجد کے دروازے پر ایک مجذوب ٹارچ ہاتھ میں لیے کھڑا ہے اور نماز کے لیے آنے والے ہر شخص کے چہرے کو ٹارچ کی روشنی میں نمایاں کر کے کہتا ہے ، ارے نہیں ، تو بھی نہیں ۔ پھر ڈانٹ کر کہتا ہے کہ تجھے پتہ نہیں کہ اشیا میں ملاوٹ کرنے والا لا اُمتی ہوتا ہے ، تو لا اُمتی ہو کر مسجد میں کیا کرنے جا رہا ہے ؟ دوسرے کا چہرہ نمایاں کر کے کہتا ہے کہ رشوت خور اور رشوت دہندہ دونوں دوزخی ہیں اور دوزخی کی نماز نہیں ہوتی ۔
نماز کے لیے آنے والے لوگ اُس بُوڑھے کی باتوں سے عاجز ہیں لیکن اصل نقطہ عروج وہ ہے جب مسجد میں خطیب ما قبلِ جمعہ کے خطاب کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو وہ مجذوب چیخ کر کہتا ہے کہ جتنے غیبت گو ہیں وہ مردار خور ہیں کیونکہ غیبت کرنا مردہ بھائی کا گوشت کھانا ہے جن کے مونہہ سے مردار کی بُو آتی ہے جن کی وجہ سے فرشتے مسجد میں داخل نہیں ہوتے ، اس لیے اپنے بھائی بہنوں کی غیبت کرنے والے مسجد سے باہر نکل جائیں اور اللہ کے گھر کو آلودہ نہ کریں ۔ اور پھر امام مسجد سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ وہ ان مردار خوروں کا مسجد میں داخلہ بند کیوں نہیں کرتے ؟ اس پر مسجد میں نمازیوں کی صفوں میں کھلبلی مچ جاتی ہے اور وہ زور زور سے بولنے لگتے ہیں ۔ اتنے میں دو مجاہد اُٹھتے ہیں اور مجذوب کو بازوؤں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے باہر لے جاتے ہیں جس پر مجذوب قہقہے لگاتے ہوئے کہتا ہے کہ خُدا نے اُسے بھیجا ہے کہ وہ تمہیں پیغامِ محمد ﷺ یاد دلائے ۔ مگر تم نے مجھے روک دیا ہے ، مگر یاد رکھو کہ تم خود پر اترنے والے عذاب کو نہیں روک سکو گے ۔ اس پر وہ دونوں مجاہد اسے مسجد کے اندر ہی پیٹنے لگتے ہیں ۔
لوگ یہ سب کچھ دم بخود ہو کر دیکھ رہے ہیں ۔ امام صاحب بھی دم بخود ہیں مگر کوئی کُسکتا تک نہیں اور اگلے ہی لمحے وہ مجذوب کی ٹارچ چھین کر اُسے مسجد کے بار پھینک دیتے ہیں ۔ مجذوب چیخ رہا ہے کہ اُسے اُس کی ٹارچ تو واپس کردو مگر اُس کی کوئی نہیں سُنتا ۔ اور اگلے لمحے مسجد سے وعظ کی آواز سنائی دینے لگتی ہے ۔ خطیب کہ رہا ہے کہ یہ دین کے کاموں میں رخنہ ڈالنے والے لوگ جہنمی ہیں ۔
اسی لمحے میں مسجد میں جانے کے لیے میں داخلی دروازے پر آتا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں کہ جو مجذو ب مسجد کے دروازے پر ٹُوٹا پھوٹا پرا ہے ۔وہ میاں ثاقب نثار ہے ۔ اور اُس کی قمیض پر لکھا ہے : خس کم جہاں پاک ۔ جی ہاں ، اور میری آنکھ کھل جاتی ہے :
اور میں گنگنا رہا ہوں
قرض پر ملک چلانے کے لیے زندہ ہیں
بے تُکی بات بنانے کے لیے زندہ ہیں
روز اک دعوتِ شیراز ہو ، ہنگامہ ہو
ہم یہاں پینے پلانے کے لیے زندہ ہیں
کام کرنا نہیں آتا ہے مگر دیوانے
رب کا پیغام سنانے کے لیے زندہ ہیں
مُلک کوئی بھی نیا ہم سے نہیں بن سکتا
ہم پرانے ہیں ، پرانے کے لیے زندہ ہیں
مرثیہ ، نوحہ و ماتم ہے ہمارا مسلک
ہم فقط آنسو بہانے کے لیے زندہ ہیں
تم وہاں دکھ کی فروانی میں کتنے خوش ہو
ہم یہاں آنسو بہانے کے لیے زندہ ہیں
کھینچ کر ٹاگیں سرِ شہر ہر اک دوسرے کی
ہم تو الزام لگانے کے لیے زندہ ہیں
کاش مسعود سمجھتے ، یہ سیاست والے
وہ تو انگروں کو بسانے کے لیے زندہ ہیں

Comments:- User is solely responsible for his/her words