سپریم کورٹ کا فیصلہ تحریک انصاف کی جمہوریت دوستی پر سوالیہ نشان ہے

تحریک انصاف کی حکومتوں کے لئے آج ایک برا دن تھا۔ اگرچہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پنجاب کے سینئر وزیر عبدالعلیم خان کی حراست کے بعد ان کی طرف سے سامنے آنے والے استعفیٰ کو ملکی سیاسی کلچر میں تبدیلی قرار دینے کی کوشش کی ہے لیکن ان کی یہ بات صرف اسی صورت میں قابل غور ہو سکتی ہے اگر حکومت نومبر 2017 میں فیض آباد دھرنا کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر حرف بہ حرف عمل کرنے کا اہتمام بھی کرے اور ان کوتاہیوں کا اعتراف کرے جس کا اس فیصلہ میں تحریک انصاف اور موجودہ حکومت کی طرف اشارہ کرکے ذکر کیا گیا ہے۔
فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ کا تفصیلی فیصلہ ملک کی سیاست اور انتظام کے حوالے سے ایک یاد گار دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں تفصیل سے ان تمام اداروں کے طرز عمل اور کوتاہیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جنہوں نے ملک میں مذہبی منافرت کی روک تھام میں کردار ادا کرنے کی بجائے اس کی حوصلہ افزائی کے لئے کام کیا ہے۔عدالت کے فیصلہ میں واضح کیا گیا ہے کہ ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیاں ہوں یا پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل ، ان میں کسی کو بھی آئین سے تجاوز کرنے اور ملکی سیاست میں براہ راست یا بالواسطہ حصہ لینے، آزادی رائے پر اثر انداز ہونے یا خبروں کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ مسلح افواج اور اس سے وابستہ لوگ بھی دیگر اداروں کی طرح اس ملک کے آئین کے پابند ہیں اور اس کے خلاف کسی قسم کا اقدام کرنے کے مجاز نہیں ہیں ۔ اسی لئے سپریم کورٹ نے وزارت دفاع کے ذریعے مسلح افواج کے تمام سربراہوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے زیر کمان کام کرنے والے ان تمام لوگوں کے خلاف اقدام کریں جو اپنے حلف کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔
سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے نومبر 2017 میں تحریک لبیک کی طرف سے فیض آباد دھرنا کے ازخود معاملہ کو نمٹاتے ہوئے تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے۔ اس فیصلہ میں آئین کی روشنی میں انٹیلی جنس ایجنسیوں ، الیکشن کمیشن اور پیمرا کے کردار کا جائزہ لیا گیا ہے اور تفصیل سے یہ بتایا گیا ہے کہ کس طرح ملک کی ایجنسیاں اور ادارے نفرت پھیلانے والی ایک تنظیم کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہے ۔ سپریم کورٹ نے اس مقدمہ کی سماعت کے دوران جب ان اداروں سے استفسار کیا تو وہ مناسب اور قابل قبول جواب دینے میں ناکام رہے۔ آئی ایس آئی سپریم کورٹ کے بار بار استفسار کے باوجود یہ بتانے سے قاصر رہی کہ تحریک لبیک کے لیڈروں کا ذریعہ آمدنی کیا ہے۔ آخر میں ایجنسی کی رپورٹ میں یہ معذرت کی گئی کہ لوگوں کے ذرائع آمدنی پر نگاہ رکھنا ایجنسی کے ’دائرہ اختیار‘ میں نہیں ہے۔ فیصلہ میں عدالت عظمی نے اس مؤقف کو غلط قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک میں نفرت پھیلانے، مفاد عامہ کے خلاف کام کرنے اور عوام کے لئے مشکلات کا سبب بننے والے عناصر کی روک تھام کے مقصد سے خفیہ اداروں کو قانون اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ ان کے وسائل اور ذریعہ آمدن پر نگاہ رکھیں تاکہ ان کی سماج دشمن سرگرمیوں کی روک تھام کی جاسکے۔
آئی ایس آئی کی طرف سے مینڈیٹ میں عائد حدوں کا عذر سامنے آنے کے بعد عدالت نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سے اس ایجنسی کا مینڈیٹ طلب کیا جو ایک بند لفافہ میں یہ کہتے ہوئے فراہم کیا گیا کہ اسے خفیہ ہی رکھا جائے۔ جب ججوں نے استفسار کیا کہ ملک کی اہم انٹیلی جنس ایجنسی کے مینڈیٹ کو خفیہ رکھنے کی کیا وجہ ہے تو کوئی مثال دئیے بغیر یہ کہا گیا کہ سب ملکوں میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کے اس جواب پر عدالتی فیصلہ میں 6 ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں اور ان قوانین کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے تحت ان کے دائرہ کار کا تعین کیا جاتا ہے۔ ان ملکوں میں برطانیہ، امریکہ ، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، کینیڈا اور ناروے شامل ہیں۔ عدالت کا مؤقف ہے کہ ہر ادارہ اور اس کے لئے کام کرنے والے لوگ ملک کے آئین اورقوانین کے پابند ہوتے ہیں۔ اسی لئے فیض آباد دھرنا کے حوالہ سے اپنے فرائض سے کوتاہی کرنے والے افسروں کے خلاف ضروری کارروائی کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
فیصلہ میں الیکشن کمیشن کے رویہ کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جس نے تحریک لبیک کو سیاسی پارٹی کے طور پر تو رجسٹر کرلیا لیکن قانون کے مطابق اس کے ذرائع آمدنی کی تصدیق کرنا ضروری نہیں سمجھا اور جب سپریم کورٹ نے وضاحت طلب کی کہ لبیک تحریک کی آمدنی کا جائزہ کیوں نہیں لیا گیا تو کمیشن نے بتایا کہ بار بار استفسار پر بھی اس پارٹی کے لیڈروں نے تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے قوانین چونکہ ’نمائشی‘ ہیں اس لئے وہ اس پارٹی کے خلاف کوئی کارورائی کرنے کے قابل نہیں تھا۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ایک آئینی ادارہ ہے اور ملکی آئین کی متعدد شقات کے تحت وہ سیاسی جماعتوں کے ذرائع آمدنی کو کنٹرول کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ جو پارٹی اس حوالے سے کمیشن کو مطمئن نہ کرسکے، ایسی پارٹی کو صدر مملکت کے حکم سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ لیکن الیکشن کمیشن تحریک لبیک کے خلاف اس قسم کا فیصلہ کرنے میں ناکام رہا جس کے نتیجے میں اس پارٹی نے گزشتہ سال ہونے والے انتخابات میں سند ھ اسمبلی کی دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور ملک بھر میں قابل ذکر تعداد میں ووٹ بھی لئے۔
عدالتی فیصلہ میں پیمرا کے کردار پر بھی شدید نکتہ چینی کی گئی ہے جو ایک نفرت پھیلانے والے اور شر انگیز گروہ کی خبروں کی ترسیل کے حوالے سے اپنا آئینی فرض ادا کرنے میں ناکام رہا۔ اس کے نتیجے میں لبیک تحریک کی قیادت نے اپنے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے ملکی میڈیا کو استعمال کیا اور رائے عامہ پر اثرا انداز ہونے کا مقصد بھی حاصل کیا۔ پیمرا اس بات کا جواب دینے میں بھی ناکام رہا ہے کہ کیبل آپریٹرز کس کی ہدایت پر لائسنس یافتہ ٹیلی ویژن چینلز کی نشریات کو روکتے رہے ہیں۔ اور ایسے کیبل آپریٹرز کو اگر پیمرا نے ہدایات جاری نہیں کیں تو انہیں یہ حکم کہاں سے ملتا تھا اور پیمرا اس کی روک تھام کے لئے کیوں کوئی اقدام کرنے میں ناکام رہا۔ اسی حوالے سے سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف اخبارات اور ٹی وی چیلنز جن میں خاص طور سے ڈان اور جیو ٹی وی شامل ہیں ،کی کنٹونمنٹ اور ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے علاقوں میں نشریات کو روکا گیا۔ صحافیوں اور میڈیا مالکان کی تنظیموں نے سیلف سنسر شپ کے حوالے سے دباؤ کی شکایت کی ہے لیکن پیمرا سمیت دیگر حکومتی ادارے اس صورت حال کو تبدیل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس طرح آئین کی طرف سے آزادی رائے اور خبروں کی ترسیل کے بنیادی حق کی خلاف ورزی کی گئی۔
عدالتی فیصلہ میں 12 مئی 2007 کو کراچی میں ہونے والے قتل عام ، 2014 میں اسلام آباد میں تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے دھرنے اور نومبر 2017 میں لبیک تحریک کے دھرنے کا موازنہ کیا گیا اور کہا گیا ہے کہ لبیک تحریک کے لیڈروں کو علم تھا کہ قانون توڑنے والوں کے خلاف کوئی کارورائی نہیں کی جاتی ، اسی لئے انہوں نے بے خوف ہو کر حکومت کی طرف سے حلف کی عبارت تبدیل کرنے کا مطالبہ ماننے کے باوجود نفرت انگیز مہم جاری رکھی۔ عدالت نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مئی 2007 کے سانحہ میں چونکہ اس وقت کے آمر پرویز مشرف کے سیاسی مفادات ملوث تھے ، اس لئے شہری زندگی معطل کرنے اور انسانوں کو قتل کرنے والوں کے خلاف کوئی کارورائی نہیں کی گئی۔ جس سے قانون شکنی کے رجحان کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ اسی طرح تحریک انصاف نے 2014 کا دھرنا 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی بنیاد پر دیا تھا۔ حکومت نے عدالتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ قبول کرلیا تھا۔ اس کمیشن نے ان انتخابات کو منصفانہ قرار دیا تھا۔ اس کے باوجود تحریک انصاف نے اپنے طرز عمل پر معافی مانگنا ضروری نہیں سمجھا۔
اس فیصلہ میں سیاست میں فوج کی مداخلت کے حوالے سے آئی ایس پی آر کے سربراہ کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا گیا ہے کہ ’تاریخ بتائے گی کہ 2018 انتخابات شفاف ہوئے تھے‘۔ عدالت کا کہنا ہے کہ آئین کسی فوجی کو ملکی سیاست پر تبصرہ کرنے اور سیاسی جماعتوں میں تمیز کرنے کا حق نہیں دیتا۔ اس حوالے سے بنیادی اصولوں کی صراحت کے لئے فیصلہ میں اصغر خان کیس کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں سیاست میں ایجنسیوں کے اہلکاروں یا افسروں کی مداخلت کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ملک میں آئین کی بالادستی اور سول ملٹری تعلقات میں توازن کے حوالہ سے سنگ میل کی حیثیت اختیار کرسکتا ہے۔ تاہم اس کا دار و مدار حکومت اور پارلیمنٹ پر ہوگا۔ سپریم کورٹ نے ایجنسیوں اور اداروں کے دائرہ اختیار کی صراحت کے لئے مناسب قانون سازی کا مشورہ دیا ہے۔ فیصلہ میں اس بات پر افسوس کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ فیض آباد دھرنا کی حمایت کرنے اور نفرت انگیز مہم کا حصہ بننے والے بعض لوگ اس وقت حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔
یہ فیصلہ ملک کی فوج اور ایجنسیوں کے لئے رہنما اصول واضح کرنے کے علاوہ تحریک انصاف کی حکومت سے بھی تقاضہ کرتا ہے کہ وہ جمہوریت اور آزادی رائے کے بنیادی اصولوں کا احترام کرے اور اس سلسلہ میں کردار ادا کرے۔ تحریک انصاف کے لئے علیم خان کی گرفتاری پر پریشان ہونے اور استعفی ٰ پر ’جشن‘ منانے سے زیادہ یہ ضروری ہے کہ وہ فیض آباد کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کو غور سے پڑھے اور قوم کو اپنے جمہوریت دشمن کردار کی وضاحت پیش کرے۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words