معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

پاک بھارت تعلقات کی بہتری کے لئے جارحیت کا خاتمہ ضروری ہے

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 31 مارچ 2018

پاکستان میں بھارت کے ہائی کمشنر  اجے بساریا نے  دونوں ملکوں کے درمیان بداعتمادی ختم کرنے اور  امن بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ عالمی بنک کے اندازے کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان 30 ارب ڈالر  تک تجارت کی گنجائش موجود ہے لیکن ان دونوں  ہمسایہ ملکوں کے درمیان تجارت کا حجم بمشکل دو ارب ڈالر تک پہنچتا ہے۔ دونوں ملکوں کو اپنی نوجوان نسل کے لئے اب پرانی دشمنی بھلا کر آگے کی طرف دیکھنا چاہئے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ بھی جلد بحال ہو سکے گی۔ بھارتی ہائی کمشنر نے امن کے بارے میں جو باتیں کی ہیں ان سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں لیکن گزشتہ  چند برس کے دوران بھارتی حکومت نے جس طرح امن کی ہر کوشش کو ناکام بنایا ہے، مذاکرات سے مسلسل انکار کیا ہے، عالمی سطح پر پاکستان  کے لئے مشکلات پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے اور لائن آف کنٹرول پر جارحیت میں اضافہ کرکے  یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ  پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا اور موقع ملتے ہی بہرصورت اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا۔ بھارت کے سیاسی اور عسکری لیڈروں کی طرف سے دھمکی آمیز بیانات اس صورت حال کو پیچیدہ اور مشکل بناتے ہیں۔ ایسی صورت میں اجے بساریا کی یہ تقریر  لاہور کی بجائے نئی دہلی کے کسی اہم فورم  پر ہونی چاہئے تھی جہاں سے ان کے ملک کی قیادت بھی ان خوبصورت باتوں کو سن کر پاکستان کے بارے میں  اپنے گھناؤنے عزائم سے گریز کا راستہ تلاش کرسکتی۔

پاکستان اور بھارت ایٹمی طاقت کے حامل ممالک ہیں ۔ اس لئے ان دونوں ملکوں کی قیادت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ایک دوسرے کو تباہ کرنے  کی باتیں کرنے کی بجائے، بقائے باہمی کے اصول کے تحت آگے بڑھنے کا کوئی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ اس مقصد کے لئے پل تعمیر کرنے، غلط فہمیاں دور کرنے اور مفاہمت کے راستے تلاش کرنا اہم ہو تا ہے۔  یوں تو بھارتی حکام نے روز اوّل سے پاکستان کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے اور  اس کے راستے میں روڑے اٹکانے  کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا۔ اسی لئے پاکستان میں بھی مقابلہ بازی اور جنگ جوئی کا مزاج پروان چڑھنے لگا۔ بار بار ایک دوسرے کے مد مقابل ہونے کے باوجود دونوں ممالک اس مزاج سے  نجات حاصل کرنے کی کوئی کامیاب کوشش نہیں کرسکے۔  لیکن  نئی دہلی میں بی جے پی  کی حکومت بننے اور نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد صورت حال  تسلسل سے خراب ہوئی ہے۔  دلچسپ بات یہ ہے کہ باہمی تنازعہ میں  دونوں ملکوں کی قیادت کو اگر یکساں طور سے  ذمہ دار بھی تسلیم کرلیا جائے تو بھی 2013 میں نواز شریف اور مسلم لیگ (ن)، بھارت کے ساتھ امن قائم کرنے کے منشور پر انتخاب میں کامیاب ہوئے تھے جبکہ نریندر مودی اور بی جے پی نے نفرت اور پاکستان دشمنی کی بنیاد پر انتخاب میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی۔ میاں نواز شریف نے بطور وزیر اعظم اپنے انتخابی وعدے کے مطابق  حالات کو بہتر بنانے اور باہمی مفاہمت کا آغاز کرنے کے لئے نریندر مودی کی حلف وفاداری کی تقریب میں شرکت کی تھی۔ حالانکہ یہ دعوت  انہیں براہ راست موصول نہیں ہوئی تھی بلکہ علاقائی تعاون تنظیم سارک کے رکن کے طور پر پاکستان کے وزیر اعظم کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود نواز شریف کا نئی دہلی جانا ایک مثبت اشارہ تھا ۔ نریندر مودی اس کا اسی خیر سگالی کے جذبہ سے جواب دینے میں ناکام رہے۔ دو مواقع پر پاکستان کے ساتھ سیکرٹری خارجہ کی سطح پر مذاکرات شروع کرنے کا اعلان  کرنے کے بعد اس وعدہ کو پورا کرنے سے انکار کیا گیا۔

مصالحت کے لئے مذاکرات ہی واحد راستہ ہے۔ بھارت گزشتہ تین برس سے پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے سے انکار کرتا رہا ہے حالانکہ پاکستان نے ہر موقع پر بھارت کو مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دی۔ حتیٰ کہ مقبوضہ کشمیر میں  برہان وانی کی شہادت کے بعد جب  وادی میں  حالات بھارتی حکومت کے قابو میں نہیں رہے  تب بھی  پاکستانی حکومت نے  صرف کشمیر کے معااملہ کو ایجنڈے پر رکھ کر بات چیت کی  پیشکش کی۔ لیکن اسے حقارت سے ٹھکرا دیا گیا ۔ بھارتی قیادت کشمیر کی صورت حال  کو بہانہ بنا کر پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کرنے کا الزام لگاتا ہے۔ اس  طرح  اس سچ سے انکار کرنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے کہ کشمیری عوام  بھارت کے ساتھ رہنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔  بھارت مقبوضہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے جبکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ کشمیری عوام کو اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔  دونوں ملک اقوام متحدہ کی قراردادوں اور شملہ معاہدہ کے تحت کشمیر کا معاملہ باہمی بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر  متفق ہوچکے ہیں۔  بھارت یہ تسلیم کرتا رہا ہے کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ یہ مسئلہ حل کرنے کے لئے پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔ اس معاملہ پر بھارت اپنی کمزور قانونی ، سیاسی اور اخلاقی پوزیشن کی وجہ سے   مذاکرات سے گریز کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے ۔ اس کے برعکس دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف سفارتی مہم جوئی کے علاوہ افغانستان کی حکومت کو ورغلا کر بھی پاکستان کے لئے حالات کو مشکل بنایا جاتا ہے۔ پاکستان گزشتہ کئی برس سے یہ الزام عائد کرتا رہا  ہے کہ بھارتی ایجنسیاں افغانستان میں مقیم پاکستان دشمن عناصر کو استعمال کرتے ہوئے تخریب کاری اور دہشت گردی کے متعدد منصوبوں میں ملوث ہے۔ اس نے بلوچ قوم پرست تحریک کی سرپرستی کرکے بھی پاکستان کے لئے مشکلات پیدا کرنے کا موقع ضائع نہیں کیا۔

ماضی قریب میں ان بھارتی اقدامات اور جارحانہ رویہ کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد میں خطرناک کمی واقع ہوئی ہے۔ رہی سہی کسر لائن آف کنٹرول پر  سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزی اور شہری آبادیوں کوپہنچنے والے نقصان سے پوری ہوجاتی ہے۔ اس دوران بھارت کے پاس سی پیک منصوبہ کی وجہ سے تعاون بڑھانے اور اعتماد سازی کے لئے کام کرنے کا سنہرا موقع موجود رہا ہے۔ پاکستان اور چین بارہا یہ کہتے رہے ہیں کہ یہ  منصوبہ عالمی تجارت اور مواصلت کے علاوہ علاقائی معاشی احیا کے لئے بھی بے حد اہم ہے۔ بھارت اس کا حصہ بن کر خود بھی معاشی فائدے حاصل کرسکتا ہے اور پاکستان کی معاشی ترقی کے لئے بھی  خیر سگالی کا اظہار کرسکتا ہے۔ ہر ذی شعور جانتا ہے کہ کسی بھی علاقے میں امن  کے لئے  معاشی خوشحالی  کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن بھارتی حکومت امریکہ کا پٹھو بن کر سی پیک کی مخالفت  پر کمر بستہ رہی ہے۔ امریکہ  چین کے ساتھ مقابلہ بازی اور بحر ہند اور بحر جنوبی چین میں چین کا مقابلہ کرنے کے لئے بھارت کو  استعمال کررہا ہے اور بھارتی لیڈر پاکستان دشمنی میں اس عاقبت نااندیشانہ پالیسی کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ بھارت  نے اگر کسی سطح پر پاکستان کے ساتھ بات چیت کی خواہش کا اظہار کیا تو سی پیک  اور کشمیر دو بنیادی نکات کو ایجنڈے پر رکھنا ضروری ہوگا۔ کیوں کہ ان میں سے ایک کا تعلق پاکستان  کے مستقبل  سے ہے اور دوسرا کشمیری عوام  کے حق خود اختیاری کے لئے اہم ہے۔

خطے میں بدلتی اور پیچیدہ صورت حال کا ادراک کرنے اور اس  سے نکلنے کے لئے  مل جل کر راستے تلاش کرنے کی بجائے بھارت نے پاکستان کو تنہا کرنے کی پالیسی پر عمل کیا ہے۔ وہ اس پالیسی میں مکمل طور سے کامیاب تو نہیں ہو سکا لیکن پاکستان کے لئے مشکلات میں اضافہ کرنے کا سبب ضرور بنا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے کھیل اور ثقافتی شعبوں میں تعاون  ختم کرکے دونوں ملکوں کے عوام کو دور کرنے کی افسوسناک کوشش کی ہے۔ بی جے پی بھارت میں انتہا پسندانہ ایجنڈے پر  لوگوں کے ووٹ لے کر 2019 کے انتخابات میں کامیابی کی امید کررہی ہے لیکن اس کی یہ حکمت عملی بھی ناکام ہوتی دکھائی دیتی ہے جس کا اشارہ ریاستی اور ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی مشکلات  سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کا اثر پاکستان کی رائے عامہ پر بھی مرتب ہوتا ہے۔ بھارتی حکام کی جنگجویانہ  حکمت عملی اور انتہا پسندانہ  بیانات کی وجہ سے پاکستان میں بھی بھارت دشمن عناصر کو قوت ملی ہے اور دوستی اور مفاہمت کی بات کرنے والے لوگوں کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنا پڑتی ہے۔ ملک کی سیاسی حکومت کو بھارت کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کرنے پر ملک کے اداروں اور سیاسی حریفوں کی جانب سے چیلنجز کا سامنا   رہا ہے۔  یہ حالات  نئی دہلی سرکار کی دشمنی اور ضد پر مبنی پالیسیوں کی وجہ سے سامنے آئے ہیں۔

گزشتہ دنوں نئی دہلی میں پاکستان کے سفارتی عملہ کو ہراساں کرنے کے واقعات تواتر سے پیش آئے تھے جس کے بعد حکومت کو نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر سہیل محمود کو واپس بلانا پڑا تھا۔ تاہم پاکستانی حکام نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس تنازعہ کو طول دینے کی بجائے سفیر کو واپس بھیج دیا۔ اس  کے علاوہ پاک فوج نے  23 مارچ کو یوم پاکستان کے موقع پر بھارتی سفارت خانے کے ملٹری اتاشی اور دیگر عملہ  کو تقریبات میں شرکت کی دعوت دے کر  خیر سگالی کے مثبت اور حوصلہ افزا  جذبہ کا اظہار کیا تھا۔ اب بھارتی ہائی کمشنر کی باتیں اگر بھارتی حکومت کی تبدیلی قلب کا اشاریہ ہیں تو ان کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔ کیوں کہ دونوں ملکوں کے درمیان امن سے نہ صرف  پاکستان اور بھارت کو فائدہ  ہوگا بلکہ پورے خطے میں خوشحالی اور ترقی کے ایک ایسے دور کا آغاز ہو سکتا ہے جو صرف 30 ارب ڈالر کی باہمی تجارت تک محدود نہیں ہو گا بلکہ  اس سے برصغیر میں غربت اور احتیاج کے خلاف کامیاب جنگ لڑی جاسکے گی۔ تاہم اس کے لئے دونوں ملکوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ امن کے لئے جارحیت اور اس کے عملی یا تقریری اظہار سے گریز کرنا لازمی ہے۔ 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...