معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

سیاسی لیڈروں پر حملے جمہوریت کے مستقبل پر سوال

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 11 مارچ 2018

یہ بات خوش آئیند ہے کہ ملک کے تمام سیاسی لیڈروں نے آج  لاہور میں جامعہ نعیمیہ میں ایک تقریب کے دوران مسلم لیگ (ن) کے تاحیات رہنما اور سابق وزیر اعظم نواز شریف پر جوتا پھینکنے کی مذمت کی ہے۔  متعدد سیاسی رہنماؤں نے    سیاسی رہنماؤں پر جوتا یا سیاہی پھینکنے کو ناقابل قبول فعل قرار دیا ہے۔  سیاسی لیڈروں کی طرف سے نواز شریف کے ساتھ اظہار یک جہتی،  اس لحاظ سے مثبت  رویہ ہے کہ اس طرح یہ  پتہ چلتا ہے کہ ملک کے لیڈر شدید اختلافات کا شکار ہونے کے باوجود اس بات سے آگاہ ہیں کہ اگر اختلاف رائے کے لئے اس قسم کے مذموم اور قابل نفرت طریقے اختیار کئے جائیں گے تو ملک میں سیاسی ماحول خراب ہوگا اور جمہوریت کے لئے بھی خطرات پیدا ہوں گے۔ سیاسی لیڈروں کو اندازہ ہے کہ اگر ان کے باہمی اختلافات اور کشیدگی نے انتشار اور سماجی بے راہروی کی صورت اختیار کرلی تو پھر کوئی بھی اس قسم کے حملوں سے محفوظ نہیں رہ سکے گا اور اس کے نتیجے میں پھیلنے والی انارکی غیر جمہوری قوتوں کو مداخلت کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔ اگرچہ نواز شریف پر جوتا  اور گزشتہ روز وزیر خارجہ خواجہ آصف پر سیاہی  پھینکنے کے واقعات انتہائی گھناؤنے اور افسوسناک ہیں لیکن ان دو واقعات کے بعد سیاسی لیڈروں نے جس طرح اس طرز عمل سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کیا ہے، وہ اس گئے گزرے ماحول میں بھی ملک میں جمہوری ارتقا کے لئے امید کی کرن کی حیثیت رکھتا ہے۔   سیاسی لیڈروں کو اس واقعہ کے بعد  صرف بیانات تک محدود رہنے کی بجائے ، اس بات کا تہیہ کرنا چاہئے کہ وہ سیاسی اختلافات کے اظہار کے لئے  اپنے لب و لہجہ اور طریقہ کار کے بارے میں بھی از سر نو غور کریں گے تاکہ ان بہکے ہوئے لوگوں کی حوصلہ افزائی نہ ہو جو اختلاف کا اظہار صرف جسمانی تشدد کے ذریعے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ملک کے ایک طبقہ میں  گزشتہ دو روز کے دوران پہلے خواجہ آصف پر سیاہی اور اب نواز شریف پو جوتا پھینکنے  کو عوام میں پائی جانے والی مایوسی اور سیاسی  اشرافیہ سے نفرت کا اظہار قرار دیا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ان واقعات پر تبصرہ کرنے والے  متعدد لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ جوتا یا سیاہی پھینکنا تو محض ابتدا ہے ۔ سیاسی رہنماؤں نے اس ملک کے عوام کو جس طرح مایوس کیا ہے، اس کے نتیجے میں زیادہ شدید عوامی رد عمل بھی سامنے آسکتا ہے۔ اس قسم کی باتیں کہنا اور سیاسی اختلاف کے اظہار کے لئے ان کی حوصلہ افزائی کرنا بھلا لگ سکتا ہے لیکن  جمہوری سیاست میں تشدد کی حوصلہ افزائی یا اسے قبول  کرنے کا طریقہ قبول نہیں کیا جاسکتا۔  اسی لئے سیاسی لیڈروں کی مذمت اور یہ وضاحت کہ سیاسی اختلاف کے لئے غیر اخلاقی  ہتھکنڈے اختیار کرنا درست نہیں، وقت کا تقاضا بھی تھا اور سیاسی کشیدگی اور پارٹیوں یا لیڈروں کے ساتھ  شدت پسندی کی حد تک محبت یا وفاداری کے ماحول میں نرمی پیدا کرنے اور  متوازن رویہ  اختیار کرنے کے لئے ضروری بھی تھا۔ 

یہ شدت پسندی پیدا کرنے میں ملک کے تمام سیاسی لیڈروں نے کردارادا کیا ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان میں جمہوریت اور عوام کی قوت کی بات کی جاتی ہے لیکن  ہر لیڈر کو صرف اپنا ووٹر اور حمایت اچھی لگتی ہے اور وہ اس  مزاج میں اس قدر  سخت  گیر ہو چکے ہیں کہ سیاسی مخالفین  کے حامیوں یا ووٹروں  کی رائے یا سیاسی اہمیت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ اسی لئے ملک میں  قومی یا سینیٹ انتخابات کے بعد دھاندلی کا شور مچاتے ہوئے یہ تسلیم کرنے سے انکار کیا جاتا رہا ہے کہ مختلف سیاسی پارٹیوں کو اپنے اپنے حلقہ میں سیاسی حمایت حاصل ہے اور جمہوریت کے ساتھ محبت اور قبولیت کا تقاضا ہے کہ  اپنی  سیاسی حمایت پر فخر کرتے ہوئے مخالفین کو ملنے والے ووٹوں  کی قدر و قیمت کو بھی قبول کرنے کی کوشش کی جائے۔ اسی طرح اگرچہ سیاسی لیڈر   ملک کے اہم ترین لیڈر پر جوتا پھینکنے کے واقعہ کی مذمت میں یک آواز ہوئے ہیں لیکن بدقسمتی سے تمام سیاسی لیڈر اہنے جلسوں میں تقریریں کرتے ہوئے  فن خطابت کے ایسے جوہر دکھانے سے بھی باز نہیں آتے جن سے کدورت، نفرت اور ہیجان پیدا ہوتا ہے اور مخالفین کے بارے میں ایک ایسی رائے مستحکم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو  اصولی اختلاف  کی بجائے  ذاتی کردار کشی کا شاخسانہ ہوتی ہے۔

نواز شریف پر جوتے سے حملہ کی کوشش سے سبق  سیکھتے ہوئے   سیاسی لیڈروں کو  اب مذمت سے بڑھ کر ایسا سیاسی ماحول پیدا کرنے کے لئے کام کرنا چاہئے جس میں سیاسی اصولوں، پارٹی منشور اور ان بنیاد پر بات کی جائے کہ  فریق مخالف سے ان کا اپنا  منشور یا سیاسی طریقہ کیوں کر مختلف ہے۔ پاکستان میں سیاست  گالی فروشی  اور جذبات  کو انگیختہ کرنے  کے مختلف ہتھکنڈے اختیار کرنے کا ہنر بن چکی ہے۔ اب سیاست دانوں کو  علم ہونا چاہئے کہ یہ  ہتھکنڈے ناکارہ  ہی نہیں بلکہ حد درجہ خطرناک اور نقصان دہ ثابت ہورہے ہیں۔ ان کی وجہ سے ملک کے عوام کو ایسے گروہوں میں بانٹ دیا گیا جنہیں اپنے ممدوح کے سوا باقی سب ملک دشمن اور گناہگار دکھائی دیتے ہیں۔ جس طرح یہ رویہ تبدیل کرنا وقت کی ضرورت ہے، اسی طرح اس واقعہ سے سیاسی فائیدہ اٹھانا بھی منفی اور ناقابل قبول طرز عمل ہے۔  بدقسمتی سے اس کا اظہار نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی طرف سے سامنے آیا ہے۔ ایک طرف ملک بھر کے لیڈر نواز شریف کے ساتھ اظہار یک جہتی کررہےتھے تو دوسری طرف مریم نواز یہ بیان دے رہی تھیں کہ ان کے سیاسی مخالفین بدحواس ہو کر اس قسم کے شرمناک ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔ ملک کی سیاسی قیادت کی امید رکھنے والی خاتون کو خبر ہونی چاہئے تھی  کہ انہیں ایسے وقت اپنے سیاسی مخالفین پر اپنی پارٹی یا والد کے خلاف سازش کرنے کا الزام عائد کرنے سے گریز کرنا چاہئے تھا، جب وہ یہ تسلیم کررہے تھے کہ یہ طریقہ سیاسی اختلاف کے اظہار کے لئے مناسب نہیں ہے۔ آنے والے دنوں میں بھی مریم نواز یا مسلم لیگ (ن) کے دیگر لیڈروں کو اس سیاسی ہتھکنڈے سے گریز کرنا ہوگا ورنہ دوسرے سیاسی لیڈر بھی وہی حکمت عملی اپنا کر جوابی وار کرنے کی کوشش کریں گے۔ جامعہ نعیمیہ میں ہونے والے واقعہ سے سبق سیکھتے ہوئے اس سال کے دوران منعقد ہونے والے عام انتخابات سے پہلے سیاسی ماحول کو بہتر بنانے کے لئے اگر کوئی متفقہ ضابطہ اخلاق نہیں بنایا جاتا تو بھی کشیدگی ختم کرنے اور ایک دوسرے کو شیطان اور برائیوں کی جڑ سمجھنے اور قرار دینے سے گریز کرنے میں ہی عافیت ہے۔ ورنہ سیاسی فائدہ کے لئے ایک دوسرے کو  مطعون کرنے سے صرف کشیدگی  پیدا ہو گی اور لوگ جوتے  یا غلاظت اٹھائے مخالفین کا استقبال کرتے نظر آئیں گے۔

اب یہ بات سامنے آرہی ہے کہ جامعہ نعمیہ کے واقعہ میں ملوث افراد کا تعلق لبیک تحریک سے تھا۔ یہ تحریک ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد حرمت رسولﷺ کی حفاظت  کے نام پر سامنے آئی تھی لیکن اس کے لیڈروں نے گالی، گھٹیا  لب و لہجہ اور غیر اخلاقی طرز کلام کو اپنا شعار بنایا ہے۔ یہ لوگ چونکہ لوگوں کے مذہبی جذبات سے کھیلتے ہیں ، اس لئے  عام سادہ لوح  لوگوں کے گمراہ ہونے اور جذبات کو نفرت میں بدلتے دیر نہیں لگتی۔  ملک کے سب سیاست دانوں کو اب اس نئے ابھرنے والے خطرہ کو سماجی انتشار  کے ایک نئے اشاریہ کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ مذہب کے نام پر تشدد اور کشت و خون کا نیا سلسلہ شروع  ہوتے دیر نہیں لگے گی۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...