معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

جمہوریت کیا اپنے حق کی بھیک مانگنے کا نام ہے

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 09 مارچ 2018

پاکستان میں جمہوریت کے حوالے سے جو مباحث موجود ہیں ان میں سینیٹ  میں کی   جانےوالی الوداعی تقریروں  اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی کے تازہ ترین حکم نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ جسٹس شوکت صدیقی نے الیکشن ایکٹ 2017 کے خلاف دائر ایک درخواست پر مختصر حکم جاری  کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ختم نبوت کے حلف نامہ اور ملک کے تمام شہریوں کو اپنا اصل عقیدہ ظاہر کرنے  کا پابند کرنے کے لئے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرے اور مناسب قانون سازی کی جائے۔  یہ جج اس سے پہلے بھی توہین مذہب کے تحت جھوٹے الزامات عائد کرنے والوں کو سزائیں دینے کے لئے وزارت داخلہ سے ایک مسودہ قانون تیار کرواچکے ہیں اور اس موقع پر انہوں نے یہ  بھی واضح کیا تھا کہ یوں لگتا ہے کہ اب قانون سازی کا کام بھی عدالتوں کو ہی کرنا پڑے گا جیسا کہ اس معاملہ میں اس عدالت نے متعلقہ قانون کا مسودہ تیار کروایا ہے۔ جس ملک میں فوج کا کرنل وزیر اعظم ہاؤس جاکر یہ اعلان کرسکتا ہے  کہ اب جمہوریت اور آئین کی حکمرانی کا  زمانہ ختم ہؤا اور اب منتخب وزیر اعظم کو عوام کا مینڈیٹ لینے کی سزا بھگتنے کے لئے ان کے ساتھ چلنا ہوگا۔ اور جس ملک میں ایک جج پارلیمنٹ کو حکم دے رہا ہے کہ وہ آئین کی اس تفہیم کے مطابق قانون سازی کرے جسے وہ خود درست سمجھتا ہے، وہاں جمہوریت بنیادی حق اور ایک لازمہ کی بجائے  ایک ایسا معاملہ بن کر رہ جاتی ہے  جس کے لئے سیاسی لیڈروں کو سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں اور عوام کو طویل عرصے آمریت میں صرف کرکے آواز بلند کرنا پڑتی ہے کہ  یہ ملک ان کا ہے، اسے ان کی مرضی کے مطابق چلنا چاہئے۔ سوال ہے کیا جمہوریت خوف میں جینے اور اپنے حق کی بھیک مانگنے کا نام ہے۔

سینیٹ کے سبکدوش ہونے والے چیئرمین رضا ربانی نے آج  بطور چیئرمین اپنی  الوداعی تقریر میں اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے  اور جمہوریت کو لاحق خطرات  سے نمٹنے کے لئے بعض تجاویز دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پارلیمان کی بالادستی کو سب سے زیادہ خطرہ اس بات سے لاحق رہا ہے کہ منتخب نمائیندوں نے کبھی اپنی خود مختاری پر اصرار کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ جب ان سے کہا گیا ، انہوں نے ایسے تمام قوانین اور فیصلوں کی تصدیق کردی جو ایک آمرانہ دور میں بنائے گئے تھے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کی خود مختاری اور  بالا دستی کے لئے  مسلسل محنت کرنے اور اس اصول پر قائم رہنے کی ضرورت پر زور دیا کہ عہدے آتے جاتے رہتے ہیں لیکن اس بات کی کوشش ہونی چاہئے کہ تاریخ  میں کسی کا نام سیاہ حروف سے نہ لکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ رائے کی آزادی اور تحفظ کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار رہنا چاہئے۔   انہوں نے  آج کی تقریر میں اپنی اس تجویز کو دہرایا ہے کہ ملک میں  اداروں کے درمیان تعاون کے لئے بات چیت اور افہام و تفہیم کی ضرورت ہے ۔ اس حوالے سے انہوں نے آرمی چیف کو سینیٹ کمیٹی میں مواصلت کے لئے دعوت دینے کا ذکر کیا اور اس بات پھر زور دیا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور سینیٹ کے چیئرمین اور قومی اسمبلی کے اسپیکر کے درمیان بات چیت ہونی چاہئے تاکہ  غلط فہمیوں کا تدارک کرنے کے علاوہ  اداروں کی خود مختاری کے لئے بنیادی اصولوں پر افہام و تفہیم پیدا ہو سکے۔

رضا ربانی کی باتوں کو اگر ان  ہی کی پارٹی کے دوسرے سینیٹر  اعتزاز احسن کی روز گزشتہ کی تقریر کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جمہوریت اور پارلیمانی   آزادی کے لئے  ہمہ وقت اس بات  پر ہوشیار رہنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی پارٹی لیڈر یا سیاست دان کوئی ایسی بات منہ سے نہ نکالے جو جمہوری راستہ محدود کردے اور فوج کو اقتدار سنبھالنے کا موقع مل جائے۔ اعتزاز احسن کا خیال تھا کہ نواز شریف نے جس طرح عدلیہ کو مطعون کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے اور اداروں کو چیلنج کررہے ہیں ، اس سے ملک میں ایک نئے آمر کے لئے راستہ ہموار ہو رہا ہے۔ اس تقریر کا بنیادی پیغام رضا ربانی کے اس پیغام سے متصادم ہے کہ پارلیمنٹ کی خود مختاری کے لئے ارکان پارلیمنٹ کو اپنے حق قانون سازی اور رائے کے اظہار پر سمجھوتہ کرنے کی بجائے گردن کٹانے کو ترجیح دینی چاہئے۔ جبکہ اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ سمجھوتہ اور ہوشمندی ہی جمہوریت کے تسلسل کے لئے بہترین راستہ ہے۔ یہ دونوں تجربہ کار سیاست دان  اور قانون دان ہیں  اور ملک کی ایک روشن خیال پارٹی  سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن ان کے خیالات میں تضاد اس ملک میں جمہوریت کو لاحق مشکلات کے حوالے سے صورت حال کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ ان دونوں نے اپنی تقریروں میں ایک بات بڑی صراحت سے بیان کی ہے  کہ فوج اگرچہ ایک ادارہ ہے لیکن یہ آئینی تصریح کے مطابق  ملکی نظام کے بنیادی اداروں میں شامل نہیں ہے۔ ملک میں اختیارات کی تقسیم اور ان میں توازن قائم کرنے کے لئے تین ادارے تسلیم شدہ ہیں ۔ پارلیمنٹ، حکومت یا انتظامیہ اور عدلیہ۔ دونوں نے بتایا ہے کہ فوج حکومت کا ایک زیلی ادارہ ہے ۔ یعنی اس کی ایسی آئینی حیثیت نہیں ہے جسے استعمال کرتے ہوئے فوج کا سربراہ یا اس سے متعلق کوئی ادارہ یہ مطالبہ کرسکے کہ اسے امور مملکت و حکومت میں حصہ دیا جائے۔ لیکن  اعتزاز احسن  نے یہ انتباہ دیا ہے کہ نواز شریف کا  ’غیر ذمہ دارانہ‘ رویہ ایک آمر کی راہ ہموار کرسکتا ہے یعنی فوج ملک کا اقتدار سنبھال سکتی ہے۔ اور رضا ربانی نے بھی جن اداروں کے ساتھ مواصلت اور افہام و تفہیم کی ضرورت پر زور دیا ہے ، ان میں فوج اور عدلیہ شامل ہیں۔ بلکہ اپنی آج کی تقریر میں انہوں نے سینیٹ کمیٹی میں آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کی آمد اور بات چیت کو ایک مثبت مثال کے طور پر پیش بھی کیا۔ اگر فوج اس ملک کے تین بنیادی آئینی اداروں  میں شامل نہیں ہے تو اسے کس حیثیت سے براہ راست آئینی اور سیاسی معاملات میں تعاون  کے لئے ملوث کرنے کی ضرورت  محسوس کی جاتی ہے۔

پاکستان میں جمہوریت کی تفہیم کے حوالے سے ایسی صورت حال پیدا کی جاچکی ہے کہ یہ سوال سادہ لوحی یا حماقت پر محمول قرار دیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ بنیادی اور اصولی سوال ہے۔ اس کا مناسب جواب نہ جاننے اور اس پر عمل نہ کرنے کے رویہ کی وجہ سے ہی  ملک میں فوج کو ہی بنیادی طاقتور  اور فیصلہ کن ادارے کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔ اگر اس ملک کے  سیاست دان منتخب نمائیندوں سے بنی پارلیمان کو ہی خود مختار سمجھتے ہیں  تو تمام اہم امور کے لئے پارلیمنٹ سے رجوع کیوں نہیں کیا جاتا۔ کیا وجہ ہے کہ دیگر پارلیمانی جمہوری ملکوں کی طرح وزیر اعظم  پالیسی معاملات پر پارلیمنٹ میں سب سے پہلے اظہار خیال کرنے کی بجائے، ان پر  قومی سلامتی کمیٹی میں آرمی چیف سے  مشاورت کرنا اور ان کے ساتھ مل کر فیصلے کرنا کافی سمجھتا ہے۔ اور کیا وجہ ہے کہ ملک کے بیشتر سیاست دان اس تاک میں رہتے ہیں کہ وہ کسی طرح فوج کی اعانت اور حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں تاکہ  نام نہاد جمہوریت کا بول بالا ہوتا رہے۔ اس وقت پیپلز پارٹی جیسی پارٹی کے رہنما آصف زرداری فوج کی خوشنودی کے  لئے اپنے ہی ساتھیوں کو مسترد کرنے اور  پارٹی کی روشن روایات کو  ترک کرنے پر آمادہ  نظر آتے ہیں۔ نیا پاکستان بنانے کی دعویدار پاکستان تحریک انصاف عدالتی احکامات اور فوج کی سرپرستی میں نواز شریف کے بعد شہباز شریف  اور  آصف زرداری کا سیاسی جنازہ نکال کر اپنے اقتدار کا راستہ ہموار کرنا چاہتی ہے۔ نواز شریف ’ مجھے کیوں نکالا‘ کا بیانیہ سامنے لاتے ہوئے یہ اعلان تو کرتے ہیں کہ اب ستر برس کی اس بری روایت کو بدلنا ہوگا کہ جب چاہے منتخب وزیر اعظم کو فارغ کردیا جاتا ہے۔ لیکن وہ بھی شہباز شریف جیسے مفاہمت پسند کو پارٹی کا صدر بنوا کر  یہ واضح کرتے ہیں کہ اداروں اور نظام سے تصادم کا اعلان کرنے کے باوجود وہ فوج سے مواصلت اور تعاون کو اپنی پارٹی کے اقتدار اور اپنے سیاسی مستقبل کی حفاظت کے لئے اہم سمجھتے ہیں۔

اس لئے یہ بات باعث استعجاب نہیں ہونی چاہئے کہ گو اس ملک میں بار بار  فوج نے جمہوری نظام  مفلوج   اور آئین کو  منسوخ یا معطل کیا اور عدالتوں نے ’ملک بچانے‘ کے نیک مقصد سے نظریہ ضرورت کے تحت  فوج کے ہر ظالمانہ ، جمہوریت کش اور آئین شکن اقدام کا ساتھ دیا لیکن ہر عام و خاص جب بھی جمہوریت کے حوالے سے کسی گناہ گار کی طرف اشارہ کرے گا تو وہ کوئی نہ کوئی سیاست دان ہوگا۔  ملک کا نظام ناقص، غیر منصفانہ اور غیر متوازن ہو چکا ہے لیکن اسے خراب کرنے کی ذمہ داری  میں نہ فوج شامل ہے اور نہ عدالتوں پر اس کا الزام عائد ہوتا ہے کیوں کہ عام تفہیم  میں یہ بات شامل کردی گئی ہے کہ خرابیوں کی جڑ سیاست اور سیاست دان ہے۔ وہی بدعنوان ہے، وہی لالچی ہے، وہی جھوٹا اور خائن ہے۔ اس کی امانت اور صداقت کا فیصلہ کرنے کا حق بھی ایسے ججوں کو حاصل ہے جو خود اپنے امین و صادق ہونے کا  حلف اٹھانا ضروری نہیں سمجھتے۔  سپریم  کورٹ آئین کی بالادستی کی ضامن  ہونے کا بار بار اعلان کرتی ہے لیکن ایک ہائی کورٹ کے جج کی طرف سے پارلیمنٹ کو دی جانے والی ہدایات  پر اس کی  نظر نہیں جاتی کہ یہ طے کرے کی  کیا  اس سے پارلیمان کا استحقاق اور آئین کی روح مجروح ہوتی  ہے کہ نہیں۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ عوام  کے  ’بنیادی حقوق‘ کے تحفظ میں سرگرم سپریم کورٹ اس وقت صاف پانی کی فراہمی اور ہسپتالوں میں دواؤں کی سپلائی جیسے  ’اہم معاملات‘ طے کرنے میں مصروف ہے۔

محاورہ ہے کہ بچہ بھی نہ روئے تو ماں دودھ نہیں دیتی۔ جب سیاست دان ہی اس صورت حال کو تسلیم کرتا رہے گا، جب پارلیمنٹ کے ارکان ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے  کو ہی جمہوریت کی حقیقی خدمت سمجھتے رہیں گے تو ملک کا عام آدمی یہی سمجھے گا کہ  فیصلہ اس کے ووٹ سے نہیں بلکہ فوج کے اشارے سے ہوگا۔ لہذا ووٹ کے بدلے اگر بریانی کی پلیٹ اور محلے یا گاؤں میں  کوئی سہولت ملتی ہے تو اسے جاتے چور کی لنگوٹ سمجھ کر قبول کرنا اور  اس پر خوش ہونا ہی درست طریقہ ہے۔
 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...