معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

جج کوبھی مذہبی منافرت پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 06 مارچ 2018

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی نے الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کے خلاف ایک درخواست کی سماعت  کا سلسلہ دراز کرتے ہوئے ملک کی احمدی اقلیت کے خلاف  نفرت، تعصب اور شبہات کو ہوا دینے کا کام شروع کیا ہؤا ہے۔ جسٹس شوکت صدیقی کی نیت اور ارادے درست ہوسکتے ہیں لیکن وہ جس طریقہ کار پر عمل کررہے ہیں ، اس سے ملک  میں مذہبی منافرت اور کشیدگی میں اضافہ ہونے کے علاوہ ایک معمولی اور پہلے سے شدید دباؤ کا شکار مذہبی اقلیت کی مشکلات  میں اضافہ ہوگا۔  اس سے پہلے اسی مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے  جسٹس شوکت عزیز صدیقی  یہ حکم بھی دے چکے ہیں کہ آئیندہ ملک میں  جو شخص بھی مذہب تبدیل کرنا چاہتا ہے، اسے پہلے عدالت سے اجازت حاصل کرنا ہوگی۔ آج کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس شوکت صدیقی نے فرمایا ہے کہ وہ فتویٰ نہیں  دیتے  لیکن اس ملک کا آئین احمدیوں کو مسلمان نہیں مانتا۔ اس لئے احمدیوں کو اگر اس ملک میں رہنا ہے  تو وہ غیر مسلم  بن کر رہیں ، اسلام میں نقب نہ لگائیں۔   عدالتوں میں ججوں کے ریمارکس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی، چیف جسٹس ثاقب نثار خود ہی  گزشتہ دنوں سیاسی معاملات کے حوالے سے  اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے  یہ کہہ چکے ہیں کہ جج سوال یا ریمارکس کی صورت میں کسی مقدمہ کے مختلف پہلوؤں کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کا ان کی رائے یا مقدمہ میں ہونے والے فیصلہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ لیکن جسٹس شوکت عزیز صدیقی اس مقدمہ میں جس قسم کے ریمارکس  دے رہے ہیں ، وہ کسی عدالتی فیصلہ سے بھی زیادہ خطرناک ہیں کیوں کہ ان سے نفرت  کو ہوا ملتی ہے اور لوگوں کے مذہبی جذبات بھڑکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کو دیکھنا چاہئے کہ کیا وہ اپنے زیر نگرانی کام کرنے والی عدالتوں کے ججوں کو  اس طرح کی کھلی چھٹی دے سکتی ہے۔

حیرت انگیز طور پر جسٹس صدیقی  ایک ایسے مقدمہ میں اپنی صلاحیتیں بھی صرف کررہے ہیں اور اپنی پوزیشن اور اختیار سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے سرکاری محکموں کو بھی  اپنی  صلاحیتیں اور وقت ایک بے مقصد کام میں صرف  کرنے پر مجبور کررہے ہیں۔ یہ کام اس لحاظ سے بے مقصد ہے کہ احمدیوں کو اقلیت قرار دینے کا فیصلہ دوسری آئینی ترمیم کے ذریعے پارلیمنٹ نے کیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سیاسی مفاہمت کے نقطہ نظر سے یہ قدم اٹھایا تھا ۔ ایسا کرتے ہوئے انہیں یہ امید ہوگی کہ  ختم نبوت  کے حوالے سے ملک میں پایا جانے والا تنازعہ  احمدیوں کو  اقلیت قرار دینے کے بعد ختم ہو جائے گا اور معاشرہ میں مذہبی ہم آہنگی اور  سکون و اطمینان کا دور دورہ ہو سکے گا۔ لیکن وہ اس وقت یہ اندازہ کرنےمیں ناکام رہے ہوں گے کہ چند ہی سال میں ان ہی کا مقرر کردہ آرمی چیف خود ان کی حکومت کا بستر ہی گول کردے گا اور انہیں پھانسی کے پھندے تک پہنچا کر دم لے گا۔ بھٹو جیسے لیڈر  سے نجات پانے اور اس کے سوشلسٹ، سیکولر اور مساوات پر مبنی معاشرہ کے منشور کا جواب دینے کے لئے ضیاالحق کو ایک ایسا بیانیہ چاہئے تھا جس کے ذریعے وہ عوام میں قبولیت حاصل کرسکتا۔ اسی لئے اس نے اسلام کا چیمپئن بننے اور پاکستانی معاشرے کو اپنی مرضی کا اسلامی سماج  بنانے کے لئے  مختلف نعرے بھی لگائے اور اقدامات بھی کئے۔

توہین مذہب کی شقات میں تبدیلی اور احمدی عقیدہ سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف مختلف نوعیت کے فیصلے اسی دور میں کئے گئے تھے تاکہ وہ ملک کے مذہبی عناصر کی حمایت سے اپنے سیاسی اختیار کو مضبوط بھی کرسکیں اور طول بھی دے سکیں۔  حالانکہ  ضیاالحق کی زندگی اور طرز حکومت ان تمام اعلیٰ روایات سے برعکس تھیں  جن کا درس پیغمبر اسلام ﷺ نے دیا تھا اور  جن پر خلفائے راشدین نے عمل کرکے تاقیامت اچھے مسلمان حکمران کے لئے ایک مثال اور روایت قائم کی تھی۔ اس کے باوجود ضیاالحق کے دور میں بنائے ہوئے ظالمانہ اور متعصبانہ قوانین اور آئینی شقات سے اب تک جان نہیں چھڑائی جاسکی۔ ان میں آئین کی شق 62 اور 63 بھی شامل ہیں جنہیں استعمال کرتے ہوئے سپریم کورٹ وزیر اعظم اور دیگر اعلیٰ سیاسی عہدیداروں  کی صداقت کو پرکھنے کی میزان سجائے بیٹھی ہے۔ اور توہین مذہب  میں شامل شقات بھی ہیں جنہیں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران  جھوٹ اور ناجائز طریقے سے استعمال کرتے ہوئے  درجنوں بے گناہ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے یا انہیں طویل عرصے تک کسی داد رسی اور قانونی مدد کے بغیر جیلوں میں پرصعوبت زندگی بسر کرنا پڑی ہے۔

یہ پس منظر بیان  کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ  قانون  یا آئین میں تبدیلی و ترمیم کے فیصلے پارلیمنٹ کو کرنے ہیں اور وہیں ان کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔ یہ کام عدالتوں کے کرنے کے نہیں ہیں۔ خاص طور سے جب ہائی کورٹ کی سطح کا ایک جج ختم نبوت اور احمدی عقیدہ کے بارے میں روزانہ کی بنیاد پر اشتعال انگیز ریمارکس دے گا اور سرکاری محکموں سے ایک چھوٹی سی اقلیت کے بارے میں اعداد و شمار جمع کرنے کا کام کروائے گا  تو اسے وقت کا ضیاع اور متعلقہ جج کی کم ظرفی ہی کہا جائے گا۔  اسلام آباد ہائی کورٹ کا  ایک جج ملک  کی پارلیمنٹ کو کسی قسم کا قانون بنانے یا آئینی ترمیم کو اپنی تفہیم اور مرضی کے مطابق ڈھالنے کا حکم نہیں دے سکتا۔  یوں بھی الیکشن ایکٹ 2017  کا معاملہ فیض آباد دھرنے کے اختتام پر ہونے والے معاہدہ  کے ذریعے انجام کو پہنچ چکا ہے۔ جس حلف نامہ کی وجہ سے احتجاج شروع ہؤا تھا، اسے نہ صرف یہ کہ قانون کا حصہ بنایا جاچکا ہے بلکہ ختم نبوت پر ارکان اسمبلی کے ایمان کی یقین دہانی کے لئے مزید شرائط بھی اس میں شامل کی گئی ہیں۔

رہی سہی کسر سپریم کورٹ نے اس ایکٹ کی بعض شقات کو  ختم کرکے پوری کردی ہے۔  الیکشن ایکٹ 2017 پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی طرف سے اس حوالے سے دی گئی ایک درخواست پر  سماعت اور سرگرمی سے مشاورت اور احکامات کا سلسلہ جاری رکھنے کا تو یہ مقصد ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کو بھی خاطر میں لانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔  سپریم کورٹ نے اس قانون میں ہونے والی ترامیم پر غور کرتے ہوئے نہ صرف نواز شریف کو پارٹی کی صدارت سے علیحدہ کیا ہے بلکہ چیف جسٹس یہ اعلان بھی کرچکے تھے کہ وہ پورے قانون کا جائزہ لیں گے۔ اس حوالہ سے سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد باقی ماندہ قانون آئینی تقاضوں کے مطابق قرار پائے گا۔ تاہم اس فیصلہ کے بعد بھی   جب ایک ہائی کورٹ کا جج اس پر کارروائی جاری رکھتا ہے تو پوچھنا چاہئے کہ اس ملک میں کیا  یہ اقدام بھی توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے یا اس کا اطلاق صرف وزیروں اور حکمران جماعت کے لوگوں پر کرکے ہی عدالتی رعب قائم کرنا کافی ہے۔

اس بارے میں  قانونی ماہرین زیادہ بہتر رائے دے سکتے ہیں کہ  جسٹس شوکت صدیقی نے  مذہب تبدیل کرنے کے لئے عدالتی اجازت حاصل کرنے کا جو حکم دیا ہے ، اس کی قانونی یا آئینی حیثیت کیا ہے۔ کیا کوئی جج ملک میں پارلیمنٹ کے ہوتے اس قسم کا حکم دے سکتا ہے جو شہریوں کے بنیادی  حقوق کو متاثر کرتی ہو۔  ملک کی سپریم  کورٹ تو بنیادی حقوق کی حفاظت کے بارے میں اتنی حساس ہے کہ وہ  شہریوں کی حق اور سہولت کے کسی بھی معاملہ  پر از خود نوٹس کے ذریعے اقدام کرنا ضروری سمجھتی ہے۔ تو  ہائی کورٹ کا ایک جج اس حق کو کیسے محدود کرسکتا ہے جس کی ضمانت ملک کا آئین دیتا ہے۔ اب جسٹس صدیقی نے قیام پاکستان سے لے کر  2017  کی مردم شماری تک  احمدیوں کے اعداد و شمار  سامنے لانے کا حکم دیا ہے۔ اس سے پہلے وہ ان دس ہزار لوگوں کی معلومات حاصل کرچکے ہیں جنہوں نے عقیدہ تبدیل کرتے ہوئے احمدیت قبول کی تھی۔  وہ  سرکاری محکموں  کو یہ معلومات جمع کرنے کی ہدایات بھی دے رہے ہیں کہ مذہب تبدیل کرکے احمدی ہونے والے جن چھ ہزار افراد نے پاسپورٹ حاصل کیا تھا اور ملک سے باہر چلے گئے ہیں، وہ کہاں گئے اور کیا کررہے ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ عدالت ان معلومات کو کس مقصد کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے، یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ کیا اس ملک کے باقی سب مسائل حل کرلئے گئے ہیں اور سرکاری محکموں اور عدالتوں کے پاس اب صرف اس کام کے لئے وقت بچا ہے کہ وہ  ڈیڑھ لاکھ  لوگوں پر مشتمل  اقلیت کی جاسوسی کریں اور معلومات حاصل کریں۔ اسلام کی حفاظت کے نام پر جسٹس شوکت صدیقی نے اپنی عدالت میں احمدیت اور احمدیوں کے خلاف ‘مقدس جہاد‘ کا جو سلسلہ شروع کیا ہے ، وہ اس ملک کے آئین کی عام تفہیم کی صریح خلاف ورزی اور اس معاشرہ میں ایک دوسرے کو قبول کرنے اور احترام کرنے کی دیرینہ روایت کو دفن کرنے کے مترادف ہے۔

اس ملک کی مذہبی گروہ بندیوں نے شدت پسندی کو فروغ دے کر انتشار اور مار دھاڑ کا جو ماحول پیدا کیا ہے، اب اگر عدالتیں بھی اس کا حصہ بنیں گی تو شہریوں کو انصاف کون فراہم کرے گا۔
 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...