معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

عالمی دباؤ کا مقابلہ داخلی ہم آہنگی سے کیا جائے

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 15 فروری 2018

پاکستان احتساب بیورو نے  پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ سٹیل مل اور فلیگ شپ انوسٹمنٹ  کیسز میں ضمنی ریفرنسز دائر کرتے ہوئے وزارت داخلہ سے درخواست کی ہے کہ نواز شریف کے علاوہ ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر کے  نام ای سی ایل میں شامل کئے جائیں تاکہ وہ ملک سے ’فرار‘ نہ ہو سکیں۔ اس دوران سپریم کورٹ نے گزشتہ روز آئین کی شق 62 ایف کے تحت نااہل ہونے والے سیاست دانوں کی نااہلی کی مدت کا تعین کرنے  کے مقدمہ کی سماعت مکمل کرنے کے بعد اس پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ اب سپریم کورٹ میں گزشتہ برس کے  دوران  منظور ہونے والے انتخابی ترمیمی بل کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی جارہی ہے۔  اس قانون کے تحت نواز شریف کو سپریم کورٹ کی طرف سے پاناما  کیس کے فیصلہ میں نااہل قرار دینے کے باوجود پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار کی گئی تھی۔ اپوزیشن جماعتیں اس بل کو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں رکوانے میں ناکام ہونے کے بعد سپریم کورٹ سے مدد حاصل کرنا چاہتی ہیں۔  مقدمہ کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار یہ قرار دے چکے ہیں کہ اس قانون کی آئینی حیثیت کا تعین کرتے ہوئے صرف نواز شریف کے پارٹی صدر بننے کا معاملہ پیش نظر نہیں  ہوگا بلکہ   اس پر مجموعی طور سے غور کیا جائے گا۔ ان دو مقدمات کے فیصلوں  سے یہ اندازہ ہو سکے گا کہ سیاسی معاملات میں  مداخلت کے بارے میں سپریم کورٹ کوئی متوازن راستہ تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے یا وہ اصلاح احوال  کا سارا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا کر ملک کو مسلسل بے  یقینی اور انتشار سے دوچار کرنے کے راستے پر گامزن رہے گی۔

احتساب بیورو اور احتساب عدالت میں روزانہ کی بنیاد پر نواز شریف خاندان کے حوالے سے جو اقدامات سامنے آتے ہیں ، ان کا تعلق بھی سپریم کورٹ کے رویہ سے ہے۔ پاناما کیس کے فیصلہ اور اس کے بعد متعدد مقدمات کی سماعت کے دوران  سپریم کورٹ کے ججوں نے یہ تاثر دیا ہے کہ وہ نواز شریف کے معاملہ کو حتمی انجام تک پہنچائے بغیر چین سے نہیں بیٹھے گی۔ اس بات سے قطع نظر کہ نواز شریف یا ان کے خاندان نے کس حد تک قانون شکنی کی ہے اور مالی بدعنوانی میں ملوث رہا ہے ، یہ بات بہر حال واضح ہے کہ اس وقت شریف خاندان کو جس صورت حال کا سامنا ہے، باقی سیاست دان یا دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اس طرح کے ’احتساب‘ سے محفوظ ہیں۔ پاناما پیپرز میں  صرف نواز شریف کے بچوں کی آف شورز کمپنیوں کا انکشاف نہیں ہؤا تھا بلکہ  ان دستاویزات میں سینکڑوں پاکستانی شہریوں کے خلاف آف شور کمپنیوں کے ذریعے سرمایہ منتقل کرنے کے الزامات عائد کئے گئے تھے۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ تک بھی پہنچ چکا ہے اور احتساب بیورو  کو بھی ان معاملات کے بارے میں مکمل آگاہی ہے لیکن یوں محسوس ہوتا ہے یا تو  سپریم کورٹ سمیت احتساب کرنے والے سب اداروں کو  صرف نواز شریف اور ان کے خاندان کو سیاسی طور سے ختم کرنے میں دلچسپی ہے یابدعنوانی کا الزام صرف اس خاندان پر ہی عائد ہؤا ہے اور باقی سب لوگ دودھ کے دھلے ہیں۔

یہ  بات تو صرف سیاست میں سرگرم ہونے والے لوگوں کے حوالے سے ہی کی جارہی ہے لیکن اس ملک کی افواج اور دیگر شعبوں سے وابستہ رہنے والے متعدد لوگوں پر بھی بد عنوانی کے گھناؤنے الزامات سامنے آتے رہتے ہیں لیکن چند روز تک ان کا ذکر خبروں میں رہنے کے بعد معاملہ کو فراموش کردیاجاتا ہے۔    تاہم شریف خاندان کے خلاف اہم اداروں کے رویہ کے باعث نواز شریف اور ان کی بیٹی کو خود کو  بے گناہ ثابت کئے بغیر ’مظلوم‘ ثابت کرنے کا نادر موقع میسر آ رہا ہے۔ اگرچہ نواز شریف کے ان  سیاسی جملوں  کا کہ ’مجھے کیوں نکالا‘ اور یہ کہ ’پاناما کی بجائے اقامہ کو بنیاد بنا کر نکالا گیا‘ ۔۔۔ کالم نگاروں اور تبصرہ کرنے والوں نے خوب مضحکہ اڑایا ہے لیکن  گزشتہ چند ماہ کے دوران یکے بعد دیگرے مسلم لیگ (ن) کو جو کامیابی نصیب ہوئی ہے ، اس سے یہ بات تو بہر حال واضح ہورہی ہے کہ    ملک کا عام ووٹر نواز شریف کی بات سن بھی رہا ہے اور ان کے کہنے پر ووٹ بھی دے رہا ہے۔ یہ خبریں اور اندازے بھی سامنے آرہے ہیں کہ نواز شریف کا ووٹ بینک متاثر نہیں ہؤا ہے بلکہ 2013 کے مقابلے میں اس میں اضافہ ہؤا ہے۔

اس بات کا فیصلہ تو اس سال کے دوران منتخب ہونے والے عام انتخابات میں ہی ہوگا کہ کس پارٹی میں کتنا دم ہے اور عوام کسے اپنے ووٹ سے نواز کر نمائیندگی کا حق دیتے ہیں لیکن ضمنی انتخابات میں کامیابیوں اور سپریم کورٹ کی طرف سے مسلسل کسی حد تک جارحانہ اور سیاسی طرز عمل کی وجہ سے نواز شریف کا یہ بیانیہ مستحکم اور مقبول ہو رہا ہے کہ انہیں  عدالتوں کے ذریعے انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ نواز شریف کے پاس اس مؤقف  کی تائد میں کوئی دلیل نہیں ہے نہ  ہی وہ ایسے شواہد سامنے لاسکتے ہیں جس سے ثابت ہو سکے کہ ملک کی عدالتیں کسی عناد کی بنا پر یا فوجی اداروں کے اشارے پر سازش کے تحت ان کے خلاف فیصلے دے رہی ہیں۔ لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے اور مقدمات کے دوران کئے جانے والے تبصرے کسی حد تک نواز شریف کے مؤقف کو تقویت دینے کا سبب بن رہے ہیں۔ عدالتی کارروائیوں کے دوران جج ضرور وکیلوں سے سوال کرتے  ہوں گے اور کسی معاملہ کی تہ تک  پہنچنے کے لئے ایسے نکات اٹھائے جاتے ہوں گے جنہیں ججوں کی رائے قرار دینا یا فیصلہ کی بنیاد سمجھنا درست نہیں ہو سکتا۔ لیکن  اب الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے زمانے میں جب ایک سو سے زائد ٹاک شوز کے میزبان اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لئے ججوں کی گفتگو ہی نہیں بلکہ ہر جنبش کو نوٹ کرکے سنسی خیز معلومات فراہم کرنے میں کوشاں ہوں ،  تو  اعلیٰ عدالتوں کے ججوں پر  بھی غیر معمولی ذمہ داری عائد ہوتی  کہ ان کی گفتگو بھی اتنی ہی نپی تلی ہو جتنی کسی مقدمہ کے فیصلہ کی زبان ہوتی ہے۔ لیکن اب یہ صورت ہو چکی ہے کہ فیصلے لکھتے ہوئے بھی ادب اور ضرب الامثال  کی ایسی چاشنی شامل کی جاتی ہے کہ جب ان کی بنیاد پر خبر بنتی ہے تو وہ چٹپٹی اور مزیدار لگتی ہے۔

سپریم وکرٹ کے ججوں کو یہ سوچنا ہے کہ کیا ان کا منصب اس بات کا متحمل ہو سکتا ہے کہ وہ  خبروں میں رہنے کے لئے الفاظ کا چناؤ کریں یا اگر ان کے تبصرے خبروں میں  جگہ پا کر سنسنی اور بے یقینی پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں تو انہیں ایسے اہم اور حساس معاملات کی رپورٹنگ پر قدغن لگانی چاہئے اور صرف رجسٹرار آفس سے جاری بیان کی حد تک خبر کے لئے مواد فراہم کرنا چاہئے۔ تاہم  بعض اوقات لگتا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت  بعض جج بھی خبروں میں رہنے کو ’انجوائے ‘ کرتے ہیں۔ از خود نوٹس کے تحت چیف جسٹس ثاقب نثار نے گزشتہ دنوں ایسے کئی معاملات میں ہاتھ ڈالا ہے جن کا نتیجہ تو صفر ہی رہا ہے لیکن وہ خبروں کا خاص طور سے  حصہ بنتے رہے ہیں۔   گزشتہ ہفتہ کے دوران لاہور میں صاف پانی کی فراہمی سے متعلق  وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی طلبی، پھر ان کی طرف سے عدالت کی توصیف کے پل باندھنے پر ججوں کا ریشہ خطمی ہونا اور چیف جسٹس کا یہ خواہش ظاہر کرنا کہ مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کی صورت میں وہی آئیندہ وزیر اعظم ہوں گے ۔۔۔ ایسے معاملات ہیں جو سپریم کورٹ کو جانبدار اور سیاسی طور سے سرگرم   ادارے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ فاضل ججوں کا قطعی طور سے ایسا کوئی ارادہ نہ ہو لیکن جب ایک بات غیر محتاط انداز میں کہی جائے گی اور اسے مختلف رپورٹر اپنے اپنے طور پر سمجھ کر رپورٹ کریں گے تو اس تاثر کو مسترد کرنا بھی ممکن نہیں رہتا۔

ایک طرف ملک کے اندر حکمران جماعت کے سربراہ  اور اس کے اہل خاندان کے حوالے سے یہ صورت حال موجود ہے، دوسری طرف عوام کی طرف سے انہیں مسلسل تائد نصیب ہورہی ہے جس کا تازہ ترین ثبوت لودھراں کے انتخاب میں  تحریک انصاف کے امید وار علی ترین کے مقابلے میں مسلم لیگ کے غیر معروف امید وار کی غیر معمولی کامیابی بھی ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ مسلسل پاکستان پر دباؤ میں اضافہ کررہا ہے۔ اب یہ خبر سامنے آئی ہے کہ امریکہ اوراس کے حلیف ممالک پاکستان کا نام  دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے ملکوں کی واچ لسٹ میں شامل کروانے کے لئے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس FATF کو تجویز پیش کرنے والے ہیں۔ ذرائع کے مطابق  اس فہرست میں نام آنے کی وجہ سے پاکستان کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور عالمی سطح پر لین دین اور مالی ترسیلات پر مصارف میں غیر معمولی اضافہ ہو جائے گا۔ اس لئے پاکستان کی وزارت خزانہ کے ذرائع امریکہ اور دیگر ملکوں کو اس اقدام سے باز رکھنے کے لئے سفارتی جد و جہد کررہے ہیں۔ نئے سال کے موقع پر  صدر ٹرمپ کی پاکستان مخالف ٹویٹ اور اس کے بعد عسکری امداد معطل کرنے کے اعلانات سے بھی پاکستان کی عالمی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان حالات  میں پاکستان کی عدالتوں اور احتساب کرنے والے اداروں  سے سامنے آنے والی خبریں صرف شریف خاندان کے لیئے مشکلات کا سبب نہیں بنیں گی بلکہ ان کا ملک کی  عمومی صلاحیت پر اثر مرتب ہوگا۔ کسی بھی قانون شکن کو اپنے کئے کی سزا ملنی چاہئے لیکن یہ سزا قانون کی حدود میں رہتے ہوئے اور اس کے تقاضے پورے کرتے ہوئے دی جائے۔ ایک خاندان کی سیاسی حیثیت  کی وجہ سے اگر اسے رعایت نہیں ملنی چاہئے تو یہ بھی عدالتوں کی ذمہ داری ہے کہ ایک خاندان کو اپنی سیاسی اہمیت کی وجہ سے فیصلوں سے پہلے ہی ’چور اور بے ایمان‘ قرار  دینے کے رجحان کی حوصلہ افزائی کا سبب بھی نہ بنیں۔

سپریم کورٹ آئین کی شق 62 کے تحت نااہلی کی مدت  کا تعین کرنے کے علاوہ اس شق کی وضاحت کے لئے پارلیمنٹ سے رجوع بھی کرسکتی ہے تاکہ ایک آمر کے زمانے میں آئین کا  حصہ بننے والی ان بے مقصد شقات پر نظر ثانی اور ترمیم کا عمل شروع ہو سکے۔ اسی طرح انتخابی ترمیمی قانون کی پرکھ کرتے ہوئے سپریم کورٹ یہ طے کرسکتی ہے کہ وہ پارلیمنٹ کو ہی منتخب اور بالادست ادارہ سمجھتی ہے اور اس کے فیصلوں کو مسترد کرکے خود کو ملک کی ’سپر پارلیمنٹ‘ کے طور پر منوانے کی سعی رائیگاں سے گریز کرنا چاہتی ہے۔ تاہم اگر اس امید کے برعکس سپریم کورٹ نے عدالتی فعالیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب معاملات  خود درست کرنے کا بیڑا اٹھانے کا ارادہ ظاہر کیا تو اس کے داخلی سیاست پر تو اثرات مرتب ہونے کا امکان نہیں ہے لیکن عالمی سطح پر پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ دنیا کے ممالک کے لئے  ایسی حکومت  کی کوششوں کو مسترد کرنا سہل ہوگا جس پر اس کی اپنی عدالتیں اعتبار کرنے کے تیار نہ ہوں۔
 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...