دہشت گردوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ہر سطح پر ختم کئے جائیں

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 12 فروری 2018

صدر پاکستان ممنون حسین نے اتوار کو ایک آرڈی ننس کے ذریعے ان تمام  تنظیموں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے  جنہیں اقوام متحدہ  نے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کررکھا ہے۔  حکومت کا یہ اقدام اگرچہ درست سمت میں مناسب قدم ہے لیکن صرف قانون بنانے اور اعلان کرنے سے پاکستان کو عالمی سطح پر درپیش مشکلات کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔  بلکہ پاکستان میں بھی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے حوالے سے جو صورت حال موجود ہے ، اس کا خاتمہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ حکومت کے اقدامات سے یہ تاثر نہ ملے کہ امریکہ اور عالمی دباؤ کی وجہ سے پاکستان کچھ اقدامات کرنے پر مجبور ہؤا ہے۔  حکومت اور عسکری ذرائع  گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشت گردی کی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے  عظیم جانی اور مالی نقصان کا تذکرہ  کرنا نہیں بھولتے اور ان اعداد و شمار کو  یہ واضح کرنے کے لئے پیش کیا جاتا ہے کہ پاکستان نے نہ صرف اس جنگ میں بہت نقصان اٹھایا ہے بلکہ وہ واحد ملک ہے جو دہشت گردوں کے خلاف جنگ جیت بھی رہا ہے۔ تاہم پاکستان کا یہ بیانیہ چونکہ بہت سادہ ہے اور  حقیقت حال کی جزوی تصویر پیش کرتا ہے اس لئے اسے نہ تو امریکہ قبول کرتا ہے اور نہ ہی ہمارے ہمسایہ ممالک بھارت اور افغانستان تسلیم کرتے ہیں۔ پاکستان نے اس حوالے سے جو پالیسی اختیار کی ہے وہ ایک طرف دنیا کے ساتھ مراسم میں دراڑ ڈالنے کا سبب بنتی رہی ہے تو دوسری طرف  داخلی سطح پر انتشار، بد امنی، انتہا پسندی اور دہشت گردی کو ختم نہیں کیا جاسکا ہے۔ تاہم اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے ساتھ ہر سطح پر اپنے تعلقات کو ختم کرے اور سفارتی اور داخلی امن و امان کے حوالے سے حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے۔

دہشت گردی اور انتہا پسندی کے حوالے سے حکمت عملی کو پاک امریکہ یا پاک بھارت تعلقات کے تناظر میں دیکھنے کی بجائے اس حوالے سے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بعض عسکری گروہوں کی درپردہ سرپرستی سے پاکستان کی عالمی شہرت کے علاوہ ملک کے حالات  میں کس قدر خرابی پیدا  ہوئی ہے ۔ اگرچہ یہ بات درست ہے کہ چند برس قبل  دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب اور اس کے بعد آپریشن رد الفساد کے ذریعے دہشت گرد گروہوں کے خلاف  مؤثر کارروائی کی گئی ہے اور قبائیلی علاقوں کو کسی حد تک کلیئر کرواکے وہاں امن و امان بحال کیا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ملک میں وقفے وقفے سے دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ اس لئے یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ فوجی دستے جب کلیئر کروائے گئے قبائیلی علاقوں سے واپس بلائے جائیں گے تو وہاں امن و امان کی صورت حال کیسی ہوگی۔

پاکستان کے حکمران حلقوں کی جانب سے سست روی یا بعض صورتوں میں دوہری  پالیسی اختیار کرنے کی وجہ سے ملک میں مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گرد گروہوں کے ہمدردوں کی قوت اور اثر و رسوخ میں کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔  آپریشن ضرب عضب شروع کرنے کے بعد سے پاکستان مسلسل یہ کہتا رہا ہے کہ اب اچھے اور برے طالبان میں تخصیص ختم کردی گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بالواسطہ طور سے یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ اس سے پہلے پاکستان بعض عسکری عناصر کو دوست کا درجہ دیتے ہوئے صرف ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کرتا رہا ہے جو مملکت  کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے کا اعلان کرتے تھے۔ ان گروہوں سے راہ و رسم قائم رکھنے میں کوئی ہرج محسوس نہیں کیا جاتا تھا جو پاکستان میں تو کسی مسلح حملے کا سبب نہ بنتے ہیوں لیکن ہمسایہ ملکوں میں پاکستان کے ’مفادات‘ کے تحفظ کے لئے مفید ثابت ہو سکتے ہوں۔  اس پالیسی کے تحت پاکستان نے ہو سکتا  ہےدشمن کو چوکنا اور محدود رکھنے کے لئے   ان عناصر کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے  وقتی طور پر کچھ  فائدہ حاصل کیا ہو ۔ لیکن پاکستان  یہ سمجھنے میں بہت دیر کرتا رہا ہے کہ  عالمی سطح پر اور اس علاقے میں حالات تبدیل ہونے کے بعد عسکری گروہوں کے ذریعے پراکسی وار کا طریقہ اب پرانا ہو چکا ہے اور اس کے ملک کے وسیع تر مفادات پر منفی اور مہلک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان  کو عالمی سطح پر قابل اعتبار ملک کے طور پر تسلیم  نہیں کیا جاتا۔

تاہم اس دو رخی اور سست رو حکمت عملی کا سب سے زیادہ نقصان ملک  کو داخلی سطح پر انتشار، بد امنی اور بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی  کی صورت میں اٹھانا پڑا ہے۔ اب اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہو نا چاہئے کہ دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ کے لئے کسی بھی معاشرہ کو بقائے باہمی اور تحمل و بردباری کے مزاج کو فروغ دینا لازم ہے۔  مذہب اور عقیدہ  کی بنیاد پر انتہا پسندی اور نفرت  کو فروغ ملنے کی صورت میں دہشت گرد عناصر کے لئے زمین ہموار کرنا، ہرکارے بھرتی کرنا اور لوگوں کو  تشدد کا نشانہ بنانا آسان ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ شدت پسندی کا مزاج  کسی بھی معاشرہ کے بعض نوجوانوں کو  تخریب کاری اور مسلح حملوں کو ہتھکنڈے کے لئے استعمال کرنے والے گروہوں کا آلہ کار بننے پر آمادہ کرنے کا سبب بھی بنتا ہے۔ پاکستان نے بد قسمتی سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کرتے ہوئے اس پہلو پر غور کرنے اور اس کے لئے حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ خرابی بسیار کے بعد دسمبر 2014 میں پشاور آرمی پبلک سکول پر حملہ کے بعد بالآخر قومی ایکشن پلان تیار  کیا گیا تھا۔  لیکن فوجی عدالتوں کے ذریعے چند سو لوگوں کو پھانسی دینے کے علاوہ   اس سے کوئی بڑا مقصد حاصل نہیں کیا جاسکا۔ یہ بات قبول کرنے سے انکار کیا جارہا ہے کہ سخت سزائیں صرف اس معاشرہ میں جرم روکنے کا سبب بن سکتی ہیں جو اپنے شہریوں کو ایک دوسرے کے لئے قبولیت کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے راہ ہموار کرچکا ہو۔ لیکن  جس معاشرہ  میں معمولی اختلاف کی بنیاد پر کفر کے فتوے عائد کرنے کا رواج ہو اور  لوگوں کے مشتعل ہجوم نہتے افراد کو ہلاک کرنے کے لئے ذہنی اور فکری طور پر تیا رکئے جارہے ہوں ، وہاں  پھانسی یا اس قسم کی دوسری سزائیں غیر مؤثر ہو کر رہ جاتی ہیں۔

اسی لئے تعلیمی نصاب، سماجی اور مذہبی رہنمأؤں کے طرز عمل میں تبدیلی اور سیاسی سطح پر معاشرہ میں  مثبت اور صحت مند مزاج کو فروغ دینے کے لئے کام کرنے کی ضرورت دو چند ہو جاتی ہے۔   پاکستان میں حال ہی میں گزشتہ برس مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں بے دردی سے قتل کئے جانے والے مشال خان کے قاتلوں کو سزاؤں کا اعلان ہونے کے بعد مقامی سطح پر مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے    شدید انتہاپسندانہ اور غیر قانونی طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اسے کسی سطح پر چیلنج کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ اسی طرح ساری زندگی انسانی حقوق اور کمزور طبقوں کے حقوق کے لئے جد و جہد کرنے والی عاصمہ جہانگیر کے انتقال کے بعد ایک طبقہ کی طرف سے ان کے خلاف زہر آلود پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔ ان دونوں واقعات سے معاشرہ میں انتہا پسندی اور عدم برداشت کی مکروہ صورت حال سامنے آتی ہے۔ اس صورت حال کو اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل تنظیموں پر کئی برس گزرنے کے بعد پابندی لگانے سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ جس طرح اس مزاج کو حکومت کی سرپرستی میں  ڈیڑھ ہزار سے زائد علما کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف فتویٰ سے تبدیل کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس کے لئے سب سے پہلے حکومت کے تمام حصوں کو انتہا پسندی اور مذہب کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے والے سب عناصر کے خلاف اپنا رویہ بدلنے کی ضرورت ہوگی۔

اتوار کو جاری ہونے والے صدارتی آرڈی ننس سے جو تنظیمیں متاثر ہوں گی ان میں حافظ سعید کی نگرانی میں چلنے والی فلاحی اور مذہبی تنظیمیں بھی شامل ہیں۔ حافظ سعید پر  2008 میں ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کا الزام  ہے لیکن انہیں پاکستان میں سرکاری سرپرستی حاصل رہی ہے اور وہ قومی  سیاسی امور میں کھل کر اپنے مؤقف کا اظہار کرتے رہے ہیں۔  دس برس بعد اگر اب حافظ سعید سے متعلق تنظیموں کو قومی مفاد کے خلاف   سمجھنے کا اعلان کیا جارہا ہے تو گزشتہ دہائی کے دوران ان کے بارے میں سرکاری پالیسی کو کیا نام دیا جائے گا۔ پاکستان پر دہشت گردوں کی سرپرستی کے الزامات  کے بارے میں امریکہ یا بھارت سے استفسار کرنے سے پہلے خود اپنی  پالیسی اور طرز عمل پر غور کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اسی لئے یہ بات بے حد اہم ہے کہ اقوام متحدہ کی تجویز کردہ دہشت گردہ تنظیموں کو کالعدم قرار دینے پر اکتفا کرنے کی بجائے ماضی کی غلطیوں کا   تدارک کرنے کے لئے مؤثر  اور عملی اقدامات کئے جائیں ۔ اس سوال کا جواب تلاش کیا جائے کہ ایک مشکوک فلاحی تنظیم  ہر آفت کے بعد کیوں کر موقع پر پہنچ کر سہولتیں فراہم کرنے کے قابل تھی اور اسے ایک وسیع انتظامی ڈھانچہ قائم کرنے کے لئے وسائل کیوں اور کیسے حاصل ہوتے رہے ہیں۔ بہت دیر ہوجانے کے باوجود اگر اب بھی راست اقدام کئے جائیں تو قومی مفادات کو پہنچنے والے بہت سے نقصان کا ازالہ کیا جاسکتا ہے۔

اس میں سب سے اہم بھارت اور افغانستان کے ساتھ مراسم بحال کرنے کا معاملہ ہے۔ بھارت کی انتہا پسند مودی سرکار کی پاکستان دشمن حمکت عملی کے خلاف بھارت میں بھی سیاسی آوازیں بلند ہو رہی  ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ایک ٹویٹ پیغام میں  واضح کیا ہے کہ’ کشمیر میں خوں ریزی  روکنے کے لئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنا بے حد ضروری ہے کیوں کہ جنگ مسائل حل  کرنے کے لئے آپشن کے طور پر موجود نہیں  ہے‘ ۔ تاہم پاکستان کو بھارت کے اندر مذاکرات کے لئے  اٹھنے والی آوازوں کو اعتبار بخشنے کے لئے  عملی اقدامات کے ذریعے ماحول کو تبدیل کرنا پڑے گا۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...