چوہدری نثار کا سیاسی سرپرست کون ہے!

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 10 فروری 2018

سابق وزیر داخلہ اور مسلم لیگ (ن) کے ناراض لیڈر چوہدری نثار علی خان نے آج ٹیکسلا میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سیاسی لاوارث  نہیں ہیں کہ پارٹی  لیڈروں کے بچوں کی تابعداری کریں اور انہیں ’ یس سر اور یس میڈم ‘ کہتے پھریں۔ البتہ وہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی قیادت میں کام کرنے کے لئے تیار ہیں۔ جب اخبار نویسوں نے اصرار کیا تو چوہدری نثار نے واضح طور سے کہا کہ  وہ مریم نواز کو لیڈر ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس سے پہلے وہ مریم کو ناتجربہ کار ہونے کی وجہ سے ناقابل قبول قرار دے چکے ہیں۔  مریم نواز  کے ساتھ چوہدری نثار کا معاملہ تو  صحافیوں کے پے در پے سوالات کی وجہ سے زیر بحث آیا  اور اخبارات کی سرخیوں  کی زینت بھی بنا کیوں کہ جوں جوں نواز شریف کی گرفت پارٹی پر مستحکم دکھائی دینے لگی ہے، توں توں یہ بات بھی واضح ہو رہی ہے کہ  مسلم لیگ (ن) میں مریم نواز کی پوزیشن مستحکم ہوگی۔ اگرچہ ابھی اس راستے سے بہت سے پتھر چننا باقی ہیں اور ملک کی سیاست  میں نواز شریف یا مریم نواز کو سرخرور ہونے کے لئے ابھی کئی مراحل سے  گزرنا پڑے گا۔ لیکن عوام میں اپنی مقبولیت برقرار رکھ کر اور پارٹی کو ٹوٹ پھوٹ سے بچا کر نواز شریف نے ہر سطح پر اپنے مخالفین کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ وہ بدعنوانی کے مقدمات اور  نااہلی کے فیصلہ کے باوجود ملک کی سیاست میں اہمیت رکھتے ہیں اور مستقبل قریب میں اس ملک میں ہونے والے فیصلوں میں ان کو نظر انداز نہیں  کیا جاسکتا۔  اس تناظر میں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ چوہدری نثار علی خان کو آج پریس کانفرنس کے ذریعے اصلاح احوال کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔

گو کہ اس پریس کانفرنس کے حوالے سے مریم نواز کے بارے میں چوہدری نثار علی خان کے رویہ کو ہی نمایاں خبر کے طور پر سامنے لایا گیا ہے لیکن یہ قیاس کرنا مشکل ہے کہ چوہدری نثار علی خان جیسے گھاک سیاست دان نے صرف مریم نواز سے اپنی ناراضگی یا ناپسندیدگی کا اظہار کرنے کے لئےاخباری نمائیندوں کو جمع کیا تھا۔ وہ اس پریس کانفرنس کے ذریعے پارٹی قیادت کو کوئی اور پیغام دینا چاہتے تھے لیکن مریم کے سوال پر صحافیوں کی تکرار نے  اصل پیغام کو شہ سرخیوں سے  دور کردیا۔  یہ جاننے سے پہلے کہ وہ پیغام کیا ہو سکتا ہے یہ بات کہنے کی ضروت ہے کہ کسی بھی سیاسی پارٹی میں  موروثی سیاست غیر موزوں اور ناقابل قبول طرز عمل ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح ہو نا چاہئے کہ اگر کسی لیڈر کا کوئی بچہ اپنی صلاحیتوں اور سیاست میں فطری دلچسپی کی وجہ سے پارٹی یا قومی منظر نامہ پر اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے یکسر مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ اس   حوالے سے چوہدری نثار علی خان  اگرچہ  ’بچوں کے ماتحت‘ کام کرنے سے انکار کرتے ہوئے مریم کی قیادت کو مسترد کر رہے تھے لیکن اس عمل میں ان کا اپنا رویہ بچگانہ، غیر سیاسی اور آفاقی حقائق کے برعکس تھا۔  اگر سیاسی پارٹیوں کو خاندان کی جاگیر سمجھنا اور بنانا پاکستانی سیاست کا خاصہ ہے تو یہ بھی پاکستانی سیاست کا ہی کمال ہے کہ یہاں کسی شخص کی بلوغت کا اندازہ اس کے خیالات، مہم جوئی اور اصولوں سے لگانے کی بجائے اس بات سے کیا جاتا ہے کہ اس کی عمر کیا ہے اور وہ کس کی اولاد ہے۔ اسی لئے بلاول زرداری بھٹو بہت سے لوگوں کے لئے قابل قبول نہیں ہیں اور بعض  سینئنر سیاستدان جب ان کی باتوں  یا سیاسی ہنر مندی کا جواب دینے  میں ناکام رہتے ہیں تو  انہیں ’بچہ‘  ہونے کا طعنہ دینے  کی کوشش کرتے ہیں۔ چوہدری نثار جیسے ناقدین یہی سلوک مریم نواز کے ساتھ بھی کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ وہ اپنی بیٹی کو بیاہ چکی ہیں اور ایک عاقل و بالغ خاتون ہیں۔   دنیا کے جن ملکوں میں بھی جمہوریت پھل پھول رہی ہے ، وہاں سیاسی عمل میں نوجوانوں کی شرکت کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ ان معاشروں میں نوجوانوں کی بجائے ان بوڑھوں کو سیاسی عمل میں رکاوٹ سمجھا جاتا ہے جو پرانی سوچ کے ساتھ بعض اوقات اہم مسائل کو سمجھنے اور ان کا حل تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔    یہ اعزاز صرف پاکستان جیسے  ملکوں کو ہی حاصل ہے کہ یہاں سیاست میں ریٹائیر ہونے کی کوئی عمر مقرر نہیں ہے۔ اور اس بات پر شرمندگی محسوس کرنے کی بجائے آگے بڑھنے والی نوجوان نسل کو ناتجربہ کار بچہ قرار دے کر مسترد کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کسی بھی فنکشنل جہوری نظام میں یہ رویہ مایوس کن  ہی کہا جاسکتا ہے۔

چوہدری نثار علی خان کو آج پریس کانفرنس کے دوران خود بھی اندازہ ہو گیا ہوگا کہ انہوں نے جس مقصد کے لئے صحافیوں کو اکٹھا کیا تھا، وہ مریم نواز کے ساتھ ان کے مراسم کے موضوع پر ہونے والے سوالات کی گونج میں گم ہو رہا ہے، اسی لئے انہوں نے  پریس کانفرنس کے شرکا سے کہا کہ آئیندہ  پریس کانفرنس سے پہلے وہ دروازے پر لکھ کر لگادیں گے کہ ’مریم کے بارے   میں بات کرنا منع ہے‘۔ تاہم  بچوں کی قیادت  کو ماننے سے انکار کرنے کے بعد جو  دو اہم باتیں اس پریس کانفرنس میں کہی گئیں  ان میں ایک تو عدلیہ اور ججوں پر پارٹی لیڈروں کی نکتہ چینی پر اختلاف کا اظہار تھا۔ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے ساتھ تصادم پارٹی کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم یہ بات بھی اتنی نئی اور اہم نہیں ہو سکتی کہ اس کے لئے چوہدری صاحب کو خاص طور سے پریس کانفرنس بلانا پڑتی۔ یہ بات وہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں اور نواز شریف کے جارحانہ رویہ پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار بھی کرچکے ہیں۔ اس لئے اس موضوع کو بھی پریس کانفرنس کا پیٹ بھرنے کی کارروائی ہی کہا جاسکتا ہے۔ تاہم میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے میڈیا کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے  جس طرح ڈان لیکس کے مسئلہ کو پھر سے زندہ کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر پارٹی  نے اس معاملہ پر مناسب غور کرنے کا اہتمام نہ کیا تو وہ  ڈان لیکس پر تیار کی جانے والی تحقیقاتی رپورٹ کو منظر عام پر لے آئیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ  مسلم لیگ (ن) کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے تاکہ وہ اس معاملہ پر پارٹی قیادت کو بریفنگ دے سکیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ ایک سنگین  معاملہ ہے جس کا صرف  ایک پارٹی سے تعلق نہیں ہے۔

سابق وزیر داخلہ کی یہ دھمکی حیران کن حد  تک چونکا دینے والی ہے۔ سب سے پہلے تو چوہدری نثار علی خان کو یہ بتانا چاہئے کہ ڈان لیکس  میں ایسا کون سا دھماکہ خیز مواد چھپا تھا جس سے صرف مسلم لیگ (ن) نہیں بلکہ پوری قوم کے مفادات کو دھچکہ پہنچنے کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔ یہ معاملہ جنرل (ر) راحیل شریف کے دور میں نواز شریف کی حکومت کو دباؤ میں لانے کے لئے  سامنے لایا گیا تھا اور نئے آرمی چیف کے عہدہ سنبھالنے اور پھر نواز شریف کی نااہلی کے بعد یہ ایک قصہ پارینہ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا لیکن چوہدری نثار علی خان اسے  کسی ’ٹائم بم ‘ کے طور پر پیش کرکے کوئی خفتہ یا ناممکنہ سیاسی خواہش پوری کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ڈان لیکس میں وزیر اعظم ہاؤس میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس کے بارے میں رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف نے آئی ایس آئی کے سربراہ سے بعض مذہبی گروہوں کے حوالے سے واضح پالیسی اختیار کرنے کی    بات کی تھی۔ بعد میں اس پر سامنے آنے والے رد عمل اور مباحث میں اصل موضوع پر بات کرنے کی بجائے اسے یوں پیش کیا گیا  جیسے وزیر اعظم ہاؤس میں بیٹھے فوج مخالف عناصر فوج کی توہین کرنے کے لئے خفیہ اجلاسوں کی خبریں پھیلاتے ہیں۔ اس  حوالے سے دلچسپ بات تو یہ بھی ہے کہ فوج نے ایک طرف خبر کو  افسانہ قرار دیا  تو دوسری طرف  دعویٰ کیا گیا کہ وزیر اعظم ہاؤس کے خفیہ اجلاس کی خبر باہر آنے سے قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ حالانکہ اگر یہ خبر اخبار نویس نے خود ہی گھڑی تھی تو اسے وزیر اعظم ہاؤس میں جاسوس تلاش کرنے کی  کیا ضرورت تھی۔ ڈان لیکس کا معاملہ ملک میں سیاسی حکومت کی کمزوری اور پارلیمنٹ کی بے بسی کی کہانی بیان کرتا ہے۔  چوہدری نثار علی خان نے بھی اب اس معاملہ پر مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے رابطہ کا مطالبہ کیا ہے حالانکہ اگر یہ معاملہ قومی اہمیت کا ہے تو قومی اسمبلی کے رکن کے طور پر وہ اسے ایوان میں اٹھا کر اپنا مؤقف پیش کرسکتے ہیں۔

ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال، سول ملٹری تعلقات اور سیاست میں فوج کے اثر و نفوذ کے ماحول میں چوہدری نثار علی خان کی طرف سے اپنی ہی پارٹی کو بلیک میل کرنے کی یہ کوشش  بے مقصد نہیں ہوسکتی۔  اگرچہ انہوں نے یہ بات مریم نواز کی قیادت کے حوالے سے کہی ہے کہ وہ سیاسی یتیم نہیں ہیں لیکن اگر وہ یہ واضح کردیتے کہ ان کا سیاسی وارث کون ہے تو کم فہموں کو  ساری بات سمجھنے میں آسانی ہو جاتی۔ کیا  سچ یہ تو نہیں ہے کہ  وہ جس کھونٹے کے سہارے اپنی ہی پارٹی کی قیادت کو آنکھیں دکھایا کرتے تھے، وہی اب کمزور پڑ رہا ہو۔ ایسے میں  انہیں اپنی طاقت کے اصل مرکز کی نشاندہی کردینی چاہئے تھی۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...