کیا کوئی ان سے بھی بازپرس کرسکتا ہے!

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 08 فروری 2018

مشال خان قتل کیس میں  31 افراد کو مختلف النوع سزاؤں کے بعد مردان میں مختلف سیاسی اورمذہبی جماعتوں نے جمعہ کے روز احتجاج کرنے کا اعلان کیا  ہے۔  مقامی جماعت اسلامی نے اس مقدمہ میں رہا ہونے والے 26 افراد کے شاندار استقبال کا اہتمام کیا اور واضح کیا ہے کہ یہ لوگ  باعزت بری ہوچکے ہیں، اس لئے انہیں عزت و احترام دینا ضروری ہے۔ اس استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بری ہونے والے افراد میں سے ایک نے تقریر کرتے ہوئے یہ کہا   کہ  ’ توہین مذہب کرنے والے یا ختم نبوت کے خلاف بولنے والوں کا انجام مشال خان جیسا ہی ہوگا  ‘۔  کل نماز جمعہ کے بعد احتجاج کا اہتمام کرنے والوں کا بھی دعویٰ ہے کہ اس مقدمہ میں عدالت سے سزا پانے والے بے گناہ تھے اور مشال خان توہین رسالت کا مرتکب ہؤا تھا لیکن حکومت نے دباؤ کی وجہ سے اس کے خلاف عائد الزامات کو سامنے نہیں آنے دیا۔ یہ دعویٰ بھی کیا جارہا  ہے کہ زیر حراست لوگوں پر دباؤ ڈال کر ان سے  من پسند بیان لئے گئے اور انہیں ناجائز طور سے سزائیں دی گئی ہیں۔  ایک رپورٹ کے مطابق احتجاج کا اہتمام کرنے والی ایک مذہبی جماعت کے ایک لیڈر نے  مشال خان قتل کیس میں موت کی سزا پانے والے عمران کو عاشق رسولﷺ قرار دیا اور کہا کہ عدالت نے  نبی کے ایک متوالے کو سزا دی ہوگی لیکن سڑکوں پر ایسے ہزاروں عمران گھوم رہے ہیں  جو  ایسی کسی بھی حرکت پر اقدام کریں گے۔ مملکت خدادد پاکستان کے حکمرانوں، ان کا احتساب کرنے والے عادلوں اور ملک میں   دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے والی سپاہ کے سربراہوں سے صرف یہی  پوچھا جاسکتا ہے کہ کیا کوئی ان لوگوں سے بھی باز پرس کرسکتا ہے۔

قومی اور عالمی سطح پر  مشال خان کے قتل پر سراسیمگی اور حیرت کا اظہار کیا گیا تھا۔ گزشتہ سال اپریل میں جب مردان یونیورسٹی سے اس ہولناک المیہ کی ویڈیو منظر عام پر آئی تو  لوگوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی تھی۔ ملک کے سب اداروں نے اس قتل ناحق  کی مذمت کی اور مکمل تحقیقات کے بعد اس گھناؤنے ظلم میں شامل متعدد لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ یہ عوامی اور ملک کے اداروں کے دباؤ ہی کا نتیجہ تھا کہ انسداد دہشت گردی عدالت میں مقدمہ کی کارروائی غیر معمولی سرعت سے انجام پائی اور  بدھ کے روز اس جرم  پر فیصلہ کا اعلان کیا گیا۔ عدالت نے 57 افراد میں سے 26 کو ثبوت فراہم نہ ہونے کی بنیاد پر بری کردیا کیوں کہ عدالت کے خیال میں یہ لوگ براہ راست مشال پر حملہ کرنے والوں میں شامل نہیں تھے لیکن وہاں موجود ضرور تھے یا ویڈیو بنا رہے تھے۔ اس لئے انہیں اس جرم میں ملوث قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مشال خان کے والد اقبال لالہ نے اس عذر کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے   اور سوال کیا ہے کہ جب ویڈیو میں ان لوگوں کا جرم صاف ظاہر ہو رہاہے تو انہیں کیسے بری کیا جا سکتا ہے۔ اب جن لوگوں کو عدالت نے محض ’تماشائی ‘ قرار دے کر بری کیا تھا، ان میں سے ایک نے مردان پہنچنے پر استقبال کرنے والوں کا ہجوم دیکھ کر یہ واضح کیا ہے کہ توہین مذہب کرنے یا ختم نبوت کو متنازعہ بنانے والے کسی بھی شخص کا حشر مشال خان جیسا ہی ہوگا۔

گویا یہ شخص اور اس کی صدا پر تالیاں بجانے والے لوگ مشال قتل  کیس میں بننے والی جے آئی ٹی کی رپورٹ اور پولیس کی تفتیش اورسرکاری و عدالتی  اداروں کی اس تفہیم کو مسترد کرتے ہیں کہ مشال خان توہین مذہب کا مرتکب نہیں ہؤا تھا لیکن  بعض لوگوں نے اس سے نجات حاصل کرنے کے لئےیہ الزام عائد کرکے طالب علموں کو مشتعل کیا تھا،  جنہوں نے مشال کی فریاد  کے باوجود نہایت بے دردی سے اسے قتل کردیا۔ اب یہ اعلان کیا جارہا ہے کہ سارا نظام  غلط  کام کررہا ہے اور صرف وہ لوگ درست ہیں جو مشال پر الزام تراشی کے ذریعے یا تو قانون کے شکنجے سے اپنی جان چھڑانا چاہتے ہیں یا ملک میں   مذہب کی تفہیم کا ایک ایسا تصور مروج کرنا چاہتے ہیں جس میں  قانون  کی بالا دستی، انسان کے احترام اور نظم و ضبط نام کی کوئی شے موجود نہیں ہوگی۔ یہ لوگ  انارکی اور انتشار کی ایک ایسی صورت حال پیدا کرنا چاہتے ہیں جس میں ہر شخص شکایت کندہ بھی خود ہی ہوگا، گواہی بھی آپ ہی دے گا اور پھر منصف بن کر فیصلہ بھی صادر کرے گا اور ’قصور وار‘ کو سزا دے کر خود کو جنت کا مستحق بھی قرار دے لے گا۔ اس لئے اس ملک کے تمام ذمہ داروں کو اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ کیا انہوں نے یہ سراغ لگانے کی کوشش کی ہے کہ ایسا انتشار پیدا کرنے اور لاقانونیت  کی بنیاد پر ایسا سماج قائم کرنے کا کس کو فائیدہ ہوگا۔ جب نہ قانون کا احترام ہوگا، نہ ان کو نافذ کرنے والے اداروں کو کوئی پوچھے گا اور نہ قانون کی بالادستی کو عزیز قرار دینے والے ججوں کی ضرورت ہوگی تو پھر ایسے ملک میں کس کی حکمرانی ہوگی۔ کسی کو اس میں شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ ایسا معاشرہ ان ہی دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہوگا جن کے خلاف جنگ کرتے ہوئے اس ملک کے ستر اسی ہزار لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں۔  اور پوری دنیا جن عناصر کو انسانیت کا دشمن قرار دے کر ان کے خلاف عالمی جنگ کا حصہ بنی ہوئی ہے۔

سیاسی بیانات، عدالتی فیصلوں ، مملکت کے اعلامیے اور سفارتی دعوؤں میں پاکستان کو ایک ایسا مہذب ملک قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے جو دہشت گردی کے خلاف  جنگ میں سرخرو ہؤا ہے۔ یہ دعویٰ بھی سننے میں آتا ہے کہ پاکستان کے علاوہ کوئی ملک دہشت گردوں کو نیچا دکھانے اور کوئی قوم اتنے استقلال سے ان کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہوئی۔ سوچنا چاہئے کہ تواتر سے کئے جانے والے ایسے دعوؤں کو تسلیم کیوں نہیں کیا جاتا۔ اس کا مستک جواب آج مردان میں مشال خان کیس میں بری ہونے والوں اور ان کا استقبال کرنے  اور سزاؤں کے خلاف احتجاج کرنے والوں نے دیا ہے۔ ان لوگوں نے یہ اعلان کیا ہے کہ اگر پھر  کوئی مشال نشانے پر آیا تو اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو  13  اپریل 2017 کو عبدالولی خان یونیورسٹی کے مشال خان کے ساتھ کیا جاچکا ہے۔ یہ اعلان اخباروں میں جگہ پاتا ہے لیکن اس ملک کا کلیان کرنے کی جد و جہد کرنے والے درجنوں ٹاک شوز کے میزبانوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب  نہیں ہوتا۔ نہ ہی اس کی گونج ایوان اقتدار کی کسی چوکھٹ تک پہنچ پاتی ہے۔ یوں تو اس ملک میں  قانون کی بالادستی  کے لئے پارلیمنٹ بھی سرگرم عمل ہے اور عدالتیں بھی مستعد ہیں اور ملک کو امن کا گہوارا بنانے اور سب کے لئے مساوات  عام کرنے کے لئے ملک  کے قاضی القضاۃ ہر قسم کی مصلحت کو تج کر سر پر کفن باندھے   یوں للکار رہے ہیں کہ عام آدمی واقعی یہ سمجھنے لگا ہے کہ اب اس ملک سے  نا انصافی اور ظلم کا ختمہ ہوجائے گا۔ بعض لوگوں کے نزدیک تو ایسا چیف جسٹس میسر ہو تو ظلم کو پناہ نہیں مل سکتی۔ لیکن یہ سوال تو پوچھنا پڑے گا کہ مردان میں لوگوں کا ہجوم اور جبہ و دستار کے علمبرداروں کا گروہ کون سے قانون کی دھجیاں بکھیرنے کی باتیں کررہا ہے ۔ کیا  اس حوالے  سے ابھی ملک کا آئین اور قانون خاموش ہیں یا اس کو نافذ کرنے والے ایسے معاملات میں خاموشی اختیار کرنے میں ہی مصلحت سمجھتے ہیں۔

مشال خان قتل کیس میں دو بنیادی اصول سامنے آئے ہیں۔  ایک یہ کہ اس ملک میں کوئی بھی کسی بھی شخص  پر توہین مذہب کا الزام لگا کر اس کے ساتھ کوئی بھی سلوک کرسکتا ہے ۔ الزام لگانے والے اور قانون ہاتھ میں لینے والے محفوظ بھی رہیں گے اور انہیں ہیرو کا درجہ بھی دیا جائے گا۔ ریاست اپنی تمام تر قوت اور واضح پالیسی کے باوجود کسی ممتاز قادری کو احترام اور اعزاز کی اس مسند پر فائز ہونے سے نہیں روک سکتی  جو  نام نہاد توہین مذہب کے نام پر اشتعال پھیلانے کو اپنا  دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔ دوسری بات جو  مشال خان قتل سے پہلے سلمان تاثیرقتل میں بھی سامنے آئی تھی کہ الزام لگانے والوں پر  الزام ثابت کرنے کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی بلکہ جس کو الزام لگا کر قتل کیا جائے ، اسی کے وارثوں  کا یہ فرض بھی ہے کہ وہ ثابت کریں کہ مرنے والا   ’صاحب عقیدہ‘ تھا۔ اس کی بہت واضح مثال ممتاز قادری کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے جس میں جرم کی نوعیت پر بحث سے پہلے یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ سلمان تاثیر نے توہین مذہب نہیں کی تھی۔

ملک کی  سپریم کورٹ یا قانون نافذ کرنے والا کوئی دوسرا ادارہ  اگر مردان میں  ملک کے مروج  قانون اور اعلان شدہ اصول کو للکارنے والوں کو جوابدہ کرنے کا حوصلہ نہیں کرتا  تو وہ یہ تو  طے کرسکتے ہیں کہ اس ملک کا ہر شہری اپنے ایمان کا سرٹیفکیٹ اپنی جیب میں رکھا کرے۔ اگر ایسی سند موجود نہ ہونے کے سبب اس کے ساتھ کوئی ظلم ہو گیا تو یہ عدالت یا نظام اس کا ذمہ دار نہ ہوگا۔  مردان میں ظلم کی حمایت اور قانون کی  مذمت میں جاری تحریک کو ایک محدود علاقے میں بعض لوگوں کے غم و غصہ کا اظہار سمجھنے کی غلطی کرنے والے، اس مرض سے لاعلم ہونے کا اعلان کررہے ہیں جو اس ملک و قوم کو  کھوکھلا کرکے ختم کرنے کا سبب بن رہا ہے۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...