معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

پاکستان کی غیر واضح خارجہ پالیسی سے معاملات الجھے رہیں گے

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 19 جنوری 2018

امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں جو باتیں کی ہیں، ان سے ایک بار پھر اس بات  کی تصدیق ہوتی ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور خاص طور سے امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے حکمت عملی غیر واضح ہے ۔ اس طرح   یہ جاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاملات طے کرتے وقت پاکستان کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہتا ہے اور دنیا کے باقی ملکوں کو کیا تاثر دینا اس کا مقصود ہے۔ خارجہ پالیسی میں ابہام سے پاکستان کے وسیع تر مفادات کو زک پہنچنے کا اندیشہ ہے کیوں کہ اس طرح اس کے دوست دشمن یکساں طور سے اس الجھن کا شکار رہیں گے کہ پاکستانی حکومت کا اگلا اقدام کیا ہوگا۔ اسی طرح بعض واضح اور دو ٹوک امریکی اور عالمی مطالبات کے حوالے سے بھی پاکستان نیم دلانہ  وضاحتیں اور اقدامات کرتا ہے۔ اس کی بہت واضح مثال لشکر طیبہ اور حافظ سعید کے بارے میں پاکستان کا طرز عمل، مؤقف اور مختلف اقدامات ہیں۔ حافظ سعید کو پہلے چند ماہ تک نظر بند رکھا گیا لیکن جب لاہور ہائی کورٹ نے اس نظر بندی کے بارے میں شواہد اور قانونی جواز طلب کیا تو حکومت اس میں ناکام رہی۔ اس کے نتیجے میں حافظ سعید نہ  صرف رہا ہوگئے بلکہ وہ صدر ٹرمپ کی پاکستان مخالف حکمت عملی کے خلاف مظاہروں اور احتجاج کا حصہ بھی بننے لگے ہیں۔ دوسری طرف  امریکی وزارت خارجہ نے آج بھی حافظ سعید کو گرفتار کرکے انہیں ان کے جرائم کے مطابق سزا دلوانے کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ہیتھر نیورٹ نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ  پاکستانی وزیر اعظم کا یہ مؤقف قابل قبول نہیں ہے کہ حافظ سعید  کے خلاف پاکستانی عدالتوں میں کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا۔ اس طرح ایک ایسے شخص کے بارے میں پاکستانی وزیر اعظم کو منہ کی کھانا پڑی ہے جسے عالمی طور سے دہشت گرد قرار دیا گیا ہے اور اس کی گرفتاری کے لئے کثیر انعام مقرر ہے۔

حافظ سعید اور ان کی کالعدم جماعت لشکر طیبہ کو 2008 میں ممبئی حملوں  کا ماسٹر مائینڈ قرار دیا  جاتا ہے۔ ان حملوں میں امریکی شہری بھی ہلاک ہوئے تھے۔ امریکہ، بھارت کے ساتھ دوستی اور تعاون کے  نئے ماحول کی وجہ سے بھی پاکستان کے مقابلے میں نئی دہلی کی حمایت ضورری خیال کرتا ہے لیکن حافظ سعید کے سوال پر امریکہ کو دنیا بھر کی حمایت حاصل ہے۔ اسی کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان نے بتایا کہ انہیں اقوام متحدہ بھی دہشت گرد قرار دے چکی ہے۔ اب یہ حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے خلاف کارروائی کرے اور مناسب فورم سے ان کے جرائم کی سزا دلوائی جائے۔ اس مؤقف کو اگر امریکہ کی بھارت کے ساتھ شیفتگی اور پاکستان کی بھارت کے ساتھ دشمنی اور اختلافات سے ہٹ کر دیکھا جائے تو  یہ بات آسانی سے سمجھ آ سکتی ہے کہ اگر حافظ سعید واقعی  کسی انتہا پسندانہ کارروائیوں میں مصروف نہیں رہے اور بھارت میں کسی قسم کی دہشت گردی میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے ۔۔۔ جس کا ڈھنڈورا وہ ہر وقت پیٹتے رہتے ہیں ۔۔۔ تو عالمی ادارہ اور دنیا کیوں لشکر طیبہ اور حافظ سعید کو گناہ گار سمجھتی ہے۔ اگر پاکستانی عدالتیں عدم شواہد کی بنا پر حافظ سعید کو رہا کرتی ہیں تو حافظ سعید خود یا حکومت پاکستان وہی مؤقف عالمی اداروں اور امریکہ سمیت دیگر ملکوں سے کیوں تسلیم کروانے میں ناکام ہیں۔ اسی طرح اگر حافظ سعید صرف سوشل ورکر ہیں اور ایک پاکستانی شہری کے طور پر ان کی آزادی رائے اور سایسی اور سماجی سرگرمیوں کا تحفظ کرنا حکوت پاکستان کی ذمہ داری ہے تو پھر انہیں ’بلاجواز‘ نظر بند کیوں کیا جاتا ہے یا اب گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ان کی فلاہی اور سیاسی تنظیموں کے خلاف بالواسطہ کارروائی کرنے کا اہتمام کیوں کیا گیا ہے۔ حکومت پاکستان کو درحقیقت اپنی کمزوری اور دنیا کے مؤقف کی صداقت کا علم ہے لیکن وہ غیر واضح پالیسی اور اپنی ہی صفوں میں عدم اتفاق کی وجہ سے حافظ سعید جیسے کرداروں کو سزا دلوانے میں ناکام ہے۔ ان ہی لوگوں میں لال مسجد فیم مولانا عبدالعزیز اور جیش محمد کے مولانا  مسعود اظہر بھی شامل ہیں۔  مسعود اظہر کو جنوری  2016 میں پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملہ کے بعد نظر بند کیا گیا  اور  جیش محمد کے دفاتر بھی بند کئے گئے لیکن اس کے بعد سے  جیش محمد یا  مسعود اظہر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاسکی۔ یہ بھی کسی کو معلوم نہیں ہے کہ مسعود اظہر  کہاں ہیں اور کون ان  کی حفاظت کرتا ہے۔

امریکی وزار ت خارجہ کے واضح اور دوٹوک بیان سے یہی بات سامنے آتی ہے کہ پاکستان انتہا پسند عناصر اور دہشت گردی کے خلاف جس بیانیہ کو قومی پالیسی کا حصہ بتاتا ہے وہ خود اس کے عمل سے ہی  غلط ثابت ہوتا ہے۔ یہ بات  پاکستانی حکومت اور اس کے ترجمانوں کے علاوہ دنیا بھر کو دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان نہ تو ان عناصر کو  یہ کہہ کر قبول کرتا ہے کہ وہ اس ملک کے پر امن شہری ہیں اور ان کے خلاف الزامات محض خارجہ پروپیگنڈے کا حصہ ہیں اور نہ ہی انہیں مسترد کرتے ہوئے ، ان عناصر کو سزا دلوانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس طرح پاکستان کے ترجمان جو بات تسلیم کروانا چاہ رہے ہوتے ہیں وہ اس میں بری طرح ناکام ہوتے ہیں اور امریکہ جیسی سپر پاور کے ترجمانوں کو بھارت کے ساتھ مل کر  پاکستان کے خلاف بات کرنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ اب یہ عمل اتنے تواتر سے دہرایا گیا ہے کہ پاکستان کے ہر باخبر شخص کو بھی اس کی دوعملی اور کھوکھلے پن کا پتہ چل چکا ہے۔ پھر یہ کیسے باور کرلیا جاتا ہے کہ بھارت جیسا دشمن، امریکہ جیسی سپر پاور اور دیگر دوست ممالک  نقائص سے بھرپور پاکستانی مؤقف کو درست تسلیم کرلیں گے۔ اس مشکل سے نکلنے کا واحد حل یہی ہے  کہ  اپنے بیانیہ  کے تضادات کو دور کیا جائے اور جو عناصر مسلسل پاکستان کے لئے سفارتی بوجھ بنے ہوئے ہیں انہیں ’اثاثہ‘ سمجھنے کی غلطی نہ کی جائے۔ اس دوہری حکمت عملی سے ایک طرف پاکستان دنیا بھر میں ناقابل اعتبار ہو چکا ہے تو دوسری طرف انتہا پسندی اور مذہب کو سیاسی مقاصد  کے لئے استعمال کرنے والے عناصر کی حوصلہ افزائی سے ملک میں اندرونی طور پر مسلسل انتہا پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی انتہا پسندی فرقہ وارانہ منافرت ، قتل و غارت اور دہشت گردی کا سبب بھی بنتی ہے۔ پاکستانی فوج  دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بلاشبہ بے شمار قربانیاں دے چکی ہے لیکن اگر ان عوامل سے آنکھیں بند رکھنے کا طرز عمل ترک نہیں کیا جائے گا جو ملک میں شدت پسندی کے فروغ کا سبب بنے ہیں تو دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی ادھوری رہے گی اور عالمی سطح پر اسے وہ  پزیرائی بھی نہیں مل سکے گی جس کا مطالبہ پاک فوج کے سربراہ سے لے کر وزیر اعظم تک کرتے رہتے ہیں۔ ملک سے انتہا پسندی بے بنیاد مؤقف پر دلائل دینے یا دہشت گردی کے خلاف فتوے کو قومی بیانیہ قرار دینے سے ختم نہیں ہو سکتی۔ اس کے لئے ہمارے  دعوے اورعمل کا تضاد دور کرنا ضروری ہے۔

اسی تضاد کا ایک مظاہرہ  امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری کے  تازہ انٹرویو میں دکھائی دیتا ہے۔ بی بی سی کو دیئے گئے اس انٹرویو میں پاکستان کے سینئر ترین سفارت کار نے امریکہ کے ساتھ اینٹیلی جنس سمیت ہر قسم کا تعاون جاری رکھنے کی بات کی ہے۔ جبکہ ملک کے وزیر دفاع  خرم دستگیر خان  اپنے سرکاری  ٹویٹر اکاؤنٹ سے یہ اعلان کرچکے ہیں کہ پاکستان نے امریکہ کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ روک دیا ہے۔ اسی طرح انٹرویو کے دوران ایک طرف  اعزاز چوہدری پاکستان کا یہ   مؤقف دہراتے ہیں کہ پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کے کوئی ٹھکانے نہیں ہیں تو اسی سانس میں وہ افغان طالبان کی واپسی کے پاکستانی مؤقف کی دلیل کے لئے یہ بھی کہتے ہیں کہ حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے افغان پناہ گزینوں میں رابطے اور رشتہ داریاں ہیں جس کی وجہ سے انہیں دہشت گرد بھرتی کرنے اور انتہا پسندی پھیلانے کا موقع ملتا ہے۔ اسی انٹرویو میں پاکستانی سفارت کار یہ بھی کہتے ہیں  کہ ’ ہم تو خود حقانی نیٹ ورک اور طالبان سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ افغانستان واپس جا کر وہاں کے سیاسی دھارے میں شامل ہو جائیں‘۔ اگر ان عناصر کو پاکستان قبول نہیں کرتا  اور ان کے تمام ٹھکانے تباہ کرچکا ہے تو اس اعتراف کا کیا مقصد ہے کہ ہم بھی حقانی نیٹ ورک اور طالبان سے نجات چاہتے ہیں۔ یہ تو امریکی مؤقف کی تائد کرنے کے مترادف ہے۔

پاکستان کی حکومت جب تک  دہشت گردی کے حوالے سے واضح مؤقف  کے علاوہ واضح طرز عمل اختیار کرنے میں ناکام رہے گی، اس وقت تک امریکہ کے ساتھ تعلقات بھی مشکلات کا شکار رہیں گے بلکہ آنے والے دنوں میں چین کے ساتھ بھی ایسی ہی دشواریاں سامنے آسکتی ہیں۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...