سفارت اور سیاست کے محاذ یکساں طور سے گرم ہیں

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 15 جنوری 2018

امریکہ کی طرف سے پاکستان پر تابڑ توڑ  حملوں کے بعد اب لگتا ہے کہ کسی نہ کسی سطح پر دونوں ملکوں کے تعلقات میں تال میل پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یکم جنوری کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے خلاف اچانک ٹویٹ پیغام میں جس پروپیگنڈا مہم کا آغاز کیا تھا ، اس کے بعد اقوا م متحدہ میں امریکی مندوب، وزیر دفاع اور سی آئی کے سربراہ نے ٹرمپ کی کہی ہوئی باتوں کو آگے بڑھایا اور یہ واضح کیا کہ پاکستان مسلسل امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کرتا رہا ہے۔ لیکن موجود ہ  ‘امریکہ سب سے پہلے والی‘ ٹرمپ انتظامیہ اس پاکستانی رویہ کو  قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اس دوران امریکی وزیر دفاع  جم میٹس نے میڈیا کو بتایا تھا کہ امریکہ نے پاکستان کو حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کا واضح پلان دیا ہے ۔ اب پاکستان کو اس کے مطابق عمل کرنا ہوگا تاکہ پاکستان پر اعتماد بحال ہو سکے۔ ان کی باتوں سے واضح ہوتا تھا کہ امریکہ جو جنگ اربوں ڈالر صرف کرکے اور ہزاروں فوجیوں کو مروا کر سترہ برس میں جیتنے میں ناکام رہا تھا، اب اس کی خواہش ہے کہ پاکستان اس میں براہ راست حصہ دار بن جائے تاکہ ایک طرف امریکی حکومت یہ دعویٰ کرسکے کہ وہ افغانستان میں سرخرو ہو چکی ہے تو دوسری طرف پاکستان کو ایک طویل اور  اعصاب شکن جنگ کا  حصہ بنا دیا جائے۔ پاکستان کے سیاسی اور عسکری حلقوں کی جانب سے امریکی طرز عمل کو مسترد کیا گیا تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان محاذ آرائی کی کیفیت سے لگتا تھا کہ ان کے تعلقات بریکنگ پوائنٹ تک پہنچ چکے ہیں جہاں دونوں نہ تو ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہیں اور  باہمی احترام  کا آفاقی اصول بھی نظر انداز کیا جارہا ہے۔

دو  ہفتے کی رسہ کشی کے بعد جس کے دوران پاکستان کے وزیر دفاع نے امریکہ کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلہ اور فوجی تعاون کو معطل کرنے کا اعلان کیا اور پاک فوج کے سربراہ نے یہ واضح کیا کہ امریکہ خواہ عسکری امداد فراہم نہ کرے لیکن اسے پاک فوج کی قربانیوں اور  دہشت گردی کے خلاف  جنگ میں اس کی کامیابیوں  کا اعتراف کرنا چاہئے۔ پاکستان کا رویہ سیاسی سطح پر جارحانہ اور عسکری قیادت کی سطح پر مفاہمانہ تھا ۔ اس لئے یہ کہنا مشکل تھا کہ یہ پاکستانی حکومت اور فوج کی کوئی  اسٹریجک حکمت عملی ہے یا اس سے سیاسی حکومت اور فوج کے اختلافات  کااظہار ہوتا ہے۔ اس کا اندیشہ یوں بھی محسوس ہوتا تھا کیوں کہ امریکہ کا زیادہ تر دباؤ فوج پر تھا۔ فوج کو  اپنی شرائط ماننے پر مجبور کرنے کے لئے ہی عسکری امداد معطل کی گئی اور کولیشن اسپورٹ فنڈ میں سے واجب الادا  رقوم بھی فراہم کرنے سے انکار کردیا گیا تھا حالانکہ   یہ  ادائیگی پاک فوج کی طرف سے دی جانے والی سروسز کے عوض  کی جاتی ہے۔  لیکن ٹرمپ حکومت نے اسے بھی فوج کے صبر کو آزمانے اور پاکستان کو دباؤ میں لانے کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنا ضروری سمجھا۔  دوسری طرف یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے بعد وہ خود  اپنی پارٹی پر کنٹرول بحال رکھنے کے لئے تگ و دو کررہے ہیں تاکہ ان کی سیاسی طاقت برقرار رہے اور وہ  اسی بنیاد پر طاقت ور حلقوں سے رعایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔ نواز شریف کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اگرچہ وہ پاناما کیس  میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کا نتیجہ تھا لیکن ملک میں شاید ہی کوئی شخص ایسا ہوگا جو اسے  خا لصتا عدالتی فیصلہ اور قانونی مسئلہ  سمجھتا ہو۔ عام تاثر یہی ہے کہ یہ فیصلہ بھی دراصل ملک کے مسلمہ اداروں کے بالاواسطہ اتفاق رائے کا نتیجہ تھا جس میں فوج اور عدالت اپنے اپنے طور ہر اس نتیجہ پر پہنچےتھے کہ نواز شریف ملک کے لئے بوجھ بن چکے ہیں اور ان کے مزاج اور حکمت عملی کے ساتھ مل کر آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔ اس تاثر کو قوی کرنے میں نواز شریف اور مریم نواز کے تند و تیز بیانات نے بھی اہم  کردار ادا کیا۔ لیکن دوسری طرف سیاسی ماحول میں سراسیمگی اور ہلچل پیدا کرکے اداروں کی طرف سے بھی اس خیال کو قوی کیا گیا کہ ان کے لئے نواز شریف قابل قبول نہیں ہیں۔ اس طرح اعلان جنگ کے بغیر ملک کے طاقتور سیاسی اور دارہ جاتی حلقوں میں تصا دم کی صورت حال محسوس کی جاتی رہی ہے۔

ان حالات میں جب امریکہ نے پاکستان کو براہ راست چیلنج کیا اور اس کے نتیجہ میں سیاسی اور عسکری قیادت نے مختلف رد عمل ظاہر کیا تو یہ واضح ہونے لگا تھا کہ دونوں  امریکہ کے ساتھ تعلقات کو ملک کی سیاست میں اپنی اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اس ماحول میں ایک طرف فوج جمہوریت کا ساتھ دینے کا اعلان کرتے ہوئے  سیاسی ماحول کو گرم رکھنے میں کردار ادا کرتی رہی ہے جس میں بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کے وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا اقدام بھی شامل ہے۔ اس تحریک کے نتیجہ میں نواب ثنااللہ زہری کو استعفیٰ دینا پڑا اور مسلم لیگ (ق) کے عبدالقدوس بزنجو کو وزیر اعلی کے طور پر منتخب کرلیا گیا۔ بزنجو  2013 کے انتخابات میں ساڑھے پانچ سو ووٹ لے کر صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے جو ملک بھر میں کسی بھی رکن اسمبلی کو ملنے  والے کم ترین ووٹ تھے۔ اس کے علاوہ ان کی پارٹی کو بلوچستان اسمبلی میں صرف دو نشستیں حاصل ہیں جن میں سے ایک خود عبدالقدوس کے پاس ہے۔ اس کے باوجود وہ بھاری اکثریت سے وزیر اعلیٰ بن چکے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے یہ کڑوی گولی  سینیٹ کے انتخابات کو بچانے کے لئے نگلی ہے اور نئے وزیر اعلیٰ کو کامیاب کروانے والوں نے  اس چال کے ذریعے یہ واضح کیا ہے کہ   اگر کوئی کرتب دکھانے پر آئے تو کسی وقت بھی کچھ بھی ظہور پذیر ہوسکتا ہے۔ طاہرالقادری کی طرف سے شروع ہونے والا احتجاج بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے جس  کے ذریعے  مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف  کو یہ پیغام دیا جائے گا کہ نظام کے ساتھ چلنے کے لئے اسے قبول بھی کرنا پڑے گا۔ نواز شریف کسی حد تک اس بات کو تسلیم کرتے ہیں ۔ شاید اسی لئے  گزشتہ دنوں شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کے لئے  پارٹی کا آئیندہ  امید وار بنانے کا نیم دلانہ اعلان  کروایا گیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اپنی طرف سے  محاذ آرائی جاری رکھنے کے لئے یہ خبریں اور تبصرے بھی سامنے لائے جارہے ہیں کہ فوج بہر صورت جمہوری طاقتوں کو شکست دینے کا تہیہ کرچکی ہے۔ فوج پر اس براہ راست الزام تراشی کا صرف ایک ہی مقصد ہو سکتا ہے کہ فوج کو مسلسل دفاعی پوزیشن میں رکھا جائے۔

امریکہ کے تعلقات کے معاملہ میں بھی  مسلم لیگ (ن) کے نواز شریف کے حامی وزیروں نے ماحول میں گرمی پیدا کرکے فوج کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اس دوران امریکہ کو بھی یہ باور ہونے لگا ہے کہ پاکستان سے معاملات طے کرنے کے لئے اس کے پاس بہت زیادہ آپشنز نہیں ہیں۔ خاص طور سے اگر امریکی دباؤ کے نتیجے میں فوج کی سیاسی  قوت میں کمی واقع ہوتی ہے تو اس سے امریکی ایجنڈے کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس لئے سنٹرل کمانڈ کے کمانڈرجنرل جوزف ووٹل نے گزشتہ دنوں پاک فوج کے سربراہ کو فون کرکے پاکستانی فوج کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان بد اعتمادی اور تنازعہ کی جو کیفیت پیدا ہوئی ہے، وہ وقتی ثابت ہوگی۔ اس اس بات کو آگے بڑھانے کے لئے امریکی وزارت خارجہ میں جنوبی اور وسطی ایشیا کے امور کی نگران ڈپٹی انڈر سیکرٹری ایلیس ویلز ایک وفد کے ساتھ اسلام آباد آئی ہیں اور وزارت خارجہ کی سیکرٹری تہمینہ جنجوعہ کے ساتھ ملاقات میں انہوں نے افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان کی ضرورت اور اہمیت کا اقرار کیا ہے۔ پاکستانی سیکریٹری خارجہ نے اس موقع  پر دونوں ملکوں کے درمیان بداعتمادی اور الزام تراشی کی فضا کو ختم کرنے پر زور دیا اور کہا کہ الزام تراشی کے ماحول میں آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔ پاکستانی نمائیندوں نے گزشتہ روز بھارتی آرمی چیف جنرل بیپن راوت کی طرف سے پاکستان پر حملہ کرنے کی دھمکی اور اس کی جوہری قوت کو ’دھوکہ‘ قرار دینے کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے امریکیوں پر واضح کیا کہ  بھارت کے اس رویہ  سے برصغیر میں قیام امن کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

اس طرح سیاست اور سفارت میں ماحول گرم ہونے کے باوجود یوں لگتا ہے کہ معاملات اسٹیٹس کو کی طرف واپس آرہے ہیں ۔ ملکی سیاست کی تمام قوتیں اپنے اپنے آپشنز کو سوچ سمجھ کر استعمال کررہی ہیں اور  امریکہ کے صدر نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے بھس میں چنگاری پھینکنے کی جو کوشش کی تھی ، اب  کسی حد تک اسے ناکام بنانے کے لئے کام کا آغاز ہو گیا ہے۔  یہ واضح ہو رہا ہے  کہ  امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سےمسلم لیگ (ن) اسی صورت میں فوج کو کچھ سپیس فراہم کرے گی، اگر ملکی سیاست میں اسے سانس لینے کا موقع دیا جائے گا۔
 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...