پاک و ہند میں امن کی ضرورت ہے ، جنگ کی نہیں

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 14 جنوری 2018

بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے پاکستانی علاقے میں فوجی کارروائی کرنے اور پاکستان کی جوہری صلاحیت کو نظرانداز کرنے کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ اور غیر پیشہ وارانہ بیان دیا ہے۔ نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی کے سوال کے جواب میں جنرل راوت کا کہنا تھا کہ اگر ملک کی سیاسی حکومت فوج کو پاکستان کے اندر جا کر کارروائی کرنے کا حکم دیتی ہے تو ہم پاکستانی جوہری صلاحیت کی پرواہ نہیں کریں گے اور حکم کے مطابق کارروائی ہوگی۔ یہ بات کسی بھی پروفیشنل فوج کے بارے میں کہی جانی چاہئے کہ وہ قومی ضرورت یا حکومت کے حکم کے مطابق کارروائی کرنے کی پابند ہے لیکن اس طرح کی پیشہ وارانہ ذمہ داری کا اظہار پریس کانفرنسوں کے ذریعے کرنا اور اس کو اس خطے میں موجود جوہری ہتھیاروں کے ساتھ ملا کر یہ دعویٰ کرنا کہ بھاتی فوج اتنی   ’ طاقتور اور بہادر‘ ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کی پرواہ کئے بغیر  جنگ کرنے کا اقدام کرسکتی ہے، انتہائی سطحی اور اشتعال انگیز رویہ ہے۔ یہ بیان کسی فوجی جنرل کی بجائے کسی دوسرے درجے کے سیاسی لیڈر کا لگتا ہے جو غیر تعلیم یافتہ اور جذباتی لوگوں کو گمراہ کرنے اور اپنی بہادری کی ڈینگیں مارنے کے لئے ہمسایہ ملکوں پر حملے کرنے کی باتیں کرے۔

جب ایک بڑی  اور ایک فنکشنل جمہوری ملک کی فوج کے سربراہ ایسی بیان بازی کرنے کو کوشش کرتے ہیں تو اس کا اس کے سوا کوئی مطلب نہیں ہو سکتا کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے تمام اداروں کو اپنے  سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے استعمال کرنے کا عزم کیا ہے اور ایسے لوگوں کو  ان اداروں میں نامزد کیا جارہا ہے جو ان کی سیاسی ضرورتوں کے مطابق بیان بازی کرسکیں۔ اس ہفتے کے دوران بھارتی سپریم کورٹ کے چار سینیئر ججوں نے ایک پریس کانفرنس میں ملک کے چیف جسٹس دیپک مشرا کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ اگرچہ کسی بھی ملک کی سپریم کورٹ کے ججوں کی طرف سے اپنا مؤقف سامنے لانے کے لئے میڈیا کو استعمال کرنے کا طریقہ غلط اور افسوسناک ہو سکتا  ہے لیکن جب کسی ملک کی سیاسی قیادت ملک کے اہم ترین اور پروفیشنل اداروں کو اپنے سیاسی اہداف کے لئے استعمال کرنے کا تہیہ کرلے تو باضمیر لوگوں کے لئے اس پر احتجاج کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں رہتا۔ یوں لگتا ہے کہ جس طرح بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بی جے پی سرکار کے بعض سیاسی اہداف کو پورا کرنے کے لئے انصاف،  انتظامی عدالتی روایت اور  ملکی آئین کی خلاف ورزی میں مضائقہ نہیں سمجھتے ، اسی طرح  بھارت کی فوج کے سربراہ نے ہمسایہ ملک ہر حملہ کرنے اور نیوکلیئر   ہتھیاروں کی پرواہ نہ کرنے کے جس نام نہاد عزم کا اظہار کیا ہے، اس سے بھی یہی اندازہ ہوتا ہے کہ نریندر مودی کی سیاسی بساط پر خدمت سرانجام دینے کے جوش میں جنرل بپین راوت یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان کی تربیت اور پیشہ وارانہ کردار کا  تقاضہ ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر لفظ منہ سے نکالیں اور کوئی ایسی بات نہ کہیں جو برصغیر میں پہلے سے  تصادم اور دشمنی کی فضا میں اضافہ کرسکے۔

دنیا کی کوئی ذمہ دار فوج جنگ کو نہ تو مسائل کا حل سمجھ سکتی ہے اور نہ ہی وہ امن کی دشمن ہو سکتی ہے۔ یہ ضرور ہے کہ قومی مفادات کے حصول کے لئے بیشتر ممالک افواج کو کثیر وسائل فراہم کرتے ہیں اور بدقسمتی سے چند ممالک اپنی فوجی طاقت کو استحصال اور توسیع  پسندی کے مقصد کےلئے استعمال کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ لیکن اس قسم کے اقدامات سے سوائے بد امنی، خوں ریزی اور تباہی کے کچھ ہاتھ نہیں آیا۔ جنرل بپین راوت نے اسی پریس کانفرنس میں امریکہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے فوجی تعاون کا ذکر بھی کیا ہے۔  انہیں اپنے اس نو دریافت شدہ دوست ملک کی  دنیا کے مختلف خطوں میں کی گئی  ناکام عسکری    کارروائیوں سے سبق سیکھنا چاہئے۔ حالانکہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت کا حامل ملک ہے اور سپر پاور بھی ہے۔ بھارت اگر امریکہ کی دوستی کے نشے میں پاکستان سے دشمنی نبھانے کے لئے امریکہ کے ہتھکنڈےآزمانے کی کوشش کرے گا تو اسے خبر ہونی چاہئے کہ اس قسم کی حکمت عملی اگر امریکہ کو دنیا بھر میں ناکامیوں اور ہزیمت سے دوچار کرچکی ہے تو بھارت کا جنگ آزمائی کا شوق بھی سوائے تباہی اور اس خطہ کےعوام کے مصائب میں اضافہ کے، کوئی دوسرا مقصد حاصل نہیں کرسکتا۔

بدقسمتی سے اس وقت امریکہ جیسے ملک میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت میں ایسا لیڈر سامنے آیا ہے جو دشمن ملکوں کو تباہ کرنے اور جوہری جنگ چھیڑنے کی باتیں کرنے کو اپنی طاقت کے اظہار کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ ٹرمپ کے اسی غیر ذمہ دارانہ اور جذباتی  طرز گفتگو کا شاخسانہ ہے کہ اقوام متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے شمالی کوریا کو صفحہ ہستی سے مٹانے  کی بات کی اور ٹویٹ پیغام کے ذریعے امریکہ کی جوہری قوت کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ ’ شمالی کوریا کے لیڈر کو خبر ہو کہ میرے پاس ان سے بڑا ایٹمی بٹن ہے اور یہ کام بھی کرتا ہے‘۔ صدر ٹرمپ کے اس قسم کے سطحی بیانات  کا امریکہ  کےمیڈیا اور سیاسی  حلقوں میں  خاکہ اڑیا جاتا ہے۔ امریکہ کے قریب ترین حلیف ممالک ان کی حکمت عملی سے فاصلہ کا اظہار کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ امریکہ کے ماہرین یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ٹرمپ کی سیاسی حکمت عملی اور بچگانہ ظرز تکلم امریکہ کو دنیا بھر میں تنہا کرنے کا سبب  بن رہا ہے۔

اس کے علاوہ امریکہ کے سیاسی حلقوں میں یہ مباحث بھی سامنے آئے ہیں کہ اس قسم کے صدر کی موجودگی میں اگر ان کی طرف سے ایٹمی حملہ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے تو فوجی کمان اس پر فوری عمل نہ کرے۔ گویا فوجی کمان کی پروفیشنل صلاحیت کا اعتراف کرنے کے علاوہ یہ کہنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ایٹمی جنگ صرف ایک ملک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کی تباہی کا پیغام ہوگی۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی ملک کتنا طاقتور ہے اور اس کے پاس کتنے مؤثر ایٹمی ہتھیار ہیں۔ خدا نخواستہ ان کا جب بھی استعمال ہؤا تو اس سے پھیلنے والی تباہی کسی ایک خطے یا ملک تک محفوظ نہیں رہے گی۔ یہ ایک طرح سے  کرہ ارض پر زندگی کے خاتمہ کا آغاز ہوگا۔ اسی لئے امریکہ میں ان بیانات پر سنجیدہ سیاسی گفتگو کا آغاز ہو چکا ہے۔  اگر بھارت کے سیاست دان  اپنے عوام کو بے وقوف بنانے کی کوششوں میں اس سفاک حقیقت کو تسلیم کرنے اور بیان کرنے سے قاصر ہیں تو فوج کے پرفیشنل سربراہ کو تو اسی قسم کا گھٹیا سیاسی رویہ اختیار کرکے اس خطے  میں آباد عوام اور دنیا بھر کے لوگوں کی بے چینی میں اضافہ نہیں کرنا چاہئے۔

گزشتہ برس کا نوبل امن انعام  دنیا بھر میں ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمہ کی جد و جہد کرنے والی تنظیم ایکان   ICAN کو دیا گیا ہے۔ کیوں کہ  یہ تنظیم دنیا کو  مکمل تباہی سے بچانے کے لئے ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمہ کی مؤثر کوششیں کررہی ہے۔ بھارتی آرمی چیف کے بیان کی روشنی میں اور اس سے پہلے امریکہ اور برصغیر کے مختلدف لیڈروں کی طرف سے ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے افسوسناک بیانات سامنے آنے کے بعد اب ایکان اور دنیا میں امن کی کوششیں کرنے والے ہر شخص اور تنظیم  کو اس اشتعال انگیزی کا نوٹس لینا چاہئے۔ ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمہ سے زیادہ اس بات کی اہمیت ہے کہ دنیا کے لیڈر ان ہتھیاروں کو اثاثہ سمجھنے کی بجائے بوجھ سمجھیں اور کوئی بھی لیڈر خواہ وہ فوجی ہو یا سیاسی  ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی بات نہ کرسکے۔ اس قسم کی بیان بازی کے خلاف عالمی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ جو لوگ اپنی بڑائی بیان کرنے کے لئے  ایٹمی طاقت کا گمان کرتے ہیں ، وہی دنیا کے امن کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ ان عناصر کو  پہچاننے اور انسانیت کا دشمن قرار دینا بے حد اہم ہے۔

 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...