معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

نئی افغان جنگ میں پاکستان کو دھکیلنے کی کوشش

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 08 جنوری 2018

پاکستان کے خلاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ ٹویٹ اور اس کے بعد امریکی عہدیداروں کی طرف سے دھمکیاں اور پاکستان کی سیکورٹی امداد بند کرنے کے اقدامات کے بعد جوں جوں الزامات اور جوابی وضاحتوں کی دھند صاف ہو رہی ہے، یہ بات بھی واضح ہورہی ہے کہ امریکہ پاکستان کو ایک نئی افغان جنگ میں جھونکنا چاہتا ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ امریکہ کا اصل تنازعہ قبائیلی علاقوں میں حقانی نیٹ ورک کی موجودگی اور اس کی افغانستان میں حملے کرنے کی صلاحیت ہے اور امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان اس گروہ کے خلاف ہمدردانہ اور سرپرستی کا رویہ ختم کرے۔ پاکستان اس الزام سے انکار کرتا رہا ہے۔ تاہم اب یہ بات واضح ہورہی ہے کہ اصل مسئلہ حقانی نیٹ ورک کے ٹھکانے نہیں ہیں بلکہ گزشتہ برس اگست میں صدر ٹرمپ نئی افغان پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کو آڑے ہاتھوں لینے کی جو کوشش کی تھی ، اس کا مقصد پاکستان کو ایک نئی افغان جنگ میں ملوث کرنا ہے۔ یہ نئی حکمت عملی امریکہ کے وزیر دفاع جیمز میتھیس کی نگرانی میں تیار ہوئی ہے۔ اس کے تحت پاکستان سے کہا جارہا ہے کہ وہ افغان طالبان کے خلاف اپنے قبائیلی علاقوں میں بھرپور جنگ کا آغاز کرے اور افغانستان کی طرف سے امریکی افواج دباؤ بڑھائیں گی۔ اس طرح افغان طالبان کو عسکری لحاظ سے اتنا کمزور کردیا جائے گا کہ وہ سیاسی مفاہمت پر آمادہ ہو جائیں۔ اس حوالے سے سیکرٹری جیمز میتھیس نے گزشتہ روز واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے دوران تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان سے نمٹنے کے لئے امریکہ نے ایک حکمت عملی بنائی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو اس پر عمل درآمد کرنا چاہئے۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا پاکستان کی سول حکومت اس منصوبہ پر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جیمز میتھیس کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستانی حکومت اس منصوبہ پر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ حکمت عملی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس خواہش کے مطابق ہے کہ وہ 2020 کے انتخاب سے پہلے افغان جنگ جیتنے کا سہرا اپنے سر پر سجا کر دوسری مدت کے لئے صدر بننے کا خواب پورا کرسکیں۔ اسی خواہش کی وجہ سے امریکہ نے پاکستان کی امداد بند کرنے کا اعلان کرنے کے باوجود  کسی بھی سطح پر پاکستان کے ساتھ رابطوں کو معطل نہیں کیا اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ امداد معطل کرنے کے باوجود اس امداد کی فراہمی کے لئے وزارت خارجہ کو استثنیٰ دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔ اور جس شعبہ میں امریکی سلامتی کے لئے ضروری ہوگا ، امداد فراہم کی جائے گی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکی حکام نے پاکستان کو یہ پیغام دیا ہے کہ اگر وہ ان کے منصوبے اور حکمت عملی کے مطابق نئی افغان جنگ میں اپنی فوج جھونکنے کے لئے تیار ہوں گے تو امداد بتدریج بحال کی جائے گی اور اگر اس بارے میں مزاحمت کی گئی تو پاکستان پر دباؤ میں اضافہ کے لئے مزید ہتھکنڈے اختیار کئے جائیں گے۔

اب یہ بھی واضح ہو رہاہے کہ گزشتہ برس کے آخر میں امریکی وزیر دفاع جیمز میتھیس اور وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن یہی پیغام لے کر پاکستان آئے تھے۔ پاکستانی حکام نے اس امریکی منصوبے کو مثبت قرار دینے کے با وجود اس کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ طالبان کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑا ہے اور اسی نے اس جنگ میں کسی حد تک کامیابی بھی حاصل کی ہے۔ تاہم اب پاک افغان سرحد کے دونوں طرف سے طالبان کو عسکری لحاظ سے دباؤ میں لانے کی صورت میں اس آپریشن کی ناکامی کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ 9/11 کے بعد 2001 میں افغان طالبان کے خلاف اتحادی افواج کی پوری قوت سے کارروائی ناکام ہو چکی ہے۔ اس جنگ کا شراکت دار بننے پر پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اس لئے اس بات کا امکان موجود ہے کہ ایک نئی جنگ کی صورت میں طالبان ایک بار پھر پہاڑوں میں اپنے محفوظ علاقوں میں محصور ہو جائیں اور جوں ہی فوجی کارروائیاں ختم ہوں وہ ایک بار پھر سرکشی پر اتار آئیں ۔ تاہم اس صورت میں تمام نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑے گا اور افغان جنگ اس کی سرزمین پر منتقل ہوجائے گی۔

یہی وجہ ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر خارجہ خواجہ آصف نے حالیہ بیانات میں یہ واضح کیا ہے کہ اگر 2001 میں ملک میں جمہوری حکومت ہوتی تو وہ کبھی بھی امریکی دباؤ کو قبول کرتے ہوئے افغان جنگ میں امریکہ کا فریق نہ بنتی۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے تو گزشتہ روز ایک بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ اگر پاکستان طالبان کے خلاف جنگ کا آغاز کرتا ہے تو افغان جنگ پاکستان کی سرزمین پر منتقل ہوجائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں اس وقت امن بحال کیا جاچکا ہے۔ دہشت گرد گروہوں کو محدود کیا گیا ہے اور زندگی معمول پر واپس آرہی ہے لیکن طالبان کے ساتھ جنگ کی صورت میں ایک بار پھر پاکستان دہشت گردوں کے براہ راست نشانے پر آجائے گا۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ نے یہ تک کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اشتراک ختم ہو چکا ہے۔ صدر ٹرمپ نے جس لب و لہجہ میں پاکستان کے بارے میں بات کی ہے اور جس طرح پاکستان کی امداد معطل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، اتحادی ایک دوسرے کے ساتھ اس قسم کا رویہ اختیار نہیں کرتے۔اس انٹرویو کے علاوہ ملک کی سیاسی قیادت کی طرف سے سامنے آنے والے بیانات کو ملا کر پڑھا جائے تو یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی سیاسی حکومت امریکی منصوبے کا حصہ بننے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ جبکہ پاک فوج کی طرف سے اس قسم کا کوئی واضح اشارہ سامنے نہیں آیا ہے۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے صدر ٹرمپ کے ٹویٹ پیغامات پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کی قربانیوں اور نقصانات کا ذکر کیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے اور یہ جنگ اس نے اپنے وسائل سے لڑی ہے۔ انہوں نے معیشت کو ہونے والے کثیر مالی نقصان اور پاک فوج کی جانی قربانیوں کا حوالہ بھی دیا۔ تاہم پاک فوج کے ترجمان نے افغان طالبان کے خلاف جنگ کے منصوبہ کے حوالے سے نہ تو کوئی واضح اشارہ دیا اور نہ ہی اس بارے میں فوج کا کوئی مؤقف سامنے آیا ہے۔ جبکہ وزیر خارجہ کے بیان میں امریکی منصوبہ کے بارے میں حکومت کا واضح مؤقف سامنے آیا ہے۔

اس غیر واضح صورت حال میں یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ کیا سول حکومت اور فوجی قیادت کے درمیان اس سوال پر مکمل اتفاق رائے موجود ہے یا اس بارے میں بھی فوج کا رویہ سول حکومت کے برعکس ہے۔ ملک کی سیاسی حکومت کو اندازہ ہے کہ یہ الیکشن کا سال ہے ۔ اس موقع پر اگر ایک نئی جنگ شروع کی گئی اور ملک کی سیکورٹی کی صورت حال پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے تو اس کے لئے انتخابات جیتنا مشکل ہو جائے گا۔ اسی لئے اس کی طرف سے مزاحمت قابل فہم ہے۔ جبکہ امریکہ کی طرف سے سیکورٹی امداد بند ہونے کی وجہ سے نقصان پاک فوج کو برداشت کرنا پڑے گا۔ اس امداد کے تحت پاک فوج کو جدید ٹیکنالوجی، ہتھیار اور آلات مہیا کئے جاتے ہیں جو قبائیلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لئے اہم ہیں۔ اس کے علاوہ پاک فوج عام طور سے امریکی ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی پر انحصار کرتی رہی ہے۔ اس کے ہتھیاروں کا وسیع ذخیرہ امریکہ سے ہی آیا ہے اور انہیں قابل استعمال حالت میں رکھنے کے لئے امریکہ سے فاضل پرزوں کی فراہمی کا جاری رہنا بھی ضروری ہے۔ اگرچہ یہ ساری صورت حال غیر واضح ہے لیکن اس بات کا امکان ہے کہ فوجی قیادت کے امریکہ کے ساتھ دیرینہ اور گہرے تعلقات کی وجہ سے فوج کا مؤقف سول حکومت سے مختلف ہو ۔ اسی لئے امریکہ کی طرف سے تند و تیز بیانات اور امداد معطل کرنے کے معاملہ کو اعلیٰ سطح پر سیاسی رنگ دینے کے باوجود پاکستان نے ابھی تک نہ تو اس سوال کے تمام پہلوؤں پر بحث کا آغاز کیا ہے اور نہ ہی امریکہ کو افغان جنگ کے حوالے سے دی جانے والی سہولتوں کو بند کرنے کے بارے میں کوئی بات منہ سے نکالی گئی ہے۔

یہ اطلاعات موجود ہیں کہ پاکستان مسلسل اس بات کی کوشش کررہا ہے کہ امریکہ کو اس منصوبہ کو مؤخر کرنے اور اس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے پر آمادہ کیا جائے۔ امریکی وزیر دفاع اسی پس منظر میں یہ واضح کررہے ہیں کہ پاکستان میں نئے امریکی منصوبہ پر عملدرآمد کی صلاحیت موجود ہے۔ امریکیوں کا خیال ہے کہ پاکستان اپنی پوری فوجی قوت امریکی منصوبہ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی خواب کی تکمیل کے لئے فراہم کرے۔ اگرچہ امریکی اہلکار بھی ایسی جنگ کی ممکنہ ناکامی کو خارج از امکان نہیں سمجھتے اور یہ اقرار کرتے ہیں کہ طالبان اس جنگ سے بھی ’سرخرو‘ نکل سکتے ہیں لیکن وہ اپنے منصوبہ پر نظر ثانی کے لئے تیار نہیں ہیں کیوں کہ اس کی ناکامی کا زیادہ اثر پاکستان کو قبول کرنا پڑے گا۔ جبکہ پاکستان کی کوشش ہے کہ امریکہ کو اس منصوبہ پر عملدرآمد مؤخر کرنے پر آمادہ کیا جائے اور اس دوران طالبان کے بعض عناصر کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لئے کام کیا جائے۔ اور اس عمل میں شامل ہونے سے انکار کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو۔ یعنی پاکستانی مزید وقت حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ افغانستان کے مختلف عناصر کے ساتھ برسوں کی محنت سے استوار کئے گئے تمام راستے مسدود نہ ہو جائیں۔ جبکہ امریکیوں کو اپنے منصوبہ پر عملدرآمد کی جلدی ہے تاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی پوزیشن مضبوط ہو سکے۔

اس منصوبہ کے حوالے سے افغانستان میں بھارت کا بڑھتا ہؤا کردار بھی پاکستان کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ پاکستانی حکام سمجھتے ہیں کہ امریکہ ایک طرف پاکستان کو ایک نئی افغان جنگ میں جھونکنا چاہتا ہے لیکن دوسری طرف افغانستان میں بھارت کے لئے سہولتیں اور مواقع فراہم کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ کیا پاکستان اس امریکی منصوبہ کا حصہ بننے کے لئے بھارت کے معاملہ میں امریکہ سے کچھ رعائیتیں حاصل کرنا چاہتا ہے۔ کیوں کہ خبروں کے مطابق پاکستان نے نئی جنگ کے بارے میں امریکی منصوبے کو مسترد نہیں کیا ہے بلکہ اس کے بارے میں اپنے تحفظات ظاہر کئے ہیں۔ لیکن وزیر خارجہ کی باتوں سے لگتا ہے کہ ان کی حکومت اس منصوبے پر عمل کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ لیکن سیاسی حکومت اس حوالے سے فوج کے تعاون اور رضامندی کی محتاج ہے۔ اگر پاک فوج کی قیادت اپنے علاقائی اور وسیع تر اسٹریجک مفادات کے لئے امریکہ کے ساتھ اسی طرح اشتراک عمل ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی جس کا اشارہ خواجہ آصف دے رہے ہیں تو ایک کمزور اور مشکلات میں گھری سیاسی حکومت کس حد تک فوجی رائے کی مزاحمت کر سکتی ہے۔

ماضی میں افغانستان کے حوالے سے جنگ کا حصہ بننے کے دونوں فیصلے فوجی حکومتوں نے کئے تھے اور دونوں فیصلوں سے پاکستان کو ذبردست نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اس وقت البتہ ملک میں ایک سویلین حکومت ہے لیکن وہ ہر طرف سے سیاسی دباؤ میں ہے۔ پاکستان کی مختلف سیاسی پارٹیوں میں بھی اس معاملہ پر اتفاق رائے موجود نہیں ہے۔ ملک کا میڈیا ایک سیاسی لیڈر کی ممکنہ شادی کے سوال پر اپنی ساری صلاحیتیں صرف کرنے میں مصروف ہے۔ یہ صورت حال پاکستان کی سلامتی اور ملک کے عوام کی بہبود کے حوالے سے خوش کن نہیں ہے۔ بہتر تو یہ ہوگا کہ اس معاملہ کو قومی اسمبلی یں زیر بحث لایا جائے تاکہ امریکی منصوبہ کے تمام پہلوعوام کے سامنے آسکیں اور ان کے نمائیندے اس بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرسکیں ۔ اس طرح پارلیمنٹ کے تعاون سے امریکی دباؤ کا مقابلہ بھی کیا جاسکے گا۔ موجودہ صورت حال میں اس کے علاوہ کوئی بھی فیصلہ خواہ کتنی ہی نیک نیتی سے کیا جائے، پاکستان کے لئے مشکلات اور مصائب کا سبب بنے گا۔ یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ پاکستان اس علاقے میں امریکی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے آلہ کار نہ بنے۔ کوئی بھی نئی افغان جنگ ماضی کی دونوں جنگوں کی طرح پاکستان کے مفادات کے خلاف ہوگی۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...