16 دسمبر 1971 سے 16 دسمبر 2014 تک کا سفر رائیگاں

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 16 2017

سولہ دسمبر کو ملک دو بڑے سانحات سے گزر چکا ہے۔ پہلا سانحہ 16 دسمبر 1971 کو سقوط ڈھاکہ کی صورت میں پیش آیا تھا جبکہ دوسرا بڑا سانحہ 16 دسمبر 2014 کو آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گرد حملہ کی صورت میں رونما ہوا۔ اس حملہ میں اسکول میں زیر تعلیم معصوم بچوں کی بڑی تعداد سمیت 144 افراد شہید ہوئے۔ اسے تیسرا اور سب سے اہم سانحہ سمجھا جائے کہ قوم نے  48 برس پہلے ملک کے دولخت ہونے کے المناک واقعہ سے سبق سیکھ کر اپنا راستہ درست کرنے اور باقی ماندہ پاکستان میں ان وجوہات کو ختم کرنے کیلئے کام کرنے کا قصد نہیں کیا۔ آج بھی بلوچستان سے لے کر خیبر پختونخوا تک علاقائی خود مختاری کے سوال پر غم و غصہ پایا جاتا ہے اور آج بھی ریاستی ادارے آزادی یا خود مختاری یا زیادہ علاقائی حقوق کا مطالبہ کرنے والوں کو قومی سلامتی کےلئے خطرہ قرار دیتے ہیں اور ان کے ساتھ ’’دشمنوں‘‘ جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ سقوط ڈھاکہ کو درسی کتابوں اور مقررین کے خطابات میں المیہ ضرور قرار دیا جاتا ہے لیکن پاکستان کے حکمرانوں کے طرز عمل اور معاملات طے کرنے کے طریقے سے کبھی یہ احساس نمایاں نہیں ہوا کہ یہ ملک اپنے نصف حصہ سے محروم ہوا تھا لیکن اس کے باوجود ان غلطیوں سے سبق سیکھنے پر آمادہ نہیں ہوا جن کی وجہ سے صرف 24 برس کی مختصر مدت میں شدید جدوجہد، بے بہا امیدوں، آرزوؤں اور بے شمار قربانیوں کے بعد حاصل کئے جانے والے خطہ میں آباد لوگ ایک ساتھ رہنے پر آمادہ نہ ہو سکے۔

آج پاکستان میں اس بات پر جذباتی اور پرجوش تقریریں کرنے والے لوگ بڑی تعداد میں مل جائیں گے جو اس پر اصرار کریں گے کہ سقوط ڈھاکہ کی صورت میں پاکستان کے دولخت ہو جانے کے بعد نظریہ پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا بلکہ یہ رائے رکھنے والوں کے خیال میں 1947 میں مسلمانوں کےلئے علیحدہ ملک بنانے کی کوشش کے درپردہ جو اصول کارفرما تھا وہ بدستور اپنی جگہ پر موجود ہے۔ اس حوالے سے بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار اور اقلیتوں کے ساتھ اکثریت کے سلوک کا حوالہ دیتے ہوئے یہ فراموش کر دیا جاتا ہے کہ پاکستان میں اکثریت اپنی اقلیتوں کے ساتھ بھارت کی ہندو اکثریت سے بھی زیادہ برا سلوک کر رہی ہے۔ یہ نعرے بلند کرنے والے تو صرف یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کو دولخت کرکے بھارت نے جو سیاسی اور عسکری کامیابی حاصل کی تھی اور نظریہ پاکستان کو سمندر میں غرق کرنے کا جو دعویٰ کیا تھا ۔۔۔۔۔ اسے غلط اور بے بنیاد ثابت کیا جائے۔ اس مقصد کےلئے رد دلیل کے طور پر نظریہ پاکستان کی ایسی تشریحات سامنے لائی گئی ہیں جو شاید بانیان پاکستان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوں گی۔ انہی توجیہات و تشریحات اور غلطیوں سے سبق نہ سیکھنے کے طریقہ کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان اس گروہی تصادم کی صورتحال کا بعینہ نمونہ بن چکا ہے جو 40 کی دہائی میں متحدہ ہندوستان پیش کر رہا تھا۔ اس وقت گو کہ مسلمان لیڈروں کو مسلمان اقلیت کی محرومی اور سماجی، معاشی اور سیاسی شعبوں میں پسماندگی کا احساس تھا جس کی بنیاد پر دو قومی نظریہ و سیاست کی بنیاد رکھی گئی لیکن سماجی لحاظ سے اکثریت اور اقلیت کے ارکان ایک دوسرے سے شیر و شکر تھے اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نہیں ہوئے تھے۔ یہ سوال متنازعہ بھی رہے گا اور توجہ کا تقاضا بھی کرتا رہے گا کہ تقسیم سے پہلے سیاسی اختلافات اور علیحدگی کی جہدوجہد کے باوجود اگر ہندو اور مسلمان مل جل کر رہ رہے تھے اور ان میں بھائی چارہ اور لین دین موجود تھا تو تقسیم کے بعد یکایک ایسی کون سے قیامت برپا ہو گئی کہ بنگال سے پنجاب تک اکثریتی اور اقلیتی گروہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے اور انہوں نے اپنے اپنے طور پر ظلم و بربریت کی ایسی مثالیں قائم کیں جن کا ذکر کرتے ہوئے مصنف کا قلم آج بھی خون کے آنسو روتا ہے۔

پاکستان کو نعرہ بنانے اور اسے مسلط کرنے کا ہی نتیجہ ہے کہ اس ملک میں آباد لوگ نہ تاریخ سے سبق سیکھنے کے روادار ہیں اور نہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ اس خطے کے لوگ اسی بات پر مطمئن و شاداں ہیں کہ وہ مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہونے کے بعد ’’پاکستان کے وارث‘‘ بن گئے ہیں۔ کوئی یہ سوال نہیں کرتا کہ اکثریتی آبادی کی ’’بغاوت‘‘ اور علیحدگی کے بعد باقی بچنے والے چھوٹے حصے کو وہ نام اختیار کرنے اور اسے اپنا اثاثہ سمجھنے کا حق کیوں کر حاصل ہو سکتا ہے۔ اس کی واحد وجہ یہ رہی ہے کہ بنگلہ دیش کے لوگوں نے پاکستان کو مسترد کرتے ہوئے، اس نام سے بھی دست بردار ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے نتیجہ میں یہ نام مغربی خطہ میں رہنے والے لوگوں کے حصہ میں آ گیا اور وہ اسے جناح کا پاکستان قرار دے کر خود کو کامیاب قرار دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ حالانکہ جناح کا پاکستان تو اسی روز ترک کر دیا گیا تھا جب علیحدگی کی جدوجہد میں ساتھ چلنے والے اور بڑھ چڑھ کر قربانیاں دینے والے بنگالی باشندوں نے اس مشترکہ پلیٹ فارم سے علیحدگی اختیار کی جسے 1940 میں قرارداد پاکستان کی صورت میں استوار کیا گیا تھا۔ لیکن اپنی غلطیوں پر اصرار کرنے والی قوم جناح کے پاکستان کی بالکل تازہ بتازہ تصویر بنا کر اسے حقیقی پاکستان قرار دینے پر مصر ہے۔ اس عمل میں اس باقی ماندہ خطہ سے تمام امیدوں کا جنازہ بھی نکالا گیا ہے اور مساوات، انصاف اور جمہوریت کے ان اصولوں کو روندا بھی گیا ہے جو جناح کے سب سے موثر ہتھیار تھے۔ اس کے باوجود یہ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر قائم کیا گیا جناح کا اصلی پاکستان ہے کیونکہ ہمارے لیڈر سینے پر ہاتھ رکھ کر یہی کہتے ہیں اور ہماری نسلیں نصابی کتابوں میں یہی سبق یاد کرتی ہیں۔

سقوط ڈھاکہ کو صرف 48 برس بیتے ہیں لیکن اب یہ سانحہ صرف تقریریں کرنے یا بھارت کی سازشوں کا بھانڈا پھوڑنے کے موقع پر یاد کیا جاتا ہے۔ گزشتہ 5 دہائیوں میں اہل پاکستان نے نئی منزلوں کا ایسا پرجوش سفر شروع کیا جس نے اسے ان المناک لمحات کو یاد رکھنے اور ان کے دکھ کر دل سے لگانے کا موقع ہی نہیں دیا۔ ان میں افغانستان میں سوویت یونین کی شکست کو یقینی بنانا، مقبوضہ کشمیر میں جہاد کے ذریعے کشمیریوں کو آزادی دلوانے کی کوشش کرنا اور پھر دوسری افغان جنگ میں حصہ دار بن کر امریکہ سے کثیر مالی و فوجی امداد وصول کرنے کے مقاصد شامل تھے۔ یہ منزلیں مارتے ہوئے البتہ یہ سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ اس سفر میں قوم نے کیا کھویا اور کیا پایا ہے۔ 16 دسمبر 2014 میں بالآخر ایک ایسا سانحہ رونما ہوا جس میں 144 طالب علموں اور دیگر لوگوں کے خون سے کھیلی گئی ہولی نے پوری قوم کے زخم ہرے کر دیئے۔ عام آدمی سے لے کر فوج کے سپہ سالار تک نے محسوس کیا کہ شدت، دہشت اور تشدد کا یہ سفر کامیابی کا راستہ نہیں ہے۔ جسموں سے بم باندھے ، ہاتھوں میں کلاشنکوف تھامے، آرمی پبلک اسکول پشاور کے معصوم نونہالوں کو نشانے پر لینے والے خوں خوار حملہ آوروں نے واضح کیا کہ اہل پاکستان جب تک اس خونی ہاتھ کو اپنے جسم سے علیحدہ نہیں کریں گے تو نہ امن قائم ہو سکے گا اور نہ خوشحالی کا راستہ سجھائی دے گا۔

16 دسمبر 2014 کی خوں ریزی نے ملک کے عوام اور قیادت کو جھنجھوڑا۔ آپریشن ضرب عضب میں شدت پیدا کی گئی۔ 21 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے قومی ایکشن پلان پر عمل کرنے کا فیصلہ ہوا۔ دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کےلئے فوجی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ ہوا۔ ملک سے مذہبی منافرت، فرقہ واریت، نفرت کی تبلیغ اور معاشرے میں انتشار پھیلانے والے عناصر کا خاتمہ کرنے کا عہد کیا گیا۔ پوری تندہی سے ان منصوبوں پر عمل کا اعلان ہوا۔ آج تین برس بیت چکے ہیں۔ اے پی ایس پشاور حملہ میں شہید ہونے والوں کی یاد میں آنسو بہانے اور شمع روشن کرنے والے اب صرف ان کے اہل خاندان باقی ہیں۔ ملک و قوم نے اس سانحہ کو ایک نعرہ بنا کر اپنا فرض پورا کر لیا ہے۔ آج اس المیہ کو یاد کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے: ’’تین برس قبل ہونے والے اس حملہ کے بعد تمام سیاسی جماعتوں اور مسلح افواج نے مل کر دہشت گردی کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا۔ ہمارے اسکول اور مساجد محفوظ ہیں۔ ہر شخص ملک بھر میں آزادی سے گھوم پھر سکتا ہے‘‘۔ اسی حوالے سے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے پیغام میں کہا ہے: ’’آرمی پبلک اسکول پشاور کے شہدا ہمارے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان معصوموں اور ان کے بہادر اہل خاندان کی عظیم قربانی ناقابل فراموش ہے۔ یہ وطن عزیز سے ہماری بے پایاں محبت کی علامت ہے۔ یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ملک میں قیام امن ہم پر ادھار ہے‘‘۔

ان دونوں بیانات کا ایک ایک لفظ اپنے معانی میں بہت واضح اور صاف ہے۔ انہیں سمجھنے میں کوئی الجھن یا غلط فہمی نہیں ہو سکتی۔ تاہم اس المناک سانحہ کی تیسری برسی سے تین ہفتے قبل فیض آباد دھرنا اور اسے ختم کروانے کےلئے نوٹوں کے لفافے تقسیم کرتے فوجی افسر بالکل دوسری کہانی سناتے ہیں۔ یہ دھرنا اور اس سے نمٹنے کےلئے حکومت ، عدالت اور فوج کے کردار پر نظر ڈالیں تو صرف یہ سمجھ آتا ہے کہ ہم کسی سانحہ سے کوئی سبق سیکھنے کو تیار نہیں ہیں۔

16 دسمبر 2014 کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ کرنے کا جو عزم کیا گیا تھا 27 نومبر 2017 کو فیض آباد میں اس کا جنازہ نکال دیا گیا۔ ملک کے وزیراعظم اور آرمی چیف امن کی بحالی کا اعلان کرتے ہیں۔ لیکن ایک اعلان واشنگٹن سے امریکی وزیر خارجہ نے بھی دیا ہے کہ ’’اگر اہل پاکستان نے دہشت گردوں سے تعاون جاری رکھنے کا طرز عمل ترک نہ کیا تو یہ عناصر پاکستان کی سرزمین پر قابض ہو سکتے ہیں‘‘۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...