معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

تقریریں تو خوب رہیں، نتیجہ ڈھاک کے تین پات

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 14 2017

استنبول میں منعقد ہونے والے ستاون مسلمان ملکوں کے سربراہی اجلاس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے اپنا یہ ناجائز اور عالمی قانون کی خلاف ورزی پر مشتمل فیصلہ تبدیل نہ کیا تو اس کے نتائج کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوگی۔ تاہم یہ اجلاس اور اس دوران دھؤاں دار تقریریں کرنے والے اسلامی ملکوں کے نمائیندے یہ بتانے سے قاصر رہے کہ اگر امریکہ ٹس سے مس نہ ہؤا، اگر صدر ٹرمپ اپنی ضد پر قائم رہے اور اگر امریکی حکومت سلامتی کونسل کی قرار دادوں اور عالمی رائے عامہ کو مسترد کرتے ہوئے اور مسلمانوں کے جذبات کو روندتے ہوئے سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے پر بضد رہی تو اس ’متحدہ‘ اسلامی دنیا کا رد عمل کیا ہوگا۔ کیوں کہ جوش و خروش سے امریکہ کی مذمت کرنے والے اور ہال میں خاموش بیٹھے ان تقریروں کو سننے والے تمام لیڈر ایک بات بخوبی جانتے تھے کہ نہ امریکہ اپنا فیصلہ تبدیل کرے گا، نہ زمینی حقائق میں تبدیلی آئے گی اور نہ مسلمان ملکوں کے درمیان اتحاد کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔ اس اتحاد کی باتیں کرنے والا ہر لیڈر خود ایسے کسی بھی اسلامی اتحاد کی سربراہی کرنا چاہتا ہے، اور اس کے زور پر اپنے مخالف مسلمان ملکوں پر دباؤ بڑھانا چاہتا ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان بھی ان لیڈروں میں شامل ہیں جو سمجھتے ہیں کہ صرف وہی اس وقت عالم اسلام کی رہنمائی کی صلاحیت اور حق رکھتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اسلامی تنظیم برائے تعاون OIC کا یہ خصوصی اجلاس بھی بے نتیجہ رہے گا اگرچہ اس اجلاس میں ایک قرار داد پر اتفاق رائے کیا گیا ہے اور صدر طیب اردوان کی اس تجویز پر صاد کیا گیا ہے کہ تمام مسلمان ملک بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرلیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے دیگر ملکوں پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ بھی اسلامی تنظیم برائے تعاون کی تقلید کرتے ہوئے بیت المقدس کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کریں۔ فلسطینی صدر محمود عباس خود مشرقی بیت المقدس کو مستقبل میں قائم ہونے والی ممکنہ فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنوانا چاہتے ہیں۔ یعنی فلسطینی اس بات پر تیار ہیں کہ نصف شہر اسرائیل کے قبضہ میں رہے اور وہاں اسرائیل کا دارالحکومت بھی قائم رہے لیکن مشرقی حصہ فلسطینیوں کے حوالے کردیا جائے۔ اسرائیل اس تقسیم کا مخالف ہے۔ وہ پورے بیت المقدس پر مستقل قبضہ کا خواہاں ہے اور واضح کرچکا ہے کہ اسرائیل کسی قیمت پر اس مقدس شہر کے ایک انچ سے بھی دستبردار نہیں ہوگا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتین یاہو نے چھ دسمبر کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اشتعال انگیز اعلان کے بعد خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بیت المقدس تین ہزار سال سے یہودیوں کا مرکز رہا ہے ۔ اس پر آج بھی ہمارا اتنا ہی حق ہے جتنا اسرائیل بننے سے پہلے تھا۔

نیتین یاہو کی انتہا پسندانہ پالیسیوں اور مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیاں آباد کرنے کی حکمت عملی کی وجہ سے فلسطینی قیادت اور اسرائیل کے درمیان فاصلے بڑھے ہیں اور کئی سالوں سے بحالی امن کا عمل رکا ہؤا ہے۔ حالانکہ 1993 میں ہونے والے اوسلو معاہدہ کے تحت دو ریاستوں کے اصول کو تسلیم کرتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ اسرائیل اور فلسطینی تفصیلات طے کریں گے اور بالآخر دو ریاستوں کا خواب پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ اس طرح ایک نئی فلسطینی ریاست معرض وجود میں آسکے گی جس کے قیام سے ستر برس سے پناہ گزینوں کے طور پر یا اسرائیلی تسلط میں زندگی گزارنے والے پچاس لاکھ کے لگ بھگ فلسطینی آزادی کی زندگی گزارنے کے قابل ہو سکیں گے۔ لیکن فلسطینی لیڈروں کی باہمی چپقلش اور مسلمان لیڈروں کے الگ الگ مفادات کی وجہ سے اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ اور نیتیں یاہو کے دور حکومت میں اوسلو معاہدہ کی بنیادوں کو ہلانے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اب صدر ٹرمپ کے اعلان نے اوسلو معاہدہ اور دو ریاستی حل کے تمام امکانات کو فی اوقت دفن کردیا ہے۔

استنبول میں مسلمان ملکوں کے سربراہوں کا ہنگامی اجلاس صدر طیب اردوان نے طلب کیا تھا۔ ترکی اس وقت اسلامی تنظیم برائے تعاون کا صدر ہے ، اس حیثیت میں صدر اردوان نے یہ اجلاس طلب کرکے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف مسلمان ملکوں کا ’متحدہ محاذ‘ قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ اجلاس منعقد ہونے سے پہلے ہی سب کے علم میں یہ بات تھی کہ اس اجلاس میں چند تقریروں اور بعض ناکام خواہشات کے اظہار کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اور استنبول کانفرنس مسلمانوں کی بے بسی، اس کے لیڈروں کی جاہ پسندی اور شکست خوردگی کا ایک اور اظہار ثابت ہوگی۔ اس کا پہلا ثبوت تو اس وقت ہی مل گیا تھا جب 57 رکن ملکوں میں سے صرف بیس نے اپنے سربراہ مملکت یا حکومت کو اس اجلاس میں بھیجنا گوارا کیا۔ 23 ملکوں نے صرف وزیر کی سطح پر نمائیندگی کی جن میں سعودی عرب اور مصر بھی شامل تھے۔ سعودی عرب نے اس اہم اجلاس میں شرکت کے لئے اپنے وزیر برائے مذہبی امور کو روانہ کیا تھا۔ سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبد العزیز نے صدر ٹرمپ کے فیصلہ کے بعد ایک بیان میں اسے ’ نامناسب اور غیر ذمہ دارانہ ‘ قرار دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس فیصلہ سے مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ استنبول کانفرنس کے شرکا نے بھی یہی باتیں کی ہیں لیکن شاہ سلمان بذات خود یا اپنے ہونہار ولی عہد کے ذریعے استنبول پہنچ کر مسلمان دنیا کے ساتھ اس سوال پر اظہار یکجہتی کرنے سے قاصر رہے۔ کیوں کہ سعودی عرب کے خیال میں ایران مشرق وسطیٰ کے امن کے لئے اسرائیل سے بھی بڑا خطرہ ہے اور اس خطرہ سے نمٹنے کے لئے امریکہ، سعودی عرب کا سرپرست اور اسرائیل معاون و مددگار ہے۔ جہاں تک فلسطینیوں کی آزادی کا سوال ہے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کی شرائط پر ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

صدر طیب اردوان بھی خود کو سعودی عرب کی طرح مسلمان ملکوں کی قیادت کا حقدار سمجھتے ہیں۔ خاص طور سے سلطنت عثمانیہ کا ’وارث‘ ہونے کے ناتے وہ خود کو مسلمانوں کا ترجمان اور نمائندہ سمجھتے ہوئے ہر اس مسئلہ میں بولنے اور عملی قدم اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں جس سے وہ خود کو مسلمان دنیا کا رہنما ثابت کرسکیں۔ اسی لئے کانفرنس سے ایک روز پہلے ترک وزیر خارجہ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بعض عرب ملک واشنگٹن کے خلاف واضح اور دو ٹوک مؤقف اختیار کرنے سے گھبراتے ہیں۔ وہ ڈونلڈ ٹرمپ سے خوفزدہ ہیں اس لئے وہ ٹرمپ کے فیصلہ کو مسترد کرنے سے کا حوصلہ نہیں کرتے‘۔ ترک وزیر خارجہ کی بات درست ہونے کے باوجود صرف ان عرب ملکوں پر صادق نہیں آتی جو ترکی کے نزدیک امریکہ نواز ہیں بلکہ دنیا کے تمام مسلمان ملکوں کے بارے میں درست ہے۔ جن میں ترکی بھی شامل ہے۔ صدر طیب اردوان نے ٹرمپ کے اعلان کے بعد ضرور اسے مسترد کیا تھا لیکن انہوں نے انتقام کے طور پر امریکہ سے ترک سفیر واپس بلانے کی بات نہیں کی تھی بلکہ کہا تھا کہ وہ اسرائیل سے تعلقات ختم کرلیں گے۔ اسی لئے اس اعلان کے بعد سے ترکی اور اسرائیل کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ ہؤا ہے۔ امریکہ کے ساتھ کسی ملک کے تعلقات پر کوئی اثر دیکھنے میں نہیں آیا۔ عملی طور پر تو سارے مسلمان ملک مل کر بھی امریکہ پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے لیکن ان کا باہمی انتشار انہیں مزید کمزور اور بے وقعت کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اس طرح امریکہ اور دیگر ملکوں کو یقین ہو جاتا ہے کہ اسلامی دنیا نام کا کوئی باثر بلاک موجود نہیں ہے۔ اور مسلمان لیڈر کبھی مل کر کسی معاملہ پر ایک رائے اختیار نہیں کرسکتے۔ او آئی سی کے استنبول سربراہی اجلاس میں ہی بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان ہؤا ہے۔ لیکن یہ اعلان صرف اس تنظیم کے اعلان کی حد تک ہی محدود رہے گا اور کوئی ملک باقاعدہ طور سے اس فیصلہ کی توثیق کرتے ہوئے یہ  اعلان نہیں کرے گا کہ بیت المقدس پر اسرائیل کا نہیں صرف فلسطینی باشندوں کا حق ہے۔

اس پس منظر میں یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا کہ اجلاس سے ایک روز بعد اسرائیل کے وزیر برائے انٹیلی جنس کے نمائیندے نے سعودی عرب کی ایک ویب سائیٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو اسرائیل کا دورہ کرنے کی دعوت دی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ شاہ سلمان وزیر اعظم نیتین یاہو کو سعودی عرب کا دورہ کرنے کی دعوت دیں۔ اس سعودی ویب سائیٹ نے دورہ کی دعوت والی بات کو شائع کرنے سے گریز کیا لیکن اس پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر انٹیلی جنس یسرائیل کاٹز نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے یہ بات کہی ہے اور اس پر قائم ہیں۔ اس سے یہ اندازہ کرنے میں دقت نہیں ہو نی چاہئے کہ مشرق وسطیٰ میں دور رس تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جن میں سعودی عرب کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر مستقبل قریب میں فلسطین کا کوئی قابل عمل حل سامنے آسکتا ہے تو وہ سعودی تعاون اور مدد سے ہی ممکن ہو گا۔

ایسی صورت میں فلسطینیوں کے صدر محمود عباس کا یہ تند و تیز بیان بے بنیاد ہے کہ امریکہ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرکے جانبدارانہ اور اسرائیل کی حمایت میں متعصبانہ پوزیشن اختیار کرلی ہے۔ اس لئے اسے اب ثالث کی حیثیت حاصل نہیں رہی۔ اب بھی امریکہ کے سوا دنیا کا کوئی دوسرا ملک فلسطین کا مسئلہ حل کروانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کا بڑھتا ہؤا تعاون اور دوستی ہے۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...