ملک میں جمہوریت کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 13 2017

جولائی میں سپریم کورٹ کی طرف سے نواز شریف کو نااہل قرار دیئے جانے کے فیصلہ کے بعد سے دو ایسے معاملات سامنے آئے ہیں جن کے ملک میں جمہوری روایت کو استوار کرنے کے حوالے سے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں  جمہوریت نواز اور جمہوریت کو ملک کے مفادات کے لئے بوجھ سمجھنے والے عناصر کے درمیان معرکہ آرائی دیکھنے میں آئے گی۔ یہ ایک ایسا سخت تصادم ہے کہ یہ اندازہ قائم کرنا محال ہے کہ فتح کس کی ہوگی۔ گو کہ ملک میں جمہوری نظام کے تسلسل کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی اختلاف موجود نہیں ہے لیکن جمہوریت زندہ باد کہنے کے بعد اگر مگر کے ساتھ ایسا سماں باندھا جاتا ہے کہ جمہوریت کی روح فنا ہونے لگتی ہے۔ اس ماحول میں یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ حقیقی معنوں میں جمہوریت کا تسلسل چاہنے والے نہ تو اس وقت برسر اقتدار ہیں اور نہ ہی مستقبل قریب میں ملکی معاملات پر ان کی گرفت مضبوط ہونے کا امکان موجود ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا گروہ ہے جو اصولی طور پر یہ سمجھتا ہے کہ ملک کو آگے لے جانے کے لئے جموہریت سے بہتر کوئی طریقہ کار نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ ایک تو یہ طریقہ عوام کی نمائیندگی کا بہترین پیمانہ قرار پایا ہے، دوسرے ملک میں غیر جمہوری طریقہ سے معاملات چلانے اور فوجی حکومتوں کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنے کا طریقہ ناکام ہو چکا ہے، تیسرے اب مطلق العنانیت کی قبولیت کا وقت گزر چکا ہے۔ اس لئے جو عناصر جمہوریت کو مسائل کا حل سمجھنے کی بجائے یہ یقین رکھتے ہیں کہ اس سے مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے، وہ بھی اب یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت کے سوا کوئی نظام کامیاب نہیں ہو سکتا۔

جمہوریت کو بوجھ سمجھنے والوں کی طرف سے جمہوریت کی حمایت میں علم بلند کرنے والوں کی سب سے نمایاں مثال جماعت اسلامی ہے۔ اس جماعت نے کبھی مغربی طرز حکومت اور پارلیمانی جمہوریت کو پاکستان کے لئے مناسب خیال نہیں کیا۔ اس کے رہنما ہمیشہ فوجی حکمرانوں کے آلہ کار بنے اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لئے اسی تصور کی وکالت کرتے رہے ہیں جو ملک کے عسکری اداروں نے اختیار کیا ۔ 1970 کے انتخابات میں مشرقی پاکستان میں مجیب الرحمان کی عوامی لیگ کی کامیابی کے بعد ، اس پارٹی کو انتقال اقتدار قومی سلامتی اور مفاد کے خلاف قرار دینے میں جماعت اسلامی اسی سیاسی فلسفہ کا پرچار کررہی تھی جو اس وقت کے فوجی آمر جنرل یحیی خان نے اختیار کیا تھا۔ اور جس کی بنیاد پر نومنتخب اسمبلی کا اجلاس بلا کر منتخب نمائیندوں کو اقتدار منتقل کرنے کا باعزت اور جمہوری راستہ اختیار کرنے کی بجائے ، اکثریتی پارٹی کو قوت کے بل بوتے پر کچلنے اور عوام کی مرضی کے خلاف ایک نظام مسلط کرنے کا طریقہ اختیار کیا گیا تھا۔ جماعت اسلامی الشمس اور البدر کے نام سے بنائے گئے نیم عسکری گروہوں کی صورت میں بنگالی شہریوں کی آواز دبانے اور ان کا قتل عام کرنے میں فوج کا دست راست بنی ہوئی تھی۔ کیوں کہ اس کے خیال میں بھی سیاسی کارکنوں اور جماعتوں کو صرف وہ بات کہنے اور وہی پالیسی اختیار کرنے کا حق دیا جا سکتا ہے جو پہلے سے گھڑے گئے ’قومی مفاد‘ کی تشریح پر پورا اترتا ہو۔

عوامی لیگ اور شیخ مجیب الرحمان چونکہ اس من گھڑت تصور کے باغی تھے ، اس لئے ان کے ساتھ محاذ آرائی کو جمہوریت کشی کی بجائے قومی مفاد کے تحفظ کا نام دیتے ہوئے عام لوگوں کی آواز دبانا اور دانشوروں کو قتل کرنا جائز قرار دیا گیا ۔ تاہم موجودہ پاکستانی حالات میں جب اسی جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق یہ قرار دیتے ہیں کہ ملک کے لئے آگے بڑھنے کا راستہ جمہوریت کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا تو اس تبدیلی قلب کے دو ہی پہلو ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جمہوری نظام نے اپنی فکری اور عملی قوت کو اس حد تک تسلیم کروالیا ہے کہ جماعت اسلامی جیسی قدامت پسند پارٹی بھی اب جمہوریت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانا چاہتی ہے۔ دوسرے یہ کہ جن قوتوں کے اشارے اور سرپرستی کی وجہ سے یہ جماعت ماضی میں کبھی جمہوریت کو جائز اور کبھی نامناسب قرار دیتی تھی ، وہ اب اس جماعت پر ویسا ہی دست شفقت رکھنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ انہیں وہی کام بہتر شرائط پر سرانجام دینے کے لئے نئے ہرکارے میسر آچکے ہیں۔

شروع میں ملکی سیاست میں جن دو غیر معمولی معاملات کا اشارہ دیا گیا تھا ان میں سے ایک تو نواز شریف کی نااہلی کے بعد حکمران مسلم لیگ (ن) کو توڑنے کی تمام کوششیں ناکام ہونے کا واقعہ ہے۔ یہ کوششیں فی الوقت بری طرح ناکام ہیں اور نواز شریف نااہل ہونے کے باوجود پارٹی کے دوبارہ صدر بننے میں بھی کامیاب ہوچکے ہیں بلکہ وہ بڑی حد تک پارٹی کو متحد رکھنے، پنجاب اور مرکز میں اپنی حکومتیں برقرار رکھنے اور اہم معاملات پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت کا مظاہرہ بھی کرچکے ہیں۔ اس کا عملی اظہار وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی طرف سے نواز شریف سے وفاداری کے مسلسل اعلان سے بھی ہوتا ہے اور شہباز شریف کی طرف سے اختلافات کے باوجود بدستور بھائی کے ساتھ کھڑے رہنے کے عمل سے بھی پتہ چلتا ہے کہ نواز شریف اپنے ہی نام سے موسوم پارٹی پر فی الوقت مکمل کنٹرول اور اختیار رکھتے ہیں۔ موجودہ حالات میں یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ کیوں کہ مسلم لیگ ( ن) کا خمیر جن عناصر سے اٹھا ہے اور جن لوگوں کی وجہ سے یہ قوت پکڑتی ہے ، وہ دراصل لیلی اقتدار کے دیوانوں کا گروہ ہے جو صرف اسی پارٹی میں شامل ہوتا رہا ہے جو بہرصورت بر سر اقتدار آسکتی ہو۔ یہ یقین تب ہی ہوتا ہے جب اسٹیبلشمنٹ کے نام سے جانی جانے والی قوت کی حمایت اس پارٹی کو حاصل ہو۔ اب مسلم لیگ (ن) کے رہنما خود بار بار یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ سازشوں کے ذریعے ان کی پوزیشن کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اگرچہ سازش کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہنے سے گریز کیا جاتا رہا ہے کہ کون سے لوگ یا عناصر یہ سازش کر سکتے ہیں جبکہ پارٹی خود ہی ملک میں حکمران بھی ہو۔ لیکن اس کے باوجود سب یہ جانتے اور سمجھتے ہیں کہ سازش کا تانا بانا کہاں بنا جاسکتا ہے اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے کس قسم کے ہتھکنڈے بروئے کار لائے جا سکتے ہیں۔ اس کے باوجود ایک کے بعد دوسرے وار سے خود کو بچائے رکھنا مسلم لیگ اور اس کے رہنما نواز شریف کی شاندار کامیابی ہے۔ اسے کسی حد تک ملک میں جمہوریت کے تسلسل کے لئے بھی اہم اور ضروری خیال کیا جاسکتا ہے۔

اس حوالے سے دوسرا واقعہ فیض آباد دھرنے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اگرچہ وفاقی حکومت نے قانون اور جمہوریت کی نمائیندہ ہونے کے باوجود اس موقع پر غیر ذمہ داری اور کمزوری کا مظاہرہ کیا لیکن اس سے قطع نظر اس دھرنا کے حوالے سے فوج ملک کے سیاسی عمل میں ایک حصہ دار کے طور پر سرگرم عمل نظر آئی۔ اس سے قبل اگرچہ ملک کی تاریخ کے ہر مرحلے پر فوج ملکی سیاست میں ملوث رہی ہے لیکن اس کی طرف سے براہ راست کبھی اس کا کھلم کھلا اظہار نہیں کیا گیا۔ اور جب ایسا موقع آیا تو اس نے حکومت کو چلتا کرنے کے لئے براہ راست اقتدار پر قبضہ کرکے اپنے مقاصد واضح کئے تھے۔ چار مرتبہ فوجی حکومت کے قیام سے قطع نظر فوج یا اس کے اداروں نے جب بھی سیاسی معاملات میں اثر انداز ہونے کی کوشش کی تو اس مقصد کے لئے فرنٹ مین استعمال کئے گئے لیکن ان سے براہ راست تعلق کا اظہار نہیں کیا گیا۔ فیض آباد دھرنا اس لحاظ سے پاکستانی سیاسی تاریخ کا انوکھا واقعہ شمار ہوگا کہ اس موقع پر فوج نے ملکی معاملات کے حوالے سے اپنی رائے اور مرضی کا کھل کر اظہار بھی کیا اور اس پر عمل کروانے پر بھی اصرار کیا۔

یہ بھی پہلی بار دیکھنے میں آیا کہ جب حکومت نے عدالت کے حکم پر ایک غیر قانونی اور اشتعال انگیز دھرنا ختم کرنے کے لئے کارروائی شروع کی تو آرمی چیف کا بیان بھی ساتھ ہی عام کیا گیا کہ مظاہرین کے خلاف سختی سے نہ نمٹا جائے اور تصادم سے گریز کیا جائے۔ اس بیان کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہؤا یعنی پولیس اور سول حکومت کے زیر انتظام کام کرنے والے سیکورٹی ادارے دھرنا ختم کروانے میں ناکام ہو گئے۔ اس کے بعد جب وزارت داخلہ نے فوج سے مدد طلب کی تو فوج نے یہ کہتے ہوئے کہ ’وہ اپنے لوگوں پر گولی نہیں چلا سکتی ‘ حکومت کی درخواست قبول کرنے سے انکار کردیا۔ جس کے نتیجہ میں مجبور اور لاچار حکومت کو فوج کی ثالثی قبول کرنا پڑی اور فوج کے نمائیندوں نے محنتانہ کے لفافے بانٹ کر اور کمر تھپتھپا کر مظاہرین کو رخصت کیا۔ اس طرح آج تک جو کام اشاروں کنایوں میں کیا جاتا تھا، اسے اب کھل کر کیا گیا اور واضح کر دیا گیا کہ فوج کا ایک سیاسی ایجنڈا ہے اور وہ ملک کے تمام معاملا ت پر ایک رائے رکھتی ہے اور اسی کے مطابق امور طے کروانا چاہتی ہے۔ اس طرح جو لوگ اس غلط فہمی کا شکار تھے کہ سیاست میں فوج کی دلچسپی کے بارے میں باتیں بڑھا چڑھا کر پیش کی جاتی ہیں، ان پر بھی حقیقت حال واضح ہوگئی۔ یوں ایک ایک سیاسی پارٹی کا تمام تر دباؤ کے باوجود خود کو بچائے رکھنا اور فوج کے سیاسی مقاصد کا کھل کر اظہار جمہوری روایت کو آگے بڑھانے کے لئے معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

حکمران جماعت سمیت ملک کی اکثر سیاسی پارٹیاں اگرچہ اس صورت حال کا مکمل ادراک کرنے میں کامیاب نہیں ہیں۔ وہ اب بھی بادشاہ گری کے پرانے کھیل کا حصہ بننے اور جمہوریت کے نام پر علامتی عہدے قبول کرنے کو اپنی کامیابی سمجھ کر حکمت عملی تیار کررہی ہیں۔ اسی لئے کسی اصولی سیاسی مؤقف کی بجائے حکومت کو گرانے کی باتیں سننے میں آتی ہیں۔ اور اسی لئے سیاسی جماعتیں جمہویت کے نام پر اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرنے کے باوجود جمہوریت کے راستے میں کانٹے بچھانے کا سبب بھی بنتی ہیں۔ لیکن فوج کا کردار واضح ہونے اور ایک معتوب پارٹی کی طرف سے مقابلہ کا حوصلہ رکھنے کے سبب مشکلات کے باوجود ملک میں جمہوریت اپنا راستہ بنانے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ لیکن اس بات کا اندیشہ بہر حال موجود رہے گا کہ جمہوریت کش عناصر ان دو واقعات سے پیدا ہونے والے اثر کو زائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں اور ملک میں جمہوری نظام کا راستہ مسدود ہو جائے۔ البتہ اگر ان خطرات اور چیلنجز کے باوجود جمہوری عمل جاری رہ سکا تو مستقبل میں جمہوری روایت مستحکم ہوگی اور عسکری اداروں کا سیاست پر اثر محدود ہوگا۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...