داخلی حالات بہتر کئے بغیر امریکہ کو آنکھیں دکھانا بے سود ہے

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 06 2017

پاکستانی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کے دورہ اسلام آباد کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ دیا ہے۔ ہوسکتاہے پاکستان کی حکومت اب بھی یہ سمجھتی ہو کہ وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو برابری کی بنیاد پر استوار کر سکتی ہے یا واشنگٹن افغانستان کے حوالے سے اقدامات کرتے ہوئے اسلام آباد کی بعض ضرورتوں کا بھی خیال رکھے گا۔ لیکن عملی طور پر یہ صورت حال موجود نہیں ہے۔ یوں تو طویل عرصہ سے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں سردمہری دیکھنے میں آ رہی ہے۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ افغانستان میں اس کی فوجی اور سیاسی ناکامی کی وجہ اسلام آباد کی ہٹ دھرمی اور افغان طالبان کے ساتھ تعلقات ہیں۔ جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ امریکی نگرانی میں بھارت کو افغانستان میں اثر و رسوخ حاصل ہوا ہے جو اس کے مفادات کے خلاف ہے۔ پاکستان روایتی طور پر کابل کے حکمرانوں کو اپنے دباﺅ میں رکھنے کی پالیسی پر عمل کرتا رہا ہے، اسی لئے افغانستان میں 90 کی دہائی میں طالبان کے ذریعے پاکستان نواز حکومتی انتظام قائم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ البتہ 9/11 کے حملوں نے یہ صورت حال تبدیل کر دی اور پاکستانی حکومت کو راتوں رات افغانستان کے بارے میں اپنی پالیسی میں مکمل تبدیلی لاتے ہوئے طالبان کے خلاف امریکی جنگ کا حصہ بننا پڑا تھا۔ تاہم اگر یہ عظیم عالمی سانحہ نہ بھی رونما ہوتا تو بھی افغانستان میں طالبان انتہاپسندی اور شدت پسندی کے جس راستے پر گامزن تھے، وہ جلد بدیر پاکستان کے ساتھ تصادم کا سبب بنتا۔

افغانستان میں سترہ برس کی ناکام جنگ جوئی کے بعد امریکہ میں برسراقتدار آنے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو زعم ہے کہ وہ اپنی سادہ اور سخت گیر پالیسی کے ذریعے تمام معاملات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کا مظاہرہ شمالی کوریا کے میزائل اور جوہری تجربوں سے لے کرافغانستان میں طالبان کو سیاسی مفاہمت پر مجبور کرنے تک کی حکمت عملی میں دیکھا جاسکتا ہے۔ جولائی میں نئی افغان پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے پاکستان کو مسئلہ کی جڑ قرار دیا۔ پاکستان کو متنبہ کرتے ہوئے بھارت کو افغانستان میں وسیع تر کردار ادا کرنے کی دعوت دی گئی۔ گویا وہ یہ پالیسی سامنے لاتے ہوئے اس بنیادی کوتاہی کو سمجھنے یا درست کرنے پر آمادہ نہیں تھے کہ جوپاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات میں دوری کا سبب بن رہی تھی۔ یہ خرابی بھارت کے ساتھ امریکہ کے تعلقات اور پاکستان کے خلاف نئی دہلی کے جارحانہ رویہ سے پیدا ہوتی ہے۔ گزشتہ برس جولائی میں برہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں احتجاج اور عدم تعاون کی جو نئی لہر دیکھنے میں آئی، اس کی موجودگی میں پاکستان یہ توقع کرنے لگا تھا کہ اب کشمیریوں کے ہاتھوں مجبورہو کربھارت، پاکستان کے ساتھ کسی نہ کسی طرح کا معاہدہ کرنے پر آمادہ ہوگا اور امریکہ اس حوالے سے پاکستان کا حلیف ہوگا۔ پاکستان کا یہ خواب تو پورا نہ ہو سکا بلکہ صدر ٹرمپ کی جیت کی صورت میں امریکہ زیادہ کھل کر بھارت نواز پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

اس دوران پاکستان پر مسلسل یہ دباﺅ ڈالا جاتا رہا ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک اور دیگر عسکری گروہوں کے خلاف کارروائی کرے تاکہ افغانستان میں سیاسی تصفیہ کی کوئی صورت پیدا ہو سکے۔ امریکی قیادت یہ سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہے کہ افغان طالبان کو صرف پاکستان پر دباﺅ ڈالتے ہوئے ہتھیار ڈالنے اورتعاون کرنے پر آمادہ نہیں کیا جاسکتا۔ اور نہ صرف پاکستان کی طرف سے طالبان کا حقہ پانی بند کرنے سے ان کی قوت میں کوئی قابل ذکر کمی آ سکتی ہے۔ صدر ٹرمپ اور ان کی حکومت کے نمائندے خواہ کیسے ہی تندو تیز بیانات جاری کریں لیکن علاقے کے ہر فریق کی بعض جائز شکایات اور ضروریات پوری کئے بغیر افغانستان میں بحالی امن کے لئے کام کرنا ممکن نہیں ہے۔ طالبان اس عذر پر افغان حکومت سے مذاکرات کرنے سے انکار کرتے ہیں کہ وہ امریکی افواج کے سہارے ملک پر قابض ہے۔ امریکہ نہ تو بھرپور طریقے سے افغانستان میں جنگ کرنے کی صلاحیت، حوصلہ اور مالی استطاعت رکھتا ہے اور نہ طالبان کو یہ رعایت دینے پرآمادہ ہے کہ وہ افغانستان سے فوجیں نکال لے گا تاکہ طالبان کی یہ شکایت دور ہو سکے کہ غیر ملکی فوجیں ان کی دھرتی پر قابض ہیں۔ اس طرح انہیں جنگ روکنے اور مذاکرات پر آمادہ کرنا آسان ہوگا۔ امریکہ کےلئے افغانستان سے مکمل انخلا اس علاقے میں چین اور روس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور روابط کی وجہ سے مشکل ہو چکا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر اس نے افغانستان چھوڑا تو مشرق بعید پر اثر ڈالنے کا مرکز اس کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ ایسی صورت میں پاکستان پر دباﺅ ڈال کرامریکی پالیسی ساز اپنا اور اپنے عوام کا دل خوش کرتے رہتے ہیں۔

پاکستان نے موجودہ صورت حال میں امریکہ کے سامنے سخت موقف ضرور اختیار کیاہے۔ وزیر دفاع جیمز میٹس کے حالیہ دورہ کے دوران واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان ”ڈومور“ کے یک طرفہ مطالبہ کو پورا کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ اس کے بدلے میں اب پاکستان افغانستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں رعایتیں مانگ رہا ہے۔ لیکن بھارت کے ساتھ وابستہ وسیع تر مفادات کی روشنی میں امریکہ، بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے جائز مطالبات کو بھی قابل غورنہیں سمجھتا۔ اسے لگتا ہے کہ پاکستان کمزور اور تنہا ملک ہے اور امریکہ کے ساتھ طویل عسکری ، اقتصادی و سفارتی مراسم کی وجہ سے وہ امریکہ کا دست نگر ہے اور کچھ لیت و لعل کے بعد اسے اپنی شرائط ماننے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ امریکہ کے ساتھ پاکستانی قیادت کے طرز عمل سے بھی امریکی حکومت کے لئے اس غلط فہمی میں مبتلا ہونا آسان ہے۔ امریکہ اگرچہ اس علاقے میں اپنی حکمت عملی کی کامیابی کے لئے پاکستان کے بھرپور اور مکمل تعاون کا محتاج ہے لیکن اس کے باوجود وہ پاکستان کو احترام اور اہمیت دینے پرآمادہ نہیں ہے۔ اکتوبر میں وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن اور اب وزیر دفاع جیمز میٹس نہ صرف مطالبات کی طویل فہرست لے کر پاکستان آئے بلکہ اس اہم ترین حلیف سے بات چیت کے لئے ان دونوں وزراء نے اسلام آباد میں 24 گھنٹے گزارنا بھی مناسب خیال نہیں کیا۔

اس کے برعکس ان امریکی وزیروں کے دورہ پر پاکستان کی عسکری و سول قیادت نے پوری یکسوئی اور عزت و احترام سے مہمانوں کا استقبال کیا اور ان سے بات چیت کی۔ وزیر کی سطح کے رہنما سے ملک کے وزیراعظم اور آرمی چیف نے ملاقات کرنا ضروری سمجھا۔ اس بات کو قطعی اہمیت نہیں دی گئی کہ امریکی لیڈر پاکستانی قیادت کو ان کے رتبہ و حیثیت کے مطابق نہ صرف یہ کہ پروٹوکول دینے سے گریز کرتے ہیں بلکہ امریکی کانگریس اور سرکاری سطح پر تسلسل سے پاکستان کے خلاف ہتک آمیز بیانات اور الزامات کا سلسل جاری رہتا ہے۔ ان حالات اور پس منظر میں وزیر خارجہ خواجہ آصف کا یہ دعویٰ حیران کن ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کا رخ تبدیل کرے گا۔ بدنصیبی سے ملک کے وزیر خارجہ ایسا بیان دیتے ہوئے نہ صرف حقیقت حال کی پوری عکاسی کرنے سے قاصر رہے بلکہ وہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر بات کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ملک کی خارجہ پالیسی اور خاص طور سے امریکہ، بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے معاملات فوج طے کرتی ہے۔ اس بارے میں وزیر خارجہ اور حکومت تو دور کی بات ہے، پارلیمنٹ بھی کوئی قابل ذکر کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ پارلیمنٹ بھی صرف اسی وقت اور انہی خطوط پر خارجہ پالیسی پر بات کرتی ہے جب فوج کو عالمی دارالحکومتوں میں اپنی بات پہنچانے کے لئے ایسی کسی پارلیمانی اعلان کی ضرورت ہوتی ہے۔  اس لئے یہ قیاس کرنا محال ہے کہ امریکہ سے خارجہ پالیسی کا فوکس تبدیل کرکے روس اور چین کی طرف منتقل کرنا، وزیر خارجہ یا ملک کی کمزور سیاسی حکومت کے لئے ممکن ہے۔

دنیا کے کسی بھی اہم ملک کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے لئے پاکستان کو مہذب اور قابل اعتبار قوم کے طور پر اپنی حیثیت کو تسلیم کروانا ہوگی۔ یہ حیثیت تسلیم کروانے کے لئے صرف بھارت کے مظالم، ہٹ دھرمی اور جارحیت کا تذکرہ یا افغانستان میں مقیم پاکستان مخالف عسکری گروہوں پر الزام تراشی کافی نہیں ہوسکتی۔ اس کے لئے ملک میں مذہبی انتہاپسندی اور بڑھتے ہوئے گروہی تصادم کی صورت حال کو تبدیل کرنا پڑے گا۔ اگرچہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینا چین اور روس کی بھی سفارتی و اقتصادی یا اسٹریٹجک مجبوری ہو سکتی ہے لیکن وہ بھی امریکہ کی طرح مذہبی انتہاپسندوں کے ساتھ پاکستانی قیادت کے مراسم اور اس کے نتیجے میں ملک میں بڑھتے ہوئے انتشار اور بے چینی کو ختم کرنے پر زور دیں گے۔ فیض آباد دھرنا کے ذریعے اور اسے ختم کرواتے ہوئے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا تھا، اس سے صرف مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہی زیر نہیں ہوئی بلکہ پوری دنیا میں پاکستان کی شہرت بھی داغدار ہوئی ہے۔ ملک میں جوں جوں مذہبی گروہ مضبوط ہوں گے اور وہ اپنے ناجائز سیاسی مطالبات کو طاقت کے زور پر منظور کروانے کا چلن اختیار کریں گے، اسی تیزی سے دنیا میں پاکستان کا اعتبار اور اہمیت بھی متاثرہوگی۔ خواجہ آصف کو خارجہ پالیسی کو نئی شکل دینے کا خواب دیکھنے سے پہلے ان سچائیوں کا ادراک کرنے اور انہیں تبدیل کرنے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہوگی۔

صدر ٹرمپ کو امریکہ کی قوت اور ذاتی ذہانت پر ایسا اندھا اعتماد ہے کہ وہ دنیا بھر کے انتباہ کے باوجود بیت المقدس کو اسرائیل کا باقاعدہ دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ عرب لیڈروں نے اگرچہ اس فیصلہ کی اشتعال انگیزی کے بارے میں متنبہ کیا ہے لیکن صدر ٹرمپ کی طرح باقی دنیا بھی جانتی ہے کہ مسلمان اور عرب ملک ایسے ناخوشگوار اور ناجائز امریکی فیصلہ کی مزاحمت کرنے کے لئے کچھ بھی کرنے کی اہلیت اور حوصلہ نہیں رکھتے۔ ان میں سے اکثر لیڈر امریکی حمایت کی وجہ سے ہی اقتدار پر قابض ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اپنے ملکوں میں فرقہ واریت، تشدد اور عسکریت پسندی کے پرچار اور فروغ کوروکنے میں ناکام ہیں۔ اکثر صورتوں میں وہ خود ان قوتوں کی براہ راست یا درپردہ سرپرستی کرنے کاموجب بنتے ہیں۔ پاکستان ہو یا عرب ممالک جب تک وہ اندرونی حالات کو بہتر بنانے اور احترام آدمیت کے عالمگیر اصول کو عام کرنے کے لئے کام نہیں کریں گے، ان کے دعوے کرنے اور دھمکیاں دینے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...