عمران خان کا وزیر اعظم بننا محال ہے

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 01 2017

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان فیض آباد دھرنا کے بعد دھرنا قائدین کے مطالبات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرکے ، اس سیاسی نقصان کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں جو لبیک تحریک کی سیاسی کرتب بازی اور ممکنہ عوامی مقبولیت کی وجہ سے براہ راست پاکستان تحریک انصاف کی سیاست کو پہنچا ہے۔ عمران خان طویل عرصہ سے اس گمان میں مبتلا ہیں کہ اگر وہ ملک سے نواز شریف اور آصف زرداری کی سیاست کا جنازہ نکالنے میں کامیاب ہو جائیں تو وہ آسانی سے ملک کے وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔ پاناما کیس میں نواز شریف کی نااہلی کے بعد انہیں امید تھی کہ مسلم لیگ (ن) میں دراڑیں پڑنا شروع ہو جائیں گی اور ان کے لئے سیاسی اقتدار کا راستہ آسان اور مختصر ہو جائے گا۔ تاہم نواز شریف کے ’مجھے کیوں نکالا‘ مہم جوئی اور سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے سے انکار کے بعد عمران خان کو منزل دور ہوتی دکھائی دی۔ سپریم کورٹ کی نگرانی میں نواز شریف کے خلاف قانونی کارروائی کے آغاز اور ان کی طرف سے عدالتوں پر الزام تراشی کے باوجود احتساب عدالت میں مقدمات کی پیروی کی وجہ سے بھی عمران خان کو فوری اقتدار تک پہنچنے کا راستہ مسدود دکھائی دینے لگا تھا۔ اسی لئے کبھی وہ فوری انتخاب کروانے کی بات کرتے ہیں اور کبھی عدالتوں کے وقار کے تحفظ کے لئے ایک نئے احتجاج کا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ لیکن درحقیقت وہ اس بے چینی کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ نواز شریف کی نااہلی کے بعد وہ آخر ’وزیر اعظم‘ کیوں نہیں بن سکتے۔

اس سوال کا جواب دراصل عمران خان کو اپنی بے صبری اور سیماب صفت مزاج میں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا یہی رویہ اقتدار تک ان کے راستے کو مسدود بھی کرتا ہے۔ وہ اپنی ناکامی اور فریق مخالف کی کامیابی کو قبول کرنے کی بنیادی صلاحیت سے بھی محروم ہیں اور ان قوتوں کے لئے بھی دن بدن ناقابل قبول ہوتے جارہے ہیں جن کے بل بوتے پر انہوں نے 2013 کے انتخابات سے قبل اپنے سیاسی سفر کے دوسرے دور کا آغاز کیا تھا۔ یہ سفر لاہور میں ایک بھرپور جلسہ سے شروع  ہؤا تھا جسے عمران خان نے عوامی سونامی کا نام دیا۔ اس سونامی نے ایک طرف عمران خان کے مالی وسائل میں اتنا اضافہ کیا کہ وہ تسلسل سے احتجاجی جلسے کرنے کے قابل ہوگئے اور دوسری طرف تحریک انصاف کی صفوں میں ایسے چہرے شامل ہونے لگے جن کی شمولیت سے تحریک انصاف نعرے لگانے والی ایک غیر متاثر کن سیاسی تحریک کی بجائے ملک کی ایک بااثر اور طاقتور قوت کے طور پر نمودار ہونے لگی۔ 2013 کے انتخابات میں تحریک انصاف کی غیر معمولی اور حیران کن کامیابی کے بعد اسے ملک کی تیسری بڑی سیاسی قوت کی حیثیت تو حاصل ہو گئی لیکن یہ وزارت عظمی تک رسائی کے لئے عمران خان کے خواب کی تکمیل کرنے میں ناکام رہی۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ عمران خان ایک منجھے ہوئے سیاستدان کی طرح اس کامیابی کو سمیٹنے اور قومی سیاست میں مثبت کردار ادا کرتے ہوئے اصولی سیاست کی روایت کی بنیاد رکھنے اور مستقبل میں مزید کامیابی حاصل کرنے کی امید کرنے کی بجائے ، احتجاج، دھرنے اور دشنام طرازی کی سیاست کی طرف نکل گئے۔

2014 میں اسلام آباد میں دیا جانے والا ملک کی تاریخ کا طویل ترین دھرنا بھی ان کے سیاسی خواب کی تکمیل میں معاون نہیں ہو سکا۔ یوں بھی سیاسی اہداف مسلسل کام ، سیاسی منصوبہ بندی اور لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کی ہنر مندی کا تقاضا کرتے ہیں جبکہ عمران خان اپنے سوا ہر کسی کو غلط سمجھتے ہیں اور مخالفانہ رائے کو قبول کرنے اور اس کا جائزہ لینے کو کمزوری قرار دیتے ہیں۔ انہیں یہ گمان بھی ہو چکا ہے کہ ان کے سوا ملک کے سارے سیاست دان بدعنوان اور بے ایمان ہیں۔ اس لئے جب تک وہ خود ملک کی زمام اقتدار نہیں سنبھالتے ، نہ تو پاکستان کے حالات ٹھیک ہوں گے اور نہ ہی اس ملک کے عوام کے روز و شب بدلیں گے۔ اسی لئے وہ سیاسی مخالفین کو مسترد کرنے کے علاوہ پارٹی کے پرانے وفاداروں اور اپنے دیرینہ ساتھیوں کی بات پر غور کرنے کو بھی گناہ سمجھتے ہیں۔ دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسول پر دہشت گرد حملہ کی وجہ سے عمران خان کو اپنا دھرنا انہی قوتوں کے کہنے پر ختم کرنا پڑا جن کے بل بوتے پر وہ نواز شریف کی حکومت کا دھڑن تختہ کرنے کے لئے ’تاحیات‘ دھرنا دینے کا عزم لے کر اسلام آباد وارد ہوئے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ جب ملک کا طاقتور ادارہ ان کی پشت پر ہے تو انتخاب میں مکمل کامیابی یا ناکامی سے کیا فرق پڑتا ہے۔ بس اب اقتدار کا ہما ان کے سر پر بیٹھا ہی چاہتا ہے۔ لیکن وہ تو برا ہو ان کے پرانے طالبانی ممدوحین کا جنہوں نے پشاور میں دہشت گردی کے ذریعے عمران خان کے تابناک سیاسی خواب کو پورا نہ ہونے دیا۔

لیکن عمران خان اس جاں گسل سیاسی ہزیمت کے باوجود یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ سیاسی کامیابی کے لئے صرف نعرے لگانا اور دوسروں کی پگڑیاں اچھالنا کافی نہیں ہوتا۔ اس کے لئے غور و فکر اور منصوبہ بندی بھی ضروری ہوتی ہے۔ وہ یہ سمجھنے سے بھی ناکام رہے کہ وہ جن قوتوں کو اپنا دست و بازو سمجھ رہے تھے، وہ صرف اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے سیاسی عناصر کو استعمال کرتی ہیں اور اگر کوئی فرد یا گروہ اس مقصد کو پورا کرنے میں کامیاب نہ ہو تو وہ ان قوتوں کے لئے غیر اہم ہوجاتا ہے۔ عمران خان یہ بھی نہ سمجھ میں سکے کہ وہ اپنی متلون مزاجی اور ناقابل اعتبار رویہ کی وجہ سے مستقبل کے رہنما کے طور پر قابل قبول نہیں رہے۔ اب انہیں صرف مسلم لیگ(ن) کو کمزور کرنے ، پیپلز پارٹی کومحدود رکھنے اور نواز شریف اور آصف زرداری کو مطعون کرنے کے مقصد سے استعمال کیا جارہا ہے تاکہ بادشاہ گر مستقبل کی سیاسی بساط پر اپنی مرضی کے مطابق مہرے آگے پیچھے کر سکیں۔

فیض آباد کے دھرنے نے حکومت کو بے توقیر اور مسلم لیگ (ن) کو ضرور کمزور کیا ہوگا لیکن دراصل یہ دھرنا متبادل سیاسی قوت کے طور پر عمران خان کی حیثیت پر براہ راست وار تھا۔ یہ دھرنا تحریک انصاف کی سیاسی قوت کو کم کرنے اور عمران خان کو یہ باور کروانے کے لئے ایک اہم واقعہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا کہ تحریک انصاف یا عمران خان ناگزیر نہیں ہیں۔ عمران خان اب بھی اس پیغام کو پوری طرح سمجھ کر عوام سے قوت حاصل کرنے کے لئے حکمت عملی بنانے کی بجائے اللہ اور فوج کا شکر ادا کرکے اور لبیک تحریک کے مطالبات کو بعد از وقت اچھال کر اپنی پارٹی کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کرنا چاہتے ہیں۔ کل اسلام آباد میں کی گئی پریس کانفرنس میں انہوں نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ بھی ختم نبوت کے حوالے سے ویسے ہی جذبات اور خیالات رکھتے ہیں جن کا اظہار لبیک تحریک کے دھرنے کے دوران کیا گیا تھا۔ اسی لئے ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے کارکن اس دھرنا میں شامل ہونے کے لئے بے چین تھے۔ تاہم وہ اس بات کی وضاحت نہیں کرسکے کہ ان کی حکومت دشمنی تو بہت واضح ہے ، اگر وہ لبیک تحریک سے اتنے ہی متاثر تھے تو انہوں نے اس دھرنا میں شامل ہونے سے کیوں گریز کیا اور گھر بیٹھ کر بیان بازی کی حد تک سیاست چمکانے کو ہی کیوں کافی سمجھا۔

انہیں جان لینا چاہئے کہ عوام کو بے وقوف بنانے کی حد تک تو یہ دھرنا ضرور مذہبی تھا لیکن دراصل یہ سیاسی طاقت کا مظاہرہ تھا۔ دھرنا شروع کروانے، جاری رکھنے اور پولیس کی ناکامی کے بعد اسے ختم کروانے تک کا سارا عمل واضح کرتا ہے کہ یہ دھرنا صرف حکومت ہی کے لئے نہیں ملک کی تمام سیاسی قوتوں کے لئے ایک واضح پیغام تھا کہ اگر وہ طے شدہ ایجنڈے سے انحراف کریں گے تو ان کا راستہ کھوٹا کرنے کا اہتمام کرنے والی قوتوں کے پاس بہت سے متبادل موجود ہیں۔ اس کے جواب میں اگر ملک کی سیاسی قوتیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کرنے کی بجائے، عمران خان کی طرح دھرنے کے بعد دھرنے کے مطالبات کی حمایت میں نعرے لگائیں گی کیوں کہ انہیں لگتا ہے کمزور ہوتی حکومت اور برسر اقتدار پارٹی کے مستقبل کو تاریک کیا جاسکتا ہے ۔۔۔ تو وہ اسی جال میں پھنسیں گی جو بڑی مہارت سے ان کے لئے تیار کیا گیا ہے۔

عمران خان یا دھرنا کے حوالہ سے حکومت پر طعنہ زنی کرنے والی تمام پارلیمانی قوتوں کو تو اس بات کا جواب دینا چاہئے کہ اگر انتخابی قانون میں حلف نامہ کے حوالہ سے تبدیلی اتنا بڑا مسئلہ تھا تو اس سارے عمل کے دوران وہ خود کیوں خاموش رہے۔ قومی اسمبلی کی پارلیمانی جماعتیں اس بل کی تیاری اور تدوین کے عمل میں شامل تھیں اور اگر ختم نبوت کا حلف نامہ حذف کرنا کوئی سازش تھی، تو یہ سیاسی جماعتیں اس کا حصہ تھیں۔ اب یہ لیڈر حکومت کو بے ایمان قرار دے کر اپنی کوتاہی کی تلافی نہیں کرسکتے۔ لبیک تحریک کی طرح عمران خان بھی مذہب کے نام پر سیاست کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ البتہ انہیں یہ جان لینا چاہئے کہ اگر لوگوں کو اس مذہبی اشو کی بنیاد پر ہی ووٹ ڈالنے ہیں تو وہ ختم نبوت کے اصل عملبرداروں کو چھوڑ کر تحریک انصاف کی حمایت کیوں کریں گے۔ بہتر ہوگا کہ اقتدار کی ہوس اور نواز شریف سے عناد کی سیاست چھوڑ کر تحریک انصاف نوشتہ دیوار پڑھنے کی کوشش کرے جہاں تحریر ہے: ’ عمران خان کا وزیر اعظم بننا محال ہے‘۔

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...