طاقت و اختیار کی جنگ میں پاکستان نشانے پر ہے

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 12 2017

سیاسی اتحاد بننے اور ٹوٹنے اور مختلف مذہبی گروہوں کو سیاسی قوت کے طور پر سامنے لانے کے موسم میں ملک کا سب سے زیادہ طاقتور اور خاموش ادارہ نشانے پر ہے۔ پاک سرزمین پارٹی کے مصطفی کمال نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور ڈاکٹر فاروق ستار سے حساب برابر کرنے کے جوش میں برملا یہ اقرار کیا ہے کہ وہی نہیں دوسرے سیاسی لیڈر اور گروہ بھی مقتدر حلقوں کے اشاروں پر عمل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس دوران سپریم کورٹ کے سیاسی کردار کے بارے میں بھی مسلسل سوالیہ نشان سامنے آ رہے ہیں۔ جس طرح مصطفی کمال کا بیان زیر لب کہی ہوئی باتوں کو منظر عام پر لانے کا سبب بنا ہے، اسی طرح سپریم کورٹ کی طرف سے شریف خاندان کے متعدد ارکان کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز کے فیصلہ پر نیب کی اپیل کی سماعت کے لئے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سہ رکنی بنچ قائم کرکے اس تاثر کو مزید راسخ کیا گیا ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سیاسی معاملات میں اپنی اہمیت تسلیم کروانے کے دانستہ یا نادانستہ ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ جسٹس کھوسہ پاناما کیس کی سماعت کرنے والے بینچ کے بھی سربراہ تھے اور نواز شریف کے بارے میں ان کے ریمارکس اور فیصلہ میں نوٹس سے ان کی رائے کے بارے میں کوئی شبہ باقی نہیں رہا ہے۔ اس لئے یہ سوال تو سامنے آئے گا۔ جب وہی جج حدیبیہ پیپر ملز کیس کے معاملہ کی بھی سماعت کرے گا تو وہ کس طرح غیر جانبداری برقرار رکھ سکے گا۔

حدیبیہ پیپر ملز کیس میں لاہور ہائی کورٹ 2014 میں اسے ختم کرنے کا حکم دے چکی ہے۔ نیب نے اس فیصلہ کے خلاف اپیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ البتہ پاناما کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے ججوں نے اس معاملہ پر نیب اور اس کے سربراہ کی سخت سرزنش کی تھی اور یہ واضح اشارے دیئے تھے کہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل کیوں نہیں کی گئی۔ سپریم کورٹ کے ججوں کی خواہش اور دباؤ ہی کی وجہ سے نیب نے اپیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ فطری طور سے ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل سپریم کورٹ کے پاس ہی جائے گی۔ البتہ چیف جسٹس کی طرف سے اسی جج کو اس بینچ کا سربراہ مقرر کرنا حیرت کا سبب ہے جو اس سے قبل آبزرویشنز اور فیصلہ میں نواز شریف کے بارے میں اپنی رائے اور شبہات کا اظہار کر چکا ہے۔ چیف جسٹس جب یہ فیصلہ کرتے ہیں تو وہ یہ اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ سپریم کورٹ بطور ادارہ ہر جج کے ریمارکس اور فیصلہ کی پشت پر کھڑی ہے۔ یہ اعلان اس حد تک تو خوش آئند ہے کہ عدالت عظمیٰ بطور ادارہ ایک اکائی کے طور پر اپنے وجود کا اعلان کرتی ہے، اس طرح قانون کی عملداری اور آئین کی پاسداری کے بارے میں یہ یقین کیا جا سکتا ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کسی باہمی چپقلش کے بغیر آئینی نظام کے تسلسل کی ضامن ہے۔

لیکن اس معاملہ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ سپریم کورٹ کی غیر جانبداری اور دیانتداری کسی شبہ سے بالا ہونی چاہئے۔ اس کی طرف سے خواہ سیاسی معاملات اور سیاسی لیڈروں کے خلاف اقدامات صادر ہوں لیکن ان سے ججوں کے ذاتی خیالات ، جذبات ، احساسات اور سیاسی نظریات کا اظہار نہ ہوتا ہو۔ اس لئے بے حد ضروری ہوتا ہے کہ یہ فیصلے آئینی حدود میں ہوں اور انہیں قانون کی روایت کے مطابق ان کی حرمت کے مطابق  تحریر کیا جائے۔ بدقسمتی سے پاناما کیس کے فیصلہ اور پھر اس کے خلاف نظر ثانی کی اپیل کو مسترد کرنے کے فیصلہ میں اس احتیاط سے کام لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ ان فیصلوں کو پڑھنے سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ فاضل جج حضرات معاملہ کے قانونی اور اخلاقی و سیاسی پہلوؤں کو علیحدہ کرنے اور سختی سے قانونی دائرے میں رہتے ہوئے ایسے اصول وضع کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے جو مستقبل میں بھی عدالتی فیصلے کرتے ہوئے ججوں کی رہنمائی کرتے۔ اس کے برعکس یہ فیصلے ملک کی پیچیدہ سیاست اور اداروں کے درمیان طاقت و اختیارات کی تقسیم میں حصہ دار بننے کا اعلان نامہ دکھائی دیتے ہیں۔

یوں ملک اس وقت جس صورتحال کا سامنا کر رہا ہے وہ محض یہ نہیں ہے کہ ایک فرد یا خاندان اپنی مالی بے اعتدالیوں کی وجہ سے جوابدہی کے عمل سے گزر رہا ہے بلکہ یوں لگتا ہے کہ ایک سیاسی پارٹی اور خاندان کو سپریم کورٹ کا بطور فریق سامنا ہے۔ اس تاثر کو سیاسی مخالفین اور میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ تبصرے بھی قوی کرنے کا سبب بن رہے ہیں لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے اور ججوں کے ریمارکس بھی اس سلسلہ میں تصویر واضح کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے گزشتہ ہفتہ کے دوران جہانگیر ترین کے خلاف مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہمارے صبر کی داد دیں کہ عدالت کے باہر عدلیہ کے بارے میں جو کچھ کہا جا رہا ہے، اس پر ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ عدلیہ ان تمام باتوں کے باوجود ایسے واقعات کو مقدمات پر اثر انداز نہیں ہونے دیتی‘‘۔ چیف جسٹس کا دعویٰ تھا کہ ’’عدلیہ کے جج صاحبان کو جتنی عزت ملی ہے، اس سے بڑھ کر کوئی کیا دے سکتا ہے‘‘۔

چیف جسٹس کے اس بیان کو بنیاد سمجھا جائے تو انہوں نے خود ہی یہ واضح کر دیا ہے کہ عدالتوں کے جج صرف آئین و قانون کے تقاضے پورے کرنے اور پارلیمنٹ کی مقرر کردہ حدود کے مطابق فیصلے دینا ہی اہم نہیں سمجھتے بلکہ وہ یہ بھی ضروری خیال کرتے  ہیں کہ عوام میں ان کی پذیرائی ہو۔ یہ ایک سیاسی بیان اور خواہش ہے۔ ججوں کو حرص و صلہ سے بے پرواہ ہونا چاہئے۔ سپریم کورٹ کے ججوں سے توقع کی جاتی ہے کہ فیصلہ کرتے وقت یہ خیال ان کے وہم و گمان میں بھی  نہ ہو کہ اس فیصلہ کی توصیف و تحسین ہوگی یا اسے سخت تنقید و نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بلکہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ بہرحال قانون اور آئین کے تقاضوں کو پورا کریں گے۔ لیکن اگر سیاسی لیڈروں کے خلاف ریمارکس دے کر اور حکم جاری کرکے، جج بھی ’’عزت‘‘ کمانے کی خواہش رکھتے ہیں تو اس سے ان کی غیر جانبداری اور عدالت عظمیٰ کے کردار کا متاثر ہونا فطری بات ہے۔

اس پر مستزاد یہ کہ عدالت کے جج غلطی کرنے کے بعد اس پر اصرار بھی کرتے ہیں اور توجہ دلانے پر اس کی اصلاح کی بجائے یہ بتانے پر اصرار کیا جائے کہ کسی عہدے یا سیاسی پوزیشن سے کیا توقع اور امید لگائی جاتی ہے تو انصاف کی اصطلاح مزید غیر واضح اور مشکوک ہو جاتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں عسکری ادارے اور سیاسی جماعتیں پہلے سے سیاسی مفاہمت اور تصادم کے بین بین چلتے ہوئے حسب ضرورت حکمت عملی اختیار کرکے لوگوں کی بے یقینی میں اضافہ کا باعث بن رہی ہوں ۔۔۔۔۔ وہاں سپریم کورٹ کا نیم سیاسی رویہ ملک کے سیاسی نظام کی تصویر کو مزید دھندلا اور عالمی منظر نامہ میں ملک کے اداروں کے احترام کو مشتبہ کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ سیاسی شعبہ میں اختیار اور طاقت کے حصول کی یہ جدوجہد کیا رنگ لاتی ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ سیاستدانوں سے اقتدار و اختیار کے سوال پر عدلیہ کی کھینچا تانی سیاسی پارٹیوں اور ان کے لیڈروں کا تو کچھ نہیں بگاڑے گی لیکن عدالت کی شہرت کو ضرور داغدار کر دے گی۔

اس دوران کراچی میں پاک سرزمین پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان جعلی اتحاد قائم کروانے کی کوششوں کے بارے میں اسٹیبلشمنٹ کی طرف انگشت نمائی نے سیاسی ماحول کو مزید پراگندہ کیا ہے۔ افواہوں، تبصروں اور قیاس آرائیوں کی صورت میں فوجی اداروں کی سیاست میں مداخلت کی باتوں پر ہمیشہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ کوئی حتمی سچائی نہیں ہے لیکن جب ایک سیاسی لیڈر برملا یہ اقرار کرے کہ وہ فوجی اداروں کی ہدایات پر عمل کرکے کوئی فیصلے کرتا رہا ہے تو فوج کے سیاسی عزائم کے بارے میں شبہات، خوف کی شکل اختیار کرنے لگتے ہیں۔ خوف کی یہ فضا صرف مصطفی کمال اور فاروق ستار کو مل کر چلنے کے ’’حکم‘‘ ہی کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران جس طرح مذہبی جماعتوں اور سیاسی گروہوں نے اتحاد بنانے اور ایک خاص ایجنڈا کو آگے بڑھانے کے اقدامات کئے ہیں، ان کے درپردہ عسکری اداروں کی شبیہہ دیکھی اور محسوس کی جا سکتی ہے۔ اس سلسلہ میں تازہ ترین واقعہ سابق فوجی حکمران جنرل (ر) پرویز مشرف کی طرف سے 23 پارٹیوں کے عوامی اتحاد کا اعلان اور پھر اس کے انتشار کی خبروں سے متعلق ہے۔ پرویز مشرف فوج کی اعانت اور سرپرستی کی وجہ سے غداری اور قتل کے مقدمہ سے جان چھڑا کر بیرون ملک فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔ وہ جب مسلسل ملکی سیاست میں کردار ادا کرنے کی خواہش اور کوشش کرتے ہیں تو لامحالہ نگاہیں پاک فوج کی طرف اٹھتی ہیں۔ کیونکہ یہ گمان نہیں کیا جا سکتا کہ 40 برس تک فوج سے وابستہ رہنے والا ایک شخص ملکی فوجی اداروں کے اشارے یا رائے کے بغیر اس قسم کی شعبدہ بازی میں مصروف ہوگا۔

ملک میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) وفاق اور دو صوبوں میں حکومت بھی کر رہی ہے لیکن وہ سپریم کورٹ کے علاوہ فوجی اداروں سے برسر پیکار بھی دکھائی دیتی ہے۔ مصطفی کمال کے بیان پر پرجوش نون لیگی وزیروں اور مریم نواز کے ٹویٹ پیغامات ایک ایسے ماحول کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہر گروہ اور ادارہ نہ اختیار و اقتدار سے علیحدہ ہونا چاہتا ہے اور نہ ہی اپنی مقررہ حدود میں کردار ادا کرنا کافی سمجھتا ہے۔ اس کے برعکس وہ حسب ضرورت اور موقع دوسرے اداروں پر چاند ماری کرکے حساب برابر کرنے یا اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ ایسے میں سیاسی جماعتیں ہوں یا ادارے ، جب وہ ایک دوسرے کو نشانے پر لیتے ہیں تو اصل ہدف ملک کے مفادات اور شہرت ہی ہوتی ہے۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...