لبنان پر جنگ کے بادل

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 10 2017

فرانس کے صدر ا مینیول میکراں نے اچانک سعودی عرب کا مختصر دورہ کیا ہے۔ اس دورہ کو لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری کے اچانک استعفیٰ اور سعودی عرب کی طرف سے کئے جانے والے متعدد اقدامت کی روشنی میں اہم سمجھا جارہا ہے۔ اس دورہ میں فرانسیسی صدر نے سعودی عرب کے طاقتور ولی عہد محمد بن سلمان سے تفصیلی بات چیت کی اور انہیں لبنان کا بحران ختم کرنے اور خطے میں تصادم کی روک تھام کے لئے اپنی خدمات پیش کیں۔ تاہم سعودی عرب پہنچنے سے پہلے صدر میکراں نے کہا تھا کہ وہ ایران کے خلاف سعودی عرب کے الزامات سے متفق نہیں ہیں۔ ایک اہم یورپی ملک اور عالمی طاقت فرانس کے صدر کی سعودی عرب آمد اس بات کی نشاندہی ضرور کرتی ہے کہ عالمی دارالحکومتوں میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اس دوران لبنان کے صدر مشعل عون نے بیروت میں سعودی ناظم الامورولید بخاری کو مطلع کیا ہے کہ ریاض میں بیٹھ کر سعد حریری کی طرف سے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دینے کے اعلان کا طریقہ کار قابل قبول نہیں ہے۔ سعودی اقدامات کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر مشروط حمایت حاصل ہے ۔ وہ ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدہ کو ختم کرنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں۔ جبکہ فرانس کے صدر کے علاوہ متعدد یورپی لیڈر اس معاہدہ کے حامی بھی ہیں اور اسے جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کے حوالے سے اہم قدم بھی سمجھتے ہیں۔

ریاض میں لبنان کے مستعفیٰ وزیر اعظم نے متعدد مغربی سفیروں اور امریکی ناظم الامور سے ملاقات کی ہے اور ایران کی اشتعال انگیزی اور خطے میں بدامنی پھیلانے کے الزامات کو دہرایا ہے۔ لیکن بعض سفارتی ذرائع نے اخبار نویسوں کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ سعد حریری آزادانہ گفتگو کرتے دکھائی نہیں دیتے اگرچہ انہوں نے اپنی گفتگو میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے سعودی عرب میں موجود ہیں اور ان پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے سعودی عرب میں رکے ہوئے ہیں۔ تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ سعد حریری کو ریاض طلب کرکے انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا تھا۔ انہوں نے استعفیٰ دیتے ہوئے ایران پر علاقے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام لگانے کے علاوہ یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہیں اندیشہ ہے کہ انہیں بھی اپنے والد رفیق حریری کی طرح قتل کردیا جائے گا۔ اپنے ملک کی بجائے دوسرے ملک میں جاکر تیسرے ملک پر مداخلت کا الزام لگاتے ہوئے ایک وزیر اعظم کے استعفیٰ دینے سے شبہات اور اندیشے پیدا ہو رہے ہیں۔ ایران نے اس استعفیٰ کو سعودی عرب کی طرف سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسے دوسرے ملکوں میں مداخلت کرنے کی بجائے اپنے اندرونی حالات درست کرنے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔

لبنان کی حکومت اور لبنان سپورٹ گروپ نے مطالبہ کیا ہے کہ سعد حریری لبنان واپس آئیں ۔ اس سپورٹ گروپ میں اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے علاوہ فرانس، برطانیہ، چین، روس، جرمنی ، اٹلی اور یورپین یونین شامل ہیں۔ عالمی تنظیموں اور ممالک کے اس کنسورشیم نے لبنان کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین سے مفاہمانہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ لبنان کی کے وزیر اعظم سعد حریری کے اچانک استعفیٰ کے بعد یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر میزائل داغا تھا جسے ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی شاہ سلمان نے ولی عہد محمد بن سلمان کی سربراہی میں ایک احتساب کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا تھا جس نے فوری طور پر درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔ ان میں متعدد شہزادے، وزیر اور سرمایہ دار شامل ہیں ۔ مبصرین کے نزدیک اگرچہ یہ تینوں واقعات کا براہ راست ایک دوسرے سے تعلق نہیں ہے لیکن ان میں سعودی ولی عہد کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ گرفتار کئے گئے لوگوں میں متعدد ایسے شہزادے ہیں جو ولی عہد سے سیاسی اختلاف رکھتے تھے اور شاہ سلمان کے سوتیلے بھائیوں کے بیٹے ہیں جو شہزادہ محمد کی طاقت کے لئے خطرہ ہو سکتے تھے۔ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو قطر اور ایران کے بارے میں ولی عہد کی شدت پسندانہ پالیسیوں کے بارے میں علیحدہ رائے رکھتے ہیں۔ اس لئے بدعنوانی کے نام پر پکڑے گئے لوگوں کے حوالے سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اس طرح اقتدار پر شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنی گرفت مضبوط کی ہے۔

یہ کہا جا رہا ہے کہ شہزادہ محمد یمن کی جنگ میں الجھے ہونے کی وجہ سے لبنان میں مداخلت کی کوشش نہیں کریں گے۔ لیکن نوجوان اور پرجوش شہزادے کے ارادوں کے بارے میں یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔ سعودی عرب شام میں لبنانی شیعہ تنظیم حزب اللہ کی پیش رفت اور بڑھتی ہوئی قوت کے علاوہ یمن میں ایران کے اثر و رسوخ سے پریشان ہے اور اس پر حوثی قبائل کی حمایت کے ذریعے قانونی طور سے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ سعودی شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھی مکمل اعانت حاصل ہے جو مشرق وسطیٰ میں ایران کا اثر محدود کرنے کے لئے سعودی عرب کی مکمل حمایت کررہے ہیں۔ سعودی عرب میں گرفتاریوں سے پہلے صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی ریاض آمد اور سعودی انتہائی اقدامات کے بعد ٹرمپ کی طرف سے شاہ سلمان کو فون کے ذریعے مکمل حمایت کی یقین دہانی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ داخلی اور خارجی محاذ پر سعودی عرب کے اقدامات کو امریکہ کی براہ راست تائد و حمایت حاصل ہے۔

سعودی عرب اور متعدد دوسرے عرب ملکوں نے گزشتہ روز اپنے شہریوں کو فوری طور پر لبنان چھوڑنے کی ہدایت کی تھی۔ اب فرانس کے صدر سعودی ولی عہد سے بات چیت میں یہ کوشش کرچکے ہیں کہ یہ خطہ ایک نئی جنگ سے محفوظ رہے۔ اس دوران اسرائل نے واضح کیا ہے کہ وہ ایک نئی جنگ کے لئے تیار نہیں ہے لیکن ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ بعض اوقات نہ چاہتے ہوئے بھی عجلت میں اٹھائے ہوئے اقدامات کی وجہ سے جنگ شروع ہوجاتی ہے۔ لبنان کو اس وقت ایسی ہی ہیجان انگیز صورت حال کا سامنا ہے۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...