سیاسی رسہ کشی میں نشانے پر پاکستان ہے

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 20 2017

جوں جوں نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف عدالتی گھیرا تنگ ہو رہا ہے اور یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ یہ دونوں باپ بیٹی موجودہ صورتحال میں اداروں کے سیاسی اختیار اور عمل دخل کو پوری طرح قبول کرنے کےلئے تیار نہیں ہیں، ملک کا سیاسی ماحول کشیدہ ہو رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سابق وزیراعظم اور ان کی صاحبزادی کو موجودہ عدالتوں سے سہولت ملنے کی امید نہیں ہے بلکہ احتساب عدالت کی کارروائی کے دوران یہ واضح ہو رہا ہے کہ جج جلد از جلد شریف خاندان کے خلاف مقدمات کو آگے بڑھا کر ان پر فیصلہ صادر کرنے کے خواہش مند ہیں تاکہ سپریم کورٹ نے چھ ماہ کی مدت کے اندر ان ریفرنسز پر فیصلہ دینے کی جو شرط عائد کی ہے، اس پر عمل ہو سکے۔ تاہم اس مقصد کےلئے احتساب عدالت کو بعض قواعد کو نظر انداز اور بعض مسلمہ قانونی تقاضوں سے صرف نظر کرنا پڑ رہا ہے۔ مثال کے طور پر عدالت نے نہ تو میاں نواز شریف کو اپنی بیوی کی علالت کی وجہ سے حاضری سے استثنیٰ کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس اصول کو تسلیم کیا ہے کہ کسی شخص کی حاضری کے بغیر اس پر فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔ نواز شریف کی غیر موجودگی میں ان پر دو مقدمات میں فرد جرم عائد کی جا چکی ہے ۔ اس سے پہلے اس قانونی تقاضے سے نمٹنے کےلئے کہ کسی مقدمہ میں ملوث تمام ملزم اکٹھے حاضر ہوں تو ہی فرد جرم عائد کی جا سکتی ہے، نواز شریف کے مقدمہ کو ان کے بیٹوں حسن اور حسین نواز سے علیحدہ کر دیا گیا تھا۔ یہ صورتحال ایک طرف نواز شریف کی قانونی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے تو دوسری طرف ملک میں سیاسی بے اطمینانی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اس پیچیدہ ، مشکل اور سیاسی طور سے سنگین صورتحال میں کسی مداری کی طرح ہوا میں معلق گیند کو پکڑنے اور کسی بھی گیند کو زمین چھونے نہ دینے کی اپنی سی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ ایک طرف فوج کو یقین دلا رہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کسی تصادم پر یقین نہیں رکھتی اور تمام معاملات مفاہمت اور فوج کی مشاورت سے طے کرنے کی خواہشمند ہے، دوسری طرف وہ پارٹی کے تمام حلقوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے بھی کوشاں ہیں۔۔ اسے وزیراعظم عباسی کا کرشمہ ہی کہنا چاہئے کہ وزیر داخلہ احسن اقبال اور آئی ایس پی آر ISPR کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کے درمیان بیان اور جوابی بیان کا سلسلہ روک دیا گیا اور احسن اقبال اہم اجلاسوں میں فوجی قیادت سے ملنے اور موقف واضح کرنے پر مجبور ہوئے۔ احسن اقبال نے خود یہ بیان دے کر کہ وہ جواب الجواب میں ملوث ہونا نہیں چاہتے، یہ بھی تسلیم کرلیا کہ فوج کے ترجمان کا موقف ہی دراصل قابل قبول ہے۔ وزیراعظم نے خود یہ بیان دے کر کہ آرمی چیف معیشت پر بات کرنے کے مجاز ہیں، اس بحث کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ لیکن اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ اس طرح کے مصالحانہ رویہ سے تمام گلے شکوے دور ہو جائیں گے اور فوجی اور سول قیادت درحقیقت ایک ہی پیج پر آ جائیں گے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مصالحانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے نواز شریف کو بدستور اپنا رہنما اور ملک کا حقیقی وزیراعظم قرار دیتے ہیں۔ اس طرح وہ یہ تاثر زائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ مسلم لیگ (ن) کو تقسیم کرنے یا پارٹی کے اندر نواز شریف سے بغاوت کرنے والے کسی گروہ کی قیادت کرنے کےلئے تیار ہیں۔

تاہم پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز نے جو اشارے دیئے ہیں، ان سے پہلی بار یہ بات شریف خاندان کی طرف سے کھل کر کہی گئی ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان اداروں کے ساتھ تعلق کے حوالے سے اختلاف موجود ہے۔ اس دوران بین الصوبائی تعاون کے وزیر ریاض حسین پیرزادہ نے یہ بیان دے کر کہ نواز شریف کو مسلم لیگ (ن) کا ازسر نو صدر بنانے کا فیصلہ غلط ہے، ان اندیشوں کو یقین میں بدلنے میں کردار ادا کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) میں فارورڈ بلاک بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ مبینہ طور پر اس قسم کے بلاک میں قومی اسمبلی کے سو کے لگ بھگ ارکان شامل ہوں گے اور سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان یا شہباز شریف اس کی قیادت کریں گے۔ اس بلاک کے ذریعے میاں نواز شریف کو یہ پیغام دیا جائے گا کہ اب ملکی سیاست میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ اپنی صاحبزادی مریم نواز کو اپنا جانشین مقرر کرسکتے ہیں۔ اس قسم کی صورتحال افواہوں، اندازوں یا اندیشوں سے بڑھ کر اگر عملی طور پر سامنے آتی ہے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا شہباز شریف بھائی کا ساتھ چھوڑ کر، یا ان کی صوابدید کے بغیر اس گروہ کی قیادت قبول کر لیں گے۔ یا ایسی کھینچا تانی کی صورت میں نواز شریف خود ہی یہ تسلیم کرلیں گے کہ وہ پارٹی کی سربراہی کی سیاسی جنگ ہار چکے ہیں۔ اس لئے اب بھائی کو آگے بڑھنے دیں تاکہ اقتدار بہرحال شریف خاندان کے پاس ہی رہے۔ اگر ان دونوں بھائیوں کے بچوں کی نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ اندازہ حقیقت سے قریب دکھائی دیتا ہے لیکن شہباز شریف کو بھائی سے راستے علیحدہ کرنے کےلئے دیرینہ خاندانی روایت ترک کرنے کے علاوہ ایک بڑا سیاسی جؤا بھی کھیلنا پڑے گا۔

شہباز شریف میڈیا میں اپنے حامیوں کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ انہیں مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی کا اعتماد حاصل ہے اور وہ پارٹی کی نبض پر بھی ہاتھ رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ (ن) چونکہ بنیادی طور پر پنجاب کی پارٹی ہے اور پنجاب میں کامیابی کےلئے شہباز شریف کا ساتھ چلنا ضروری ہے۔ اس طرح کی رپورٹوں اور تبصروں سے شہباز شریف کے سیاسی ارادوں کا اظہار تو ہوتا ہے لیکن یہ طے نہیں ہوتا کہ نواز شریف واقعی شہباز شریف کی قیادت کے حق میں دستبردار ہو جائیں گے اور اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو شہباز شریف کس حد تک مسلم لیگ (ن) کے اہم عناصر کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ اس بارے میں یہ بات سامنے لانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ شہباز شریف چونکہ اسٹیبلشمنٹ کے دوست ہیں اور تصادم سے گریز چاہتے ہیں، اس لئے مسلم لیگ (ن) پر کنٹرول کےلئے انہیں اداروں کی حمایت حاصل ہوگی۔ مسلم لیگ (ن) چونکہ بنیادی طور پر اقتدار پسند لوگوں کا گروہ ہے، اس لئے پانسہ پلٹتے دیکھ کر اکثر ارکان نواز شریف کا ساتھ چھوڑ کر شہباز شریف کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں گے۔

یہ اندازے بظاہر سادہ، قابل فہم اور قابل عمل لگتے ہیں لیکن اگر اس منصوبہ پر عملدرآمد اتنا ہی آسان ہوتا تو شاید اب تک اس پر کام کا آغاز  ہو چکا ہوتا۔ اس کی وجوہات سمجھی جا سکتی ہیں۔ ایک تو نواز شریف کو غیر موثر کرنے کے سارے اندازے اس قیاس پر استوار کئے جا رہے ہیں کہ فوج کےلئے اب نواز شریف قابل قبول نہیں ہیں اور سپریم کورٹ کا فیصلہ دراصل فوج کی مرضی اور منشا سے ہی کیا گیا تھا۔ لیکن ابھی تک اس بات کا کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آیا ہے کہ واقعی سپریم کورٹ اور فوج نواز شریف کے خلاف درپردہ ملی ہوئی ہیں۔ اگرچہ جوش خطابت اور عوامی رائے کو ہموار کرنے کےلئے نواز شریف، مریم نواز اور ان کے حامیوں نے بھی سپریم کورٹ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے اس تاثر کو تقویت دینے کی کوشش کی ہے کہ فوج اس فیصلہ کے پیچھے ہے۔ تاہم 28 جولائی کے بعد سامنے آنے والے حالات و واقعات اس کی تصدیق نہیں کرتے۔ بصورت دیگر نواز شریف مرکز میں اپنی پسندیدہ حکومت قائم کروانے اور دوبارہ مسلم لیگ (ن) کا صدر بننے میں کامیاب نہ ہوتے۔

اس حوالے سے جو بات زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ عوام میں نواز شریف کی مقبولیت ہے۔ پنجاب کا جو ووٹر مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیتا ہے، وہ نواز شریف کے نام پر ہی ووٹ ڈالتا ہے۔ یہ ووٹ نہ صوبے میں شہباز شریف کے حسن انتظام کو ملتا ہے اور نہ پارٹی کے مختلف دھڑے اپنے اپنے حلقہ اثر میں مقبولیت کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کو پنجاب کی سب سے بڑی سیاسی قوت بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ شہباز شریف سمیت شاید باقی سیاسی رہنما بھی یہ بات جانتے ہیں کہ فارورڈ بلاک بنا کر یا کسی دوسرے طریقے سے نواز شریف کو مسلم لیگ (ن) سے علیحدہ کرکے، اس کی انتخاب جیتنے کی صلاحیت ختم ہو جائے گی۔ اس صورت میں یہ پارٹی شاید اتنی نشستیں بھی حاصل نہ کر سکے جو اسے قابل قدر اپوزیشن کی حیثیت دلوا سکے۔ اس کے علاوہ پنجاب میں اس کا اقتدار ختم ہونے کا قوی یقین ہے۔ یہ شہباز شریف کےلئے ناقابل تصور صورتحال ہوگی۔ اگر کوئی دوسری وجہ نہ بھی ہو تو اس حقیقت کی وجہ سے بھی شاید وہ اپنے مقبول بھائی سے ’’بغاوت‘‘ کرنے کا حوصلہ نہیں کریں گے۔ اس کے علاوہ یہ تسلیم کر لیا جائے کہ شریف خاندان کے خلاف عدالتی کارروائی خالص قانونی تقاضوں کے مطابق ہوئی ہے اور فوج نے اس میں کوئی کردار ادا نہیں کیا تو شہباز شریف کےلئے حالات مزید سنگین اور مشکل ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ نواز شریف اور ان کے بچوں کے بعد شہباز شریف اور ان کے بچوں کی باری آتے دیر نہیں لگے گی۔ بدعنوانی کے جن مقدمات میں نواز شریف کو ملوث کیا جا رہا ہے، شہباز شریف بھی ان معاملات میں برابر کے شریک ہیں۔

اس کے باوجود ایک وفاقی وزیر کا نواز شریف کے خلاف بیان اور پنجاب حکومت کے ترجمان کی طرف سے اس کی فوری تائید یہ ضرور واضح کرتی ہے کہ مسلم لیگ (ن) میں اقتدار کی کشمکش زوروں پر ہے۔ یہ نہ صرف دو بھائیوں کے درمیان رسہ کشی کا سبب بن رہی ہے بلکہ وزارت عظمیٰ کے کئی امیدوار کسی طرح نواز شریف کا راستہ کاٹ کر اقتدار سے بغلگیر ہونے کے خواہشمند ہیں۔ دوسری طرف تحریک انصاف نواز شریف کے بعد شہباز شریف اور آصف زرداری پر الزامات عائد کرتے ہوئے فوج کے عزت و وقار کی بہتر محافظ کے طور پر خود کو پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ملک کی عدالتوں اور سیاسی ایوانوں میں سیاسی معاملات کی بساط پر ہر کھلاڑی اپنی اپنی صلاحیت کے مطابق بازی جیتنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ لیکن بطور ریاست پاکستان کی اقتصادی مشکلات، سفارتی اندیشے اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کی نوعیت بدستور بگڑ رہی ہے۔ ان حالات میں اسلام آباد میں ایک مضبوط حکومت اور سیاسی حلقوں میں بہتر اشتراک ہی قومی مفادات کی سب سے بڑی ضمانت ہو سکتا ہے۔ لیکن ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں مصروف سیاستدان اس سچائی کو دیکھنے اور ماننے کےلئے تیار نہیں ہیں۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...