نئے امریکی الزامات: جواب ضروری ہے

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 18 2017

نیویارک ٹائمز نے گزشتہ ہفتہ کے دوران پاکستانی فوج کی طرف سے ایک امریکی کینیڈین جوڑے کی رہائی کی تفصیل شائع کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ پاک فوج کو یہ اقدام امریکی حکومت کی اس دھمکی کے بعد کرنا پڑا تھا کہ اگر انہوں نے اس جوڑے اور اس کے بچوں کو رہا نہ کروایا تو امریکی نیوی سیل کی ٹیم یہ کام پاکستانی سرزمین کے اندر جا کر سرانجام دے گی۔ اخبار کے مطابق یہ اسی طرز کا آپریشن ہوتا جو مئی 2011 میں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کےلئے کیا گیا تھا۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اس صورت میں پاکستان کو سخت پریشانی کا سامنا ہوتا اور امریکہ میں ٹرمپ حکومت کے ساتھ اس کے تعلقات مزید کشیدہ اور سرد مہری کا شکار ہو جاتے۔ پاکستانی فوج نے گزشتہ بدھ کو امریکی انٹیلی جنس کی معلومات پر کارروائی کرتے ہوئے امریکی خاتون کیٹیلین کولمین، ان کے کینیڈین شوہر جوشوا بوئل اور ان کے تین کمسن بچوں کو رہا کروایا تھا۔ اس آپریشن میں پاکستانی فوجی دستے نے فائر کرکے اس گاڑی کے ٹائر پنکچر کر دیئے تھے جس میں اغوا کار اس خاندان کو پاکستانی کرم ایجنسی میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر رہے تھے۔ پاک فوج اگرچہ پورے خاندان کو بحفاظت رہا کروانے میں کامیاب رہی تھی لیکن گاڑی میں سوار انتہا پسندی فرار ہو گئے تھے اور ان میں سے نہ تو کوئی گرفتار ہوا اور نہ ہی ہلاک کیا گیا تھا۔ بعد میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں پاک فوج کی توصیف کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب پاکستان امریکہ کی خواہش اور مرضی کے مطابق کارروائی کر رہا ہے۔ اس طرح دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتری کی طرف گامزن ہوں گے۔

امریکی صدر نے اپنے ابتدائی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ یہ امریکی کینیڈین شہری حقانی نیٹ ورک کی تحویل میں تھے۔ واضح رہے امریکہ الزام عائد کرتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے پاکستانی علاقوں میں ٹھکانے موجود ہیں اور وہ وہاں سے ہی افغانستان میں دہشت گردی کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں لیکن پاک فوج اس انتہا پسند گروہ کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز کرتی ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ اس کی فوج نے آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کے ذریعے ہر قسم کے انتہا پسند عسکری گروہوں کے خلاف کامیاب کارروائی کی ہے۔ اب پاکستان میں کسی بھی عسکری گروہ کا کوئی بڑا ٹھکانہ موجود نہیں ہے۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا تھا کہ افغانستان کا 40 فیصد علاقہ طالبان کے قبضہ میں ہے۔ اس لئے ان کے عسکری گروہ اور دہشت گردوں کو پناہ لینے کےلئے پاکستان آنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس کے برعکس ان علاقوں میں مقیم پاکستان دشمن عسکری گروہ پاکستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہیں لیکن امریکی فوج اور افغان حکومت ان کے خلاف کارروائی کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ بلکہ بھارتی ایجنٹ افغان سرزمین پر پاکستان کے خلاف سرگرم گروہوں کو تربیت بھی فراہم کرتے ہیں اور ان کی مالی امداد بھی کی جاتی ہے۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے امریکی کینیڈین جوڑے کے ریسکیو آپریشن کو امریکہ کے ’’ڈو مور‘‘ مطالبہ پر عمل قرار دینے پر پاکستان کی طرف سے ناپسندیدگی سامنے آئی تھی جس کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں پاک فوج کو غیر مشروط خراج تحسین پیش کیا تھا۔ پاکستانی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اسے ایک مثبت پیغام کہا تھا۔

دہشت گردوں نے کیٹیلین کولمین، جوشوا بوئل اور ان کے بچوں کی رہائی کے دو روز بعد کرم ایجنسی میں اس پاکستانی دستے کو دستی بموں کے ذریعے نشانہ بنایا تھا جو اس ریسکیو آپریشن میں شریک ہوا تھا۔ اس حملہ میں پاک فوج کے ایک کیپٹن سمیت چار افسر شہید ہو گئے تھے۔ پاکستان امریکی کینیڈین جوڑے کی رہائی کو دہشت گردی کے خلاف اپنے غیر متزلزل عزم کا حصہ قرار دیتے ہوئے بجا طور سے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مناسب معلومات ملنے پر وہ فوری کارروائی کرنے پر آمادہ رہتا ہے۔ امریکہ کے دورہ کے دوران وزیر خارجہ خواجہ آصف نے یہ پیشکش بھی کی تھی کہ امریکہ کو اگر بعض گروہوں پر شبہ ہے کہ وہ پاکستانی علاقوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں تو وہ معلومات فراہم کرے پاکستانی فوج فوری کارروائی کرے گی۔ گزشتہ ہفتہ کے دوران امریکی کینیڈین شہریوں کو رہا کروانے کے اقدام کو اسی سلسلہ میں پاکستانی پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا تھا۔ تاہم صدر ٹرمپ کے ’’ڈو مور‘‘ تسلیم کرنے کے دعویٰ کے بعد اب نیویارک ٹائمز کی رپورٹ نے پاکستان اور اس کی فوج کی پوزیشن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس رپورٹ کے ذریعے امریکی حکام نے واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان نے رضا کارانہ طور پر یا دہشت گردی کے خلاف اپنی کمٹمنٹ کی وجہ سے نہیں بلکہ امریکی دھمکی کے نتیجہ میں یہ کارروائی کی تھی کیونکہ دوسری صورت میں امریکی نیوی سیل کارروائی کرکے اس خاندان کو رہا کرواتے لیکن اس کی تفصیلات پاکستانی فوج کے لئے خفت اور توہین کا سبب بنتیں۔

پاکستانی حکومت ابھی تک اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کے حوالے سے ہونے والے امریکی حملہ کے بارے میں تفصیلات سامنے لانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ ایبٹ آباد کمیشن نے سال بھر کی محنت کے بعد جو رپورٹ تیار کی تھی، اسے شائع کرنا مناسب نہیں سمجھا گیا۔ اس دوران مختلف امریکی ذرائع اور صحافیوں کے توسط سے معلومات سامنے آتی رہی ہیں۔ ان سے کوئی واضح تصویر بنانا ممکن نہیں ہے لیکن افواہوں اور شبہات میں اضافہ ضرور ہوا ہے۔ ان رپورٹوں کے مطابق پاکستانی انٹیلی جنس کے اعلیٰ حلقوں کو اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کا علم تھا۔ صدر ٹرمپ انتخابی مہم کے دوران یہ دعویٰ بھی کر چکے ہیں کہ پاکستان نے دنیا کے سب سے زیادہ مطلوب دہشت گرد کو پناہ دی ہوئی تھی۔ اسی طرح اس سوال کا بھی کوئی واضح جواب سامنے نہیں آیا کہ امریکی فوج کس طرح کسی رکاوٹ کے بغیر ایبٹ آباد آنے اور وہاں ایک عمارت میں مقیم اسامہ بن لادن کو ہلاک کرکے اس کی لاش ساتھ لے جانے میں کامیاب ہوئی۔ یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کیا پاکستانی فوج نے اس حملہ کےلئے سہولت فراہم کی تھی یا وہ اپنی ہی سرزمین پر اس امریکی عسکری کارروائی کے بارے میں بے خبر تھی۔

دونوں صورتوں میں پاک فوج اور حکومت کو یہ جواب دینا ہے کہ غفلت یا درپردہ معاونت کا کیا سبب تھا۔ ایبٹ آباد مین اسامہ بن لادن کی موجودگی کا سراغ لگانے میں مدد دینے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پاکستانی حکام نے گرفتار کیا ہوا ہے جبکہ امریکہ میں انہیں ہیرو کا درجہ حاصل ہے اور امریکی حکومت ان کی رہائی کا مطالبہ کرتی رہتی ہے۔ پاکستان میں شکیل آفریدی کو عام عدالت میں پیش کرنے کی بجائے شدت پسندوں کی حمایت کے الزامات میں قبائلی انتظام کے تحت قائم عدالت سے طویل المدت سزا دلوائی گئی ہے۔ پاکستان ابھی تک ڈاکٹر شکیل آفریدی کے خلاف اپنے غم و غصہ کی وضاحت کرنے میں بھی ناکام رہا ہے۔ انہوں نے اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے میں مدد فراہم کرکے پاکستانی فوج کے اہداف کو نقصان پہنچایا تھا یا ان کا یہ عمل اس مقصد کےلئے تھا جس پر پاکستانی فوج بھی کاربند ہے۔ تاہم شکیل آفریدی نے امریکی سی آئی اے کو معلومات فراہم کیں لیکن پاکستان کو بے خبر رکھا۔ اس الزام کی صورت میں پاکستان کو اس کا اظہار کرنے اور علی الاعلان الزام عائد کرنے کی ضرورت ہے۔ غیر واضح موقف اور معلومات کو خفیہ رکھنے کے نتیجہ میں عوام میں شبہات پیدا ہوتے ہیں اور عالمی سطح پر پاکستان کی شہرت کو نقصان پہنچتا ہے۔

گزشتہ ماہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئی افغان پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان پر شدید تنقید کی تھی اور اس پر انتہا پسندوں کی اعانت کا الزام عائد کیا تھا۔ امریکی صدر کا موقف تھا کہ پاکستان اپنا طرز عمل تبدیل کرے وگرنہ اسے اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ اس حوالے سے مبصروں کا خیال تھا کہ امریکہ پاکستان کی سول اور فوجی امداد بند کرنے کے علاوہ اس کی نان نیٹو حلیف کی حیثیت بھی ختم کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈرون حملوں میں اضافہ اور پاک افغان سرحدوں پر دباؤ بڑھانے کی قیاس آرائیاں بھی سامنے آئی تھیں۔ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ پاکستان کو امداد نہیں بلکہ دہشت گردی کی جنگ میں اپنی خدمات کا اعتراف چاہئے۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ پاک فوج نے دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ کی ہے۔ اب اس سے مزید اقدامات کرنے کا مطالبہ کرنے کی بجائے امریکہ اور دنیا کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی تیز کرنی چاہئے۔ جنرل باجوہ کے اس بیان کو امریکہ کے ’’ڈو مور‘‘ کے مطالبہ کو مسترد کرنے کا اعلان قرار دیا جا رہا تھا۔ بعد میں قومی اسمبلی نے بھی انہی خطوط پر امریکی صدر کی نئی پالیسی کے خلاف قرارداد منظور کی تھی۔ پاکستانی حکومت بھی اب امریکہ سے یہی مطالبہ کر رہی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اس کی خدمات کو تسلیم کیا جائے اور الزام تراشی کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔

ایک امریکی کینیڈین خاندان کو بحفاظت بازیاب کروانے کے قابل قدر اقدام کے بعد امریکی دباؤ کے بارے میں اہم امریکی اخبار کی رپورٹ اس تناظر میں کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ حکومت کے علاوہ پاک فوج کو بھی یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ کوئی فیصلہ اور اقدام امریکہ کے دباؤ میں نہیں کرتی بلکہ دہشت گردوں کے خلاف اس کا عزم واضح اور دو ٹوک ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی عوام یہ جاننے کا حق بھی رکھتے ہیں کہ اگر امریکہ نے پاکستانی سرزمین پر کسی عسکری اقدام کی کوشش کی تو ڈرون حملوں کی طرح انہیں قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہ وضاحت سامنے نہ آنے کی صورت میں نیویارک ٹائمز کی رپورٹ پاک فوج کی شہرت اور کارکردگی پر سنگین سوال کے طور پر موجود رہے گی۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...