’’باوردی سیاستدانوں‘‘ کے ہوتے جمہوریت محفوظ نہیں

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 14 2017

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے آج ایک سیاستدان کی طرح وزیر داخلہ احسن اقبال کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان کے اس الزام کو مسترد کیا کہ فوج کے ترجمان جب غیر ذمہ دارانہ بیان دیتے ہیں تو عالمی سطح پر پاکستان کی شہرت کو نقصان پہنچتا ہے۔ جس طرح احسن اقبال نے ایک اچھے سیاستدان کے طور پر ملک سے باہر ہونے کے باوجود ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں میجر جنرل آصف غفور کی باتوں کا نوٹس لینا ضروری سمجھا تھا، اسی طرح آئی ایس پی آر کے سربراہ نے بھی آج اس کا ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر گلاس آدھا بھرا ہو تو کیا یہ فکر نہیں کرنی چاہئے کہ آدھا گلاس خالی بھی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی جتایا ہے کہ وہ بطور سپاہی اور پاکستانی شہری وزیر داخلہ کے بیان سے مایوس ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ واضح کرنا بھی ضروری سمجھا ہے کہ وہ کوئی بھی بات ذاتی حیثیت میں نہیں کرتے بلکہ فوج کے ترجمان کے طور پر کہتے ہیں۔ گویا انہوں نے وزیر داخلہ احسن اقبال کو متنبہ کیا ہے کہ جب وہ آئی ایس پی آر کے سربراہ کی باتوں کو غیر ذمہ دارانہ کہتے ہیں تو دراصل وہ فوج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ دلیل اور جوش خطابت میں میجر جنرل آصف غفور منجھے ہوئے سیاستدان احسن اقبال پر بازی لے گئے۔ لیکن انہوں نے یہ سیاسی باتیں فوج کی یونیفارم پہن کر، فوج کے ترجمان کے طور پر کی ہیں۔ کسی بھی جمہوری انتظام میں انہیں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ وزیر داخلہ کے ساتھ سیاسی میچ برابر کرنے کےلئے ضروری تھا کہ میجر جنرل آصف غفور فوج سے علیحدگی اختیار کرکے دو سال کی قانونی مدت پورے کرنے کے بعد یہ گفتگو کرتے تو ان کو سراہنے کےلئے دو تالیاں ہم بھی بجاتے۔

پاکستان میں جمہوریت اور سیاسی حکومت کا سب سے بڑا قضیہ ہی یہ ہے کہ یہ مسلح افواج کی مرضی و منشا کی محتاج ہو چکی ہے۔ فوج اور اس کے ادارے اب درپردہ اشارے کرنے، بند کمروں میں ہونے والے اجلاس میں اظہار خیال کرنے اور مشورے دینے سے بڑھ کر کھلم کھلا اپنی مرضی و منشا کا اظہار کرکے اس پر اصرار کرنے لگے ہیں۔  وہ یہ تسلیم نہیں کرتے کہ ان کی صلاحیت کا میدان عسکری ہے اور سیاست ہو یا معیشت، سماجی معاملات ہوں یا ملک کا تعلیم اور صحت کا شعبہ ۔۔۔۔۔ اس کے بارے میں غور کرنے اور فیصلے کرنے کا حق اور اختیار عوام کے منتخب نمائندوں کو پارلیمنٹ کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ جمہوری فیصلوں کا اطلاق منتخب سیاسی حکومت کے ذریعے ہوتا ہے۔ ان فیصلوں میں فوج ریاست کے ایک ادارے کے طور پر ضرور شامل ہو سکتی ہے لیکن وہ اپنی مرضی کے فیصلوں پر اصرار نہیں کر سکتی۔ فوج نے اپنی عسکری قوت، سیاسی پارٹیوں کے سر پھٹول، میڈیا پر کنٹرول اور مک میں پائی جانے والی اس بے یقینی کی بنیاد پر کہ فوج کسی بھی وقت اقتدار پر قبضہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، منتخب حکومتوں پر واضح اور فیصلہ کن بالا دستی حاصل کی ہے۔ یہ بالا دستی کسی بھی قانون اور آئین کے مطابق نہیں ہے۔ یہ صریحاً زور زبردستی ہے لیکن سیاستدان کمزور اور فوج منظم ہے۔ سیاسی پارٹیاں باری لینے کےلئے کوئی بھی سمجھوتہ اور اصولوں سے انحراف پر تیار رہتی ہیں جبکہ فوج ایک عسکری ادارہ ہونے کی وجہ سے ڈسپلن کی پابند ہے اور اپنے سربراہ کا ہر حکم کو بجا لاتی ہے۔ فوج جانتی ہے کہ بطور ادارہ وہ سیاسی حکومتوں پر حاوی رہنے کےلئے کوئی بھی ہتھکنڈہ اختیار کرے تو اسے چیلنج کرنے والی قوتیں یا تو موجود نہیں ہیں یا بے حد کمزور ہیں۔ اسی لئے ملک میں ہر سیاسی بحران کی بنیاد صرف یہ اندیشے ہوتے ہیں کہ فوج کی قیادت ملک کے سیاسی حکمرانوں سے کس حد تک متفق ہے یا اختلاف رکھتی ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے فرمایا ہے کہ فوج نہ تو ٹیکنو کریٹس کی حکومت بنا رہی ہے اور نہ جمہوریت کو فوج سے کوئی خطرہ ہے۔ بلکہ جمہوریت کو اگر کوئی خطرہ ہے تو جمہوریت کے تقاضے پورے نہ کرنے سے ہے۔ ایک ’’ماہر سیاستدان‘‘ کی طرح آئی ایس پی آر کے سربراہ نے اس بات کی مزید وضاحت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ حالانکہ جس طرح وہ معیشت کے آدھے خالی گلاس کی ضرورت کو سمجھنے اور اسے بھرنے کے حوالے سے ملک میں ٹیکس دہندگان کی شرح کے اعداد و شمار پیش کر رہے تھے، اسی طرح انہیں یہ بھی بتا دینا چاہئے تھا کہ آخر جمہوریت کے کون سے تقاضے پورے نہ ہونے سے ملک میں کوئی ایسی آفت برپا ہونے والی ہے کہ یہ نظام ہی لپیٹا جا سکتا ہے۔ کیا کوئی احتجاجی تحریک اس قدر موثر اور طاقتور ہے جو حکمرانوں سے عوامی مفادات کے برعکس کام کرنے پر حساب مانگ رہی ہے اور جواب نہ ملنے پر حکومت کا ناطقہ بند کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یا لوگوں کے مختلف گروہوں میں فسادات کی وجہ سے یہ اندیشہ لاحق ہو چکا ہے کہ جمہوری نظام ختم ہو سکتا ہے۔

یہ دلیل دینا مقصود نہیں ہے کہ ملک کی جمہوری منتخب حکومتیں عوام کی توقعات پوری کرنے میں کامیاب رہی ہیں لیکن یہ بات کہہ دینا بے حد ضروری ہے کہ ملک کی 70 سال کی تاریخ میں کوئی منتخب حکومت کسی عوامی احتجاج یا سول انارکی کی وجہ سے ناکام نہیں ہوئی بلکہ ہر بار کسی بدنیت فوجی جرنیل نے عوام کے حق حکمرانی پر ڈاکہ ڈالا اور یہ دعویٰ کیا کہ وہ سیاستدانوں سے بڑھ کر ملک کو بہتر نظام اور انصاف فراہم کر سکتا ہے۔ ہر بار ملک کے عوام نے ایسے فوجی حکمران کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھا اور ایوب خان سے لے کر پرویز مشرف تک ہر فوجی حکمران اپنا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہا۔ اگر فوجی حکومتوں نے ملک کی معیشت کے آدھے گلاس کو بھر دیا ہوتا تو میجر جنرل آصف غفور کو یقین ہونا چاہئے کہ ملک کے لوگ کبھی سیاسی لیڈروں کی بات پر دھیان نہ دیتے اور فوج کو ہی حق حکمرانی تفویض کرکے خوشی و اطمینان کی زندگی گزارتے۔ اس کے برعکس یہ سچ تاریخ کے اوراق کا حصہ ہے کہ فوجی حکمران نہ معیشت بہتر کرسکے اور  نہ ملک سے غربت اور احتیاج کو ختم  کرسکے لیکن اپنی عاقبت نااندیشی، سیاسی کم فہمی اور بدانتظامی کے سبب ملک کو آدھا کرنے میں ضرور کامیاب ہوئے۔

فوجی حکومتوں کی ناکامی میں صرف آئینی حکومتوں کا تختہ الٹنے والے جرنیلوں کی بدنیتی ہی کو عمل دخل نہیں ہے۔ ملک میں بار بار فوجی حکومت کے ناکام ہونے سے یہ سبق ملتا ہے کہ فوج کا ادارہ سیاسی معاملات طے کرنے اور امور حکومت چلانے کی صلاحیت اور اہلیت نہیں رکھتا۔ اس کی مہارت سرحدوں کی حفاظت اور ملک کو سکیورٹی فراہم کرنا ہی ہے۔ اسے اسی پر توجہ دینی چاہئے۔ جہاں تک سیاستدانوں کی بے اعتدالی اور ناکامیوں کا تعلق ہے تو عوام جمہوری حق انتخاب کے ذریعے اور نظام، آئین کے تحت استوار کئے گئے اداروں کے ذریعے ان سے حساب لے سکتا ہے۔ اس صلاحیت کا مظاہرہ سپریم کورٹ نے 28 جولائی کو ملک کے مقبول منتخب وزیراعظم کو نااہل قرار دے کر کیا بھی ہے۔ نواز شریف نہ صرف یہ کہ اپنے عہدے سے محروم ہو چکے ہیں بلکہ وہ احتساب عدالت میں اپنے خلاف قائم مقدمات کا سامنا بھی کر رہے ہیں۔

یہ سب کچھ بہت اعلیٰ طریقہ سے انجام نہیں پا رہا ہے۔ لیکن ملک میں جمہوریت کی نوک پلک سنورنے میں بھی ابھی بہت وقت لگے گا۔ اس نظام کو بہت بہتر ہونا ہے۔ یہ اسی صورت میں بہتری کی طرف قدم بڑھا سکتا ہے اگر اسے غیر قانونی اور غیر آئینی ہتھکنڈوں سے خطرہ لاحق نہ ہو۔ ملک میں جمہوریت صرف اس صورت میں پروان چڑھ سکتی ہے جب یہ بات بھی پتھر پر لکیر کی طرح یقینی ہو کہ فوج کسی صورت آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جمہوری نظام کو معطل نہیں کرے گی۔ یہ یقین موجود نہ ہونے ہی کی وجہ سے ملک کے وزیراعظم کو یہ یاد دلانا پڑتا ہے کہ یہ ملک صرف جمہوری نظام میں ہی ترقی کر سکتا ہے اور میجر جنرل آصف غفور کے بقول آرمی چیف کو بار بار یہ کہنا پڑتا ہے کہ فوج حکومت الٹنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ یہ بے یقینی کی کیفیت جس میں آرمی چیف اور وزیراعظم کو بار بار جمہوریت کے تسلسل کی بات کرنا پڑتی ہے، دراصل ملک کے جمہوری انتظام کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ یہ بے یقینی فوج کے غیر واضح موقف کی وجہ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ جیسا کہ میجر جنرل آصف غفور نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ملک میں جمہوریت جاری رہے گی اور کامیاب ہوگی بلکہ واضح کیا ہے کہ یہ جمہوری تقاضے پورے نہ ہونے کی صورت میں ہی ناکام ہوگی۔ فوج اس کی وجہ نہیں بنے گی۔ ملک کی تاریخ میں حکومت سنبھالنے والے کسی فوجی جنرل نے یہ کہتے ہوئے حکومت نہیں سنبھالی کہ وہ اپنی طاقت کی بنا پر برسر اقتدار آنے کی خواہش رکھتا ہے بلکہ ہر بار اس کی وجہ سیاستدانوں کی ناکامی، عوام کی خواہش اور ملک کو لاحق خطرات کو قرار دیا گیا۔ یہ سچ بھی تاریخ کے اوراق کا حصہ ہے کہ ہر بار فوج ہی کی مداخلت اور درپردہ ڈوریاں ہلانے کی حکومت عملی کی وجہ سے حالات دگرگوں ہوئے تھے، جنہیں سیاستدانوں کے اعمال نامہ میں ڈال کر فوجی حکومت کا ڈول ڈالا گیا۔

ملک کے سیاستدانوں میں بے شمار کمزوریاں ہیں اور نظام بھی پوری طرح عوام کی ضرورتیں پوری کرنے سے قاصر ہے۔ لیکن اس بات میں بھی کوئی شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ ان حالات کی اصلاح کےلئے فوج کے پاس بھی کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے۔ بلکہ بحران اور کھینچا تانی کی صورتحال پیدا ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ فوج حکومت میں نہ ہوتے ہوئے بھی سیاستدانوں کو اپنی مرضی کے مطابق معاملات طے کرنے کا حق دینے کےلئے تیار نہیں ہے۔ فوج بوجوہ یہ سمجھنے لگی ہے کہ صرف وہی ملک کے حالات کو درست کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس لئے منتخب حکومتوں کو پارلیمنٹ کی مرضی اور اپنی خواہش کی بجائے فوجی قیادت کی رہنمائی میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ میجر جنرل آصف غفور جس فوج کے نمائندہ ہیں، اگر وہ آئین کی بالا دستی اور قانون کے احترام کو یقینی بنانا چاہتی ہے تو اسے سول حکومت کو اپنے شکنجے سے آزاد کرنا ہو گا۔ اسے ڈکٹیشن دینے کا رویہ ترک کرنا ہوگا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ معیشت کی ناکامیوں کا الزام سیاستدان برداشت کریں اور پتھر پھینکنے والوں میں فوج بھی شامل ہو اور کامیابی کی صورت میں سہرا اپنے سر سجا لیا جائے۔ قانون کا احترام عام کرنے کےلئے ضروری ہے کہ وزیر دفاع کو اپنی وزارت کی ماتحتی میں کام کرنے والے آرمی چیف سے ملاقات کےلئے جی ایچ کیو میں حاضری نہ دینی پڑے اور وزیراعظم کو بار بار یہ یقین نہ دلانا پڑے کہ حکومت فوج کی مرضی کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھائے گی۔

جب بیرون مک سے آنے والے لیڈر اپنے مفادات کی ضمانت حاصل کرنے کےلئے سیاسی لیڈروں کے ساتھ ساتھ فوجی قیادت سے ملنے کی ضرورت محسوس نہیں کریں گے تو یہ کہا جا سکے گا کہ فوج نے سیاست چھوڑ کر عسکری خدمت کا  حقیقی کام انجام دینا شروع کر دیا ہے۔ بصورت دیگر ’’فوجی وردی میں ملبوس سیاستدان‘‘ حکمرانی کے اصول سمجھاتے رہیں گے اور جمہوریت مسلسل ان کے رحم و کرم پر رہے گی۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...