پاکستان کے پتے اچھے لیکن کامیابی دور ہے

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 09 2017

امریکہ کے وزیر خارجہ اور وزیر دفاع آئندہ چند ہفتوں کے دوران پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔ یہ دورے واشنگٹن سے سامنے آنے والے ان اشاروں کے بعد ہونے والے ہیں جن میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ امریکہ پاکستان کو تنہا کرنے کی بجائے اسے ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہے تاکہ افغانستان میں قیام امن کےلئے مل کر کام کیا جا سکے۔ تاہم یہ بات بھی واضح ہے کہ امریکہ مسلسل پاکستان پر دباؤ میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تاکہ اسے اپنی من مانی پر مجبور کیا جا سکے۔ دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے گزشتہ ماہ نئی افغان پالیسی میں دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کا سارا بوجھ پاکستان پر ڈالنے کی وجہ سے پاکستان کی فوج اور سیاسی قیادت نے یکساں سخت موقف اختیار کیا تھا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح کیا گیا تھا کہ اب پاکستان سے ’’ڈو مور‘‘ کا مطالبہ کرنے کی بجائے دنیا کو دہشت گردی کے خلاف کردار ادا کرنا ہوگا۔ قومی اسمبلی نے بھی انہی خطوط پر ایک قرار داد منظور کرتے ہوئے امریکی مطالبات کو مسترد کر دیا تھا۔ گزشتہ ہفتہ کے دوران وزیر خارجہ خواجہ آصف نے واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات میں پاکستان کے تحفظات کا ذکر کیا۔ پاکستان کو بنیادی طور پر دو باتوں پر اعتراض ہے۔ ایک تو یہ کہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے کے باوجود اس کی خدمات کا اعتراف کرنے کی بجائے اس پر انگلی اٹھائی جاتی ہے۔ دوسرے امریکہ اگر افغانستان میں حالات سے نمٹنے کےلئے وہاں بھارت کے اثر و رسوخ میں اضافہ کا سبب بنے گا تو یہ براہ راست پاکستان کے مفادات پر چوٹ ہوگی اور امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات متاثر ہوں گے۔

ان دونوں سوالوں پر امریکہ کی طرف سے ملے جلے تاثرات سامنے آئے ہیں۔ ایک طرف پاکستان کے خلاف الزامات کو برقرار رکھتے ہوئے امریکی فوج کے کمانڈر نے سینیٹ میں یہ دعویٰ کیا کہ آئی ایس آئی کے طالبان دہشت گردوں کے ساتھ روابط ہیں تو دوسری طرف وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن اور وزیر دفاع جیمز میٹس نے پاکستان کے ساتھ تعاون کےلئے بات چیت جاری رکھنے اور مل کر افغانستان کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے بدستور صورتحال غیر واضح ہے اور یہ صاف دکھائی نہیں دیتا کہ امریکہ آخر چاہتا کیا ہے۔ اسی لئے ٹرمپ کی افغان پالیسی کے حوالے سے افغناستان میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے اور بعض افغان لیڈروں نے یہ اشارے دیئے ہیں کہ امریکہ افغانستان کو ایک نئی جنگ میں جھونکنا چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی صدر اشرف غنی نے پاکستان سے مذاکرات کرنے اور مصالحانہ طریقے سے مسائل حل کرنے کی بات تواتر سے کی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں بھی پاکستان کے ساتھ مذاکرات کو ضروری قرار دیا۔ اس کا مثبت جواب دیتے ہوئے پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک اعلیٰ سطحی کے وفد کے ساتھ کابل کا دورہ کیا اور افغان لیڈروں کو قیام امن کےلئے پاکستان کے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ تاہم اس دورے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بھارت افغان سرزمین سے پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ اس کے علاوہ جب افغانستان کے نصف حصے پر طالبان کا قبضہ ہے اور افغان حکومت یا امریکی فوج ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے میں کامیاب نہیں ہے تو صرف پاکستان پر طالبان کی سرپرستی کرنے کا الزام عائد کرکے کوئی مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
 
بظاہر افغانستان اور پاکستان طالبان سے نمٹنے کے سوال پر اختلافات کا شکار نظر آتے ہیں لیکن چند ماہ پہلے کے مقابلے میں کابل سے پاکستان کے حوالے سے مثبت اشارے موصول ہوئے ہیں جو مذاکرات اور کسی افہام و تفہیم کا راستہ ہموار کر سکتے ہیں۔ لیکن اس حوالے سے امریکہ اور بھارت کا کردار اہم ہوگا۔ اگر یہ دونوں ملک باہمی اشتراک عمل میں پاکستان کو تنہا کرنے کےلئے دباؤ میں اضافہ کرنے کی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں تو افغان حکومت کو بھی اس حوالے سے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ اس طرح پاکستان اور افغانستان خواہ کتنی ہی نیک نیتی سے باہمی اختلافات ختم کرنے اور دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے کےلئے اقدامات کریں، امریکہ کی درپردہ اور بھارت کی عملی کوششوں کی وجہ سے یہ دونوں ملک کوئی قابل عمل اور باہمی طور سے قابل قبول لائحہ عمل تیار کرنے اور اس پر عمل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اسی لئے امریکہ کے ساتھ پاکستان کی مفاہمت اور اہم امور پر اتفاق رائے ضروری ہے۔
 
موجودہ صورتحال میں یہ اتفاق رائے پیدا ہونے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔ کیونکہ امریکہ کی جنوبی ایشیا کے بارے میں پالیسی اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو امریکہ کے بھارت کے ساتھ تعلقات اور چین کے بارے میں حکمت عملی سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ فی الوقت امریکہ کے ترجمان صرف افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے ہی پاکستان کے کردار پر شبہات کا اظہار کرتے رہے ہیں لیکن گزشتہ روز سینیٹ میں وزیر دفاع جیمز میٹس نے سی پیک کے حوالے سے یہ بیان دے کر کہ یہ شاہراہ متنازعہ علاقہ سے گزرے گی، اس لئے اس پر امریکہ کو تحفظات ہیں ۔۔۔۔۔ دراصل یہ واضح کیا ہے کہ پاکستان پر دباؤ ڈالنے کا ایجنڈا دراصل بالواسطہ طور سے چین کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس صورت میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرتے ہوئے امریکہ کا موقف کمزور ہوگا اور وہ پاکستان سے اپنی بات منوانے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ کیونکہ سی پیک کے ذریعے اگر چین اپنے ون بیلٹ ون روڈ کے عالمگیر مواصلاتی منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتا ہے تو پاکستان بھی اس منصوبہ کے تحت ہونے والی سرمایہ کاری کے ذریعے ملک میں معاشی احیا کا خواب دیکھ رہا ہے۔ یہ امکان موجود ہے کہ سی پیک کا ذکر کرکے دراصل امریکہ پاکستان سے طالبان اور بعض بھارت دشمن گروہوں کے خلاف مراعات حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہو لیکن امریکی وزیر دفاع کی طرف سے علی الاعلان سینیٹ کمیٹی میں اس کا ذکر وسیع تر امریکی ایجنڈے کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔
 
امریکہ نے اگر اس حکمت عملی پر اصرار کیا اور پاکستان کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی تو موجودہ حالات میں اس کی کامیابی کا امکان نہیں ہے۔ البتہ امریکہ بھارت کی حوصلہ افزائی، افغانستان میں پاکستان دشمن قوتوں کی سرپرستی اور عالمی سطح پر سفارتی دباؤ کے ذریعے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ضرور کر سکتا ہے۔ پاکستان کو بھی اس صورتحال کا اندازہ ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک عرب میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگرچہ پاکستانی فوج زیادہ تر امریکی ہتھیاروں پر انحصار کرتی ہے لیکن پاکستان امریکی فوج امداد کے بغیر بھی گزارہ کر سکتا ہے۔ اس سے ہمارے وسائل پر بوجھ پڑے گا لیکن ہم اب سو فیصد امریکہ پر انحصار نہیں کرتے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے متنبہ کیا کہ ایسی صورتحال پیدا ہونے پر پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ دراصل امریکہ کو انتباہ ہے کہ اگر پاکستان پر پابندیاں لگانے اور بھارت کی یک طرفہ حمایت کا سلسلہ جاری رہا تو اس سے خود امریکی ایجنڈا ہی متاثر ہو گا۔
امریکہ اس بات سے آگاہ ہے کہ پاکستان کو تنہا کرکے وہ افغانستان میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ جنوبی ایشیا ، بحر ہند اور بحر جنوبی چین میں امریکی مفادات سے قطع نظر امریکہ کی پہلی ترجیح افغانستان سے نجات حاصل کرنا ہے۔ اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے اور افغانستان کے مختلف گروہوں میں کوئی معاہدہ طے کروانے کےلئے پاکستان کی ضرورت اور اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ البتہ فی الوقت یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ واشنگٹن کے پالیسی ساز یہ قیاس کرنے کی غلطی کر رہے ہیں کہ وہ پاکستان کو دباؤ میں لا کر اپنی ہر بات منوا سکتے ہیں۔ اس امریکی پالیسی پر بھارتی مفادات کے نشان محسوس کرنا مشکل نہیں ہے۔ خاص طور سے مقبوضہ کشمیر میں بھارت جس طرح انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے اور امریکہ جیسے مسلسل انہیں نظر انداز کرکے صرف بھارتی ایجنڈے کے مطابق پاکستان کو کونے میں لگانے کے اشارے دے رہا ہے، اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ صدر ٹرمپ کی حکومت فی الوقت بھارتی سحر میں مبتلا ہے اور یہ سمھنے سے قاصر ہے کہ برصغیر کے پیچیدہ تعلقات میں امریکی بہتری کس قسم کی حکمت عملی اختیار کرنے میں ہے۔
 
اس طرح موجودہ حالات میں امریکہ کے مقابلے میں پاکستان کی پوزیشن مستحکم ہے۔ امریکہ نے دباؤ کی یہ  پالیسی جاری ریکھی تو جلد یا بدیر اسے خود ہی پسپائی اختیار کرنا پڑے گی۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک طرف پاکستان کے تعاون سے افغانستان میں امن چاہتے ہیں اور دوسری طرف چین کے تعاون سے شمالی کوریا کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کے سوال پر کسی نتیجہ تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان کی حکومت چین کو محدود کرنے اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کو زک پہنچانے کےلئے اب سی پیک کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس طرح وقتی طور پر پاکستان اور چین پر دباؤ تو ضرور بڑھے گا لیکن اس کے نتیجہ میں امریکہ کا پاکستان اور افغانستان میں اثر و رسوخ محدود ہو سکتا ہے جو وسطی ایشیا کے حوالے سے اس کے وسیع تر مفادات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اسی لئے امریکہ کو بھارت نوازی میں حد سے گزرنے کی بھاری قیمت بھی ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
دوسری طرف مضبوط پوزیشن میں ہونے کے باوجود پاکستان میں پائی جانے والی بے یقینی اس کے موقف کو کمزور کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ ایک طرف ملک کی عدلیہ ملک کے مقبول ترین لیڈر کے خلاف مقدمات کو انجام تک پہنچانے میں شدت پسندی کا مظاہرہ کر رہی ہے تو دوسری طرف نواز شریف اپنی پوزیشن بحال کرنے کےلئے ہر ادارے سے تصادم  پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ اہم معاملات پر سول اور فوجی قیادت متفق ہے لیکن ان کے درمیان اختلافات کی خبریں روز تبصروں، ٹاک شوز اور کالموں کا موضوع ہوتی ہیں۔ اب دبے لفظوں میں یہ باتیں بھی سامنے آنے لگی ہیں کہ فوج کے اندر بھی سول حکومت اور موجودہ نظام کی غیر مشروط حمایت کے حوالے سے مکمل اتفاق رائے نہیں ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ فوج کے بعض طاقتور حلقے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مفاہمانہ پالیسی کے خلاف ہیں۔ اسی لئے گزشتہ دنوں رینجرز نے سول حکومت کے اعلیٰ ترین نمائندوں کی حکم عدولی کرکے اپنی قوت کا مظاہرہ بھی کیا تھا۔
 
امریکی وزیر خارجہ اسی دگرگوں صورتحال کی وجہ سے پاکستانی حکومت کے مستقبل کے بارے میں بے یقینی کا اظہار کر چکے ہیں۔ پاکستان میں سیاسی حکومت کے حوالے سے مسلسل افواہوں کا سلسلہ جاری ہے اور ہر شخص اپنی حیثیت کے مطابق کوئی ’’اندر‘‘ کی خبر کا انکشاف کرکے بے یقینی میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔ ان حالات میں پاکستان کی حکومت امریکہ کے مقابلے میں بہتر کارڈز کے ہوتے ہوئے بھی امریکہ سے اپنی شرائط منوانے میں مشکل کا سامنا کر رہی ہے۔ اسی بے یقینی کی وجہ سے ملک کی معاشی حالت متاثر ہو رہی ہے اور سی پیک کے منصوبوں پر وسائل کی ترسیل بھی رکی ہوئی ہے۔ اسی کے نتیجے میں پاکستانی روپے پر مسلسل دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن پاکستانی ریاست کے مختلف کل پرزے اس صورتحال سے لاتعلق اپنی اپنی حکمت عملی کو مسلط کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ اسی لئے پاکستان کی صورتحال کو بعض مبصر ایسے کرکٹ میچ کے مماثل قرار دیتے ہیں جس میں پاکستانی ٹیم کوئی گیم پلان نہ ہونے کی وجہ سے جیتا ہوا میچ ہار جاتی ہے۔
آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...