جنگ کی باتیں، امن کا دعویٰ ۔۔۔۔ پاک فوج چاہتی کیا ہے!

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 05 2017

جب ملک کے سب ہی سیاستدان نئے انتخابی بل میں ختم نبوت کے بارے میں حلف نامہ کو حذف کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں پوائنٹ اسکورنگ میں مصروف تھے اور حکومت نے اس معاملہ کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے ایک نئے ووٹ کے ذریعے مجوزہ حلف نامہ کو نئے قانون کا حصہ بنانے کےلئے اقدام کرنا ضروری سمجھا۔ تاہم اس دوران اسلام آباد سے ہزاروں میل دور واشنگٹن میں پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن سے ملاقات میں یہ وضاحت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ پاکستان نے اچھے اور برے دہشت گرد میں فرق کرنا چھوڑ دیا ہے اور وہ ہر قسم کے گروہوں کے خلاف یکساں تندہی سے مصروف عمل ہے۔ امریکہ کے وزیر خارجہ ان وضاحتوں سے مطمئن ہوئے یا نہیں اس بارے میں کچھ کہنا تو مشکل ہے تاہم بعد میں اخبار نویسوں سے باتیں کرتے ہوئے ریکس ٹلرسن نے پاکستان کو تنہا چھوڑنے کی بجائے اسے ساتھ لے کر چلنے کی حکمت عملی کو ضروری قرار دیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پاکستان میں حکومت کے مستقبل کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اسلام آباد میں ایک مستحکم حکومت ضروری سمجھتا ہے۔ ریکس ٹلرسن جس غیر یقینی صورتحال کو بیان کر رہے تھے، راولپندی میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کے نزدیک وہ غیر اہم معاملہ تھا کیونکہ فوج صرف آئینی تقاضوں کے مطابق اپنے فرائض ادا کر رہی ہے۔

آئی ایس پی آر کے سربراہ نے جی ایچ کیو میں گزشتہ روز 7 گھنٹے تک جاری رہنے والی کور کمانڈرز کی خصوصی کانفرنس کے بعد کوئی پریس ریلیز جاری کرنا ضروری نہیں سمجھا تھا۔ تاہم اس غیر معمولی کانفرنس، آرمی چیف کے دورہ افغانستان اور اس کے بعد پاک فوج کے ترجمان کی خاموشی کی وجہ سے ملک میں چہ میگوئیوں اور قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ اس لئے میجر جنرل آصف غفور نے آج ایک پریس کانفرنس منعقد کرکے اپنا موقف واضح کرنا اور صحافیوں کے سوالوں کے جواب دینا ضروری سمجھا۔ اگرچہ انہوں نے کور کمانڈرز کانفرنس کے بعد پریس ریلیز جاری نہ کرنے کو بھی فوج کی اعلیٰ حکمت عملی کا نمونہ قرار دیا اور کہا کہ خاموشی بھی بعض اوقات بہت اچھا اظہار ہوتا ہے۔ لیکن وہ یہ وضاحت کرنے میں ناکام رہے کہ کل اختیار کی گئی خاموشی کو آج بھرپور پریس کانفرنس کے ذریعے توڑنے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی اور دس پندرہ گھنٹوں کی خاموشی سے پاکستان کے لوگوں، حکمرانوں اور عالمی دنیا کو کیا نیا پیغام دیا گیا تھا۔ تاہم آج پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے جو موقف اختیار کیا اسے مختصر طور سے چند نکات میں بیان کیا جا سکتا ہے:
 
1) فوج کبھی کوئی غلطی نہیں کرتی۔
2) پاک فوج بھارت کو لائن آف کنٹرول پر خلاف ورزیوں کا منہ توڑ جواب دیتی ہے۔
3) پاک فوج امن پسند ہے لیکن بھارت شرارت سے باز نہیں آتا۔ اس لئے پاک فوج ملک کا دفاع کرنے کےلئے پوری طرح تیار بھی ہے اور اس کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
4) ملک میں اگر کوئی انتہا پسند مذہبی گروہ سیاسی پارٹی مثلاً جماعت الدعوۃ والے ملی مسلم لیگ بنا کر میدان سیاست میں سرگرم ہوئے ہیں تو یہ ان کا حق تھا جس کو ملک کا آئین تحفظ فراہم کرتا ہے۔
5) افغانستان کو سمجھا دیا گیا ہے کہ پاکستان نے ہر قسم کے دہشت گرد گروہوں پر قابو پا لیا ہے اور اب پاکستان میں کسی گروہ کا کوئی ٹھکانہ موجود نہیں ہے۔
6) اصل مسئلہ پاکستان نہیں بلکہ افغانستان کے نصف حصہ پر طالبان کا قبضہ ہے۔ کابل کو یہ بات تسلیم کرنے اور اس کے نتائج کو قبول کرنے کی ضرورت ہے۔
7) امریکہ نے آئی ایس آئی کے دہشت گردوں سے رابطے رکھنے کی جو بات کی ہے، وہ کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ دنیا کی ہر ایجنسی ایسے گروہوں سے رابطے رکھتی ہے۔ پاکستان پر طالبان کی اعانت کا الزام عائد نہیں کیا گیا۔
8) گزشتہ روز جوڈیشل کمپلیکس میں رینجرز کی تعیناتی مقامی سطح پر غلط فہمی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ رینجرز 2014 سے اسلام آباد میں تعینات ہیں اور مختلف مواقع پر انہیں طلب کرنا مقامی حکام کی ذمہ داری ہے۔ اس حوالے سے رینجرز کو خط بھی ملا تھا اور بعض اوقات زبانی بھی پیغام دیا جا سکتا ہے۔ یعنی وزارت داخلہ جو اعلان کر رہی ہے کہ نواز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر رینجرز کو طلب نہیں کیا گیا تھا، فوج اس سے متفق نہیں ہے۔
9) رینجرز جب ڈیوٹی پر ہوتے ہیں تو ضروری کلیرنس کے بغیر کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں دیتے خواہ ایسا کرنے والا آرمی چیف ہی کیوں نہ ہو۔ اس لئے اس موقع پر رینجرز کی ’’مستعدی‘‘ کی تعریف کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ اس پر نکتہ چینی کی جائے۔

پاک فوج کے ترجمان کے اس بھرپور بیان کو اگر ملکی حکومت کے موقف اور عالمی سطح پر عائد ہونے والے الزامات کی روشنی میں دیکھا جائے تو صرف یہی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ فوج بدلتے ہوئے حالات اور سامنے آنے والی نکتہ چینی سے کچھ سیکھنے کا ارادہ نہیں رکھتی ہے اور بدستور خود کو درست اور صائب فیصلے کرنے والا ادارہ قرار دینے پر مصر ہے۔ درحقیقت یہی جارحانہ اور غیر مفاہمانہ رویہ ملک کی سیاسی حکومت اور جمہوریت کے مستقبل پر بہت بڑا سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ اسی کا اظہار امریکی وزیر خارجہ نے بھی پاکستانی حکومت کے مستقبل کے بارے میں تشویش کے ذریعے کیا ہے۔ جو بات پاکستان کے عام شہری اور سیاسی تجزیہ کاروں سے لے کر امریکہ کے اعلیٰ ترین سفارت کار کےلئے پریشانی کا سبب بنی ہوئی ہے۔ اگر پاکستانی فوج اس پر غور کرنے اور اس کے بارے میں مدلل بات کرنے کےلئے تیار نہیں ہوگی تو اس سے بے یقینی اور ملک کے نظام اور وجود کے مستقبل کے بارے میں نت نئے سوال ضرور سامنے آئیں گے۔ فوج کے ترجمان اسے کسی دوسرے ملک کا بیانیہ یا دشمن ملک کا پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کر سکتے ہیں لیکن اس طرح بے یقینی کے علاوہ فوج کے کردار کے بارے میں شبہات میں اضافہ ہوگا۔

خاص طور سے جب ایک فوجی ادارہ کھلم کھلا ملک کے وزیر داخلہ کی توہین کا مرتکب ہوتا ہے اور وزارت داخلہ قرار دے رہی ہے کہ رینجرز کسی اختیار اور اتھارٹی کے بغیر جوڈیشل کمپلیکس پہنچے تھے اور ڈی جی رینجرز کو اس کی وضاحت کرنی چاہئے۔ لیکن پاک فوج کے ترجمان اسے فوج کی فرض شناسی اور مستعدی قرار دے کر تحسین کا مطالبہ کر رہے ہوں تو کون احمق اس بات کو تسلیم کرے گا کہ ملک کی فوج، سول حکومت کی تابع فرمان ہے اور صرف آئینی تقاضوں کے مطابق فرائض سرانجام دینے پر یقین رکھتی ہے۔ میجر جنرل آصف غفور کا بیان درحقیقت ملک کی حکومت کےلئے یہ پیغام ہے کہ فوج تو اپنا راستہ تبدیل نہیں کرے گی۔ حکومت کو ہی نہ صرف احتساب عدالت کے باہر پیش آنے والی ذلت کے ساتھ جینا پڑے گا اور یہ تسلیم بھی کرنا پڑے گا کہ فوج یا اس کا کوئی ذیلی ادارہ تو کوئی غلطی کر نہیں سکتا۔ اس لئے اسے اپنی ہی صفوں میں غلطیوں کا ارتکاب کرنے والے عناصر کو تلاش کرنا چاہئے۔

یہ بیان ایک ایسی فوج کا ترجمان جاری کر رہا ہے جس کے چار سربراہان نے ملک کے مروج آئین اور نظام کو مسترد کیا اور فوجی طاقت کے بل پر طویل عرصہ حکومت کی۔ لیکن فوج پھر بھی یہ تقاضہ کر رہی ہے کہ اس کی اس بات کا یقین کیا جائے کہ وہ آئین کی پابند ہے اور اس سے روگردانی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ لیکن بدقسمتی سے ایسی فوج کے ترجمان کی یہ بات قابل یقین نہیں ہر سکتی جو ماضی میں ملک میں کئے گئے جمہوریت دشمن اقدامات کو مسترد کرنے کا حوصلہ کرنے سے قاصر رہی ہو۔ بلکہ براہ راست اقتدار میں نہ ہوتے ہوئے بھی گزشتہ ایک دہائی کے دوران فوج نے ملک کے معاملات پر اپنی گرفت مضبوط کی ہے، سیاسی جماعتوں میں رسوخ بڑھایا ہے، میڈیا میں اپنے باقاعدہ ترجمانوں کے ذریعے پروپیگنڈا کا ماحول قائم کیا ہے اور بدستور یہ اصرار کیا جا رہا ہے کہ ملک میں سب سے موثر، سب سے زیادہ حب الوطن اور فیصلے کرنے کا مجاز ادارہ فوج ہی ہے۔

عام لوگوں یا ملک کے باخبر صحافیوں کے پاس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی اور ہر قسم کے دہشت گرد گروہوں سے لاتعلقی کے بارے میں فوج کی فراہم کردہ معلومات کے علاوہ سچائی جاننے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ قبائلی علاقے ہوں یا بلوچستان کے متاثرہ حصے، صرف فوج کی نگرانی میں ہی وہاں کا سفر کیا جا سکتا ہے اور وہی دیکھا جا سکتا ہے جو فوج دنیا اور عام پاکستانی شہریوں کو دکھانا چاہتی ہے۔ فوج اس طریقے سے یہ تاثر مستحکم کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ فوج تو اپنا کام پوری دلجمعی سے کرتی ہے لیکن سول حکومتیں اپنے فرائض ادا کرنے میں ناکام ہو رہی ہیں۔ ایسے میں اگر جھل مگسی جیسا کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے جس میں خود کش حملہ آور درجن بھر بے گناہ لوگوں کو ہلاک کرنے کا سبب بنتا ہے تو فوج کی طرف سے اس کی ذمہ داری قبول کرنا یا حکمت عملی میں کسی کمی کا احساس کرنے کی بجائے قومی ایکشن پلان کے بارے میں سول حکومتوں کی کوتاہی کو اس کی وجہ قرار دینا آسان راستہ ہوتا ہے۔ جو فوج رینجرز کی کھلم کھلا دیدہ دلیری اور قانون شکنی کو ان کی فرض شناسی اور مستعدی قرار دینے پر اصرار کرتی ہو، وہ کیوں کر یہ دعویٰ کر سکتی ہے کہ وہ اپنے بنائے ہوئے قواعد و ضوابط کے علاوہ بھی کسی قانون کا احترام کرتی ہے۔

یہی افسوسناک رویہ آئی ایس آئی اور دہشت گرد گروہوں کے روابط کے بارے میں اختیار کیا گیا ہے۔ میجر جنرل آصف غفور کہتے ہیں کہ امریکی سینیٹ میں جن رابطوں کی گونج سنائی دے ہے، وہ ہر خفیہ ایجنسی کےلئے معمول کی بات ہے۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ امریکی صدر سے لے کر فوجی کمانڈر تک یہ اصرار کر رہے ہیں کہ پاکستان بدستور ان دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرتا ہے جو افغانستان میں اس کے مفادات کا تحفظ کرنے کےلئے ضروری سمجھ لئے گئے ہیں۔ پاکستان پر دو ٹوک الفاظ میں یہ الزام عائد ہے کہ وہ افغان طالبان کی قیادت کو پناہ دیتا ہے اور افغانستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی پاکستان میں ہی کی جاتی ہے۔ اب دشمن ہی نہیں ، دوست ملک بھی یہ قرار دینے لگے ہیں کہ جماعت الدعوۃ (لشکر طیبہ) اور جیش محمد جیسے گروہوں کی سرپرستی مشکلات پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ لیکن فوج کے ترجمان ملی مسلم لیگ کے اچانک قیام اور ایک موثر سیاسی قوت کے طور پر ابھرنے میں فوج کے کسی کردار کو تسلیم کرنے کی بجائے اسے شہریوں کا بنیادی حق قرار دے رہے ہیں۔

کیا پاک فوج واقعی یہ سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکی ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران جو فصل کاشت کی گئی تھی، اب اس سے پیدا ہونے والا پھل پورے معاشرے کو زہر آلود اور کھوکھلا کر چکا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی کے رویے اس قدر راسخ ہو چکے ہیں کہ مصائب اور مشکلات میں گھرے ملک کے سارے لیڈر اس بحث میں حصہ ڈالنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ختم نبوت کے بارے میں حلف نامہ ہی ملک و قوم کا اہم ترین مسئلہ ہے۔ یہ مباحث واضح کرتے ہیں کہ سیاست اور دین کو ملانے کا جو عمل سابق فوجی آمر ضیا الحق کے دور میں شروع ہوا تھا، اس نے قومی سوچ کو کس طرح محدود اور مزاج کو سخت گیر کر دیا ہے۔ ایک غیر اہم معاملہ کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنا کر گزشتہ دو روز کے دوران اس ملک کی حکومت سے لے کر بعض افراد کی نیتوں اور عقیدہ کے بارے میں شبہات کا اظہار یہ واضح کرتا ہے کہ معاشرہ میں مذہبی انتہا پسندی اور تنگ نظری کیوں کر آگے بڑھنے کے راستے مسدود کر رہی ہے۔ مسلمان آبادی کے ملک میں منتخب ہونے والے لوگوں کا عقیدہ ایک حلف نامہ داخل کئے بغیر مشکوک قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن کوئی اس پہلو سے بات پر غور کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود اس ملک کے قائدین اور فوج کا دعویٰ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے والا پاکستان واحد ملک ہے۔

پاک فوج کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان پرامن ملک ہے لیکن بھارت جنگ پر آمادہ ہے۔  دنیا البتہ یہ دیکھتی ہے کہ گزشتہ 40 برس میں پاکستان ہی کسی نہ کسی جنگ میں ملوث رہا ہے جبکہ اس کا ازلی دشمن ترقی کی منازل طے کرتا رہا ہے۔ پاکستان اگر امن پسند ملک ہے تو اس کی فوج کے ترجمان کو جنگ کی باتیں کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے۔ اور امریکہ کے ایوانوں میں مسلسل پاکستانی فوج کے ارادوں کے بارے میں شبہات کیوں سامنے آتے ہیں!

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...