امن کی امید کو جنگ کا میدان نہ بنایا جائے

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 24 ستمبر 2017

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے جو جارحانہ، دھمکی آمیز اور غیر سفارتی لب و لہجہ اختیار کیا تھا، اس کے بعد دنیا کے دیگر لیڈر بھی اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لئے وہی طریقہ اختیار کرکے ان سوالوں سے بچنا چاہتے ہیں جو انسانی حقوق، علاقہ میں تشدد اور عدم استحکام کے حوالے سے کئے جا سکتے ہیں۔ اسے ڈونلڈ ٹرمپ کی روایت کو آگے بڑھانے سے ہی تعبیر کیا جانا چاہئے کہ ہفتہ کے روز بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے بارے میں درشت اور غیر مہذب لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے اسے علاقے میں دہشت گردی برآمد کرنے والی فیکٹری قرار دیا ہے۔ انہوں نے پاکستان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’ بھارت اس وقت دنیا میں اپنی آئی ٹی صنعت کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ ہم انجینئر ، ڈاکٹر اور دانشور پیدا کرتے ہیں لیکن پاکستان دہشت گرد پیدا کرتا ہے۔‘ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے بھارتی وزیر خارجہ کے اشتعال انگیز الزامات کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ’ پاکستان پر الزام لگانے سے پہلے بھارت کو کشمیر میں اپنے مظالم پر نظر ڈال لینی چاہئے اور بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کو نہیں بھولنا چاہئے کہ گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کا خون ابھی تک ان کے ہاتھوں پر ہے۔ بھارت مسلسل مذاکرات سے انکار کرکے اور لائن آف کنٹرول پر جارحیت کا مظاہرہ کرکے علاقے میں امن کے لئے خطرہ بنا ہؤا ہے‘۔

ملیحہ لودھی نے اپنی جوابی تقریر کو حقائق تک محدود رکھتے ہوئے بھارت پر واضح کیا کہ اسے سچ جاننے کے لئے زیادہ دور جانے کی بجائے پاکستان میں پکڑے جانے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے اعترافی بیان کو ہی پڑھ لینا چاہئے۔ اس بیان میں پاکستان میں تخریب کاری کے بارے میں بھارتی سرگرمیوں کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔ انہوں نے بھارت کو دہشت گردی کی ماں قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو ختم کرنا چاہئے اور پاکستان پر الزام تراشی کے ذریعے اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کو کوششیں ترک کردینی چاہئیں۔ سشما سوراج کی تقریر اور ملیحہ لودھی کے جواب سے پہلے جمعرات کووزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے اپنے خطاب میں متوازن اور واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا تھا کہ اسے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کا نوٹس لینا چاہئے۔ وزیراعظم عباسی نے تجویز پیش کی تھی کہ اقوام متحدہ کو حقائق کا پتہ لگانے کے لئے ایک خصوصی ایلچی مقبوضہ کشمیر بھیجنا چاہئے۔ اس کے بعد بھارتی نمائیندے اینم گمبھیر نے پاکستانی لیڈر کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کو ’ ٹیررستان ‘ (دہشت نگر) قرار دیا۔

یہ لب و لہجہ صرف بر صغیر کے دو دیرنہ دشمن ملکوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ صدر ٹرمپ نے منگل کے روز جس لب و لہجہ میں شمالی کوریا اور ایران کے خلاف بات کی تھی اور اس پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ایران کے صدر حسن روحانی اور کل شمالی کوریا کے وزیر خارجہ ری یونگ ہو نے جس طرح صدر ٹرمپ اور امریکہ کے بارے میں تند و تیز باتیں کی ہیں، ان سے یہ اندازہ قائم کرنا مشکل نہیں ہے کہ اقوام متحدہ کو امن کا ادارہ سمجھنے ، کہنے اور اسی امید پر اس کی رکنیت پر فخر کرنے والے دنیا کے لیڈر اب اسے میدان جنگ بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ اگرچہ اس سے پہلے بھی جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم سے خطاب کرتے ہوئے دنیا کے لیڈر اپنا مؤقف سامنے لانے یا مخالف ملکوں کو ہدف بنانے کے لئے سخت باتیں کرتے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے کی جانے والی تقریروں سے دنیا میں تصادم اور انتشار کا اتنا سنگین اندیشہ پیدا نہیں ہؤا جو اب دکھائی دے رہا ہے۔ اس کا اظہار امریکی صدر کی غیر روائیتی تقریر کے بعد شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان کے سخت مذمتی بیان اور ان کے وزیر خارجہ کی تقریر میں ان دھمکیوں کے تسلسل میں دیکھا جا سکتا ہے جو انہوں نے کل اقوام متحدہ میں کی اور کہا کہ شمالی کوریا امریکہ کو براہ راست میزائلوں کا نشانہ بنانے پر مجبور ہو سکتا ہے۔ امریکہ نے ٹرمپ کی دھمکیوں کا عملی مظاہرہ کرنے کے لئے جنوبی کوریا کے ساتھ مل کر شمالی کوریا کی فضائی حدود کے نزدیک بمبار طیاروں کو پرواز پر بھیجا اور پینٹاگان نے واضح کیا کہ یہ پروازیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ امریکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لئے تیار ہے۔ اس صورت حال پر صدر ٹرمپ کا تازہ ترین ٹویٹ اشتعال انگیزی اور غیر سفارتی طرز عمل کی معراج کہی جا سکتی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ ابھی اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کی تقریر کو سنا۔ اگر وہ لٹل راکٹ مین ہی کی سوچ کو سامنے لاتے ہیں تو وہ بہت دیر تک نہیں رہیں گے۔‘ اگر اس تبصرہ کو یوں سمجھا جائے کہ امریکی صدر اپنے ایک دشمن ملک کے سربراہ اور وزیر خارجہ کو ہلاک کرنے کی دھمکی دے رہا ہے تو اسے انسانیت کے خلاف جرم سے کم قرار نہیں دیا جا سکتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احمقانہ اور غیر ذمہ دارانہ بیانات سے قطع نظر جن پر امریکہ میں بھی شدید نکتہ چینی کی جارہی ہے، بھارت اور دوسرے ملکوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ اختلاف رائے کے لئے اگر الزام تراشی کا رویہ اختیار کریں گے اور ان کے لیڈر دوسرے ملکوں اور ان کے رہنماؤں کے بارے میں بات کرتے ہوئے سوقیانہ الفاظ استعمال کریں گے تو اس سے امن اور مفاہمت کی رہی سہی امید بھی ختم ہو جائے گی۔ دنیا میں جیسے جدید اور ہلاکت خیز ہتھیار ایجاد اور زخیرہ کئے جا چکے ہیں ، ان کی موجودگی میں اب چھوٹے بڑے ملک کی تخصیص بھی ختم ہو چکی ہے۔ کوئی بھی ملک اگر جنگ میں پہل کرتا ہے تو جوابی کاروائی میں وہ صرف اپنے دشمن ملک کو ہی نشانہ نہیں بنائے گا بلکہ ہتھیاروں کی ہلاکت خیزی کے سبب دنیا بھر کے ممالک متاثر ہو سکتے ہیں۔ امریکہ اپنی تمام تر طاقت اور برتری کے باوجود شمالی کوریا کے خلاف کوئی جنگی کارروائی کرنے کے قابل نہیں ہے۔ کیوں کہ اس صورت میں شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیار استعمال کرکے پوری دنیا کے انسانوں کے لئے تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی طرح بھارت اپنے حجم اور فوجی قوت کے باوجود پاکستان کے خلاف کوئی فیصلہ کن جنگ کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ پاکستان ایٹمی طاقت ہے ۔ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کو بھارت سے تحفظ کا سبب قرار دیتا ہے۔ بھارت جانتا ہے کہ اگر اس نے پاکستان کے خلاف ایسا جارحانہ اقدام کیا جو پاکستان کے وجود کے لئے خطرہ کا باعث بن سکتا ہو تو پاکستان ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔

ایٹمی ہتھیاروں جیسی خطرناک صلاحیت کی موجودگی میں بڑی جنگ کا خطرہ ٹلنے کے باوجود اگر لیڈر غیر ذمہ دارانہ بیان بازی کا سلسہ جاری رکھیں گے اور ٹرمپ کی طرح ایک پورے ملک کو صفحہ ہستی سے مٹادینے کا خواب دیکھنے کی حماقت کریں گے تو اس سے جنگ کے ماحول اور تصادم کی کیفیت میں اضافہ ہونے کے علاوہ اس بات کا اندیشہ بڑھ بھی سکتا ہے کہ اچانک کسی لیڈر کی معمولی سی غلطی سے دنیا کے لئے کوئی بڑا فساد پیدا نہ ہوجائے۔ خاص طور سے برصغیر کی سیاست میں بیان بازی، سیاسی اشتعال انگیزی، قوم پرستانہ رجحانات اور انتہا پسندانہ مزاج کی وجہ سے اس قسم کی غلطی کا امکان زیادہ ہے۔ ان دونوں ملکوں کے لیڈر شاید دنیا میں جوہری صلاحیت رکھنے والے ملکوں میں اس حوالے سے خاص حیثیت رکھتے ہیں کہ وہ تنازعہ کی صورت میں ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں اور بھارت اور پاکستان کے متعدد لیڈروں کے ایسے بیان ریکارڈ پر بھی موجود ہیں۔ یہ بیان دینے والے نہ تو جوہری ہتھیاروں کی ہلاکت خیزی کو جانتے ہیں اور نہ ہی اپنے بیانات کی خطرناک اثر آفرینی اور ان سے عام لوگوں میں پیدا ہونے والے ہیجان کا اندازہ کرنے کے قابل ہیں۔ اسی لئے یہ بیانات اور ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی کے ساتھ دھمکی دینے کا انداز جنگ کی طرف خطرناک قدم کی حیثیت رکھتا ہے۔

بھارت کی وزیرخارجہ سشما سوراج نے پاکستان کو دہشت کا برآمد کندہ قرار دیتے ہوئے بھارت کی ایسی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ جیسے وہاں دودھ کی نہریں بہتی ہیں اورامن کا بول بالا ہے۔ بھارت میں پروان چڑھنے والی ہندو انتہا پسندی ابھی صرف بھارتی معاشرہ کے اتحاد اور سالمیت کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہے لیکن اگر وہاں کے عاقبت نا اندیش لیڈر اسی طرح مذہب کی بنیاد پر تشدد آمیز اور انتہا پسندانہ رجحانات کی سرپرستی کرتے رہیں گے تو وہ وقت دور نہیں کہ دنیا اسلام کے نام پر ہونے والی دہشت گردی کو بھول جائیں۔ میانمار میں روہنگیا کی نسل پرستی کے معاملہ پر حکومت، فوج اور بودھ لیڈر جس طرح متحد ہیں اور ملک کی اس چھوٹی سی اقلیت کو اپنے ملک سے مار بھگانے کی حکمت عملی کو اختیار کررہے ہیں اور میانمار کی امن انعام یافتہ آنگ سان سوچی نے جس ڈھٹائی سے اس ظلم پر پردہ ڈالنے کی کوششیں کی ہیں اور الزام خود ظلم کا شکار لوگوں پر عائد کیا ہے، اسی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مذہب کے نام پر نفرت اور انسان دشمنی کا پیغام عام کیا جائے گا تو اس سے کسی بھی عقیدہ کے ماننے والے متاثر ہو سکتے ہیں۔ بھارت میں بھی انسانیت کے خلاف ظلم کی کہانیاں سننے کے لئے مقبوضہ کشمیر جانے اور کشمیریوں کی حالت زار کا تذکرہ کرنا ضروری نہیں ہے ، ملک بھر میں گؤرکھشا کے نام پر جس طرح تشدد پسند گروہوں کو پروان چڑھایا جا رہا ہے ، ان کی دہشت اور مظالم کی کہانیاں ملک کے ہر خطہ اور علاقے کے لوگ سنا سکتے ہیں۔ اس لئے بھارتی لیڈر پاکستان کو نیچا دکھانے کے لئے اپنی عظمت کی کہانیاں سنانے سے پہلے خود گریبان میں جھانک لیں اور ملک میں انتہا پسندی، مسلمان دشمنی اور اقلیتوں کے علاوہ عورتوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر نظر ڈال لیں تو انہیں اصلاح احوال کے لئے کسی دوسرے ملک کو مشورہ دینے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

بھارتی وزیر خارجہ کہتی ہیں کہ بھارت غربت سے لڑ رہا ہے جبکہ پاکستان ہم سے لڑ رہا ہے۔ یہ بات کہنے سے پہلے انہیں افغانستان میں اپنے ایجنٹوں کی کاررگزاریوں اور پاکستان کے خلاف سرکاری سرپرستی میں دہشت گردی کے منصوبوں کوبھی پیش نظر رکھنا ہوگا۔ پاکستان کو بھی اپنے معاشرہ کی اصلاح اور انتہا پسندی ختم کرنے کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس معاشرہ میں اصلاح کے بہت سے پہلو موجود ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی پاکستان میں دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف مسلسل آواز اٹھ رہی ہے۔ خود حکومت کے وزرا اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ملک میں انتہا پسند مذہبی گروہوں کے خلاف سخت اقدام کرنا بہت ضروری ہے۔ لیکن بھارت کے حکمران اپنے ملک میں پروان چڑھنے والی مذہبی انتہا پسندی کو تسلیم کرنے کی بجائے اس کی سرپرستی کا سبب بن رہے ہیں۔

اقوم متحدہ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں امن قائم رکھنے اور قوموں کے درمیان تنازعات ختم کروانے کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ اس ادارے پر کئی لحاظ سے تنقید کی جا سکتی ہے لیکن اس پلیٹ فارم سے دنیا میں انسانوں کی مدد کرنے اور امن قائم رکھنے کے لئے کچھ نہ کچھ کام بہر حال ہوتا رہا ہے۔ بدنصیبی سے بڑی طاقتوں کے اثر و رسوخ اور مفادات کے سبب سلامتی کونسل جیسے ادارے کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی مثالیں سامنے آئی ہیں۔ امن قائم کرنے والے ادارے سے ملکوں کے خلاف جنگ کرنے کی اجازت حاصل کی گئی ہے۔ چند بڑے ملکوں نے اس ادارے کو من مانی نافذ کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔ یہ صورت حال دنیا میں وسیع تر مفاہمت اور امن کے فروغ کی کوششوں کے لئے مہلک ثابت ہو رہی ہے۔ اب ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارت جیسے ملک کے لیڈر اس ادارے کو جنگ مسلط کرنے کی باتیں کرنے اور دوسرے ملکوں کو دھمکانے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ اس طرح اس ادارے کا رہا سہا وقار اور افادیت بھی ختم ہو سکتی ہے۔ دنیا بھر کے ملکوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اقوام متحدہ کو بے وقار اور ناقابل اعتبار بنانے سے کسی ایک ملک کا نقصان نہیں ہو گا بلکہ اس سے چھوٹے بڑے ہر طرح کے ملک کا امن اور خوشحالی متاثر ہو سکتی ہے۔

بھارت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے حجم، وسائل اور صلاحیتوں کے باوجود اپنی قوت کا بیشتر کا حصہ پاکستان جیسے چھوٹے ملک کے لئے مشکلات پیدا کرنے پر صرف کرتا ہے۔ سشما سوراج کو اس خوابناک کیفیت سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے کہ دنیا بھارت کو دانش ، علم دوستی اور ٹیکنالوجی کا مرکز اور سب سے بڑی جمہوریت سمجھتی ہے۔ دنیا یہ بھی جانتی ہے کہ بھارت کی ایک چوتھائی آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے ۔ 2016 کے اعداد و شمار کے مطابق 27 کروڑ بھارتی شہری انتہائی غربت میں زندگی بسر کررہے تھے۔ یہ تعداد پاکستان کی کل آبادی سے بیس فیصد زیادہ ہے۔ لیکن بھارتی لیڈروں پر پاکستان سے مقابلہ کا خبط سوار ہے۔ دنیا کو یہ بھی خبر ہے کہ بھارت میں جمہوریت کے نام پر برسر اقتدار آنے والے لیڈر اپنے ملک میں انتہا پسندی کے فروغ اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کچلنے کا سبب بن رہے ہیں۔ ان سچائیوں سے انکار کرکے بھارت نہ تو سرخرو ہو سکتا ہے اور نہ ہی خود کو پاکستان سے بہتر تسلیم کروانے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ بہتر ہو گا کہ دونوں ملکوں کے لیڈر اپنے وسائل ایک دوسرے سے جنگ کی تیاریوں پر صرف کرنے کی بجائے ، اپنے لوگوں کی بہبود اور بھلائی پر صرف کریں۔ پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے سے نہیں بلکہ اپنے عوام میں بڑھتی ہوئی مایوسی اور غربت سے خطرہ لاحق ہے۔

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...