دہشت گردی، برقع اور مسلمان

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 19 اگست 2017

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ملک کے نسل پرست انتہاپسندوں کی طرف سے تشدد کی مذمت کرنے سے قاصر ہیں۔ اس بنا پر گزشتہ ہفتہ عشرہ سے ان کے رویہ کے بارے میں شدید خدشات پائے جاتے ہیں اور سوال کیا جا رہا ہے کہ امریکہ کا صدر ایک چھوٹے سے شہر میں ہونے والے تصادم کے بعد سفید فام نسل پرستوں کی حمایت میں کیسے بیان جاری کر سکتا ہے۔ لیکن صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ صرف وہی بے باکانہ طور سے وہ بات کہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں جو دوسرے لیڈر کہتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ گزشتہ ہفتہ کو ورجینیا کے شہر شارلوٹے ولے میں نسل پرستوں کے مظاہرے اور تشدد میں 19 افراد زخمی اور32 سال کی ایک خاتون ہلاک ہو گئی تھی لیکن ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ قصور دونوں اطراف کا ہے۔ اور اس تصادم میں ملوث دونوں گروہوں میں ”بہت اچھے لوگ“ شامل تھے۔ اسی دوران جمعرات کو آسٹریلیا کی پارلیمنٹ میں تارکین وطن مخالف جماعت ون نیشنل پارٹی کی لیڈر پاﺅلین ہانسن برقع پہن کر ایوان میں آ گئیں اور پھر برقع اتارتے ہوئے اعلان کیا کہ ”میں آپ لوگوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ اس قسم کا لباس پہننا مغربی اقدار اور عورتوں کی آزادی کے خلاف ہے۔ آسٹریلیا جیسے جدید معاشرے میں اس کی اجازت نہیں ہونی چاہیے“۔ ہانسن کے اس سیاسی سٹنٹ پر ملے جلے ردعمل کا اظہار سامنے آیا ہے۔  یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ اس طرح مسلمانوں کی رسومات کا تمسخر اڑانے کی کوشش کی گئی ہے جو کسی بھی بین الثقافتی معاشرہ کے لئے صحت مند رویہ نہیں ہے۔

گزشتہ روز اسپین کے شہر بارسلونا میں راہگیروں پر وین چڑھا کر 14 افراد کو ہلاک اور 100 کو زخمی کر دیا گیا۔ جمعرات کی شام کو ہونے والے اس واقعہ کے بعد ایک اور مقام پر بھی پیدل چلنے والوں پر گاڑی چڑھانے کی کوشش میں 5 حملہ آور مارے گئے تاہم کوئی شہری ہلاک نہیں ہؤا۔  دہشت گردی کے ان واقعات کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔ دنیا بھر سے اس کی مذمت کی گئی ہے۔ یورپ میں آباد مسلمان تنظیموں نے بھی اس سانحہ کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ تواتر سے پیش آنے والے مختلف نوعیت کے ان واقعات سے دنیا بھر میں مسلمانوں اور دیگر عقائد کے درمیان تصادم کی صورت حال کا اندازہ ہوتا ہے۔ بظاہر صدر ٹرمپ کی طرف سے نسل پرستوں کی دوٹوک مذمت سے معذوری کا براہ راست امریکہ میں مسلمان آبادی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن اس سے یہ اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ انتہاپسندانہ سیاسی نظریات کی تائید کرنے والے لوگوں کو دنیا کے طاقتور ترین ملک کے صدر کی بالواسطہ حمایت حاصل ہے۔ یہ وہی صدر ہے جس نے اپنی انتخابی مہم کو مسلمان تارکین وطن کے خلاف پروپیگنڈا کے ذریعے قوت فراہم کی تھی اور جو مسلسل یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ سابق صدر باراک اوباما ایک کمزور صدر تھے کیوں کہ وہ دہشت گرد حملوں کو ریڈیکل اسلامی دہشت گردی جیسے لفظوں سے بیان کرنے سے گریز کرتے تھے۔ جس طرح صدر ٹرمپ نے دہشت گردی اور اسلام و مسلمانوں کو ملا کر اقلیتوں کے خلاف فضا تیار کی ہے اور اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے، اسی طرح یورپ بھر کے ممالک میں بھی قوم پرست انتہاپسند سیاستدان اسی طرح کا مزاج تیار کرنے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں تاکہ وہ برسراقتدار آ کر نفرت، انتشار اور تقسیم کی انہی پالیسیوں کو عام کر سکیں جو معاشروں میں وسیع پیمانے پر توڑپھوڑ اور بدامنی کا سبب بن سکتی ہیں۔ اور جو بظاہر داعش جیسے دہشت گرد گروہ کا مقصد بھی ہے۔

امریکہ اور یورپ میں دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں مسلمانوں کی طرف سے یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ یورپ یا دیگر مغربی ممالک میں ہونے والے دہشت گردی کے اکا دُکا واقعات کو اس قدر اہمیت دی جاتی ہے اور مسلمان ملکوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی ہلاکتوں پر آواز بلند نہیں ہوتی۔ 9/11 کی دہشت گردی کے بعد سے امریکہ نے جو جنگ شروع کی تھی، اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں انتہاپسندانہ رویوں اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم اس کا زیادہ ترنشانہ مسلمان ہی بنے ہیں۔ ایک طرف امریکہ اور اس کے حلیفوں نے دہشت گردوں کو ختم کرنے کے نام پر افغانستان سے لے کر شام اور عراق تک میں بے دریغ بمباری کی ہے، ڈرون حملے کئے ہیں اور فوجی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ ان میں بلامبالغہ لاکھوں لوگ جاں بحق ہوئے۔ اس ظلم کا جواب دینے کے لئے اسلام اور مسلمانوں کے نام پر منظم ہونے والے عسکری گروہوں نے اپنے ہی ہم عقیدہ لوگوں کو نشانہ بنا کر دہشت اور بربریت کی نئی مثالیں قائم کی ہیں۔ تو کیا اس صورت حال میں یہ کہنا جائز ہوگا کہ دہشت گردی امریکہ اور اس کے حلیف ملکوں کے حملوں اور امتیازی پالیسیوں کی وجہ سے فروغ پا رہی ہے۔ اس سوال کا جواب واضح ہاں میں دینا آسان نہیں ہے کیوں کہ جب مسلمان کسی نہ کسی بہانے مسلمانوں کا خون بہانے پر آمادہ ہیں اور اسے اسلام کی سربلندی اور خلافت کے احیا کے لئے جہاد کا نام دینے پر اصرار کرتے ہیں تو پرائے دشمن پر الزام تراشی سے پہلے اپنے گھر میں جھانکنے اور ان مسائل پر غور کرنے کی ضرورت ہے جو مسلمان معاشروں اور سماج میں عام طور سے سامنے آ رہے ہیں۔

افغانستان، عراق اور شام میں سامنے آنے والے دہشت گرد گروہوں کے اہداف مختلف ہیں لیکن ان سب میں اسلام کے نام پر جنگ اور تشدد کا بے دریغ استعمال مشترک اقدار ہیں۔ اس لئے مغرب میں مباحث کے دوران ماہرین کے لئے اسلام اور دہشت گردی کو علیحدہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگرچہ یہ بات عام طور سے تسلیم کی جاتی ہے کہ اسلام بطور عقیدہ دہشت گردی کا پرچار نہیں کرتا لیکن جب مسلمان اسی عقیدہ کے نام پر حملے کرنے اور اپنے پرائے سب کے لئے پیغام اجل بننے پر مصر ہوں اور مسلمانوں میں ان گروہوں کی نیت کے بارے میں شبہات کو ہوا دینے والے عناصر سرگرم ہوں تو صورت حال پیچیدہ اور مشکل ہو جاتی ہے۔ اس وقت مسلمانوں کے رویہ کے حوالے سے یہ تاثر قوی ہو رہا ہے کہ مسلمانوں میں تشدد کی حمایت کی شرح بہت زیادہ ہے۔ جو لوگ براہ راست دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتے، وہ بھی اسے مسترد کرتے ہوئے بے یقینی کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ تشدد صرف کسی خطے کو بیرونی افواج سے آزاد کروانے یا امریکہ اور اس کے حلیف ملکوں سے ”انتقام“ لینے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کی کئی شکلیں سامنے آتی ہیں۔ ان میں فرقہ واریت کی بنیاد پر ہونے والی قتل و غارتگری سب سے زیادہ خطرناک اور افسوسناک ہے۔ یعنی اسلام کے نام پر مسلمانوں کی کھوئی ہوئی سلطنت بحال کروانے کے دعوے دار بھی اپنے ہی ہم عقیدہ لوگوں کا خون بہا کر یہ مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح مسلمان معاشروں میں انسانی زندگی کی قدروقیمت کے بارے میں رائے انتہاپسندی کی طرف مائل ہے۔

اس کے برعکس یورپ، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں انسانی زندگی کے تحفظ کے بارے میں دو رائے نہیں پائی جاتیں۔ مسلمانوں کے سخت مخالف بھی انہیں اپنے ملکوں سے نکال دینے یا قبول نہ کرنے کی بات تو کرتے ہیں لیکن یہ نہیں کہتے کہ مسلمان آبادیوں کو ہلاک کر دینا چاہئے۔ حق زندگی کے بارے میں یہ رویہ مسلمان معاشروں میں عام طور سے بے حد کمزور ہے۔ اس لئے اس بات پر حیران ہونے یا احتجاج کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے کہ مغربی ممالک میں چند ہلاکتوں پربھی ہنگامہ، مباحث اور سیاسی و انتظامی اقدامات کا آغاز ہو جاتا ہے جبکہ مسلمان ملکوں میں یہ سانحات روزمرہ کا معمول ہیں۔  البتہ مسلمانوں میں تشدد کے خلاف اور حق زندگی کے بارے میں رائے مضبوط ہونے کے ساتھ ایک تو تشدد اور دہشت گردی میں کمی آنے لگے گی، دوسرے وہاں بھی انسانی جانوں کے ضیاع پر ویسا ہی ردعمل دیکھا جا سکے گا جو ترقی یافتہ ممالک میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ جب تک مسلمان خود مسلمانوں کی جان و مال اور انسانوں کی زندگی کے بارے میں باشعور نہیں ہوگا تو دوسرے آ کر کیوں ان کی مدد کریں گے۔

اسی حوالے سے اسلامی روایت اور عقیدہ سے منسلک رویوں کی بنیاد پر بھی منفی اور پراحتجاج مباحث سننے کو ملتے ہیں۔ ان میں خواتین کا برقع پہننے کا حق اور عائلی قوانین کے حوالے سے خصوصی مراعات کے مطالبے خاص طور سے پریشان کن ہیں۔ حجاب کے بارے میں ہونے والے مباحث میں وہ شدت نہیں ہے جو برقع کے حوالے سے سامنے آنے والی رائے میں موجود ہے۔ اس کی وجہ بھی صاف ظاہر ہے۔ مسلمانوں میں برقع استعمال کرنے کی روایت نہایت کمزور ہے۔ اس کا زیادہ تر تعلق علاقائی ثقافت اور رواج سے ہے۔ لیکن سعودی عرب جہاں خواتین کے لئے برقع اور ایران جہاں خواتین کے لئے چادر لینا ریاستی قانون کا حصہ ہے، کے علاوہ  مسلمان خواتین میں برقع پہننے کا رواج بہت کم ہے۔ ایسی صورت میں جب مغربی ملکوں میں آباد ہونے والی چند خواتین برقع پہننے پر اصرار کرتی ہیں اور مسلمان گروہ اسے مذہبی روایت سمجھ کر یا تو اس کی حمایت کرتے ہیں یا خاموشی اختیار کرتے ہیں تو مساوات، بنیادی حقوق اور خواتین کے احترام کے حوالے سے مسلمانوں کے مزاج کے بارے میں سوال پیدا ہونا فطری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی ممالک میں آباد کروڑوں مسلمانوں میں چند درجن خواتین سے زیادہ برقع استعمال نہیں کرتیں۔ لیکن ان کی وجہ سے مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں رائے عامہ پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں جن سے پیدا ہونے والے خدشات اور تعصبات کا مسلمانوں کو سماجی، معاشی اور سیاسی طور پر سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ان حالات میں اسلامی روایات اور عقیدہ کی ضرورتوں کے بارے میں نہ تو اتفاق رائے سامنے لانے کی کوشش کی جاتی ہے اور نہ متنازعہ امور پر کھل کر بات کرنے کا حوصلہ کیا جاتا ہے۔ اس لئے آسٹریلیا سے لے کر امریکہ تک کسی نہ کسی طور پر مسلمانوں کے بارے میں منفی رویے سامنے آ رہے ہیں۔ دو عشرے پہلے تک جبری شادی اور لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے ہونے والے مباحث اب تشدد اور برقع استعمال کرنے کے حق کے سوال تک پہنچ چکے ہیں۔ اس صورت حال میں مسلمانوں کو فکری مغالطے دور کرنے اور سماجی رویے تبدیل کرنے کے لئے کام کرنا ہوگا۔ تب ہی تصادم اور تعصب سے بچنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...