کون سا نظام خطرے میں ہے!

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 09 اگست 2017

نواز شریف آج اسلام آباد سے لاہور کی طرف سفر کا آغاز کر رہے ہیں۔ اس سفر کے حوالے سے سیاسی مخالفین کے علاوہ بعض مبصرین کی طرف سے بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بعض حلقوں میں اسے ایک عام جمہوری اقدام کی بجائے نظام کو چیلنج کرنے کا نام دیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف دراصل تصادم کے راستے پر چل پڑے ہیں جو ملک اور یہاں پر قائم نظام کے لئے اچھا شگون نہیں ہے۔ اس طرح وہ اپنے لئے مشکلات پیدا کرنے کے علاوہ جمہوریت اور ریاست کے لئے مسائل پیدا کرنے کا سبب بنیں گے۔ ان افواہ نما تبصروں کو گزشتہ چند روز کے دوران نواز شریف کی طرف سے دیئے جانے والے بیانات سے بھی تقویت ملتی ہے۔ کل ہی میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ صرف وہی جانتے ہیں کہ انہوں نے وزیراعظم کے طور پر 4 برس کس طرح گزارے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی نااہلی کے فیصلہ کو پہلے سے طے شدہ قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے لیکن وہ انجام سے بے پروا ہو کر میدان میں نکل رہے ہیں۔ نواز شریف کا کہناہے انہیں نااہل کرنے کے لئے ان کے خلاف سازش کی گئی ہے اور وہ اس راز سے پردہ اٹھائیں گے۔ بہت کم لوگوں کو اس بات کا یقین ہے کہ نواز شریف کے تھیلے میں کوئی ایسی بلی ہے، جس کے باہر نکلنے سے کوئی قیامت بپا ہو جائے گی لیکن سب جانتے ہیں کہ جب وہ ایک مظلوم کے طور پر اپنے انتخابی حلقہ سے گفتگو کریں گے تو ان کے لئے ہمدردی کے جذبات پیدا ہوں گے اور مستقبل کے سیاسی منظر سے نواز شریف کا نام مٹانا آسان نہیں ہوگا۔

مرکز اور پنجاب کے علاوہ بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے۔ اس پارٹی کو قومی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل ہے۔ گزشتہ ہفتہ کے دوران شاہد خاقان عباسی کو 221 ووٹوں کے ساتھ وزیراعظم منتخب کیا گیا تھا۔ اس طرح مسلم لیگ (ن) نے اپنی سیاسی قوت کا واشگاف مظاہرہ کیا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں پارٹی کی قوت کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ فروری یا مارچ تک اگر موجودہ حکومت قائم رہتی ہے تو مسلم لیگ (ن) سینیٹ میں بھی اکثریت حاصل کر لے گی۔ تو پھر نواز شریف عام لوگوں سے ملتے ہوئے جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور جاتے ہیں تو وہ کس کو چیلنج کریں گے اور کس کے لئے مسائل پیدا کریں گے۔ سپریم کورٹ انہیں جھوٹا قرار دے کر قومی اسمبلی سے نااہل اور وزارت عظمیٰ سے معزول کر چکی ہے۔ اس فیصلہ سے ملک کی سب سے بڑی اور طاقتور پارٹی کے لیڈر کے طور پر نواز شریف صرف عہدے سے ہی محروم نہیں ہوئے بلکہ انہیں ذاتی ہتک اور توہین کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ اپنی نگرانی میں نواز شریف اور ان کے خاندان کےخلاف نئے اور پرانے مقدمات کا فیصلہ مقررہ مدت میں کروانا چاہتی ہے۔ اس فیصلہ سے بھی نواز شریف کو شدید اندیشے لاحق ہوں گے۔ انہوں نے ان خدشات کا اظہار بھی کیا ہے اور سوال کیا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کا جج ان کے خلاف مقدمات کی نگرانی کرے گا تو ٹرائل کورٹ کس طرح خود مختاری سے کام کر سکے گی اور وہ اپنے خلاف فیصلہ آنے کی صورت میں اپیل لے کر کس کے پاس جائیں گے۔ ایسی صورت حال میں نواز شریف کے پاس دو ہی راستے تھے۔ وہ خاموشی سے گھر بیٹھ جائیں اور ملک سے باہر اپنے ان عالی شان اپارٹمنٹس میں عیش کی زندگی گزاریں جن کی خریداری کے معاملہ سے بات ان کی معزولی تک پہنچی ہے۔ یا پھر وہ سیاسی میدان میں اتریں اور عوام کی حمایت سے یہ ثابت کریں کہ وہ بدستور مقبول لیڈر ہیں اور قانونی موشگافیوں کے ذریعے انہیں سیاست سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔

نواز شریف نے دوسرا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلا راستہ سوچنا تو ممکن ہے لیکن ایک ایسے شخص کے لئے جس نے 30 برس ملک کی سیاست میں صرف کئے ہوں اور 3 مرتبہ وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہا ہو اور جو سیاسی مقبولیت کو وراثت میں تبدیل کرکے اپنی آئندہ نسل کو ملک پر حکمرانی کے لئے تیار کر رہا ہو۔ اس کے لئے یہ ممکن نہیں ہو سکتا کہ وہ ایک عدالتی فیصلہ کے بعد ہتھیار پھینک کر سیاست سے علیحدہ ہو جائے اور خاموش زندگی بسر کرنے کو ترجیح دے۔ اس طرح وہ ان تمام الزامات کی تصدیق کرنے کا سبب بھی بنتا جو اس کو نااہل قرار دینے کے لئے اس پر عائد کئے جاتے رہے ہیں اور جو سیاسی مخالفین کے ہاتھوں میں ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ اس آپشن کی غیر موجودگی میں عوامی رابطہ مہم نواز شریف کا واحد متبادل ہے۔ پھر اس حق کو استعمال کرنے سے اندیشوں اور خطرات کی صدائیں کیوں بلند ہو رہی ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی پارٹی کا ایک لیڈر جسے قانون کے مطابق اب اپنی ہی پارٹی کی قیادت سے محروم ہونا پڑے گا، آخر اپنی ہی حکومتوں کو کمزور کرنے کا اہتمام کیوں کر کر سکتا ہے۔ اسی نکتہ سے ہم اس حقیقت کی طرف سفر کرتے ہیں جسے نواز شریف سازش اور مبصرین طاقت کا اصل مرکز قرار دیتے ہیں۔ اسے اسٹیبلشمنٹ کے مشکل نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے لیکن عام آدمی کی فہم کے لئے اسے فوج کہنا چاہیے۔

اندیشوں کی بنیاد یہ ہے کہ فوج بوجوہ نواز شریف کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اس لئے اگر وہ سیاست سے گوشہ نشینی اختیار کرلیں یا وقتی طور پر خاموشی اختیار کریں تو درپردہ لین دین کے ذریعے مستقبل کے لئے کوئی راستہ نکالا جا سکتا ہے۔ یہ راستہ چوہدری نثار علی خان اور شہباز شریف ہموار کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اس طرح مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم رہے گی اور شریف خاندان سیاست میں بھی رہ سکے گا لیکن نواز شریف کو مختصر یا طویل عرصہ کے لئے خاموش ہونا پڑے گا۔ نواز شریف نے اس تجویز کو ماننے سے انکار کیا ہے۔ اس لئے بعض لوگوں کو نظام خطرے میں دکھائی دیتا ہے یعنی مارشل لاء کے خطرے کی گھنٹی بجائی جا رہی ہے۔

مان لیا جائے کہ صورت حال بعینہ یہی ہے۔ تو جس نظام کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس ملک میں اکثریتی پارٹی حکمران ہے، عدالتیں خودمختاری سے فیصلے کر رہی ہیں اور فوج آئین کی نگہبانی کے لئے کمربستہ ہے۔۔۔ وہ ایک ڈھونگ کے سوا کیا ہے۔ اگر سپریم کورٹ کی طرف سے نواز شریف کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ ایک تیار شدہ اسکرپٹ کے تحت جاری ہوا ہے۔ اگر ملک میں جمہوریت کو اس شرط پر چلنا ہے کہ اکثریتی پارٹی کا لیڈر فوج کی مرضی کے مطابق سیاست سے تائب ہو جائے۔ اگر سیاسی فیصلے جی ایچ کیو میں ہونے ہیں لیکن ان پر عمل کرنے کی ذمہ داری سول حکومت کو پوری کرنی ہے اورناکامی کی صورت میں قصوروار بھی خود ہی ٹھہرنا ہے تو یہ کس نظام کو بچانے کی بات کی جارہی ہے۔ یہ کون سا ڈھانچہ ہے جو نواز شریف کے جلسے کرنے اور اپنی بے گناہی کا راگ الاپنے سے شکست و ریخت کا شکار ہو جائے گا۔ معاف کیجئے اگر اس ملک کی سپریم کورٹ نے اس لئے منتخب وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کے فیصلے صادر کرنے ہیں کہ اس ملک کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے لئے وہ شخص قابل قبول نہیں ہے تو اس ملک میں کون سے نظام کو بچانے اور مضبط کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ پھر تو یہ کہا جا رہا ہے کہ جھوٹ بولو لیکن اس کو سچ بتاﺅ۔ فیصلوں میں فوج کی صرف بالادستی ہی قبول نہ کرو بلکہ یہ رائے بھی تسلیم کرو کہ عوام کا کون سا منتخب نمائندہ وزیراعظم ہو سکتا ہے اور کسے یہ حق نہیں ملنا چاہئے، مگر اسے جمہوری تسلسل کا نام دو۔ اگر یہی آج کے پاکستان کا سچ ہے تو اس سچ کا اعلان کر دینے میں کیا حرج ہے۔ یہ بتا دینے میں کیا مضائقہ ہے کہ آپ کو انصاف بھی تب ہی ملے گا اگر جی ایچ کیو سے اس کی منظوری دی جائے گی۔

کیا جمہوریت کے نام پر آمریت مسلط کرنے والوں کو اندیشہ ہے کہ ان کی اصلیت سامنے آنے کے بعد  لوگ انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیں گے۔ کیا یہ خوف ہے کہ اگر اصل حقیقت ملک کے عام آدمی پر آشکار ہو گئی تو وہ سارے بت مسمار ہو جائیں گے جو قومی مفاد و سلامتی، نظریہ پاکستان کے تحفظ، کشمیر کی آزادی اور ملک کی ترقی کے نام پر استوار کئے گئے ہیں۔ اگر یہ سب سچ ہے تو یہ بہت بھیانک ہے۔ اب اس کا اظہار ہو ہی جانا چاہئے تاکہ عام مرد و زن کو بھی یہ اندازہ ہو سکے کہ ان کے منتخب کئے ہوئے لوگ اتنے لاچار کیوں ہوتے ہیں۔ پارلیمنٹ کو پرمٹ لینے اور مفاد حاصل کرنے کا ٹھکانہ کیوں بنا لیا گیا ہے۔ وہاں مباحث کیوں نہیں ہوتے۔ فیصلے کیوں نہیں کئے جاتے۔ منتخب وزیراعظم کو ایوان کی اکثریت کی بجائے 5 رکنی بنچ کیوں کر صداقت اور امانت کے منصب سے گرانے کا اعلان کرتا ہے۔

کیا اسی اندیشے کو نواز شریف کی نظام سے بغاوت قرار دیا جا رہا ہے۔ کیا ایک آمر کے دست شفقت میں سیاست کے رموز سیکھنے والا شخص واقعی اتنا نظریاتی ہو چکا ہے کہ اب وہ محلاتی سازشوں کے سارے راز چوراہے کے بیچ فاش کرنے پر تلا ہؤا ہے۔ کیا اسی اندیشے کی وجہ سے ملک میں ایک بار پھر فوج کو امور حکومت سنبھالنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ اس بات پر یقین کرنا ممکن نہیں ہے۔ نواز شریف اور ان کے خاندان نے سیاست کو تجارت سمجھ کر کیا ہے اور اسے موروثی گدی میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ پورا سچ بول کر اس ”اشرافیہ طبقہ“ سے باہر نکلنا پسند نہیں کریں گے جو اس ملک میں اقتدار کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ نواز شریف سازش کا پردہ فاش نہیں کریں گے وہ اس کا ذکر کرکے اپنے لئے اس انتظام میں گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں اختیارات کا سرچشمہ فوج کو سمجھتے ہوئے ملک کے باقی ادارے ۔۔۔ سیاسی حکومت، عدلیہ وغیرہ ۔۔۔ کام کرتے ہیں۔ نواز شریف نے اگر بغاوت کا بیڑا اٹھا لیا تو انہیں عام آدمی کی حاکمیت کے لئے کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس صورت میں وہ خاندانی سیاست کو آگے نہیں بڑھا سکتے۔ یہ راستہ اختیار کرنا ان کے لئے ممکن نہیں ہو سکتا۔ ان کا مسئلہ صرف یہ ہے کہ وہ بیک سیٹ پر بیٹھنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور فرنٹ سیٹ پر ”نظام“ انہیں قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ ایسے میں مفاہمت کے لئے نواز شریف یا نظام (المعروف اسٹیبلشمٹ یعنی ملک کی فوج) کو جھکنا پڑے گا۔ ماضی قریب گواہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے جھکنے سے انکار کیا تو انہیں پھانسی کا پھندا قبول کرنا پڑا۔ کیا نواز شریف یہ راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔ اس کا فیصلہ چند دن نہیں تو چند ہفتوں میں ضرور ہو جائے گا۔

ملک کی 70 سال کی تاریخ میں سیاستدانوں نے بے شمار غلطیاں کی ہوں گی اور تعمیر کے پہلو بھی نکالے ہوں گے۔ لیکن سیاسی وابستگی سے قطع نظر نسل در نسل اس غلطی کا اعادہ کیا گیا ہے کہ سیاسی لیڈروں نے فوج کی غلطیوں کا سارا بوجھ اٹھایا ہے اور اسے سرخرو کرنے کے لئے خود بدنامی کا طوق گلے میں پہنا ہے۔ تینن دہائی پہلے بھٹو نے نظام کے نام پر جاری اس ناانصافی اور استبداد کے خلاف آواز بلند کی تھی لیکن وہ جان ہار گئے تھے۔ اب نواز شریف نے یہی دعویٰ کیا ہے۔ اگر راستے میں ان کا سانس پھول گیا یا انہیں بھی عبرت کا نشان بنا دیا گیا تو ظلم کی یہ رات بہت طویل ہو جائے گی۔ یہ وقت ہے کہ نواز شریف کو مسترد کیا جائے ی اقبول کیا جائے لیکن اس حقیقت کو تسلیم کروانے کے لئے ہاتھ میں ہاتھ ڈالا جائے کہ یہ ملک یہاں رہنے والے لوگوں کا ہے۔ اس کے فیصلے کرنے کا اختیار بھی انہی کو حاصل ہے۔ ملک کی فوج کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا۔

یہاں نظام جمہور کی رائے اور ووٹ کی بنیاد پر بننے والی حکومت کا نام ہونا چاہئے۔ تب ہی یہ نظام مستحکم ہو گا اور کوئی سیاستدان اسے گرانے کی کوشش نہیں کر سکے گا۔ جب تک نظام مختلف ناموں سے پہچانے جانے والے خفیہ ہاتھوں کا اسیر رہے گا، کوئی نہ کوئی، کبھی نہ کبھی اسے گرانے اور تبدیل کرنے کی بات ضرور کرے گا۔

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...