سوال تو موجود ہیں ، جواب درکار ہیں!

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 08 اگست 2017

سابق وزیر اعظم نواز شریف خود کو بے گناہ ثابت کرنے کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان بھی میاں نواز شریف کو سیاسی طور پر تنہا کرنے اور کسی باقاعدہ عدالتی فیصلہ سے پہلے بدعنوان اور چور ثابت کرنے کے لئے تن من دھن کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔ آج عمران خان نے مسلم لیگ (ن) کے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ شریف خاندان کا ساتھ چھوڑ دیں کیوں کہ ان کی لڑائی اس پارٹی سے نہیں ہے بلکہ ایک بدعنوان خاندان سے ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر پارٹی نے خود کو نواز شریف اور ان کے خاندان سے الگ نہ کیا تو وہ شدید نقصان اٹھائے گی۔ عمران خان مسلم لیگ (ن) کے ’اقتدار کے ضرورت مندوں‘ کو اس سے زیادہ کھلے الفاظ میں اپنے ساتھ ملنے کی دعوت نہیں دے سکتے۔ تاہم ایسے ضرورت مندوں کے لئے ان کے پاس دینے کے لئے فی الحال کچھ نہیں ہے۔ نواز شریف نے اپنا متبادل وزیر اعظم منتخب کروانے کے بعد اب سیاسی مہم جوئی کے ذریعے عمران خان اور تحریک انصاف کی مشکلوں میں اضافہ کیا ہے۔ وہ جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور کا سفر کرتے ہوئے اپنے حامیوں کے اجتماعات سے خطاب کریں گے اور سیاسی دشمنوں اور نظام کے اندر اپنے مخالفین کو یہ پیغام دیں گے کہ وہ میدان چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ لیکن وہ سازش کا ذکر کرنے کے باوجود یہ بتانے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ کون ان کے وزیر اعظم رہنے سے ناخوش تھا کہ انہیں ’پہلے سے طے شدہ‘ عدالتی فیصلہ کے ذریعے اقتدار سے محروم کر دیا گیا۔

پیر کے روز اسلام آباد میں ٹی وی اینکرز سے ملاقات کے دوران نواز شریف نے بعض الزامات عائد کئے ہیں اور سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ انہیں نااہل قرار دینے کا فیصلہ کرلیا گیا تھا لیکن اس کے لئے جواز تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ آخر انہیں ایک ایسی بنیاد پر نااہل قرار دیا گیا جوانتہائی کمزور اور ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے ججوں کے رویہ اور ریمارکس پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اعلیٰ عدالت کے ججوں کو ایسے ریمارکس دینا زیب نہیں دیتا کہ ’ وزیر اعظم کو پتہ ہونا چاہئے کہ اڈیالہ جیل میں کافی جگہ ہے‘۔ اس کے ساتھ ہی نواز شریف نے یہ  دعویٰ بھی کیا کہ ججوں کو یہ تسلیم کرنا پڑا ہے کہ ان کے خلاف بدعنوانی کے کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں۔ پاناما کیس کی سماعت کرنے والے پانچ رکنی بنچ نے چھ ہفتے کے اندر احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کرنے اور چھ ماہ کے اندر ان معاملات پر فیصلہ دینے کا حکم دیا ہے۔ اس لئے نواز شریف کا یہ تاثر تو درست نہیں ہے کہ عدالت عظمیٰ نے اس فیصلہ کے ذریعے نواز شریف کو بدعنوانی کے الزامات سے بری کردیا ہے۔ لیکن یہ ایک سنگین الزام ہے کہ انہیں ایک غیر اہم اور غیر متعلقہ معاملہ میں نا اہل قرار دے کر پہلے سے طے شدہ اسکیم پر عمل کیا گیاہے۔

اس الزام سے سپریم کورٹ کی غیر جانبداری اور تقدس کو چوٹ پہنچتی ہے۔ اس سے پہلے پاناما کیس کی سماعت کرنے والے جج جس طرح بیان دینے یا خبروں کی اشاعت کو توہین عدالت قرار دیتے رہے ہیں ، اس کی روشنی میں تو نواز شریف کا بیان واضح توہین عدالت ہے۔ کیوں کہ اس میں ایک اہم معاملہ کے بارے میں فیصلہ کے حوالے سے یہ کہا گیا ہے کہ ان کی نااہلی کا معاملہ تو پہلے سے طے تھا لیکن اس کے لئے جواز تلاش کرنے کی جد و جہد کی جارہی تھی۔ اگر یہ بات درست مان لی جائے تو بنچ کے پانچ ججوں کو بھی اسی طرح ’ دروغ گو‘ کہنا پڑے گا جس طرح عدالت نے نواز شریف کے بارے میں قرار دیا ہے کہ وہ صادق اور امین نہیں رہے ۔ اسی لئے وہ عوامی عہدے پر فائز رہنے کے بھی لائق نہیں ہیں۔ لیکن نواز شریف کے اس الزام پر سپریم کورٹ اگر توہین عدالت کی کارروائی کرتی ہے تو وہ اس جال میں پھنس جائے گی جو نواز شریف بوجوہ سپریم کورٹ کے تیار کررہے ہیں۔ نواز شریف کے لئے اب بدعنوانی کے الزامات سے بری ہونے سے زیادہ سیاسی لحاظ سے خود کو مضبوط اور طاقتور ثابت کرنا ضروری ہو چکا ہے۔ اسی لئے وہ وقت کے ساتھ ساتھ الزامات اور شبہات میں اضافہ کرتے رہیں گے اور عدالت ہو یا دیگر ادارے ان الزامات کا جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے۔

اسی لئے عدالتوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مقدمات کے قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے خالص میرٹ کی بنیاد پر چھان پھٹک کریں۔ سپریم کورٹ کو ان سب معاملات میں تو غور کرنے اور فیصلے کرنے کے لئے اقدام کرنا چاہئے جن میں جرم کا ارتکاب ہؤا ہو خواہ اس میں کوئی بااثر اور طاقتور شخص ہی ملوث کیوں نہ ہو۔ لیکن سیاسی معاملات کو عدالتی کارروائی کا حصہ بنانے سے گریز کرنا بے حد ضروری ہے۔ پاناما کیس سے دیگر باتوں کے علاوہ یہ سبق سیکھنا بھی ضروری ہے کہ سیاسی معاملات میں عدالتیں حرف آخر ثابت نہیں ہو سکتیں۔ نہ ہی دو سیاسی گروہوں کے درمیان اقتدار کی لڑائی میں عدالت عظمیٰ کو منصف کا کردار ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ پاناما کیس میں صرف تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور عوامی مسلم لیگ کی درخواستوں پر غور کرنے کا ہی اہتمام نہیں کیا گیا بلکہ اسے چیف جسٹس کے از خود نوٹس لینے کے اختیار کے تحت لاکر مزید پیچیدہ اور مشکل بنا دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے ججوں کو شروع سے یہ پتہ ہونا چاہئے تھا کہ وہ کسی ایسے معاملہ میں فیصلہ دینے کے مجاز نہیں ہیں جس پر نہ تو تحقیقات مکمل ہوئی ہوں اور نہ ہی ٹرائل کورٹ میں مقدمہ چلا کر کوئی فیصلہ کیا گیا ہو۔ اس کے باوجود عدالت نے یہ سمجھا کہ وہ سارے کام بخوبی سرانجام دے سکتی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ نواز شریف کو ایک ایسی مشکوک بنیاد پر آئینی شق 62 کی غیر ضروری طور پر سخت تشریح کرتے ہوئے معزول کیا گیا ہے کہ اب وہ عدالت کی نیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے لئے ضروری ہو چکا ہے کہ وہ اس فیصلہ پر جلد از جلد فل کورٹ میں سماعت کا اہتمام کریں اور ان تمام پہلوؤں کوقانونی جواز فراہم کریں جو مباحث اور شبہات کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ توہین عدالت کے نوٹس بھیجنے یا خاموشی اختیا رکرنے سے عدالت کے کردار پر اٹھنے والے چھینٹوں سے بچنا ممکن نہیں ہوگا۔

یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر نواز شریف کو نا اہل کرنے کا فیصلہ پہلے سے کر لیا گیا تھا اور سپریم کورٹ کے جج محض عذر تلاش کرنے کے لئے کئی ماہ تک تگ و دو کرتے رہے تھے تو وہ کون لوگ تھے جن کی خواہش پورا کرنا ضروری تھا۔ نواز شریف نے ایک شاطر سیاست دان کی طرح تالاب میں کنکری پھینکنے کے باوجود اس سوال کا جواب دینے یا الزام کی اس سطح تک پہنچنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ یعنی کچھ نہ کہہ کر بھی سننے اور پڑھنے والوں کے لئے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ سوچا جائے گا کہ کیا سپریم کورٹ جمہوری نظام میں بھی خود کو فوجی اداروں کی ہدایات سننے اور ان پر عمل کرنے پر مجبور پاتی ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ عدالت کس طرح ملک کے جمہوری آئین کی حفاظت کرنے کا عہد پورا کر سکتی ہے۔ نواز شریف اس حد تک تو نہیں گئے لیکن انہوں نے یہ سوال اٹھا کر سننے والوں کو یہی نتیجہ اخذ کرنے پر تیار کیا ہے کہ کیا ملک کی کوئی عدالت پرویز مشرف یا ملک توڑنے والوں کے خلاف بھی کبھی کارروائی کرنے کا حوصلہ کرسکتی ہے۔ کوئی بات نہ کہہ کر بھی طاقتور طریقے سے اداروں کی کارکردگی اور نیت کے بارے میں بہت کچھ کہہ دیا گیا ہے۔ سوال ہے اس کا جواب کون دے گا۔ نواز شریف فی الوقت اس کا جواب دینا نہیں چاہتے ۔ جب تک مرکز اور پنجاب میں ان کی حکومت قائم ہے، وہ براہ راست فوج کا نام لینے سے گریز ہی کریں گے۔ اسی لئے عمران خان یہ کہنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ اس ملک کے دو ہی اداروں پر عوام کا اعتماد اور بھروسہ ہے اور وہ سپریم کورٹ اور فوج ہیں۔ نواز شریف اپنے سیاسی مقاصد کے لئے ان اداروں کو بھی بدنام کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

نواز شریف شاید یہی چاہتے ہیں۔ ان کی طرف سے فوج کا براہ راست نام نہ لینا تو ان کی مجبوری ہو سکتی ہے۔ کوئی بھی سیاست دان جو ملک میں حکومت کرنے کا ارادہ اور خواہش رکھتا ہو ، وہ براہ راست فوج سے تصادم کا راستہ اختیار نہیں کرسکتا لیکن سپریم کورٹ کو الزام دیتے ہوئے جس طرح فوج کو ملوث کرنے کی کوشش کی گئی ہے ، وہ بھی ملک کے کسی سیاستدان کی طرف سے غیر روائتی اور جرات مندانہ اقدام ہے۔ عمران خان سے اس حد تو اتفاق لازم ہے کہ نواز شریف اپنی نا اہلی کا الزام فوج پر عائد کررہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ سپریم کورٹ اس مقصد میں فوج کی آلہ کار بنی ہے۔ لیکن ان کی اس بات سے مکمل اتفاق ممکن نہیں کیا جا سکتا کہ فوج اور سپریم کورٹ پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرنے کی کوشش کرکے ملک کو تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ ملک کا ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ فوج اور اعلیٰ عدلیہ ملک میں غیر آئینی اقدامات کے لئے تعاون کرتی رہی ہیں۔ جن ججوں نے فوج کے غیر آئینی اقدامات کو قبول کرنے سے انکار کیا اور نام نہاد پی سی او پر حلف لینے سے گریز کیا، انہیں نوکریوں سے فارغ کیا جاتا رہا ہے۔ اور وہ انصاف اور اصول کی سربلندی کے لئے خاموشی سے گھر بیٹھنے کے سوا کچھ نہیں کرسکے۔

سپریم کورٹ نے اگرچہ عدلیہ بحالی تحریک کے بعد سامنے آنے والی صورت حال میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ اب نظریہ ضرورت ختم ہو چکا ہے لیکن عدالت عظمی نے کبھی اس بات کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ ماضی میں عدالتوں نے دباؤ اور حرص میں جو غیر آئینی فیصلے کئے تھے ، انہیں ری وزٹ کیا جائے اور ہمیشہ کے لئے ایک بار یہ طے کردیا جائے کہ آئین شکنی خواہ فوج کی طرف سے ہو یا عدالتوں نے اس کی معاونت کی ہو، اسے نہ تو قبول کیا جائے گا اور نہ ایسے مفاد پرستوں کو عزت و وقار سے یاد کیا جائے گا۔ بلکہ تاریخ میں ان کا نام آئین شکن کے طور پر لکھا جائے گا۔ یہ فیصلہ سب آئین شکن کرداروں کے بارے میں سامنے آنا چاہئے تھا خواہ وہ جرنیلوں کی وردیوں میں ملبوس تھے یا منصفوں کے بھیس میں سامنے آئے تھے۔ سپریم کورٹ تو پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت کی طرف سے ذولفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے حوالے سے درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے اس تاریخی ظلم کو مسترد کرنے اور سپریم کورٹ کے دامن پر لگے ہوئے سیاہ داغ کو دھونے میں بھی کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ اسی طرح فوج نے بھی کبھی اپنے ان سابقہ سربراہان کے اقدامات کو مسترد نہیں کیا ہے جنہوں نے سیاست دانوں کی غلطیوں کا سہارا لے کر آئین شکنی کی اور اعزازکے ساتھ زندہ بھی رہے اور دفن بھی ہوئے۔ پرویز مشرف فوج ہی کی مداخلت اور خواہش پر ملک سے باہر بھیجے گئے تھے تاکہ ان کے خلاف آئین سے غداری کا معاملہ آگے نہ بڑھ سکے۔ اس کے باوجود اگر سپریم کورٹ ماضی کے غیر آئینی فیصلوں سے گریز کو ریکارڈ پر لانے کی خواہش رکھتی تو وہ پرویز مشرف کے غیر حاضری میں ان کے خلاف مقدمات کی کارروائی مکمل کرنے اور حتمی فیصلے سامنے لانے کے لئے اقدامات کر سکتی تھی۔

ملک میں فوج اور سپریم کورٹ چونکہ یہ حوصلہ کرنے سے قاصر رہی ہیں اس لئے تحریک انصاف کے چیئرمین کی اس بات سے بھی اتفاق ممکن نہیں ہے کہ ان دونوں اداروں پر ملک کے عوام کو مکمل بھروسہ ہے۔ فوج اور عدالتوں کی عوامی رابطہ کوششوں سے پیدا ہونے والے تاثر کو ان اہم اداروں پر عوام کے بھروسہ کا نام نہیں دیاجا سکتا۔ سیاست دانوں کی بے اعتدالیوں ، غلطیوں اور باہمی کشمکش کی وجہ سے بعض حلقے عدالت اور فوج کو امید کی آخری کرن ضرور قرار دیتے ہیں لیکن یہ دعویٰ حقائق کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتا۔ اسی لئے ملک کی سیاست میں فوج اور عدالت کی مداخلت اور آئین کی بالادستی کے لئے ان کے کردار کے بارے میں سوالات سامنے آتے ہیں۔ اب یہ سوال نواز شریف اٹھا رہے ہیں۔ لیکن نہ وہ ان کے جواب فراہم کرتے ہیں اور نہ ہی یہ دونوں ادارے اپنے عمل سے ان کے شافی جواب دینے کے لئے تیار ہیں۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...