دنیا میں تیزی سے تنہا ہوتا پاکستان

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 17 جون 2017

امریکہ کے وزیر خارجہ نے ریکس ٹلرسن کہا ہے کہ پاکستان کے بارے میں امریکی پالیسی پر نظر ثانی کی جا رہی ہے۔ اس وقت موجودہ حکومت سابقہ حکومت کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے تاہم پوری صورتحال کا جائزہ لے کر پاکستان اور افغانستان کے بارے میں نئی حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔ کانگریس کمیٹی میں بجٹ تجاویز پر بحث کے دوران دو پاکستان دشمن ارکان نے الزام عائد کیا کہ پاکستان دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے۔ اس کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کی وجہ سے افغانستان میں امریکہ کی کوششیں ناکام ہوئی ہیں۔ اس لئے اس ملک کےلئے امریکہ کی امداد فوری طور پر بند کی جائے اور اسے نیٹو سے باہر حلیف کی جو حیثیت دی گئی ہے اسے بھی ختم کیا جائے۔ ان ناقدانہ تبصروں کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے دہت گردی کے حوالے سے پاکستان پر عائد کئے گئے الزامات کو جائز قرار دیتے ہوئے یقین دلایا کہ صدر ٹرمپ کی حکومت پاکستان کے بارے میں نئی حکمت عملی سامنے لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان کی صورتحال کے علاوہ پورے خطے میں استحکام  کے حوالہ سے پاکستان کے ساتھ تعلقات پیچیدہ اور مشکل معاملہ ہیں۔ تاہم ان کے بارے میں پالیسی پر مکمل نظر ثانی کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جا سکے گا۔ کانگریس میں پاکستان دشمن تبصروں پر امریکی وزیر خارجہ کی یہ تصدیق کہ پاکستان علاقے میں دہشت گردی پھیلانے کا سبب بن رہا ہے، شدید تشویش کا باعث ہونی چاہئے۔

ریکس ٹلرسن کی یہ جارحانہ رائے ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کو اپنے خطے میں نت نئے مسائل کا سامنا ہے۔ بھارت کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر تناؤ کی کیفیت ہے لیکن افغانستان کے ساتھ بھی سرحدوں پر تصادم دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ دونوں ممالک تواتر سے پاکستان پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ ان ملکوں میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث عناصر کو اعانت اور پناہ فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کی طرف سے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا جاتا ہے کہ افغانستان پاکستان دشمن عناصر کو پناہ دیتا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے یہ عناصر افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ بھارت افغانستان کے راستے پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی میں ملوث ہے۔ اس حوالے سے کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور اس سے حاصل ہونے والی معلومات کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے اعترافی بیان کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہوئے اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا تھا کہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بھارت افغانستان میں مقیم پاکستان دشمن دہشت گرد گروہوں کے ذریعے پاکستان میں حملے کروانے میں ملوث ہے۔ پاکستان کے ان الزامات اور دعوؤں کے باوجود عالمی سطح پر یا حلیف ملکوں میں اس کی بات کو خاص اہمیت نہیں دی جاتی۔ اس لئے فی الوقت تو پاکستان کی حکومت کی طرف سے کئے جانے والے سارے دعوے اور شواہد فراہم کرنے کے اعلانات صرف پاکستانی عوام کو مطمئن کرنے کا ہتھکنڈہ ہی قرار دیئے جا سکتے ہیں۔

پاکستان نے بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات شروع کرنے کی مسلسل پیشکش کی ہے۔ اور بھارت میں نریندر مودی کی حکومت نے اسی تواتر سے اس پیشکش کو مسترد کیا ہے۔ اس کا دوٹوک موقف ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی سرپرستی کرتا ہے اس لئے اس کے ساتھ بات چیت نہیں ہو سکتی۔ پاکستان میں اسے سی پیک کے خلاف بھارت کی سازش اور پاکستان کو عالمی طور سے تنہا کرنے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ اب افغانستان کے ساتھ بھی ویسی ہی صورتحال سامنے آ رہی ہے۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی جو 2014 میں برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کےلئے پرجوش دکھائی دیتے تھے، اب بار بار دعوت دینے کے باوجود پاکستان آنے کےلئے بھی تیار نہیں ہیں۔ وہ بھی مسلسل پاکستان پر وہی الزامات لگاتے  ہیں جو بھارت کی طرف سے عائد ہوتے ہیں۔ افغانستان بھی پاکستان کو دہشت گردوں کا حامی قرار دیتا ہے اور پاک فوج اور حکومت کی طرف سے ان الزامات کی تردید کو خاطر میں نہیں لایا جاتا۔ ہفتہ عشرہ قبل قازقستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے افغان صدر سے براہ راست ملاقات کی تھی اور ان سے کہا تھا کہ الزام تراشی کی بجائے مل جل کر بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہئے۔ تاہم پاکستان اور بھارت اگرچہ شنگھائی تعاون تنظیم کے نئے رکن بنے تھے لیکن دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کی براہ راست ملاقات نہیں ہو سکی۔ اس دوران افغان صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ چین دونوں ملکوں کے درمیان مصالحت کی کوشش کر رہا ہے۔ چین نے افغانستان میں بحالی امن کےلئے 4 ملکوں پر مشتمل کمیٹی کو دوبارہ متحرک کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔ اس کمیٹی میں پاکستان اور افغانستان کے علاوہ امریکہ اور چین بھی شامل ہیں۔

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کل اسلام آباد میں ایک لیکچر دیتے ہوئے ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کامیابیوں کا ذکر کیا تھا اور واضح کیا تھا کہ ہمسایہ ملکوں کو پاکستان پر الزام تراشی کی بجائے خود اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے۔ کیونکہ جب تک سب ممالک اپنے اپنے طور پر دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کریں گے اور ایک دوسرے پر الزامات ہی کا سہارا لیا جائے گا تو اس سنگین مسئلہ سے نمٹا نہیں جا سکتا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ان باتوں سے اختلاف کی تو گنجائش نہیں ہے لیکن پاک فوج اور سرکاری نمائندوں کی باتوں کو نہ تو ہمارے ہمسایہ ملک کوئی خاص اہمیت دیتے ہیں اور نہ عالمی دارالحکومتوں میں انہیں قابل غور سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس بھارت کی باتوں کو بغور سنا جاتا ہے اور اس کے ساتھ اظہار یکہتی بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ حالانکہ مقبوضہ کشمیر میں عوامی احتجاج کو دبانے کےلئے بھارتی فوج کے انسانیت سوز مظالم کے ثبوت اور شواہد بھی اب دنیا کے سامنے ہیں لیکن اس کے باوجود عالمی طاقتوں کی ہمدردیوں کا محور بھارت ہی ہے۔ حتیٰ کہ گزشتہ ماہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں عرب اسلامی ملکوں کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کے خلاف دہشت گردی کا ذکر ضروری سمجھا لیکن پاکستان کا حوالہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ حالانکہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا قریبی حلیف ہے اور اس کے جانی و مالی نقصان کی فہرست بھی بے حد طویل ہے۔ یہی نہیں پاکستان کے قریبی دوست ملک سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے بھی اپنی تقریر میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کامیاب جنگ یا قربانیوں کا ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ حالانکہ یہ اجلاس سب مسلمان ملکوں کی طرف سے مل کر دہشت گردی کا سامنا کرنے کی نقطہ نظر سے منعقد کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو اسلامی فوجی اتحاد کا سربراہ بھی بنایا گیا ہے۔ لیکن مسلمان ملکوں کے اس اہم اجلاس میں بھی پاکستان کا موقف سامنے نہیں آ سکا۔

اب امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کانگریس میں پاکستان کے خلاف قراردادیں اور تجاویز لانے والے دو ری پبلکن اراکین ڈانا روہرا باچر اور ٹیڈ پو کے الزامات کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی معاونت کے الزامات کو درست قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے اس خطہ میں پالیسی ریویو کی بات کی ہے۔ اس کا واضح مقصد یہ لیا جا سکتا ہے کہ امریکہ پاکستان کی فوجی اور اقتصادی امداد بند کر سکتا ہے اور اسے دہشت گردی کی حمایت کرنے والا ملک قرار دے کر حلیف کے درجہ سے علیحدہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس صورت میں امریکہ کی طرف سے کولیشن سپورٹ فنڈ میں سے پاکستان کو ملنے والی معاونت  بھی ختم ہو سکتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتہا پسند اور مسلمان دشمن حکومت نے اگر پاکستان کو بھی ایران کی طرح دہشت گردی کا سرپرست قرار دینے کا فیصلہ کیا تو اسے متعدد عالمی پابندیوں اور سنگین سفارتی مشکلات کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ اس دوران مشرق وسطیٰ میں سامنے آنے والے حالات میں پاکستان اپنے روایتی عرب دوست ملکوں کی اعانت اور حمایت سے بھی محروم ہو رہا ہے۔ اس کا آغاز یمن جنگ میں سعودی عرب کی حمایت سے انکار سے ہوا تھا اور ایران کے بارے میں پاکستان کی پالیسی سے بھی عرب ممالک خوش نہیں ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں محاذ آرائی کی صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک نے دہشت گردی کی حمایت کرنے کا الزام لگاتے ہوئے قطر کا سفارتی و تجارتی بائیکاٹ کیا ہے اور اس معاملہ پر کوئی مفاہمت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ امریکی صدر قطر سے وابستہ مالی مفادات کے باجود قطر کے بارے میں سعودی پالیسی کی حمایت کر رہے ہیں۔ قطر تیل و گیس کی دولت سے مالا مال تھوڑی آبادی کا ملک ہے۔ وہ بھی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے بائیکاٹ کے اثرات کا سامنا کرنے میں مشکلات محسوس کر رہا ہے۔ اگر پاکستان کو ایسی کسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تو اس کےلئے اس سے نمٹنا نہایت مشکل ہوگا۔ اس کے بھیانک اقتصادی ، سفارتی اور سیاسی و عسکری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف جب گزشتہ دنوں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ سعودی قطر اختلافات میں ثالثی کےلئے سعودی حکمرانوں سے ملنے گئے تھے تو بعض خبروں کے مطابق شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ان سے دو ٹوک الفاظ میں دریافت کیا تھا کہ پاکستان یہ واضح کرے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ ہے یا قطر کا حامی ہے۔ سعودی حکمرن یہ سمجھنے کےلئے تیار نہیں ہیں کہ اس انتہائی پوزیشن کے درمیان کوئی متوازن راستہ بھی ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب نئے امریکی صدر کی حمایت سے خطے میں بالا دستی کا خواب دیکھ رہا ہے۔ اس خواب کی تکمیل میں کئی پرانے اشتراک ختم ہوں گے اور نئے اتحاد اور دوستیاں قائم کی جائیں گی۔ پاکستان اس صورتحال میں کوئی واضح پوزیشن لینے کے قابل نہیں ہے۔ ایسے میں اگر امریکی حکومت پاکستان کے بارے میں کوئی منفی رویہ اختیار کرتی ہے اور عرب ملک نئی حکمت عملی کے تحت اس کا ساتھ دیتے ہوئے پاکستان سے راستہ علیحدہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اسلام آباد کو ناقابل یقین مشکل صورتحال کا سامنا کرنا ہوگا۔

پاناما کیس میں الجھی اور بدعنوانی کے خلاف برسر پیکار پاکستانی قوم کو دنیا کے مختلف حصوں میں وقوع پذیر ہونے والی ان تبدیلیوں کا ادراک نہیں ہے۔ نہ ہی اسلام آباد سے ایسے اشارے موصول ہو رہے ہیں کہ حکومت اپنی خارجہ پالیسی یا ریجنل سکیورٹی کے حوالے سے حکمت عملی کو تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاہم واشنگٹن سے موصول ہونے والے اشارے پاکستان کےلئے شدید تشویش کا سبب ہونا چاہئیں اور اسے فوری طور پر مناسب جوابی حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...