احتساب کا اونٹ

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 16 جون 2017

پاکستان میں سیاسی لیڈروں کے احتساب کے حوالے سے اس وقت سنجیدہ اور کسی حد تک جذباتی مباحث عروج پر ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ گزشتہ برس پانامہ پیپرز سامنے آنے کے بعد ان میں وزیراعظم نواز شریف کے خاندان کی آف شور کمپنیوں کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات تھے۔ ملک میں ایک بہت بڑا طبقہ یہ امید لگائے بیٹھا ہے کہ اگر موجودہ جے آئی ٹی کی رپورٹ اور اس کے نتیجے میں سپریم کورٹ کے بنچ نے نواز شریف اور ان کے بیٹوں کو بدعنوانی کا مرتکب قرار دیا تو یہ ایک پاک صاف معاشرہ تعمیر کرنے کےلئے ایک تابندہ مثال ہوگی۔ تاہم یہ قیاس کرنے والے یہ فراموش کر دیتے ہیں کہ جے آئی ٹی کے ارکان ، طریقہ کار اور نیت کے بارے میں اتنی دھول اڑائی جا چکی ہے کہ اس کی طرف سے دوٹوک الفاظ میں بھی اگر وزیراعظم کے خاندان کو بدعنوان اور سرکاری حیثیت سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا مرتکب قرار دیا گیا تو بھی ملک کے عوام کا ایک بہت بڑا طبقہ یہ سوال اٹھاتا رہے گا کہ نواز شریف کو جان بوجھ کر ایک سازش کے ذریعے انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ قیاس کرنا بھی محال ہے کہ نواز شریف یا ان کے بیٹوں کو مالی بے قاعدگیوں کا مجرم قرار دینے کے بعد ایک پیچیدہ ، مشکل ، طاقت کے مختلف کرّوں کی کشمکش میں مبتلا اس معاشرہ میں  احتساب کا کوئی واضح نظام استوار ہو سکے۔ یہ امید زیادہ سے زیادہ ایک دل خوش کن خواہش قرار دی جا سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں اس کی عملی شکل سامنے آنا مشکل ہے۔

اس مایوس کن قیاس کی ایک وجہ تو ماضی کے تجربات ہیں۔ ایوب خان کے مارشل لا سے لے کر پرویز مشرف کی آمریت تک سیاستدانوں کے خلاف احتساب کا نعرہ بلند کیا گیا۔ ان پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ ان کے خلاف بدترین بدعنوانی کے الزامات عائد کئے گئے لیکن پھر چشم فلک نے دیکھا کہ انہی فوجی حکمرانوں نے انہی سیاستدانوں کی سیاسی اعانت کے ذریعے ملک میں اپنی حکمرانی کو طول دینے کی کوشش کی۔ ابھی ملک میں اس سوال پر مناسب بحث اور نتیجہ اخذ نہیں ہو سکا ہے کہ جن فوجی جرنیلوں نے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ملک پر حکمرانی کو ضروری سمجھا اور جن سیاسی عناصر نے اس صورتحال کو سیاسی کامیابی کا زینہ سمجھ کر اس غیر آئینی، غیر جمہوری اور غیر اخلاقی اقدام کا ساتھ دیا، انہیں قومی تاریخ میں کیا مقام دیا جائے گا۔ کیا یہ سارے فوجی جرنیل اور ان کے ساتھی قومی مجرم قرار پائیں گے اور ان کے اقدامات ملک کی تاریخ کا سیاہ باب کہے جائیں گے۔ اگرچہ سیاسی بیان بازی اور اخباری تبصروں میں ان ادوار کے بارے میں منفی انداز میں ہی گفتگو ہوتی ہے۔ لیکن جب بھی جمہوری نظام میں سامنے آنے والے لیڈروں سے مایوسی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو ملک میں ایسے عناصر سر اٹھانے لگتے ہیں جو فوج کو تمام مسائل کا حل قرار دیتے ہوئے آرمی چیف کو اقتدار پر قبضہ کرنے اور ملک و قوم کو مشکلات سے نکالنے کی دعوت دیتے ہیں۔

اس لئے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ فوج اور سیاست کے حوالے سے معاملات ابھی تک حل نہیں ہوئے ہیں۔ ملک کی کوئی منتخب پارلیمنٹ یا اعلیٰ عدالت اس حوالے سے کوئی بنیادی اصول طے نہیں کر سکی ہے۔ عدلیہ تحریک کے بعد بحال ہونے والے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے زمانے میں چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے متعدد جج مقدمات کی سماعت کے دوران یہ تبصرے کرتے رہے ہیں کہ اب نظریہ ضرورت کو دفن کر دیا گیا ہے اور کسی کو آئین کو تاراج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ لیکن ملکی تاریخ میں غیر معمولی مقبولیت اور اس کی بنیاد پر طاقت حاصل کرنے والے جسٹس افتخار چوہدری بھی نہ تو سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے معاملہ پر نظر ثانی کے بعد کوئی تاریخ ساز فیصلہ سامنے لا سکے اور نہ ہی جمہوریت کے علاوہ عدلیہ کو بے توقیر کرنے والے جنرل پرویز مشرف کے خلاف کوئی اقدام کرنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ بھی ہماری سیاہ تاریخ ہی کا حصہ ہے کہ جب پرویز مشرف مختلف مقدمات میں گھیر لئے گئے اور ان کے خلاف آئین شکنی اور غداری کے الزام پر فیصلہ کرنے کےلئے خصوصی عدالت قائم کر دی گئی تو ملک کی فوجی دباؤ میں آئی ہوئی سیاسی حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم کا سہارا لے کر ہی پرویز مشرف کو یک بیک ملک سے فرار ہونے کا موقع فراہم کیا تھا۔

ان سانحات کا حوالہ دینے کا صرف یہ مقصد ہے کہ جب تک اس قوم کے دانشور اور سیاستدان مل کر بدعنوانی اور سرکاری اختیار کے ناجائز استعمال کی ٹھوس اور قابل عمل وضاحت سامنے نہیں لائیں گے اور تمام ادارے مل کر اس اصول کو منطبق کرنے کی کوشش نہیں کریں گے، اس وقت تک کسی ایک سیاستدان کے احتساب کا معاملہ سیاسی فائدے یا عوام کو ایک بے مقصد خواب دکھانے کے کام تو آ سکتا ہے، ملک میں احتساب اور جوابدہی کا کوئی نظام استوار نہیں کر سکتا۔ ان مراحل سے یہ قوم متعدد بار گزر چکی ہے۔ کئی ادوار میں احتساب کے نام پر ناٹک رچایا گیا ہے لیکن اس کا نتیجہ ہمیشہ ڈھاک کے تین پات کی طرح صورتحال کو جوں کا توں رکھنے کا سبب ہی بنا ہے۔ ملک میں احتساب کا موثر نظام استوار کرنے کےلئے شکنجے میں پھنسے ہوئے ایک فرد کو نشان عبرت بنانا ضروری نہیں ہے۔ اس کےلئے بدعنوانی کی تفہیم اور یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ حکمرانوں کے کس اقدام کو کرپشن کہا جائے گا۔ ایوب خان، جنرل یحییٰ خان ، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف پر براہ راست مالی بدعنوانی کا کوئی الزام نہیں ہے۔ لیکن کیا ان کا حکومت پر قبضہ کرنا اور اپنی ذاتی حیثیت میں فیصلے مسلط کرنا ایک جائز اور درست رویہ تھا یا اسے بدترین بدعنوانی قرار دیا جائے گا۔ اگر ایک بار یہ طے ہو جائے کہ آئین کی خلاف ورزی کرنا بدترین جرم اور بدعنوانی ہے تو ایک تو ماضی کی غلط کاریوں کے بارے میں واضح موقف سامنے آ سکے گا اور اس کے ساتھ ہی مستقبل میں سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے ایک اصول طے ہو جائے گا کہ فوج اور منتخب حکومت کے درمیان اختلافات کی نوعیت کچھ بھی ہو، کسی فوجی جرنیل کو منتخب وزیراعظم کو آنکھیں دکھانے کا حوصلہ نہیں ہوگا اور ہر وزیراعظم اپنے ووٹروں کے سامنے جوابدہی سے زیادہ فوج کے سربراہ سے خوفزدہ نہیں رہے گا۔ تب ہی حقیقی معنوں میں منتخب رہنماؤں سے جوابدہی ممکن ہوگی۔ بصورت دیگر ہر دور میں فوجی آمریت کو دعوت دینے والے اور فوج کو مسیحا قرار دینے والے بھی موجود رہیں گے اور اپنا اقتدار بچانے کےلئے منتخب حکومتیں فوج کے ناز نخرے برداشت کرنے پر بھی مجبور رہیں گی۔

جو قوم آئین شکنی کو سنگین جرم قرار نہ دے سکتی ہو اور اس کے مرتکب لوگوں کے بارے میں سخت رویہ اختیار نہ کر سکے، اس سے قانون کی خلاف ورزی کرنے یا اسے موم کی ناک سمجھنے والوں کے خلاف متفقہ طور سے سخت رویہ اپنانے کی توقع کرنا عبث ہے۔ اس لئے یہ سمجھ لینا کہ ایک وزیراعظم کو عبرت کا نشان بنا کر نظام کی اصلاح ہو جائے گی اور ملک کے 20 کروڑ عوام سیدھے راستے پر گامزن ہو سکیں گے ۔۔۔۔۔۔۔ سادہ لوحی پر مبنی رویہ ہے۔ اس دلیل کو استعمال کرنے والے وہ لوگ ہیں جو یہ یقین کر لیتے ہیں کہ افراد کے بدلنے سے قوموں کی تقدیر بدل جاتی ہے۔ قوموں کی تقدیر صرف اس وقت تبدیل ہو سکتی ہے جب اصولوں کی بنیاد پر نصب العین کا تعین کیا جائے اور اس سے گریز کو یکساں سنگین جرم قرار دیا جائے خواہ اس کا مرتکب کوئی بھی ہو۔ اگر اہل پاکستان اور ان کے فکری و سیاسی رہنما یہ مشکل مگر ضروری راستہ اختیار کرنے کو تیار نہیں ہیں اور مسائل کا سادہ اور فوری حل تلاش کرنا چاہتے ہیں تو نواز شریف کو سزا دلوا کر مسائل اور چیلنجز سے گریز کا راستہ اختیار کرنا آسان ترین فعل ہے۔ اسی مزاج کے تحت ماضی میں ایک وزیرعظم کو پھانسی دی گئی، متعدد وزرائے اعظم معزول ہوئے یا جلا وطنی کی زندگی گزارتے رہے لیکن ان وقتی اقدامات نے قوم کی تقدیر بدلنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا بلکہ اس کے راستے میں مزید کانٹے بونے کا سبب بنے۔

اس حوالے سے یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اگر نواز شریف کے خلاف سب سے بڑے مدعی عمران خان کو عدالتی کارروائی میں مکمل کامیابی حاصل ہو جاتی ہے۔ نواز شریف نہ صرف یہ کہ مجرم قرار پاتے ہیں بلکہ انہیں قومی اسمبلی کا رکن بننے کا نااہل بھی قرار دیا جاتا ہے تو کیا عمران خان ملک کے وزیراعظم بن سکیں گے۔ وہ جن لوگوں کو ساتھ لے کر نیا پاکستان بنانے کی تحریک منظم کر رہے ہیں کیا ان کی مدد و تعاون سے وہ واقعی ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکیں گے جہاں ہر مظلوم کو انصاف ،  بھوکے کو روٹی ،  بیمار کو علاج ،  محروم کو دستگیری اور ہر بے گھر کو چھت کا آسرا مل سکے گا۔ یہ خواب کتنا ہی حسین ہو، اس کی تکمیل نعرے بازی اور الزام تراشی کے ذریعے ممکن نہیں ہے۔ اس کےلئے قومی شعور پیدا کرنے اور پرعزم ہو کر حالات تبدیل کرنے کی ضرورت ہوگی۔ پاکستان کثیر آبادی اور محدود وسائل کا مشکلات میں گھرا ایک ملک ہے۔ ان مسائل کو حل کرنے کےلئے ٹھوس منصوبہ بندی اور مسلسل محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ بہت سے سخت اور ناپسندیدہ سیاسی فیصلے کرنا اہم ہے۔ لیکن گزشتہ چند برسوں سے پیدا کی گئی سیاسی صورتحال میں مسائل کو، دوسروں کو مطعون کرنے اور نعرے لگا کر حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایک بار صورتحال تبدیل ہو گئی تو تخیلاتی محل کی عمارت دھڑام سے نیچے آ گرے گی۔ یہ قوم کئی بار یہ تجربہ کر چکی ہے لیکن اب بھی اس خواب کے سحر سے باہر نکلنے کو تیار نہیں ہے۔ کیونکہ ہر دور میں بعض عناصر قوم کو اس کیفیت میں مبتلا کرکے ذاتی اقتدار کا راستہ ہموار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نواز شریف کا زوال لازمی طور سے عمران خان کی کامیابی کا راستہ ہموار کرنے کی وجہ نہیں بن سکتا۔ کیونکہ اس ملک میں خواب بیچنے والے بہت سے لوگ ہیں۔ یہی لوگ سازشوں کے جال بنتے ہیں اور عوام کو ان میں پھنسا کر اپنے لئے سہولتیں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نواز شریف اور ان کے ساتھی بھی اس کام کے ماہر ہیں۔ کل جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد نواز شریف نے جو تحریری بیان پڑھ کر سنایا گیا، اس میں یہی سیاسی لائحہ عمل واضح کیا گیا تھا۔ خفیہ ہاتھوں کی کہانی، کٹھ پتلی کا تماشہ ، بعض باتوں کو مناسب وقت کےلئے محفوظ رکھنا اور بند کمروں کی سازشوں کا ذکر، دراصل اس کہانی کے اجزا ہیں جو مختلف صورتوں میں بار بار اس قوم کو سنائی جاتی رہی ہے۔ نواز شریف نے کل صرف یہ بتایا ہے کہ وہ خود کو اپنے سیاسی مخالفین سے بہتر داستان گو سمجھتے ہیں۔ اس لئے انہیں موجودہ جے آئی ٹی اور عدالت سے زیادہ 20 کروڑ عوام کی ’’جے آئی ٹی‘‘ پر بھروسہ ہے۔ کیونکہ ان کا خیال ہے کہ وہ اب بھی اس پوزیشن میں ہیں کہ عدالت اور جے آئی ٹی خواہ کچھ بھی کہے، عوام کی واضح اکثریت ان کی سنائی ہوئی کہانی پر یقین کرنے کےلئے تیار ہے۔

ایسی صورت میں احتساب اور حکمرانوں کی جوابدہی کی پرجوش باتیں کرنے والوں کو ٹھنڈے دل و دماغ سے یہ ضرور غور کرنا چاہئے کہ ایسے میں احتساب کا یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اور ایک بار پھر ملک کے وزیراعظم کو مطعون کرنے سے کیوں کر اس ملک کے ہر گھر میں گھی کے چراغ روشن ہو سکیں گے۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...